وجود

... loading ...

وجود

بھارت میں سفاک قاتل گورنر کے لیے اعلیٰ ترین اعزاز

هفته 30 جنوری 2016 بھارت میں سفاک قاتل گورنر کے لیے اعلیٰ ترین اعزاز

Jagmohan

کشمیری پنڈت اعلیٰ ذات کا ہندو تصور کیا جاتا ہے۔ تر دماغ اور خوبصورت مکھڑے والی یہ پنڈت برادری، وادی کشمیر کی جنت سے جگ موہن کی مہربانیوں سے نکل کر بھارت کے مختلف گرم علاقوں کی تپتی اور آگ اگلتی ہوئی سرزمین میں مقیم ہے۔ 1947ء میں جب پورے برصغیر میں ہندو اور مسلم کے نام پر خون بہایا گیا، وادی کشمیر میں ان کشمیری پنڈتوں کو مسلمانوں نے نہ صرف پناہ دی بلکہ ان کی عزت و آبرو کا تحفظ بھی کیا۔ گاندھی جی کواسی بنیاد پر یہ اعتراف کرناپڑاکہ” کشمیر سے مجھے روشنی کی کرن نظر آرہی ہے”کشمیری پورے بر صغیر کو احساس دلاتے رہے کہ کسی نہتے انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ چاہے مقتول کا تعلق کسی بھی مذھب سے ہو۔

1987ء کے انتخابات میں بھارتی حکومت کی بدترین دھاندلی کے نتیجے میں کشمیری قوم میں یہ احساس شدت سے ابھرا کہ ان کا حق خودارادیت کا خواب انتخابات میں شرکت سے کبھی پورا نہیں ہوگا کیونکہ بھارت آئین و قانون کی زبان سمجھنے سے قاصر ہے۔ اس انتخاب نے کشمیری عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارتی حکمرانوں کے خلاف ایک شدید نفرت نے جنم لیا،1989ء میں اس نفرت کا لاوا پھوٹ پڑا اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔۔ بھارتی ایوانوں کو آگ لگانے کی نعرہ بازی شروع ہوئی۔ “ہم کیا چاہتے۔ ۔ آزادی”کے فلک شگاف نعروں کی گونج ہر طرف سے سنائی دینے لگی۔ گلی کوچوں، گاؤں شہروں میں صرف ایک آواز کا غلغلہ تھا “بھارتی غاصبو! وطن ہمارا چھوڑ دو،چھین کے لیں گے آزادی”

کشمیری پنڈت برادری ان نعروں سے خوفزدہ نہیں تھی کیونکہ یہ نعرے نئے نہیں تھے۔ شیخ عبداللہ نے22 سال تک ایک بے مثال تحریک چلائی تھی اور گلی گلی قریہ قریہ اس دوران یہی نعرے لگتے تھے۔ پنڈت لوگ خوشی خوشی زندگی بسر کرتے تھے اور انہیں انتظار تھا اس تحریک کی کامیابی کا، کیونکہ کشمیرصرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ جموں کشمیر میں رہنے والی ہندو برادری بھی کشمیری ہی کہلاتی ہے اور وہ ان کی بھی سرزمین ہے۔

1990ء میں یہ تحریک اپنے عروج کی طرف جارہی تھی اور بھارت سرکار نے حقائق تسلیم کرنے کے بجائے اس تحریک کو آہنی ہاتھوں سے کچلنے کا فیصلہ لیا،اور یہ بھی طے ہوا کہ اس تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر، دنیا کی نظروں میں اپنی سفاک روش کو جائز بھی قرار دلوائے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھ کر ریاستی گورنر جگموہن کو کام سونپا گیاکہ وادی سے پوری ہندو آبادی کو جموں او ربھارت کے دوسرے علاقوں کی طرف منتقل کرے اور پھر بزور طاقت مسلم آبادی کو اپنا حق آزادی مانگنے کے جرم سے باز رکھے۔ جگ موہن کیلئے یہ مشکل کام نہیں تھا۔ بلکہ انہیں اس کا خوب تجربہ اس وقت حاصل ہوا تھاجب 1975ء میں دہلی کے گورنر کی حیثیت سے ایمرجنسی قوانین کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ترکمان گیٹ دہلی میں ہزاروں مسلمانوں کو اس نے بے گھر کردیا تھا اور بستیوں کی بستیاں بلڈوز کی تھیں۔

جگ موہن نے کشمیر ی ہندو تنظیوں کو اعتماد میں لیا، ان کے ساتھ وعدے کئے گئے کہ انہیں باہر آرام و آسائش کے ساتھ زندگی گذارنے کا موقع فراہم کیا جائیگا۔۔ دنیا کی ہر نعمت انہیں فراہم کی جائیگی۔ انہیں صرف چند مہینے باہر گذارنے ہونگے۔ پھر وہ ہوں گے اور ان کا وطن ہوگا۔ چند مہینوں کا معاملہ ہے۔

بھارتی حکمرانوں کو اس سے دو طرح کے فائدے حاصل ہونے کی توقع تھی۔ ایک یہ کہ تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جاسکے گا اور دوسرا آزادی پسندوں کا بلا کسی امتیاز کے خاتمہ کیا جاسکے گا۔ بعض مہاجر پنڈتوں کے خطوط سے جو سرینگر کے ایک مؤ قر” اخبار الصفاء” میں شائع ہوئے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت کس طرح اس انخلا کو اپنے حق می استعمال کرنے کی سازش میں مصروف رہا۔

11ستمبر 1990ء میں ایک مہاجر کشمیری پنڈت، کے ایل کول (ایم اے ایم ایڈ) چمن چھانپورہ سرینگر حال نگروٹہ کیمپ جموں کا خط سرینگر کے اخبار روزنامہ الصفاء میں شائع ہوا۔ خط کے چند اقتباسات:
“میں جانتا ہوں کہ ہمارے کشمیر سے بھاگنے پر کشمیری مسلم بھائیوں کو بڑا دکھ پہنچ چکا ہوگا اور مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ ہم ان کی محبت، عزت اور انسان دوستی سے ہاتھ دھوچکے ہیں۔ کیونکہ ہم غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مجھے اس بات پر شرم محسوس ہورہی ہے کہ میری کمیونٹی نے کشمیری مسلم بھائیوں کی پیٹھ پر چھرا گھونپ دیا ہے۔ اور یہ سارا جگ موہن کے کہنے پر ہوا”

آگے وہ لکھتے ہیں:

“فروری کے پہلے ہفتے میں ہمیں چند خودساختہ رہنماؤں کے ذریعے گورنر جگ موہن کا ایک پیغام ملا جس میں ہمیں وادی چھوڑنے کا کہا گیا تھا۔ پیغام میں کہا گیا کہ تحریک دبانے کیلئے لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ مسلم نوجوانوں کو مارنے کا منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔ پنڈتوں سے یہ بھی وعدہ کیا گیا ہے کہ انہیں باہر ہر قسم کی آسائش بہم رکھی جائیگی اورمفت راشن،نوکریاں اور رہائش کا بھی انتظام ہوگا۔۔ پیغام میں یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ جونہی مجوزہ منصوبہ تکمیل کو پہنچے گا اور تحریک دم توڑے گی تو پھر آپ کو واپس اپنی جگہوں پر بسایایا جائیگا۔ میری کمیونٹی کو اب اندازہ ہورہا ہے کہ عوامی بغاوت کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کیلئے ہمیں استعمال کیا گیا”

آگے جاکر وہ مزید لکھتے ہیں:

“یہاں کی مقامی آبادی ہمیں حملہ آور سمجھتی ہے اور اسی انداز کا سلوک ہمارے ساتھ کرتی ہے۔ دودھ، سبزی اور روزمرہ کی دیگر اشیاء مہنگے داموں ہمیں خریدنی پڑتی ہیں۔ ۔ ہمارے بچے آوارہ بن چکے ہیں کیونکہ سڑکوں پر گھومنے کے سوا ان کے پاس کوئی کام نہیں۔ اس علاقے کے لوگوں کا ہماری خواتین کے بارے میں یہ قابل شرم تصور ہے کہ پیسے کی خاطر وہ اپنا عصمت بیچ سکتی ہیں۔ “اسی طرح کا ایک مشترکہ خط 22ستمبر1990کے الصفا میں شائع ہوتا ہے خط کا صرف ایک پیرا گراف پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیری پنڈت بھائی کس طرح اپنے وطن کو یاد کررہے ہیں اور اس دن کو کس طرح کوستے ہیں جس دن انہوں نے کشمیر چھوڑنے کی سازش کاحصہ بننے کی غلطی کی تھی۔۔ ملاحظ فرمائیں:

“ہمیں یہ تسلیم کرتے ہوئے بڑی شرمندگی محسوس ہورہی ہے کہ نہ صرف ہم نے اپنے مادر وطن کے ساتھ غداری کی بلکہ ان لوگوں کے ساتھ بھی بے وفائی کی جنہوں نے صدیوں سے ہمیں عزت دی، پیار دیا۔ ہمیں یہ اعتراف کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے کہ اس تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوششوں میں ہم شامل رہے حالانکہ ہمیں اس تحریک کا ایک حصہ بننا چاہئیے تھا۔ ”

معروف کشمیری صحافی و مصنف مرحوم خواجہ ثنا ء اللہ بٹ اپنی کتاب “عہد نامہ کشمیر “صفحہ نمبر234-235میں کشمیری پنڈتوں کے اس انخلاء کے بارے میں لکھتے ہیں:

“گورنر جگموہن نے کشمیری پنڈتوں کو ورغلانے کیلئے ان میں یہ خیال بڑی تیزی کے ساتھ پھیلا دیا کہ کشمیری پنڈتوں کو یہاں سے نکال لینے کے فوراََ بعد فوج سرینگر میں کریک ڈاون اور شہر کی ناکہ بندی کرکے بلا امتیاز لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دے گی۔ تاکہ اس مسلح بغاوت کا خاتمہ کردے جس پر قابو پانا حکومت کیلئیناممکن ہوگیا تھا۔ کشمیری پنڈتوں کے زیادہ ترگھرانے کرفیو کے نفازذ اوررات کے اندھیرے میں اپنے گھروں سے نکال کر گاڑیوں میں سوار کئے گئے، وہ لوگ کسی خوف میں مبتلا نہیں تھے۔ جس کا واضح ثبوت ہے کہ بہت سے کشمیری پنڈتوں نے اپنے گھر کی چابیاں اپنے ہمسایہ مسلمانوں کے حوالے کرکے ان سے کہا کہ وہ ان کے گھروں کی حفاظت کریں گے اور کشمیری مسلمانوں نے یقین دلایا اور ان سے کہاکہ وہ ان کے گھروں کی حفاظت کریں گے اور ان کے اس اعتماد پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے کشمیری پنڈت جموں سے سرینگرآکر بار بار اپنے علاقوں میں جانے اور اپنے گھروں وغیرہ کے محفوظ رہنے کایقین کرلیتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ درجنوں کشمیر ی پنڈت گھرانے گورنر جگموہن کی ترغیب و تحریک اور یقین دہانیوں کے باوجود کشمیر ہی میں رہے۔ ان میں سے جو گھرانے بہکاوے میں آکر جموں اور دوسرے علاقوں میں گئے وہ برابر اپنے کئے پر پچھتاتے رہے اور ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جو اعلانیہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کشمیری پنڈتوں کوکشمیری مسلمانوں نے وادی سے نہیں نکالا، بلکہ گورنر جگموہن اور اس کے ما تحتوں نے ہی ان کو وادی سے نکالا۔”

اب جہاں تک کشمیری مسلمانوں کا تعلق ہے توان کے ساتھ وہی ہوا جس کا خاکہ تیار کیا گیا تھا۔

“Committe For Initiative On Kashmir”کی چار رکنی کمیٹی کے اراکین جناب ٹپن بوس، دنیش موہن،گوتم نو لکھااور سمنتا بنرجی نے 12سے16 مارچ 90تک کشمیر کا دورہ کیا۔ ٹیم کے اراکین، زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ لوگوں سے ملے اور ایک تفصیلی رپورٹ تیا ر کی۔ رپورٹ کا ایک اقتباس:

جہاں یہ ٹیم اصولی طور پر ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے وہیں اس بات پر متفق ہے کہ کشمیر میں ہونے والی دہشت گردی ہندوستانی ریاست کو یہ جواز فراہم نہیں کرتی کہ وہ ریاست کے کسی بھی حصے میں رہنے والے لوگوں کے بنیادی حقوق کے احترام اور تحفط فراہم کرنے کی ذمہ داری سے مبراہوسکیں۔ اس ٹیم پر حقائق کی روشنی میں یہ بات آشکارہ ہوئی کہ کشمیر میں ہندوستانی مسلح افواج اور سول انتظامیہ دہشت گردی کو روکنے میں با لکل ناکام رہے ہیں اور اپنی اس ناکامی کو چھپانے کے لئے وادی کے معصوم لوگوں کو ظلم کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ٹیم نے جن ہندوستانی حکومت کے اہلکاروں سے بات کی وہ تمام کے تمام اسی نفسیاتی خوف کا شکار نظر آ ئے جس کے تحت وادی کا ہر شخص انہیں پاکستانی دہشت گرد نظر آتا ہے۔ انہی نفسیاتی کیفیات کے باعث وادی میں امن امان کے لئے جاری آپریشن اب وادی کے رہنے والوں کے لئے ذلت، مستقل خوف، عدم تحفط اور موت کا پیغام بن گیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یہاں کی آبادی کو ایک ایسی بند گلی میں دھکیل دیا گیا ہے جہاں وہ سمجھتے ہیں کی بھارتی جبر و استبداد سے بچنے کا واحد راستہ نئی دہلی سے آزادی ہے۔ اس کیفیت کا اظہار کشمیری حکومت کے ایک افسر کے بیان سے ہوتا ہے جب وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ۔ انیس جنوری تک میں عسکریت پسندوں کے خلاف تھا لیکن آج میں انکے ساتھ ہوں۔”

انڈین پیپلز فرنٹ (IPF) کی سات رکنی ٹیم نے فرنٹ کے سربراہ ناگ بھوشن پٹنائیک کی سربراہی میں جون 1990میں کشمیر کا دورہ کیا۔ ٹیم کے دوسرے اراکین میں ممبر پارلیمنٹ رامیشور پرساد، جنرل سیکرٹری (IPF)جناب دیپنکار بٹاچاریہ اور وائس پریذیڈنٹ (IPF) راماجی راؤ شامل تھے۔ ٹیم کے اراکین تقریباً ایک ہفتے کشمیر میں رہے۔ ان کی دی گئی رپورٹ کا ایک اقتباس ملاحظ فرمائیں۔

“ہم جہاں بھی گئے، جس سے بھی ملے، ہم نے جگ موہن کے مظالم کی داستانیں سنیں بھی اور محسوس بھی کیں۔ وہ مظالم جو 19جنوری سے25فروری تک پوری شدت کے ساتھ جاری رہیں۔ ہم اس بات پر پوری طرح متفق ہیں کہ سابق گورنر کو اپنے جرائم کا حساب دینے کیلئے عدالت کے کٹہرے میں لانا چاہئیے۔ یہ صرف کشمیر میں سیاسی عمل شروع کرنے کیلئے ضروری نہیں بلکہ جمہوری اداروں پر اعتماد اور ان کی حفاظت کیلئے بھی یہ ضروری ہے۔”

29 مئی 1990ء کو انڈیپینڈنٹ اخبار لندن (Independent) کی یہ دلخراش کہانی بھی ایوارڈ یا فتہ بھارتی گورنر جگ موہن کی سفاکیت پر سے پردہ اٹھاتی ہے۔

“ہندوستانی بربریت کے ایک چشم دید گواہ نے لوگوں کے ایک ہجوم پرہندوستانی پولیس (سنٹرل ریزرو پولیس فورس )کی اندھا دھند فائرنگ کا احوال اس طرح بیان کیا۔ فائر فائر فائر۔۔ ۔ لوگ گولیاں کھا کر گر رہے تھے۔ میں بھی نیچے گر پڑا۔ ہندوستانی پولیس نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ہر طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں اور کراہتے ہوئے زخمی تھے۔ لیکن مجھے کوئی گولی نہ لگی میں زندہ اور محفوظ تھا۔ پھر ایک اہلکار بندوق تانے میرے پاس آیا۔ مجھ پر نشانہ تانا اور فائرنگ شروع کر دی۔ میں خوش قسمت تھا کہ اسکے جھکنے کے باعث گولی میری پشت کو چھوتی گزر گئی۔ اس نے چھ فائر کئے۔ ٹھک، ٹھک، ٹھک، ٹھک، ٹھکا ٹھک۔ میرا سر محفوز رہا اور میں نے اپنے ہوش بھی قائم رکھے۔ اس دوران میں نے دیکھا کہ پل پر ہر طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ اس چشم دیدگواہ نے دیکھا کہ پولیس والے بندوق تانے لاشوں کے درمیان سے گزر رہے تھے اورزخمیوں کو مسلسل گولیاں مار رہے تھے۔ کسی بھی حرکت کرتے ہوئے جسم، کوئی بازو سر یا ٹانگ حرکت کرتی نظر آتی تو وہ فو راً گولیاں داغ دیتے۔ اور ساتھ ساتھ کہتے۔ ۔ ۔ تو تمھیں پاکستان چاہئے۔ تمھیں آزادی چاہئے۔ گولی داغتے اور کہتے۔ یہ لو اپنی آزادی۔۔ ۔ وہ جنوری کا آخری ہفتہ تھا۔ میں نے ایک ننھے لڑکے کو ایک سٹال کے نیچے کھڑا ا دیکھا۔ وہ اہلکار آیا اور اس معصوم بچے پر گولیاں داغ دیں جبکہ اس لڑکے نے ایک پتھر بھی پولیس والوں کی طرف نہیں پھینکا تھا۔”

مار دھاڑ، قتل و غارتگری، جلاؤ گھیراو کاسلسلہ صرف جگ موہن کے دور حکومت کا خاصہ رہا۔ یاد رہے گورنر جگمو ہن نے 20 جنوری 1990ء کو ریاستی گورنر کی حیثیت سے چارج سنبھالا، اور 22 مئی 1990ء کو انہیں فارغ کیا گیا۔ ان 123دنوں میں 74 دنوں کرفیو لگا رہا۔ ان 123دنوں میں پوری ریاست میں لوگوں کے مارنے کا سلسلہ جاری رہا۔ ہر روز لاشیں گرتی رہیں، جنازے اٹھتے رہے، جلاو گھیراو ہوتے رہے، پاکدامن خواتین کی عصمتوں کو داغدار بنانے کی کوششیں ہوتی رہیں۔ اس سفاک گورنر نے کشمیری پنڈت بھائیوں کو تحریک آزادی کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کیلئے استعمال کیا گیا،اور اس آڑ میں ہزاروں مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لئے۔ ایسے شخص کو نریندر مودی کی حکومت نے اعلیٰ ترین ایوارڈ سے نوازا۔ ایک کھلم کھلا پیغام ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ پھر بھی سرنگ کے اس پار بعض لوگوں کو روشنی کی کرن نظر آرہی ہے۔ اللہ رحم فرمائے۔


متعلقہ خبریں


امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ وجود - پیر 09 مارچ 2026

جنگ کے نویں روز امریکی اور اسرائیلی کی جانب سے تہران کے نیلوفر اسکوائر پر بمباریم آئل ریفائنر اور آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا،اصفہان کے 8 شہروں پر فضائی حملے، نجف آباد پر بمباری،ایرانی میڈیا ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل داغے،21 امریکی بحرین میں نیول اڈے پر مارے گئے،امریکی تی...

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ وجود - پیر 09 مارچ 2026

795زخمی ، 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ،وفاقی وزیر اطلاعاتعطا تارڑ پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 583افغان طالبان ہلاک جبکہ 795زخمی ہو گئے ہیں ۔وفاقی وزیر ا...

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ

اسلام آباد میں عورت مارچ کی 11خواتین اور 3 مرد گرفتار وجود - پیر 09 مارچ 2026

دفعہ 144کی خلاف ورزی ، کوئی این او سی جاری نہیں کیا گیا تھا،ضلعی انتظامیہ ہم نے ایک ماہ قبل این او سی کیلئے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی تھی، عورت مارچ اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے پر عورت مارچ کی 11 خواتین اور تین مردوں کو گرفتار کرلیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسل...

اسلام آباد میں عورت مارچ کی 11خواتین اور 3 مرد گرفتار

دبئی میں میزائل حملوں کے دوران 2پاکستانی جاں بحق وجود - پیر 09 مارچ 2026

میزائل ملبے تلے دب کر پاکستانی شہریوں کی موت پر دکھ ہوا ،وزیرِ اعظم پاکستان کا سفارتی مشن دبئی حکام سے رابطے میں ہے،ایکس اکاونٹ پر بیان حکومت پاکستان نے حالیہ دنوں میں دبئی میں ہونے والے میزائلوں حملوں میں 2پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے ۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ا...

دبئی میں میزائل حملوں کے دوران 2پاکستانی جاں بحق

پیٹرول مہنگا،موٹر سائیکل والوں کیلئے وجود - پیر 09 مارچ 2026

رجسٹرڈ 14 لاکھ موٹرسائیکلوں پر 55 روپے کا بوجھ نہیں پڑنے دیں گے، سہیل آفریدی پیٹرول میں اضافہ مسترد ، بی آر ٹی کا کرایہ نہیں بڑھائیں گے؛ وزیراعلیٰ کی پریس کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت پیٹرول میں اضافہ مسترد کرتی ہے، پیٹرول کی مد م...

پیٹرول مہنگا،موٹر سائیکل والوں کیلئے

امریکا نے اہداف بڑھا دیے،ایران پر زیادہ شدت سے حملوں کا اعلان وجود - اتوار 08 مارچ 2026

امریکی فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے،ایران نے معافی مانگی ہے، مشرق وسطیٰ کے پڑوسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے وعدہ کیا اب ان پر حملہ نہیں کرے گا ، ڈونلڈٹرمپ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران کو ’بہت زیادہ شدت سے نشانہ‘ بنایا جائے گا اور فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے۔سوش...

امریکا نے اہداف بڑھا دیے،ایران پر زیادہ شدت سے حملوں کا اعلان

سرنڈر کرانے کی خواہش قبر تک لیجائے گی، ایران کا امریکا کو جواب وجود - اتوار 08 مارچ 2026

ہمسائیہ ممالک پر ایران کے حملے اپنے دفاع میں تھے اور نشانہ پڑوسی ممالک کی املاک نہیں بلکہ امریکی فوجی اڈّے اور تنصیبات تھیں،مسعود پزیشکیان کا سرکاری ٹی وی پر خطاب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک ایران ہتھیار نہیں ڈال دیتا اُس وقت تک اس سے کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا جس پر ایرانی ...

سرنڈر کرانے کی خواہش قبر تک لیجائے گی، ایران کا امریکا کو جواب

ایران کے تل ابیب پر شدید حملے، 100 میٹر نیچے سرنگیں لرز گئیں وجود - اتوار 08 مارچ 2026

مشرق وسطیٰ میں حالات مزید سنگین، اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے ہر طرف تباہی پھیل گئی لاکھوں اسرائیلیرات بھر شیلٹرز میں چھپنے پر مجبور ،مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے مشرق وسطیٰ میں حالات مزید سنگین ہو گئے، امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران کے تل ابیب پر شدید...

ایران کے تل ابیب پر شدید حملے، 100 میٹر نیچے سرنگیں لرز گئیں

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھ گئے وجود - اتوار 08 مارچ 2026

عوام میٹرو اور گرین لائن میں سفر کرنے لگے، ایک اسٹاپ کا کرایہ 40 روپے ہوگیا کراچی سے پشاور مال بردار کنٹینرز ٹرالے کا کرایہ دو لاکھ 60 ہزار سے 4 لاکھ مقرر پٹرول ڈیزل قیمتوں میں اضافے کے بعد بعد ٹرانسپورٹرز نے کرایے میں بڑا اضافہ کردیا۔کراچی سے پشاور مال بردار کنٹینرز ٹرالے کا...

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھ گئے

پیپلز پارٹی نے پیٹرول 55 روپے فی لیٹرمہنگا مسترد کردیا وجود - اتوار 08 مارچ 2026

پیٹرول قیمت میں اضافے کے خلاف پارلیمنٹ میں آوازاٹھائیں گے، راجا پرویز اشرف عوام کی عید کی خوشیاں ماند پڑ جائیں گی،حکومت نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،بیان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پیٹرول یکمشت 55 روپے فی لیٹرمہنگاکرنے کو پیپلز پارٹی مسترد کر...

پیپلز پارٹی نے پیٹرول 55 روپے فی لیٹرمہنگا مسترد کردیا

ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں وجود - هفته 07 مارچ 2026

7 اسرائیلی ڈرونز مار گرائے، دشمن پر 500 سے زیادہ میزائل اور 2 ہزار ڈرونز فائر کیے،ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، ایران لبنان پر اسرائیلی بمباری جاری، 123 شہادتیں، ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے،تل ا...

ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں

سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ وجود - هفته 07 مارچ 2026

قیمتوں میں اضافے کا اثر براہِ راست صارفین تک منتقل کیا جائے بجٹ ، مالیاتی ہدف متاثر نہ ہو، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے 30 جون تک 1468 ارب کے ہدف کو متاثر نہیں ہونا چاہیے، عالمی مالیاتی فنڈ مذاکرات میں اسکول اور کالجز کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے، دکانوں اور مارکیٹس کے اوقات مقر...

سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ

مضامین
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار وجود پیر 09 مارچ 2026
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار

عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا! وجود پیر 09 مارچ 2026
عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا!

آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود اتوار 08 مارچ 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

سب ہارگئے ۔۔۔۔ وجود اتوار 08 مارچ 2026
سب ہارگئے ۔۔۔۔

جدید جنگ، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقتوں کی حکمت ِعملی وجود اتوار 08 مارچ 2026
جدید جنگ، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقتوں کی حکمت ِعملی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر