وجود

... loading ...

وجود

رابطہ کمیٹی لندن نے میئر کے لئے چار امیدواروں سے انٹرویو کر لئے!

اتوار 06 دسمبر 2015 رابطہ کمیٹی لندن نے میئر کے لئے چار امیدواروں سے انٹرویو کر لئے!

mqm nazim

ایم کیوایم کے حلقوں میں انتخابی نتائج کے ساتھ ہی کراچی کے اگلے میئر اور ڈپٹی میئر کے لئے تفصیلی غوروفکر کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ وجود ڈاٹ کام کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جب کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج ایم کیوایم کے حق میں آنا شروع ہوئے تو عزیزآباد کے جناح گراونڈ میں ایک جشن کا ماحول تھا مگرالطاف حسین کی ہدایت پر ایم کیوایم رابطہ کمیٹی لندن ،کراچی کے اگلے میئر پر مشاورتی عمل شروع کرچکی تھی۔ رابطہ کمیٹی لندن نے کراچی میں جن چار امیدواروں سے میئر کراچی کے لئے انٹرویو کئے ہیں اُن میں ریحان ہاشمی، وسیم اختر، انجینئر ناصر جمال اور ارشد وہرہ شامل ہیں۔ ریحان ہاشمی نے ضلع وسطی سے یونین کونسل کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے اور ایم کیوایم کے اندرونی حلقوں میں ضلع وسطی کی اکیاون میں سے پچاس نشستوں پر کامیابی کا سہرا ریحان ہاشمی کے سر باندھا جا رہا ہے۔ رابطہ کمیٹی لندن کی طرف سے اُن کے لئے گزشتہ رات انٹرویو کے دوران خاصی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا جارہا تھا۔ اُن کے علاوہ ضلع وسطی سے ہی کامیاب ہونے والے دوسرے امیدوار انجینئر ناصر جمال سے بھی مختلف سوالات پوچھے گئے، انجینئر ناصر جمال کے الیکٹرک میں ڈپٹی جنرل منیجر ہیں اور پیشے کے اعتبار سے الیکٹرک انجینئر ہیں۔ اُنہیں بلدیاتی انتخابات سے پہلے تک میئر کے لئے سب سے خاموش مگر سب سے پسندیدہ امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔ میئر کے لئے ہی ایم کیوایم کی زیرغور فہرست میں معروف صنعت کار اور سوسائٹی کے علاقے سے یونین کونسل کے چیئر میں کا انتخاب جیتنے والے ڈاکٹر ارشد وہرہ بھی شامل ہیں۔ گزشتہ دوروز میں ایم کیوایم کے یہ وہ امیدوار ہیں جن پر سب سے زیادہ صلاح مشورے کئے گیے ہیں۔ ان تین ناموں کے علاوہ ذرائع ابلاغ میں سب سے زیادہ زیرگردش رہنے والا نام وسیم اختر کا ہے۔ رابطہ کمیٹی کی جانب سے گزشتہ رات میئر کے انٹرویو کے لئے وسیم اختر کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

ایم کیوایم عملی سیاست کے تقاضوں پر دھیان دیتے ہوئے اس امر پر غور کر رہی ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کر لیا جائے تو اُن مشکلات سے بچا جاسکتا ہے جو کراچی کی میئر شپ چلانے کے لئے سندھ حکومت کے پاس موجود تمام اختیارات کے باعث اُنہیں مستقل درپیش رہیں گی۔

ایم کیوایم کے حلقوں میں سب سے زیادہ سنجیدگی سے یہ بحث بھی کی جارہی ہے کہ اب اگلے مرحلے میں ایم کیوایم کو کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے؟ یہ بحث دراصل ڈپٹی میئر کی بحث سے جڑی ہے۔ ایم کیوایم نے بلدیاتی انتخابات سے قبل ڈپٹی میئر کے لئے ایک خاتو ن اور ایم کیوایم کی بانی ارکان میں شامل زرین مجید کا نام سوچ رکھا تھا۔ زرین مجید کو مصطفی کمال کے ساتھ نائب ناظمہ کے طور پر نسرین جلیل کی طرز پر زیرغور لایا گیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے زرین مجید پی آئی بی کے جس حلقے سے انتخاب لڑ رہی تھیں وہاں انتخاب ممکن نہیں ہو سکے۔ اب ایم کیوایم کے اندرونی حلقوں میں یہ بحث کی جارہی ہے کہ کیوں نہ کراچی کے بلدیاتی نظام کو چلانے کے لئے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا جائے؟ پیپلز پارٹی نے کراچی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انیس یونین کونسلوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ضلع وسطی میں ایم کیوایم کے ہاتھوں سے واحد بچ جانے والی پہاڑ گنج کی نشست پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اتحاد کو کندھا مارتے ہوئے پیپلز پارٹی نے قبضہ جما لیا ہے۔ اس صورتِ حال میں ایم کیوایم عملی سیاست کے تقاضوں پر دھیان دیتے ہوئے اس امر پر غور کر رہی ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کر لیا جائے تو اُن مشکلات سے بچا جاسکتا ہے جو کراچی کی میئر شپ چلانے کے لئے سندھ حکومت کے پاس موجود تمام اختیارات کے باعث اُنہیں مستقل درپیش رہیں گی۔کراچی کو ہر سال ۷۰ ؍ارب روپے کی ضرور ت ہوتی ہے۔صرف بلدیہ عظمیٰ کراچی کی تنخواہوں اور پنشنوں کی مد میں ہر ماہ ایک سو سترہ کروڑ روپے درکار ہوتے ہیں۔ سندھ حکومت بلدیاتی حکومت کے ماضی کے تمام اختیارات کو سلب کرچکی ہے۔اور صفائی ستھرائی کے عام کاموں کے لئے درکار فنڈز بھی اس وقت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس نہیں ہے۔ چنانچہ کراچی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے کاموں کو ہموار رکھنے او رمیئر کا بااختیا ربنانے کے لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سے ہم آہنگی اور اتحاد کا ایک رشتہ قائم کیا جائے۔ ایم کیوایم کے حلقوں میں اس ضمن میں ایک نئی بحث گزشتہ رات سے جاری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایم کیوایم جسے میئر اور ڈپٹی میئر کے لئے کسی بھی دوسری جما عت کی حمایت درکار نہیں رہی، کیا پیپلز پارٹی سے اتحاد کے لئے ڈپٹی میئر کے منصب پر بات کرنے کو تیا رہو جائے گی؟ یا پھر دونوں مناصب حاصل کرنے کے بعد پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سے اپنے اختیارات حاصل کرنے او ربلدیہ عظمیٰ کراچی کو خود مختار بنانے کی جنگ لڑے گی۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر