وجود

... loading ...

وجود

آف شور کمپنیوں میں شریف خاندان کا نام، موساک فونسیکا کو جاننے میں 6 سال لگے

منگل 17 مئی 2016 آف شور کمپنیوں میں شریف خاندان کا نام، موساک فونسیکا کو جاننے میں 6 سال لگے

nawaz-sharif

وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کا خاندان لندن کے پوش علاقے پارک لین میں واقع ان چار فلیٹوں کی آڑ میں ڈوئچے بینک سے 7 ملین پاؤنڈز کا خطیر قرضہ حاصل کرچکا ہے، جو آف شور کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔ یہ املاک اس وقت حاصل کی گئی تھیں جب نواز شریف حزب اختلاف میں تھے۔ یہ برطانوی ورجن جزائر میں موجود شیل کمپنیوں کی ملکیت ہیں، جو آف شور ایجنٹ ‘موساک فونسیکا’ کے کاغذات میں درج ہیں۔

برطانوی اخبار “گارجیئن” کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق لندن میں شریف خاندان کی اس انتہائی مہنگی جائیداد کا پہلی بار انکشاف 1998ء میں ان کے سیاسی حریف اور ایف آئی اے کے سابق سربراہ رحمٰن ملک نے کیا تھا، جو مبینہ گرفتاری اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد لندن فرار ہوگئے تھے۔ رحمٰن ملک نے ایک رپورٹ مرتب کی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مے فیئر کے یہ گھر بدعنوانی کے پیسے اور “کالے دھن” سے حاصل کیے گئے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا، اس لیے یہ خلاف قانون ہیں۔

اکتوبر 1999ء میں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا اور پاکستان کے نئے فوجی حکمران پرویز مشرف نے انہیں قید خانے میں ڈال دیا۔ بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والوں نے اس وقت بارہا کہا تھا کہ یہ جائیداد پاکستان کے عوام سے لوٹی گئی دولت سے بنائی گئی ہے۔ لیکن شریف خاندان ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور آج تک کسی پر یہ الزام ثابت نہیں ہوا۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات محض سیاسی نوعیت کے ہیں اور کسی آف شور کمپنی کے ذریعے املاک رکھنا غیر قانونی نہیں ہے۔

ابھی گزشتہ دنوں شریف خاندان نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاناما پیپرز نے شریف خاندان پر کسی غلط کام کا الزام نہیں لگایا اور یہ کہ شریف خاندان کے تمام ادارے قانونی و مالی لحاظ سے مکمل اور شفاف ہیں۔

بہرحال، نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز اور بیٹی مریم نواز نے اکتوبر 2008ء میں قرضے کے حصول کے لیے ڈوئچے بینک کے سوئٹزرلینڈ میں واقع شعبے سے رابطہ کیا تھا اور قرضے کے لیے اس فلیٹوں کو استعمال کیا گیا تھا۔ ان کی ملکیت برطانوی ورجن جزائر کی تین کمپنیوں کے پاس تھی، جس کے بعد نواز شریف کے اہل خانہ نے ساڑھے 3 ملین پاؤنڈز کی نقد رقم اور مزید اتنے ہی “لکوئڈ ایسیٹس” یعنی “سیال اثاثوں” کی صورت میں حاصل کیے۔

ڈوئچے بینک کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی اہمیت کو سمجھتا ہے اور اس نے اپنے صارفین کے کاروباری اداروں کی تصدیق کے طریقے کار کو بہتر بنایا ہے۔ “ہماری پالیسیاں، طریقے اور نظام اس طرح تیار کیے گئے ہیں جو یقینی بناتے ہیں کہ ہم تمام قواعد و ضوابط پر پورا اتر رہے ہیں۔”

ڈوئچے بینک 2013ء سے اپنے نجی صارفین کا محاسبہ کررہا ہے، اور وہ تصدیق چاہتا ہے کہ صارفین تمام ٹیکس قوانین سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اس کے سوئس اور لکسمبورگ میں واقع شعبوں کے صارفین کی پڑتال تقریباً مکمل ہوچکی ہے۔

مذکورہ فلیٹس لندن کے علاقے پارک لین کے قریب ایون فیلڈ ہاؤس میں واقع ہیں، جہاں سے کبھی نواز شریف اور ان کی سیاسی حریف بے نظیر بھٹو کی پریس کانفرنس کی تصویر بھی منظر عام پر آئی تھی۔ یہ تو برطانوی ورجن جزائر کے اداروں کی ملکیت ہیں، جن کے مالک موساک فونسیکا کے کاغذات کے مطابق دو ادارے ہیں، ایک نیلسن انٹرپرائزز اور دوسرا نیسکول لمیٹڈ۔ مریم نواز نے 2006ء میں موساک فونسیکا کو لکھے گئے خط میں شادی کے بعد والا نام مریم صفدر استعمال کرتے ہوئے خود کو اس کا واحد حصص یافتہ بتایا تھا۔

ڈوئچے بینک کے ساتھ معاہدے میں نیسکول اور نیلسن کو 1.75 ملین پاؤنڈز حاصل کرنے کی اجازت تھی، اور برطانوی ورجن جزائر میں واقع ایک تیسری کمپنی جو موساک فونسیکا کی نہیں تھی، اور اس کا نام کومبر گروپ تھا، نے مزید ساڑھے 3 ملین پاؤنڈز حاصل کیے۔ کومبر کے کاغذات پر جون 2007ء میں مریم اور حسین نواز نے دستخط کیے تھے۔

خاندان کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مندرجہ بالا ادارے حسین نواز کے ہیں، مریم کے نہیں اور یہ کہ انہوں نے تمام متعلقہ ٹیکس جمع کرائے ہیں۔ “ان میں سے کوئی ادارہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نہیں چلاتے۔ مریم نواز کسی بھی ادارے کی مالک یا فائدہ اٹھانے والوں میں شامل نہیں۔” یہ بیان مزید کہتا ہے کہ مریم نواز اپنے بھائیوں کی ملکیت ان اداروں سے کوئی آمدنی یا فائدہ نہیں اٹھاتیں۔ “وہ حسین نواز کے ادارے میں صرف ٹرسٹی ہیں، جو ضرورت پڑنے پر حسین نواز کے خاندان میں محض اثاثے تقسیم کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ حسین نواز نے حالیہ ٹیلی وژن انٹرویوز میں لیکس میں پیش کردہ تمام اداروں کو صاف صاف بیان کیا، اور یہ بھی کہ ان کے سرمائے کا ذریعہ کیا ہے – جو بنیادی طور پر جدہ میں ایک اسٹیل مل فروخت کرکے حاصل کیا گیا تھا – اور دیگر مالی حقائق بھی پیش کیے۔” اپنے والد کی جماعت پاکستان مسلم لیگ میں ابھرتی ہوئی شخصیت مریم صفدر نے گزشتہ انتخابات میں اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔

گارجیئن کے مطابق 1980ء کی دہائی میں چینی اور فولاد کے کاروبار میں سرمایہ کاری نے شریف فیملی کو جنوبی ایشیا کے امیر ترین خاندانوں میں سے ایک بنا دیا تھا۔ پارک لین کے فلیٹس 1993ء اور 1996ء کے درمیان خریدے گئے تھے لیکن ان کی پشت پر موجود کمپنیاں 2006ء تک موساک فونسیکا میں منتقل نہیں کی گئیں۔ پاناما پیپرز ظاہر کرتے ہیں کہ موساک فونسیکا کو 2012ء میں جاکر اندازہ ہوا کہ وہ کمپنیوں کے لیے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ 2013ء میں نواز شریف ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم بن گئے۔ ادارے کو اتنی تشویش ہوئی کہ اس نے کمپنیوں کو فوری طور پر نظر میں رکھنا شروع کردیا اور ہر چھ ماہ بعد ان کو چیک کرنے کے احکامات جاری کیے۔

فائلوں پر موجود نوٹ ظاہر کرتے ہیں کہ موساک فونسیکا کا اپنا عملہ نامزد ڈائریکٹر یا حصص یافتہ نہیں بن سکتا۔ برطانوی ورجن جزائر کے حکام بھی مستعد ہوگئے، ایک خط بھی لکھا گیا جس میں نیلسن کی مالکن کے طور پر مریم صفدر کا حوالہ دیا گیا اور یہ کہ ادارے نے جنیوا میں ڈوئچے بینک سے قرضہ لیا ہے۔ لیکن ادارے نے دو سال بعد عملی قدم اٹھاتے ہوئے نئے ڈائریکٹرز کی تقرری کی اور یوں شریف خاندان کی طرف سے ان کمپنیوں کو دیگر نمائندگان تک منتقل کیا۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر