وجود

... loading ...

وجود

لبرل حکومت کے بعد لبرل میڈیا: ۱۲؍ ربیع الاول کی اخبارات کی چھٹی منسوخ کر دی گئی!

منگل 22 دسمبر 2015 لبرل حکومت کے بعد لبرل میڈیا: ۱۲؍ ربیع الاول کی اخبارات کی چھٹی منسوخ کر دی گئی!

Mir-Shakil-ur-Rehman

اخبارات میں ہمیشہ سے سال کی چھ چھٹیوں کا رواج چلا آرہا ہے۔ جن میں دو عیدین کی دو، دوتعطیلات ، یوم عاشور کی ایک تعطیل اور بارہ ربیع الاول کی ایک تعطیل شامل ہیں ۔ مگر ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ اس دفعہ بارہ ربیع الاول کی تعطیل اخبارات کی حد تک ختم کر دی گئی ہے۔ وجود ڈاٹ کام کو انتہائی ذمہ دار ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس چھٹی کومنسوخ کرانے میں اصل کردار میر شکیل الرحمان نے ادا کیا ہے ۔ اور اے پی این ایس کے اراکین نے اس فیصلے پر تجارتی مفادات کے باعث حامی بھر لی ہے۔ یاد رہے کہ میاں نوازشریف کی حکومت نے رواں برس اور گزشتہ ماہ ۹؍ نومبر کی یوم ِ اقبال کی مناسبت سے تعطیل کو ختم کرکے ایک بڑا قدم اُٹھایا تھا۔ جسے ملک بھر میں نہایت ناپسندیدگی سے دیکھا گیا تھا۔میاں نوازشریف کی جانب سے جب علامہ اقبال ؒ کی مناسبت سے تعطیل ختم کرنے کا فیصلہ سامنے آیا تو اس سے قبل میاں نوازشریف نے قوم کے مستقبل کو جمہوریت اور لبرل معاشرے سے وابستہ قراردیاتھا۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ موجودہ حکومت ان دنوں جنگ گروپ کے ساتھ نہایت آرام دہ حالت میں سمجھی جاتی ہے۔ جو اپنی اخباری مطبوعات کے علاوہ اپنے ٹی وی چینل جیو کے ذریعے بھی غیر محسوس طور پر ایک ایسے ایجنڈے کی تشکیل میں مصروف رہتا ہے جو صحافتی اقدار کے بالکل برعکس معاشرے پر اپنا سچ جھوٹ مسلط کرتے ہوئے میاں نوازشریف کی حکومت کے حق میں فضا ہموار کرنے کا موجب ہوتا ہے۔ اس ضمن میں نوازشریف کی حکومت اور جیو کے درمیان کافی مشترکات پیدا ہو گئے ہیں جو عمران خان سے نفرت سے لے کر فوج کے بارے میں ایک مخصوص نقطۂ نظر کی تشکیل تک کافی نکات پر محیط ہے۔ اس مشترکہ ایجنڈے کی تشکیل میں پاکستان کے قدیم صحافتی پسِ منظر کے باعث جنگ گروپ کافی مہارت دکھاتا ہے۔ اور کم ہی کسی پکڑائی میں آپاتا ہے۔ جنگ گروپ نے ہمیشہ سے ایک ’’Embedded journalism‘‘ کی ہے جسے بابائے صحافت ضمیر نیازی نے ’’ہم بستری صحافت‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اس بدقسمت صحافتی پسِ منظر کے باعث جنگ گروپ نے پاکستانی معاشرے میں ان گنت خرابیوں اور معاشرتی جرائم کو جنم دینے یا تحریک دینے میں بدترین کردار اد اکیا ہے۔ اب جنگ گروپ نے بارہ ربیع الاول کے دن پر کاری وار کیا ہے۔

نوازشریف کی حکومت اور جیو کے درمیان کافی مشترکات پیدا ہو گئے ہیں جو عمران خان سے نفرت سے لے کر فوج کے بارے میں ایک مخصوص نقطۂ نظر کی تشکیل تک کافی نکات پر محیط ہے۔ اس مشترکہ ایجنڈے کی تشکیل میں پاکستان کے قدیم صحافتی پسِ منظر کے باعث جنگ گروپ کافی مہارت دکھاتا ہے۔ اور کم ہی کسی پکڑائی میں آپاتا ہے

جنگ گروپ کے حوالے سے واضح ہونا چاہئے کہ وہ جیو کے اندر ایسی بہت سی مہمات چلا چکا ہے جس کے بارے میں یہ شکوک اور شواہد سامنے آئے ہیں کہ یہ غیر ملکی ایجنڈے کے مطابق ہے۔ اس حوالے سے بعض قانون نافذ کرنے والے ادارے اس گروپ کی سرگرمیوں کو نہایت خطرناک بھی قراردے چکے ہیں۔ جس کے باعث جنگ اور جیو گروپ کو ماضی میں فوج کی طرف سے کافی مسائل کا سامنا بھی رہا ہے۔ جنگ گروپ کے حالیہ اقدام اور اُسے کے ساتھ اے پی این ایس کے اراکین کی حمایت کو اب اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے کہ کہیں یہ لبرل ایجنڈے کی تشکیل کا کوئی بیرونی کھیل تو نہیں جس نے بارہ ربیع الاول کی چھٹی کو بھی نشانا بنا لیا ہے۔

یہ واضح رہے کہ بارہ ربیع الاول کی تاریخ جمہور علمائے کرام کے ہاں سرکار دوعالم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے حوالے سے مختلف تعبیرات رکھتی ہیں ۔ مگر حضور پاک ﷺ کی ولادت ِ باسعادت عالم اسلام میں انتہائی عقیدت وبرکت سے دیکھی جاتی ہے۔ اور اس پورے ماہ کو فضیلت کے روشنی میں مقبول ومتبرک ٹہرایا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے ایک متعین دن بارہ ربیع الاول کو ۱۹۶۰ء کے عشرے سے چھٹی کے طور پر منایا جارہا تھا۔ مگر میر شکیل الرحمان اور اُن کے ساتھ کچھ مالکان نے اپنی دُکان صحافت کو بڑھانے کے لئے اس متبرک دن پر اپنا مزاج سودوزیاں لاگو کرکے لبرل ایجنڈے کی تکمیل میں ہر حد عبور کر دی ہے جسے عوام میں انتہائی ناپسندیدگی سے دیکھا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ ابھی کچھ دن قبل جیو کے ایک پروگرام ’’آپس کی بات‘‘ میں نجم سیٹھی نے تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اب پاکستان میں ’’لبرل‘‘ لفظ اتنا ناپسندیدہ نہیں رہا اور اب لوگ اس لفظ کا استعمال کرنے لگے ہیں ۔اُنہوں نے اس ضمن میں نوازشریف کی تعریف بھی کی تھی کہ وہ اس سے پہلے یہ لفظ استعمال ہی نہیں کرتے تھے اور اب کرنے لگے ہیں۔ قبل ازیں وہ ایسے ہی ایک پروگرام میں میاں نوازشریف کی جانب سے ہندوؤں کی ایک تقریب میں نوازشریف کے بعض فقروں کی جگالی کرتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ اُنہیں میاں نوازشریف کے یہ الفاظ سن کر قائد اعظم یا دآگئے۔ اس مخصوص نوع کے طرزِ فکر کی روشنی میں یہ سمجھا جارہا ہے کہ جنگ گروپ کی سرپرستی میں لبرل میڈیا ،لبرل اقدار کو آگے بڑھانے کے لئے اب مذہبی اقدار کے خلاف صف آرا ہے اور ایسا وہ تجارتی مفادات کے لئے کر رہا ہے۔اس تناظر میں بارہ ربیع الاول کی چھٹی کی منسوخی پر اے پی این ایس میں شامل تما م مالک مدیران کو عوام میں انتہائی ناپسندیدگی کا سامنا بھی کر سکتا ہے۔


متعلقہ خبریں


بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

مضامین
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود اتوار 01 فروری 2026
پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر