وجود

... loading ...

وجود

جہانگیر صدیقی کا قومی اداروں سے کھلواڑ (قسط 2)

بدھ 17 فروری 2016 جہانگیر صدیقی کا قومی اداروں سے کھلواڑ (قسط 2)

jehangir-siddiqui

پاکستان میں بدترین مالیاتی دہشت گردی کے حوالے سے سنجیدہ غورو فکر کی بے حد کمی ہے۔ یہاں گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ اونٹوں کو نگلنے والے آزاد گھومتے پھرتے ہیں اور چیونٹیوں کو چھاننے کاعمل جاری رہتا ہے۔ اگر اس اُصول کے تناظر میں جہانگیر صدیقی کے پوری کاروباری سلطنت کا جائزہ لیا جائے تو حیرتیں منہ کھولے کھڑی نظر آتی ہیں کہ کس طرح “گاڈ فادر” بننے کی لامحدود حرص میں جہانگیر صدیقی نے قومی اداروں کے ساتھ کھلواڑ کیا اور سرکاری اداروں کو “مال مفت دل بے رحم “کے بمصداق لوٹا۔ اس ضمن میں کیوں نہ کچھ نکات کی شکل میں ایک اجمالی نگاہ ڈال لی جائے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ جہانگیر صدیقی کی سلطنت نے کہاں کہاں پنجے گاڑ رکھے ہیں۔

فراڈ، بے ایمانی اور منی لانڈرنگ سے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصانات کا ایک واقعاتی جائزہ

1۔ ای ایف یو جنرل انشورنس کے حصص کی قیمت میں ہیرا پھیری کے ذریعے ایبنڈنڈ پراپرٹیز آرگنائزیشن کو ٹھگا گیا۔

efu

2014ء میں جے ایس گروپ نے ای ایف یو جنرل انشورنس کے حصص کی قیمتوں کو ہیرا پھیری کے ذریعے گرانا شروع کیا اور یوں سرکاری ادارے ایبنڈنڈ پراپرٹیز آرگنائزیشن (اے بی او) سے 95.5 روپے فی حصص کے نرخ پر 5.4 ملین حصص حاصل کرلیے۔ اے بی او سے حصص حاصل کرنے کے بعد حصص کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر بڑھنے لگیں اور یکم دسمبر 2014ء کو 160 روپے تک پہنچ گئیں۔ اے بی او کو کل 427 ملین روپے کا نقصان ہوا۔ حیرت ہے اس کھلے کھلے نقصان کے پورے اسکینڈل کی تحقیقات کے بجائے ایف آئی اے کے ذمہ داران” سمدھی” کے ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں دیتے پھر رہے ہیں کہ ایف آئی اے جہانگیر صدیقی کے خلاف کسی مقدمے میں تفتیش نہیں کررہا۔

2۔ قرض نادہندہ/ بھاری نرخوں پر ایگری ٹیک حصص فروخت کرکے قومی اداروں کو نقصان

azgard9

جے ایس گروپ کے ادارے آزگرد نائن لمیٹڈ (اے این ایل) نےقرضہ جات کی ادائیگی سے نادہندہ ہونے کا اعلان کیا اور ان قرضوں کو برابر کرنے کے لیے اس کے حصص بینکوں اور مالیاتی اداروں کو 35 روپے فی حصص کے نرخ پر فراہم کیے گئے، جو اس وقت کی 111 روپے کی قیمت سے کہیں زیادہ تھے۔ تب اندازا لگایا گیا کہ نیشنل بینک کو پہنچنے والا نقصان ہی 3.283 بلین روپے تھا جبکہ پاک برونائی انوسٹمنٹ کمپنی کو 0.9 بلین روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ مزید برآں، قرضے کی تبدیلی بھی کمپنیز آرڈیننس 1984ء کی دفعہ 87 کے تحت نہیں کی گئی تھی جس کے مطابق کسی بھی قرضے کے بقایا جات کے لیے حصص کی ادائیگی کل باقی قرضے کے صرف 20 فیصد کے طور پر کی جا سکتی ہے۔

3۔ نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ کو ہونے والا نقصان

NICL-scam-FIA-arrests-absconder-Aamir-Hussain

نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ نے جے ایس پرنسپل سیکیور فنڈ I میں 2 بلین روپے کی سرمایہ کاری کی تھی جو فنانس ڈویژن کی ہدایات کی صریح خلاف ورزی تھی ، جس کے مطابق صرف 200 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی تھی۔ مارچ 2010ء تک فنڈ کا کل حجم 2.7 بلین روپے تھا جس میں سے 2.3 بلین روپے تو صرف این آئی سی ایل ہی کے تھے۔ جے ایس (جس کے سی ای او اس وقت نجم علی تھے) نے این آئی سی ایل بورڈ/انتظامیہ کی صریح مجرمانہ شمولیت و خاموشی کے ذریعے معاہدے کی شرائط بھی سرکاری ادارے کے مفادات کے خلاف رکھیں، جو نہ صرف غیر قانونی تھیں بلکہ صنعت میں رائج معیارات کے بھی خلاف تھیں جیسا کہ 1.75 فیصد کی انتظامی فیس، 3.5 فیصد فرنٹ اینڈ فیس اور 5 فیصد جلدی ادائیگی فیس۔اس میں این آئی سی ایل کو لگ بھگ 255.243 ملین روپے کا نقصان ہوا۔

4۔ جہانگیر صدیقی اینڈ کمپنی لمیٹڈ حقوق اجرا

js co

2008ء میں جے ایس سی ایل نے 465 روپے کے پریمیئم پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 22,020,000 حقوق کے حصص جاری کیے اور 10.5 بلین روپے اینٹھ لیے۔ ادارے کے اسپانسرز کو حقوق حصص کی فہرست میں درج نہیں کیا گیا اور انہوں نے ایس ای سی پی سے حقوق سے دستبردار ہونے کا بازنامہ حاصل کیا۔
حقق کے مسئلے سے پہلے جے ایس سی ایل اور دیگر جے ایس گروپ کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں بھی قابل ذکر طور پر بڑھیں اور لیکوئیڈٹی کا تاثر پیدا کرنے کے لیے روزانہ کا ٹرن اوور بھی زیادہ تھا تاکہ جے ایس سی ایل کا خالص اثاثہ جاتی حجم زیادہ ظاہر ہو۔ جے ایس سی ایل کے حصص کی کی ہیرا پھیری کے ذریعے بنائی گئی قیمت 31 جنوری 2008ء کو 1326 روپے کی سطح تک پہنچائی گئی جو بالآخر 4 روپے تک آئی۔
اس فراڈ میں پھنسنے والے غیر ملکی سرمایہ کار مختلف ادارے تھے اور ان میں سنگاپور میں قائم خیراتی ادارہ بھی شامل تھا۔ اس دھوکہ دہی نے 2008ء میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سخت دھچکا پہنچایا، نتیجے میں انہوں نے پاکستان سے اپنا سرمایہ واپس لےجانا شروع کردیا۔یوں ملک کے پہلے سے معمولی غیر ملکی زر مبادلہ پر سخت دباؤ پڑا اوربالآخر معیشت پر بھی۔ 2008ء میں اسٹاک مارکیٹ کے زوال کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی تھی جس کی وجہ سے پورے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا۔ ان تمام خساروں کے حقیقی فائدہ اٹھانے والے پڑوسی ممالک تھے، اس لیے غیر ملکی ہاتھ کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
معیشت کو پہنچنے والے حقیقی نقصان کا حساب لگانے کے لیے سب سے پہلے 2007ء اور 2008ء کے دوران جے ایس سی ایل کمپنی کا پورا تجارتی ریکارڈ کراچی اسٹاک ایکسچینج سے حاصل کیا جائےتو اس ڈیٹا پرہونے والی تحقیق ملک کو پہنچنے والے حقیقی نقصان کو سامنے لے آئے گی۔ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کس بنیاد پر ایس ای سی پی نے ایسے پریمیئم پر حقوق حصص کی اجازت دی بغیر ضمانت اور اسپانسر کے عہد کے۔ مبینہ طور پر جے ایس نے ڈاکٹر عاصم حسین اور اس وقت کے وزیر خزانہ نوید قمر کے اثر و رسوخ کو استعمال کیا تاکہ وہ یہ غیر قانونی استثنا حاصل کریں۔ اس معاملے کی ٹھوس تحقیقات تب کی حکومت کے پردہ داروں کو بھی بے نقاب کردے گی۔

5۔ جے ایس سی ایل حصص کی دوبارہ خریداری پیشکش سے دستبردار ہو جانا

حقوق اجرا کے بعد جے ایس سی ایل نے 2008ء کے دوران 356.32 روپے فی حصص کے نرخ پر 7 ملین حصص دوبارہ خریدنے کا اعلان کیا۔ البتہ بہانہ بنا کر اس پیشکش سے دستبردار ہوگیا کہ سالانہ عمومی اجلاس میں اس کی منظوری نہیں ملی، جو حیران کن تھی کیونکہ بیشتر حصص یافتگان جے ایس گروپ کا حصہ تھے تو کیا اسے منظور نہیں کروایا جا سکتا تھا۔ کیا دوبارہ خریدنے کا اعلان حصص کی قیمت پر اثر انداز ہونے اور کسی کو راہ فرار دینے کے لیے تھا؟ کیا یہ اعلان ہیرا پھیری کے لیے کیا گیا تھا۔ جے ایس سی ایل کا تفصیلی تجارتی ڈیٹا حقیقی نقصانات کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ ایس ای سی پی نے تب کوئی قدم نہیں اٹھایا جب جے ایس گروپ حصص یافتگان کو فریب دینے کے لیے یہ طریقہ استعمال کررہا تھا اور گروپ کے افراد کے جعلی کھاتوں کے ذریعے زیادہ قیمت پر مارکیٹ میں حصص بیچ رہا تھا۔ غیر حقیقی کھاتوں کی حرکت کا یہ اثر آزگرد نائن تحقیقاتی رپورٹ میں بھی ظاہر ہے۔

6۔ جے ایس سی ایل کی جانب سے علی جہانگیر صدیقی کو ادا کیا گیا غیر قانونی بونس/ مشاورتی فیس

جے ایس خاندان نے کم حصص رکھنے والوں کو حقیقی فائدے سے محروم رکھنے کے لیے اپنے اکثریتی حصص کا استعمال کیا۔ مثال کے طور پر 2006ء سے 2012ء تک 716 ملین روپے کی مشاورتی فیس/بونس علی جہانگیر صدیقی کو ادا کیا گیا۔ 2012ء میں علی جہانگیر صدیقی کو 430 ملین کا بونس/مشاورتی فیس ادا کی گئی، جس کی منظوری 2014ء میں حصص یافتگان سے لی گئی۔ 2012ء میں ختم ہونے والے مالی سال میں کیسے بونس ادا کیا جا سکتا ہے کہ جس کی منظوری 2014ء میں ختم ہونے والے مالی سال میں لی جائے۔ ان سب جعلسازیوں کا مقصد دولت کو اپنی جیبوں میں ٹھونسنا تھا تاکہ کم حصص رکھنے والے حقیقی فائدے سے محروم رہیں اور ایسا ہی ہوا۔
ایس ای سی پی کی رپورٹ کے مطابق علی جہانگیر کو ادا کی گئی مشاورتی فیس مبنی بر انصاف نہیں تھی اور تحقیق کرنے والوں نے سفارش کی تھی کہ 430 ملین روپے کی مشاورتی فیس کی ادائیگی کے ضمن میں مالی سودے کو حل کرنے کے لیے ہدایات جاری کی جائیں اور ادارے اور اس کے ڈائریکٹرز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا جائے۔

7۔ بدنام زمانہ خانانی اینڈ کالیا منی ایکسچینج کے ساتھ منی لانڈرنگ روابط

khanani logo

جے ایس گروپ منی لانڈرنگ اور ساتھ ساتھ ایسے سودوں میں ملوث رہا ہے جو دہشت گردوں کے لیے سرمایہ کاری کا شبہ بڑھاتے ہیں۔ آزگرد نائن لمیٹڈ کے معاملے میں بینک دولت پاکستان کے ساتھ تحقیقاتی رپورٹ میں ایس ای سی پی نے ایسی بڑی نقدی نکلواتے دیکھی تھی جو منی لانڈرنگ کی حدود میں آتے ہیں۔ ایک خاص موقع وہ تھا جب 19 اپریل 2008ء کو جے ایس گلوبل نے سعد سعید کو 14 کروڑ 30 لاکھ روپے کی ادائیگی کی تھی۔ یہ رقم سعد سعید کے بینک کھاتے سے 28 اور 29 اپریل 2008ء کو نقد کی صورت میں نکلوائی گئی۔ یہ معاملہ اب بھی تحقیق طلب ہے کہ آخر اتنی بڑی رقم کا حقیقی فائدہ اٹھانے والا کون تھا؟
اس کے علاوہ اے این ایل تحقیقاتی رپورٹ (ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ کا صفحہ 211) میں متعدد ایسے حوالے ہیں جو 327 ملین روپے کی کل نقدی نکلوائی گئی اور ایک واحد معاملے میں تو 100 ملین روپے نکلوائے گئے جس میں فائدہ اٹھانے والے کی شناخت چھپائی گئی۔ مجموعی طور پر نکلوائے گئے نقد 327 ملین روپے تھے جو مندرجہ بالا مواقع پر نکلوائے گئے۔ ان کے علاوہ بھی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسے حوالے موجود ہیں جہاں مالی ربط کو توڑنے کے لیے نقد رقم نکلوائی گئی۔ ان میں سے چند رقوم اورنگی ٹاؤن کیماڑی وغیرہ کے رہائشیوں نے نکالیں۔ اس ضمن میں ایس ای سی پی کی تحقیقاتی رپورٹ کے صفحہ 47 پر تمام حقائق دیکھے جا سکتے ہیں۔ پھر کراچی کے مخصوص حالات میں اس امر کا بھی دھیان رہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جو دہشت گردی کی سرگرمیوں کے مراکز اور شہر میں منظم جرائم کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تمام بڑی رقوم منی لانڈرنگ کے بھیانک عمل سے جڑی ہوئی ہیں اور دہشت گردوں کو سرمایہ کاری کے شبہات کو تقویت دیتی ہیں۔ اس امر کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ جے ایس بینک کس طرح دھوکہ دہی کے پورے منصوبے کا سہولت رساں رہا، جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو سرمایہ کاری پر لاگو ہونے والے تمام قواعد و ضوابط کا مذاق اڑاتا رہا اور بینک دولت پاکستان کی مانیٹرنگ اور نگرانی کی نظروں سے بچنے میں کامیاب رہا۔
اے این ایل کی رپورٹ کے صفحات 44 اور 48 سے سابق منی ایکسچینجر خانانی اینڈ کالیا کے ساتھ مختلف ملزمان کے رابطے ظاہر ہوتے ہیں۔ ان ملزمان کے بینک کھاتوں پر مزید تحقیقات منی لانڈرنگ کے ثبوت سامنے لانے میں مددگار ہونگیں ۔
آزگرد نائن نے سال 2008ء کے آڈٹ شدہ کھاتوں کے مطابق سوئیڈن میں قائم ایک ہولڈنگ کمپنی فاریٹال اے بی کے ذریعے ایک اطالوی ادارے مونٹی بیلو ایس آر ایل کی خریداری کے لیے 23.758 ملین ڈالرز کی ادائیگی کی۔ اس طرح 23.75 ملین یوروز ادارے سے نکالے گئے۔ اے این ایل نے 2013ء میں اپنے آڈٹ شدہ کھاتوں میں بتایا کہ فاریٹال اے بی تحلیل ہو چکی ہے۔ فاریٹال اے بی مونٹی بیلو ایس آر ایل میں 100 فیصد حصہ حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی تھی۔ مزیدتحقیقات ثابت کریں گی کہ ادارے سے اتنی بڑی رقم کون نکال کر لے گیا؟ یہ سیدھا منی لانڈرنگ کا معاملہ بنے گا۔تب 10 اکتوبر کو پاکستانی روپے اور یورو کا فرق 118 روپے کا تھا جس کے مطابق یہ پاکستانی روپے میں 2.803 بلین روپے بنتے ہیں۔ اتنے برسوں میں یہ رقم 5.606 بلین روپے تک جا پہنچی ہے۔
جولیس بایرنے 2,235,083 پی آئی سی ٹی حصص کی خریداری کے لیے 225 ملین روپے کی ادائیگی کی جس کا حقیقی فائدہ اٹھانے والوں کا اب بھی علم نہیں۔ اس معاملے کی تحقیقات انکشاف کریں گی کہ اس کا مالک کون تھا اور ہو سکتا ہے کہ کس قسم کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ دریں اثنا تحقیقات کے لیے ایس ای سی پی کے حکم پر سینٹرل ڈپازیٹری کمپنی میں جو حصص منجمدد کیے گئے تھے وہ اب بھی اسی حالت میں موجود ہیں۔ ان حصص کی مالیت 8 اگست 2015ء کے مطابق 625 ملین ڈالرز تھی۔

8۔ آئی سی آئی کے حصص میں مارکیٹ ہیرا پھیری

ici

ایس ای سی پی نے اکتوبر اور نومبر 2007ء میں آئی سی آئی حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے معاملے پر ابتدائی تحقیقات کیں۔ ریکارڈز اور تجارتی تفصیلات کے جائزے اور ساتھ ساتھ جے ایس گلوبل بروکریج ہاؤس کے ادائیگی ریکارڈز سے ظاہر ہوا کہ مناف ابراہیم (ملازم اور جے ایس کا بااعتماد ساتھی) اور علی جہانگیر صدیقی (جے ایس کا بیٹا) نے مل کر یہ ‘پمپ اینڈ ڈمپ’ منصوبہ بنایا تھا جہاں وہ ابتدائی طور پر آئی سی آئی حصص کی بھاری تعداد خریدتے تاکہ عوام میں ترغیب پیدا کرتے اور یوں بڑی تعداد میں حصص فروخت کرتے جو انہوں نے اکتوبر 2007ء میں خریدے تھے، یہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج آرڈیننس 1969ء کے تحت ایک قابل تعزیر جرم ہے۔
مناف ابراہیم نے اس غیر قانونی سرگرمی سے 53 ملین روپے کمائے، جبکہ علی جہانگیر صدیقی نے 37 ملین روپے حاصل کیے۔ ایس ای سی پی نے اس معاملے کو چھپا دیا۔
یہ تمام حقائق دراصل گاڈ فاڈر بننے کے خواہش مند جہانگیر صدیقی کی سلطنت کے اُن رازوں سے پردہ اُٹھاتے ہیں جو پردے کے پیچھے اور تاریکیوں میں سلا دیئے گیے۔ اس کے پیچھے بے پناہ دولت اور اثرورسوخ کا استعمال کیا گیا اور سرکاری اداروں کو گونگا بہرا اور اندھا رکھا گیا ۔ یہ عمل اب بھی جاری ہے۔ اور انتہائی بھیانک طریقے سے اس میں مسلسل گہرائی آتی جارہی ہے۔
(جاری ہے)


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر