... loading ...

گزشتہ سال نومبر میں جب نواز شریف نے بین الاقوامی کاروباری شخصیات کے روبرو خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو “لبرل” بنانے کی بات کی تھی تو مذہبی طبقے سمیت عوام کی بڑی تعداد کو پہلا دھچکا پہنچا ۔ گو کہ اگلے چند گھنٹوں میں نواز شریف کا عملہ اس بات کی صفائیاں پیش کرتا دکھائی دے رہا تھا لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا اور وقت ثابت کررہا ہے کہ یہ جان بوجھ کر نہیں پھینکا گیا تھا بلکہ مستقبل کی پیش بینی تھی۔
صرف چار ماہ کے قلیل عرصے نے ثابت کردیا کہ نواز شریف ملک کو کس سمت لے کر جا رہے ہیں۔ یوٹیوب پر پابندی کا خاتمہ، بچپن کی شادی پر پابندی کا بل، گھریلو تشدد کے خلاف قانون کی منظوری اور پھر ممتاز قادری کی سزائے موت پر اچانک عملدرآمد، یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ نواز حکومت ایک ایسا پاکستان چاہتی ہے جس میں مذہبی طبقہ دیوار سے لگا رہے۔
ماضی کے برعکس نواز شریف کے رویے میں اس “اچانک” تبدیلی کی جڑیں کوئی ان کے اقتصادی ایجنڈے میں ڈھونڈتا ہے، تو کسی کو 42 سالہ بیٹی مریم نواز کے اپنے والد پر اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اہم حکومتی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط لگائی کہ “وزیر اعظم ایک اقتصادی ایجنڈا رکھتے ہیں اوراگر ایک اعتدال پسند، ترقی پسند اور لبرل رویہ اس ایجنڈے کو پورا کر سکتا ہے تو نواز شریف اسی سمت جائیں گے۔”
نواز شریف دیہی علاقوں میں اور مذہبی طبقے کے مضبوط ووٹوں کے حامل ہیں اور 2013ء میں تیسری بار وزارت عظمیٰ پر فائز ہوئے جب پاکستان مسلم لیگ نے پارلیمانی انتخابات میں فیصلہ کن برتری حاصل کی۔ وہ 1990ء کی دہائی میں دو مرتبہ برسر اقتدار آ چکے ہیں لیکن دونوں بار ناکام ہو جانے کے بعد اب 66 سال کی عمر میں ملک کے روایت پسند اور مذہبی حلقوں کو کھلے عام چیلنج کررہے ہیں اور ملک کے لیے نئی راہیں متعین کررہے ہیں۔
دراصل وزیر اعظم نواز شریف اور مذہبی طبقے کے درمیان اعتماد میں پہلی دراڑ اس وقت پیدا ہوئی جب حکومت اور فوج نے مساجد کو نوٹس بھیجنا شروع کیے کہ خطبات میں دھیما لہجہ اختیار کیا جائے۔ اس کے بعد تو گویا پاکستانی لبرل ازم کا جن بوتل سے باہر آ گیا۔ جنوری میں یوٹیوب پر تین سال سے عائد پابندی ختم ہوئی، جو معروف وڈیوشیئرنگ ویب سائٹ پر اسلام مخالف وڈیوز کی موجودگی کی وجہ سے مذہبی طبقے کے اصرار پر ہی لگائی گئی تھی۔ پھر اسی ماہ مسلم لیگ ن کی رکن ماروی میمن نے کم عمری کی شادی کے خلاف ایک بل متعارف کروایا کہ جس میں کم از کم عمر کو 16 سال سے بڑھا کر 18 سال کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی مخالفت کی وجہ سے بل تو واپس لے لیا گیا لیکن ارادے مزید عیاں ہوگئے۔ خود ماروی میمن کے الفاظ میں کہ “حکومت ملک کا ترقی پسند چہرہ دکھانا چاہتی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی، خواتین کو بااختیار بنانے، گھریلو تشدد کے خاتمے اور خواندگی میں اضافے کے ذریعے۔ اسی اشارے پر پنجاب میں جہاں نواز شریف کے بھائی شہباز وزیر اعلیٰ ہیں، صوبائی اسمبلی نے گھریلو تشدد کے خلاف ایک بل منظور کیا ہے، جو مغرب کے قوانین کا چربہ ہے۔ اب ذرائع کہتے ہیں کہ اگلا قدم شراب نوشی پر عائد پابندی کو نرم کرنا ہے۔ مذہبی طبقہ سمجھتا ہے کہ نواز شریف ایسے اقدامات اٹھا کر امریکا اور مغرب کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن نواز شریف کی حکومت کا سب سے “دلیرانہ” فیصلہ وہ تھا جب انہوں نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے پولیس اہلکار ممتاز قادری کو پھانسی چڑھانے میں جلد بازی دکھائی۔ ایک ایسا شخص جو ملک کے مذہبی طبقے کے لیے ‘ہیرو’ کا درجہ رکھتا تھا، اسے اچانک پھانسی دے دینا ایک واضح پیغام دے رہا ہے۔ مذہبی حلقوں کی جانب سے جہاں اس فیصلے کی سخت مذمت کی گئی، خود ممتاز قادری کی نماز جنازہ میں جس طرح لاکھو ں افراد نے شرکت کی، وہیں آزاد خیال حلقے اس فیصلے کو خوب سراہ رہے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق حکومت کے حلقے کہتے ہیں کہ نواز شریف ملک کی ساکھ کو بہتر بنانا چاہتے ہیں، جو بدقسمتی سے شدت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ وہ ملک کو اپنے اقتصادی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے آگے لے جائیں۔ گو کہ پاکستان کی معیشت ابھی مثالی نہیں ہے لیکن چین کی جانب سے 46 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے بعد حالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ سابق سینیٹر افراسیاب خٹک کے الفاظ میں نواز شریف جانتے ہیں کہ طالبانائزیشن اور چینی سرمایہ کاری ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے سرمایہ کاری مفتاح اسماعیل کہتے ہیں کہ “نواز شریف بہت مذہبی آدمی ہیں، لیکن اگر کوئی دوسرا شخص مذہبی نہیں تو انہیں اس سے بھی کوئی تکلیف نہیں ہے۔ دراصل وہ پاکستان کا بیانیہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔” واضح رہے کہ “لبرل پاکستان” والی تقریر بھی مفتاح اسماعیل ہی کی لکھی ہوئی تھی۔
اب آئندہ چند روز میں نواز حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے معاملے پر پیشرفت کرے گی۔ ایوان وزیر اعظم میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بننے والی آسکر ایوارڈ یافتہ فلم “اے گرل ان دی ریور” کی رونمائی بھی اسی سلسلے کی کڑی لگتی ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مریم نواز کا اپنے والد پر خاصا اثر و رسوخ ہے، اور وہی ان کی سیاسی جانشیں بننا چاہتی ہیں۔ نواز حکومت کے چند فیصلوں کے پیچھے “ترقی پسند” مریم نواز ہی حقیقی محرک نظر آتی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ ایک حکومتی عہدیدار کے حوالے سے بتاتا ہے کہ “وزیراعظم مغربی فلمیں دیکھتے ہیں، موسیقی سنتے ہیں، خواتین سے ہاتھ بھی ملا لیتے ہیں اور عیسائی، احمدی اور ہندو اقلیت کا احترام کرتے ہیں۔”
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...