... loading ...

ایم کیوایم کے حلقوں میں انتخابی نتائج کے ساتھ ہی کراچی کے اگلے میئر اور ڈپٹی میئر کے لئے تفصیلی غوروفکر کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ وجود ڈاٹ کام کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جب کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج ایم کیوایم کے حق میں آنا شروع ہوئے تو عزیزآباد کے جناح گراونڈ میں ایک جشن کا ماحول تھا مگرالطاف حسین کی ہدایت پر ایم کیوایم رابطہ کمیٹی لندن ،کراچی کے اگلے میئر پر مشاورتی عمل شروع کرچکی تھی۔ رابطہ کمیٹی لندن نے کراچی میں جن چار امیدواروں سے میئر کراچی کے لئے انٹرویو کئے ہیں اُن میں ریحان ہاشمی، وسیم اختر، انجینئر ناصر جمال اور ارشد وہرہ شامل ہیں۔ ریحان ہاشمی نے ضلع وسطی سے یونین کونسل کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے اور ایم کیوایم کے اندرونی حلقوں میں ضلع وسطی کی اکیاون میں سے پچاس نشستوں پر کامیابی کا سہرا ریحان ہاشمی کے سر باندھا جا رہا ہے۔ رابطہ کمیٹی لندن کی طرف سے اُن کے لئے گزشتہ رات انٹرویو کے دوران خاصی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا جارہا تھا۔ اُن کے علاوہ ضلع وسطی سے ہی کامیاب ہونے والے دوسرے امیدوار انجینئر ناصر جمال سے بھی مختلف سوالات پوچھے گئے، انجینئر ناصر جمال کے الیکٹرک میں ڈپٹی جنرل منیجر ہیں اور پیشے کے اعتبار سے الیکٹرک انجینئر ہیں۔ اُنہیں بلدیاتی انتخابات سے پہلے تک میئر کے لئے سب سے خاموش مگر سب سے پسندیدہ امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔ میئر کے لئے ہی ایم کیوایم کی زیرغور فہرست میں معروف صنعت کار اور سوسائٹی کے علاقے سے یونین کونسل کے چیئر میں کا انتخاب جیتنے والے ڈاکٹر ارشد وہرہ بھی شامل ہیں۔ گزشتہ دوروز میں ایم کیوایم کے یہ وہ امیدوار ہیں جن پر سب سے زیادہ صلاح مشورے کئے گیے ہیں۔ ان تین ناموں کے علاوہ ذرائع ابلاغ میں سب سے زیادہ زیرگردش رہنے والا نام وسیم اختر کا ہے۔ رابطہ کمیٹی کی جانب سے گزشتہ رات میئر کے انٹرویو کے لئے وسیم اختر کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔
ایم کیوایم کے حلقوں میں سب سے زیادہ سنجیدگی سے یہ بحث بھی کی جارہی ہے کہ اب اگلے مرحلے میں ایم کیوایم کو کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے؟ یہ بحث دراصل ڈپٹی میئر کی بحث سے جڑی ہے۔ ایم کیوایم نے بلدیاتی انتخابات سے قبل ڈپٹی میئر کے لئے ایک خاتو ن اور ایم کیوایم کی بانی ارکان میں شامل زرین مجید کا نام سوچ رکھا تھا۔ زرین مجید کو مصطفی کمال کے ساتھ نائب ناظمہ کے طور پر نسرین جلیل کی طرز پر زیرغور لایا گیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے زرین مجید پی آئی بی کے جس حلقے سے انتخاب لڑ رہی تھیں وہاں انتخاب ممکن نہیں ہو سکے۔ اب ایم کیوایم کے اندرونی حلقوں میں یہ بحث کی جارہی ہے کہ کیوں نہ کراچی کے بلدیاتی نظام کو چلانے کے لئے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا جائے؟ پیپلز پارٹی نے کراچی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انیس یونین کونسلوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ضلع وسطی میں ایم کیوایم کے ہاتھوں سے واحد بچ جانے والی پہاڑ گنج کی نشست پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اتحاد کو کندھا مارتے ہوئے پیپلز پارٹی نے قبضہ جما لیا ہے۔ اس صورتِ حال میں ایم کیوایم عملی سیاست کے تقاضوں پر دھیان دیتے ہوئے اس امر پر غور کر رہی ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کر لیا جائے تو اُن مشکلات سے بچا جاسکتا ہے جو کراچی کی میئر شپ چلانے کے لئے سندھ حکومت کے پاس موجود تمام اختیارات کے باعث اُنہیں مستقل درپیش رہیں گی۔کراچی کو ہر سال ۷۰ ؍ارب روپے کی ضرور ت ہوتی ہے۔صرف بلدیہ عظمیٰ کراچی کی تنخواہوں اور پنشنوں کی مد میں ہر ماہ ایک سو سترہ کروڑ روپے درکار ہوتے ہیں۔ سندھ حکومت بلدیاتی حکومت کے ماضی کے تمام اختیارات کو سلب کرچکی ہے۔اور صفائی ستھرائی کے عام کاموں کے لئے درکار فنڈز بھی اس وقت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس نہیں ہے۔ چنانچہ کراچی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے کاموں کو ہموار رکھنے او رمیئر کا بااختیا ربنانے کے لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سے ہم آہنگی اور اتحاد کا ایک رشتہ قائم کیا جائے۔ ایم کیوایم کے حلقوں میں اس ضمن میں ایک نئی بحث گزشتہ رات سے جاری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایم کیوایم جسے میئر اور ڈپٹی میئر کے لئے کسی بھی دوسری جما عت کی حمایت درکار نہیں رہی، کیا پیپلز پارٹی سے اتحاد کے لئے ڈپٹی میئر کے منصب پر بات کرنے کو تیا رہو جائے گی؟ یا پھر دونوں مناصب حاصل کرنے کے بعد پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سے اپنے اختیارات حاصل کرنے او ربلدیہ عظمیٰ کراچی کو خود مختار بنانے کی جنگ لڑے گی۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...