وجود

... loading ...

وجود

فوجی حلقوں میں نواز حکومت کی کارکردگی پر شدید بے چینی، مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کی جانے لگیں

جمعرات 12 نومبر 2015 فوجی حلقوں میں نواز حکومت کی کارکردگی پر شدید بے چینی، مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کی جانے لگیں

nwaz zardari raheel

عسکری حلقوں میں گزشتہ کچھ ہفتوں سے سول حکومت کی کارکردگی پر شدید بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔ ایک طرف حکومت نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنی حکومتی کارکردگی کے حوالے سے نہایت خوشگوار فضا بنا رکھی ہے مگر دوسری طرف ملک کے سنجیدہ حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ معیشت کے مصنوعی اعشاریوں اور اشاریوں کے ذریعے جو فضا بنائی جارہی ہے وہ مستقبل قریب میں قومی معیشت کے لئے شدید دباؤ کا باعث بنے گی۔ اس ضمن میں’’ وجود ڈاٹ کام‘‘ کو نہایت قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے جی ایچ کیو میں ماہرینِ معیشت کو مدعو کرکے اُن کی آراء بھی قومی معیشت کے حوالے سے لی گئی ہے۔ باخبر حلقے اصرار کر رہے ہیں کہ ملک کے تمام سنجیدہ حلقوں میں وزیر اعظم کے سمدھی اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے بہت جلد ایف بی آر کے اندر پائے جانے والی بدعنوانیوں کی کہانیاں بھی منظر عام پر آنے کے امکانات ہیں۔

انتہائی ذمہ دار ذرائع کی جانب سے سرکاری حلقوں کو بدعنوانیوں کے احتساب کے پورے سرکاری ڈھانچے میں موجود نقائص کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس ضمن میں کہا جارہا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کسی بھی طرح ایک قابل اعتبار احتسابی عمل کو جاری رکھنے کی اہل ثابت نہیں ہورہی۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے طور پر موجود ہ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے خلاف بھی بدعنوانیوں کے بہت سے معاملات زباں زد عام وخاص ہیں ۔ اس لئے وہ حکومت کے ساتھ اس پورے عمل میں کسی بھی سطح پر کوئی پریشانی پیدا کرنے کا باعث بھی نہیں بن رہے۔ بدقسمتی سے احتساب کے اس پورے عمل میں آڈیٹر جنرل پاکستان اسد امین کا سب سے اہم کردار ہے۔ مگر اُن کے خلاف بھی بہت سی کہانیاں گردش کررہی ہیں۔ اس لئے احتسابی عمل پورا مشکوک ہو چکا ہے۔ کیونکہ بدعنوانیوں کے پہرے دار خود بدعنوانوں کے ساتھ ملے نظر آتے ہیں۔

’’وجودڈاٹ کام ‘‘ کو اپنے قابلِ اعتماد ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی طرف سے عالمی اداروں سے بھاری پیمانے پر لئے گئے قرضوں کے قومی معیشت کے ساتھ قومی اثاثوں پر پڑنے والے ممکنہ دباؤ کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں ایک ماہر معاشیات نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اُنہیں پچھلے دنوں جی ایچ کیو کے ذرائع سے یہ سوال سننے پڑے ہیں کہ کیا آئی ایم ایف سے لئے جانے والے بھاری قرضے مستقبل میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کسی دباؤ کو پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں؟ کیا قومی معیشت اتنے سارے قرضوں کا بوجھ سہارنے کی طاقت رکھتی ہے؟

باخبر حلقوں کا اس پورے تناظر میں اِصرار ہے کہ فوجی حلقوں نے اپنے بہت اہم فیصلے چیف آف آرمی اسٹاف کے دورۂ امریکا سے واپسی پر اُٹھا رکھے ہیں۔ ماہِ نومبر کے اختتام تک اگر سیاسی حکومت نے بعض بنیادی نوعیت کے فیصلے نہ کئے تو عسکری ادارے کچھ اہم جوابی فیصلوں کے لئے اپنی مشاورت مکمل کرچکے ہیں۔

باخبر حلقے اصرار کر رہے ہیں کہ ملک کے تمام سنجیدہ حلقوں میں وزیر اعظم کے سمدھی اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔

اس ضمن میں وزیراعظم میاں نوازشریف اور اُن کے قریبی حلقے بھی اہم نوعیت کے مشاورتی عمل کا آغاز کرچکے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف ان خطرات کو بھانپتے ہوئے ایک مرتبہ پھر عمران خان کے دھرنے کے خلاف پارلیمانی اتحاد کی طرح کی فضا بنانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ وہ جمہوریت کے نام پر پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں میں ایک اتحاد قائم کرنے کے لئے کوشاں ہو چکے ہیں اور اس ضمن میں ابتدائی قدم کے طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے پر غور کر رہے ہیں۔ وجودڈاٹ کام کو اپنے ذرائع نے بتایا ہے کہ میاں نوازشریف نے اس حوالے سے ایک اہم پیغام لے کر سابق صدر آصف علی زرداری کے پاس اپنے ایک وفاقی وزیر کو دبئی بھیجا تھا ۔ جو نہایت خاموشی سے آصف زرداری کے ساتھ مشاورت کرکے واپس آئے ہیں۔ بعد ازاں چیئر مین سینیٹ میاں رضاربانی کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آچکی ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلا کر قومی ایکشن پلان اور خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ میاں رضا ربانی کی اس تجویز کو پس پردہ جاری سیاست دانوں کی باہمی مشاورت سے جوڑا جائے تو یہ خاصا معنی خیز بن جاتی ہے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نوازشریف کو متعد د مرتبہ پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ مشورہ دیا جاچکا ہے کہ وہ ضربِ عضب کو صرف دہشت گردی تک محدود کریں اور قومی اداروں اور سیاست دانوں کے احتساب کو اس دائرے میں لے جانے سے روکیں۔ میاں نوازشریف سے اس ضمن میں بار بار قومی ایکشن پلان پر نظرثانی کا مطالبہ پسِ پردہ کیا جاتا رہا ہے۔ کسی بھی ابہام کے بغیر یہ بات بالکل واضح ہے کہ قومی ایکشن پلان کے بعض پہلووؤں سے سیاسی جماعتیں بشمول مسلم لیگ نون متفق نہیں ۔ اسی طرح سیاست دانوں اور حکومت کے لئے جنرل راحیل شریف کے بیرونی دوروں پر بھی شدید تحفظات پیدا ہو چکے ہیں۔ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف خطے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہو چکے ہیں اور روس وچین کے ساتھ تعلقات کی دفاعی جہتوں میں خود کو متعلق بنا کر امریکا کے لئے اپنی اہمیت کے ایک نئے باب کو کھولنے جارہے ہیں۔ساتھ ہی وہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے ساتھ ایک ایسا کردار بھی نبھانے کے لئے مشاورت کررہے ہیں جو خطے میں پاکستان کی اہمیت کو برقرار رکھنے میں معاون ہو اور آگے چل کر علاقائی سطح پر بھارتی خطرے سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو تنہا نہ ہونے دے۔ مگرحکومت یہ پورا تزویراتی عمل نظر انداز کرکے اِسے فوج کے آئینی کردار سے تجاوز کے زمرے میں رکھ کر نہایت خشمگیں نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔

باخبر حلقے اس پورے تناظر کو سامنے رکھ کر یہ اصرار کررہے ہیں کہ رواں ماہ کے اختتام پر فوج حکومت تنازع نئے دائروں میں داخل ہو کر زیادہ خطرناک بن سکتا ہے اور عسکری حلقوں میں زیر غور فیصلوں کو مہمیز دینے کا باعث بن سکتا ہے۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر