وجود

... loading ...

وجود

منصفِ اعلیٰ سندھ سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کا سراغ نہ مل سکا!

بدھ 22 جون 2016 منصفِ اعلیٰ سندھ سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کا سراغ نہ مل سکا!

owais ali shah

دہائیوں سے بے امنی اور دہشت گردی کا شکار شہر قائدمنصف اعلیٰ عدالت عالیہ سندھ کے صاحبزادے اویس سجاد کے اغوا کے بعد قیام امن کے اداروں کے لیے ایک مرتبہ پھر چیلنج بن گیا ہے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ پولیس سے لے کر رینجرز کے ذمہ داران تک سب نے کراچی میں امن وامان کی بہتری کے دعوے کیے تھے۔ یہاں تک کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے جو جو حوالے دیئے جاتے ہیں ، اُن میں شہرقائد کی میں کامیابی کا ذکر بھی لازماً کیا جاتا ہے۔ یہ تو ایک کھلا دعویٰ تھا کہ کراچی میں اغوا کے واقعات پر تقریباً قابو پالیا گیا ہے۔ مگر ایڈوکیٹ اویس شاہ کے اغوا نے ان تمام دعووں کو شرمندہ کردیا ہے۔ یہ کوئی سادہ نوعیت کے اغوا کا واقعہ نہیں۔ بلکہ اس کی تفصیلات پر غور کیا جائے تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی اور بے امنی کی قوتیں نہ تو کسی آپریشن سے پریشان ہوتی ہے اور نہ ہی اس سے اُنہیں کوئی فرق پڑتا ہے۔ وہ اسے اعصاب کی جنگ میں اپنی مرضی اور اپنے وقت کے حساب سے جب جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ دہشت گردی کے ذمہ داران میں سےکچھ کی گرفتاریاں یا مقابلوں میں قتل یا پھر اغوا کی وارداتوں کے کچھ ذمہ داران کو گرفتار کر کے مسئلے پر قابو پالینے کا دعویٰ دراصل خود فریبی سے زیادہ کچھ نہیں۔دراصل اویس شاہ کے اغواکاروں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بھرم کو توڑا ہے۔

اغوا کی واردات کے عینی شاہدین سپر مارکیٹ کےگارڈز اتنی تربیت سے بھی محروم تھے کہ آگے بڑھ کرکوئی رکاؤٹ پیدا کرتے۔ حد تویہ ہے ک اُنہوں نے اس واقعے کو دیکھ کر پولیس کو اطلاع تک دینا گوارا نہیں کیا۔

اویس سجاد شاہ کو 20 جون کو کلفٹن میں آغا سپر مارکیٹ سے اغوا کیا گیاجب وہ کچھ اسنیکس اور ڈرنکس خرید کر قریب واقع دوستوں کی محفل میں جارہے تھے، تو اُنہیں سپر مارکیٹ کے با ہر سے ہی اغوا کر لیا گیا۔ان کے موبائل فون کے حاصل شدہ ریکارڈ کے مطابق اس میں کوئی مشکوک کال نہیں تھی۔ تما م رابطے معلوم اور متعلقین کے تھے۔ مگر ریکارڈ کے مطابق اُن کا موبائل کینٹ اسٹیشن سے بند ہوا ۔ ظاہر ہے کہ یہ اغوا کے بعد ہی بند ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اویس شاہ کا موبائل اغوا کے بعد کینٹ اسٹیشن تک کھلا چھوڑا گیا تھا۔ کیا یہ اغواکاروں کی طرف سے گمراہ کرنے کی کوئی دانستہ کوشش تھی؟ اس کا درست جواب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس کوئی نہیں ۔

جس سفید گاڑی میں اویس شاہ کو اغوا کیا گیا، کیا یہی گاڑی منگھوپیر یا پھر بلوچ کالونی تک اویس شاہ کو ساتھ لے کر گئی یا پھر یہ گاڑی ان راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گمراہ کرنے کے لیے دوڑائی جاتی رہی؟ اس امکان پر سرے سے غور ہی نہیں کیا گیا کہ آغا سپر مارکیٹ پر اغواکاروں نے اغوا کے فوراً ہی بعد کیمروں کی آنکھ سے بچتے ہوئے اویس شاہ کو دوسری گاڑی اور دوسرے لوگوں کے حوالے کردیا ہو۔

اس ضمن میں ایک اور پہلو بھی ذراسا عجیب دکھائی دیتا ہے۔پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اویس شاہ کی گاڑی پنجاب چورنگی سے برآمد کی گئی؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اویس شاہ جب آغا سپر مارکیٹ سے اغوا ہوا تو اُن کی گاڑی پنجاب چورنگی تک کیسے پہنچی؟ کیا اغوا کاروں کا کوئی دوسرا گروپ اُن کے مددگار کے طور پر وہاں موجود تھا جنہوں نے اویس شاہ کی گاڑی دانستہ طور پرپنجاب چورنگی تک چھوڑی۔ مگر وہ ایسا کیوں کر رہے تھے؟ ظاہر ہے کہ اغواکاروں کی منصوبہ بندی میں یہ خطرہ موجود رہا ہوگا کہ اویس شاہ کے اغوا ہونے کےذرا ہی دیر میں اس کا علم فوراً ہی ذرائع ابلاغ یا پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہوجائے گا۔ اور منصف اعلیٰ سندھ کے صاحبزادے ہونے کے باعث تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے فوراً ہی حرکت میں آجائیں گے۔ چنانچہ لازمی طور پر اویس شاہ کے اغوا کی منصوبہ بندی میں اُنہیں جہاں بھی لے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہوگا، اس پہلو کو لازماً اغوا کاروں نے اپنے ذہن میں رکھا ہوگا۔ مگر بدقسمتی سے کلفٹن میں واقع ایک سپرمارکیٹ میں پرہجوم جگہ سے کھلے بندوں اغوا کی واردات بھی کراچی ایسے آپریشن زدہ شہر میں بھی شام سات سےساڑھے آٹھ بجے تک کسی کے علم میں نہیں آسکی۔ اغوا کی واردات کے عینی شاہدین سپر مارکیٹ کےگارڈز اتنی تربیت سے بھی محروم تھے کہ آگے بڑھ کرکوئی رکاؤٹ پیدا کرتے۔ حد تویہ ہے کہ اُنہوں نے اس واقعے کو دیکھ کر پولیس کو اطلاع تک دینا گوارا نہیں کیا۔ اغوا ، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا دہائیوں سے شکار شہر کے گارڈز ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں اور ذمہ داری کا انداز الگانے کے لیے یہ پہلو کافی ہے۔

شرمناک طور پر اس واردات کا علم پولیس کو تب ہوتا ہے جب اویس شاہ کے اہل خانہ افطاری کے موقع پر اُنہیں گھر میں موجود نہیں پاتے تو اُنہیں فون کرتے ہیں جو خلاف معمول بند ملتا ہے۔ بعد ازاں بھاگ دوڑ کرنے پر اندازا ہوتا ہے کہ اویس شاہ کی گاڑی تو پنجاب چورنگی یا کہیں اور موجود ہے مگر وہ نہیں۔ تب اویس شاہ کی پراسرا گمشدگی کا معمہ پولیس کے علم میں اہل خانہ کی طرف سے لایا جاتا ہے۔ جو رات نو بجے تک یہ تعین کر نے میں کامیاب ہو پاتے ہیں کہ یہ گمشدگی نہیں بلکہ اغوا کی ایک منظم واردات ہے۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اب تک اویس شاہ کا سراغ لگانے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ ان سطور کے رقم کیے جانے تک ان اداروں کے پا س بتانے کے لیے صرف دوچیزیں ہیں۔ اولاً اویس شاہ کے موبائل فون کا ڈیٹا، جس میں موصوف کے رابطوں کی تفصیلات ہیں۔ ان رابطوں میں کوئی بھی ایسا مجہول رابطہ نمبر نہیں جس پر کوئی بھی شک ظاہر کیا جاسکے۔ لہذا یہ کوئی ایسا سراغ نہیں جس پر تحقیقات کو آگے بڑھایا جاسکے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس اس ضمن میں دوسرا اہم سراغ وہ ویڈیو فوٹیجز ہیں جو شہر بھر کی مختلف شاہراؤں سے حاصل کی گئی ہے جس میں اُس گاڑی کی حرکت اور سمت کا اندازا لگایا جاسکے جو سفید رنگ کی ہے، جس کی سبز رنگ کی سرکاری نمبر پلیٹ جعلی تھی اور جس میں سوار مسلح افراد نے پولیس کی کیپ پہنی ہوئی تھی۔ دستیاب ویڈیو فوٹیجز کی روشنی میں اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے سامنے آنے والے دعووں کے مطابق اغواکاروں کی گاڑی آخری بار منگھوپیر کے علاقے میں دیکھی گئی۔ جب کہ ایک دوسرے دعوے کے مطابق یہ گاڑی بلوچ کالونی اور پھر ٹیپو سلطان روڈ تک نظر آئی اورپھر اس کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کےپاس سوچنے کے لیے ابھی تک یہ مفروضہ بھی نہیں تھا کہ جس سفید گاڑی میں اویس شاہ کو اغوا کیا گیا، کیا یہی گاڑی منگھوپیر یا پھر بلوچ کالونی تک اویس شاہ کو ساتھ لے کر گئی یا پھر یہ گاڑی ان راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گمراہ کرنے کے لیے دوڑائی جاتی رہی؟ اس امکان پر سرے سے غور ہی نہیں کیا گیا کہ آغا سپر مارکیٹ پر اغواکاروں نے اغوا کے فوراً ہی بعد کیمروں کی آنکھ سے بچتے ہوئے اویس شاہ کو دوسری گاڑی اور دوسرے لوگوں کے حوالے کردیا ہو۔

حیرت انگیز طور پر ابھی تک اس افسوس ناک وقوعے کے بارے میں جزیات کے ساتھ غور کر نے کی کوئی ٹھوس کوشش بھی سامنے نہیں آسکی۔ اگرچہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس عام طورپر اس نوع کے واقعات میں اُٹھنے والے سنجیدہ سوالات پر یہ موقف اختیار کرکے جان چھڑاتی ہے کہ اس ضمن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس معلومات کو اس لئے عام نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ جرائم کے مرتکبین تک پہنچ کر اُن کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر جاننے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ محدود دائروں میں غوروفکر کے عادی اور مجرموں سے ہی حاصل معلومات کو پریس بریفنگ میں بیان کرنے کے ماہر ادارے ہیں۔ اس ضمن میں ٹھوس تجزیاتی کام کہیں پر بھی نہیں پایا جاتا۔ اس کی حساسیت کا اندازا سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل اے ڈی خواجہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اُس بیان کے تجزیئے سے کیا جاسکتا ہے، جو حیران کردینے والا اور ان کے انداز فکروعمل کا آئینہ دار ہے۔ان تمام کی طرف سے یہ کہا جارہا ہے کہ اویس شاہ کا اغوا سودے بازی کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور اس کے بدلے عسکریت پسندوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

ایک ذرا سا اس موقف پر غور کرنے سے بآسانی اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ازخود اس واقعے کا کوئی ٹھوس تجزیہ موجود نہیں۔ اور اگر خوش قسمتی سے اویس شاہ کی رہائی کے لیےکوئی فوری کامیابی نہیں مل سکی تو ان کا مکمل انحصار دراصل خود اغواکاروں کی طرف سے کسی رابطے کے انتظار پر ہی ہوگا۔ جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے اس پر فوری رپورٹ طلب کر لی ہے یا وزیراعظم نوازشریف نے اس پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری رہائی کے لیے تمام کوششو ں کو بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے، کیا اس نوع کی ہدایات سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ اس ضمن میں سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کی رہائی کے بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں جب اُن سے سوال کیا گیا کہ اُن کی رہائی میں کس ادارے کا بنیادی کردار ہے؟ تو اُنہوں نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان سے جب وہ فرار ہوکر بلوچستان پہنچنے میں ازخود کامیاب ہو گیے تو بلوچستان سے لاہور پہنچنے میں کسی ادارے نے کردار ادا کیا ہو، تو کیاہو،مگر عملاً اُن کی رہائی میں کسی کا کوئی بھی کردار نہیں۔ یہ جواب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہلیت کے خلاف ایک پورا مقدمہ ہے۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر