... loading ...

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کی مفاہمت اب ایک دوسرے پر بوجھ بنتی جارہی ہے۔ سابق وفاقی وزیر قمرالزماں کائرہ نے دبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ روز کہا تھا کہ حزب اختلاف کا مضبوط کردار ادا نہ کرنے کے باعث اُنہیں سیاسی طور پر نقصان ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کو یہ نقصان اس کے بغیر ہی عام انتخابات میں ہوچکا تھا۔ پیپلز پارٹی اب پنجاب میں کسی بھی طرح کے ووٹر کے لئے کوئی اچھا اور بہتر انتخاب نہیں رہی۔ اس کے باوجود پیپلز پارٹی اس روایتی کلیے کو سامنے رکھتے ہوئے پیش قدمی کرنا چاہتی ہے جو کسی بھی حکمران جماعت کے خلاف پھوٹنے والے فطری جذبات کے باعث پیدا ہونے والی گنجائش سے متعلق ہے۔ مگر یہ نوے کے عشرے کا سیاسی ماحول نہیں جس میں ووٹر کا انتخاب صرف دو جماعتوں تک محدود تھا۔اب میدان میں تحریک انصاف ہے اور وہ پی پی تو کجا مسلم لیگ نون کوبھی سانس لینے کا موقع دینے کے لئے تیار نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بلاول بھٹو نے پنجاب میں سیاسی بازار سجایا تو میاں نوازشریف نے مسلم لیگ سندھ کے رہنماؤں کو اسلام آباد مدعو کر لیا۔مگر ان دوواقعات کے درمیان کچھ اور متوازی سیاسی لہریں پہلے سے ہی اُٹھ چکی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے ایک نہایت گرما گرم بیان مسلم لیگ نون کی قیادت اور ان کی حکومت کے خلاف داغا تھا۔ جس نے میاں نوازشریف کو حیران کر دیا تھا۔ اس کا ذکر اُنہوں نے سندھ کے اہم جماعتی رہنماؤں سے اجلاس کے دوران میں بھی کیا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ آصف علی زرداری نے اُن کے خلا ف بیان کیوں دیا؟تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تاحال اس بیان سے پیداہونے والی فضا پر کوئی قابو نہیں پایا جاسکا۔ وزیراعظم نوازشریف نے اگرچہ اپنے جماعتی رہنماؤں کو اس مسئلے پر جوابی گولہ باری سے روک لیا تھا مگر دوسری طرف اُنہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے اپنی سیاسی تال میل کی گرمجوشی کو بحال کرنے میں کوئی خاص پیش رفت بھی نہیں کی۔ اس طرح پیپلز پارٹی کی قیادت کی یہ توقع تو پوری نہیں ہو سکی کہ اُن کے بیان کے بعد نون لیگ سیاسی طور پر الجھن کی شکار اور اُنہیں منانے کے لئے اُن کے مطالبات پر غورکرنا شروع کرے گی۔ جو ڈاکٹر عاصم حسین سے لے کر کراچی میں جاری آپریشن کے بعض منتخب حصوں پر پیپلز پارٹی کے تحفظات کے حوالے سے ہیں۔ گویا پیپلز پارٹی کا یہ تیر خالی گیا ہے۔
اس دوران میں ایم کیوایم کے استعفوں نے بھی سندھ کے اندر ایک خاص فضا پیدا کر رکھی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ اب اِن استعفوں پر ایم کیو ایم کو منانے کاکام عملاً ختم ہو چکا ہے۔ اور نون لیگ نے خالص فوجی تاثر دینا شروع کر دیا ہے ۔ یعنی اس مسئلے پر وہ گونگے بہرے بن گئے ہیں۔ اب اگر کراچی اور حیدرآباد سے قومی اسمبلی کی ۲۴ اور سندھ اسمبلی کی ۵۱ نششتیں خالی ہو جاتی ہیں تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ تحریک انصاف اُٹھانے کے قابل ہے۔ جو نون لیگ کو ہر گز گوارا نہیں۔ اس طرح قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا سیاسی وزن اور حجم دونوں میں ہی اضافہ ہو جائے گا اور نون لیگ کو نہایت سخت حزبِ اختلاف کے طور پر تحریک ِ انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چنانچہ مسلم لیگ نون کے لئے یہ ہرگز مناسب نہیں تھا کہ وہ کراچی اور حیدرآباد کو مکمل طور پر ایم کیو ایم کے بعد اب تحریکِ انصاف کے رحم وکرم پر چھوڑ دے۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع نے’’ وجود ڈاٹ کام ‘‘کو تصدیق کی ہے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت ایم کیوا یم کے استعفوں کے بعد کی صورتِ حال پر بہت زیادہ دھیان دے رہی ہے ۔کیونکہ نون لیگ کے لئے بلدیاتی انتخابات سے زیادہ کٹھن مرحلہ کم از کم سندھ اور کراچی کی حد تک ضمنی انتخابات ہوں گے۔
پس بلاول بھٹو کے دورۂ پنجاب کے متوازی ان سیاسی لہروں کو بھی دھیان میں رکھتے ہوئے نون لیگ نے ضمنی اور بلدیاتی انتخابات دونوں میں ہی مسلم لیگ کو کراچی اورسندھ میں زیادہ فعال اور متحرک بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔میاں نوازشریف کی سندھ کے رہنماؤں کے ساتھ بیٹھک مجموعی طور پر اس تناظر میں ہوئی ہے۔ جس میں نون لیگ نے فیصلہ کیا ہے کہ اب اندرون سندھ بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے خلاف زیادہ شور کئے بغیر منظم مقابلے کئے جائیں گے۔دوسری طرف کراچی میں بھی نون لیگ کو متحرک کیا جائے گا۔ اس ضمن میں نوازشریف نے مختلف ناراض جماعتی رہنماؤں کو منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگلے کچھ دنوں میں وہ اس جانب پیش رفت کریں گے۔واضح رہے کہ نون لیگ کی سندھ میں تنظیم نہایت ابتری سے دوچار ہے۔ اور نون لیگ نے برسرِ اقتدار آنے کے بعد دانستہ طور پر سندھ میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر رکھا تھا تاکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اُن کی قومی سطح کی مفاہمت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ مگر اب یہ مفاہمت ایک دوسرے پر سیاسی بوجھ بنتی جارہی اور پیپلز پارٹی پنجاب میں جبکہ نون لیگ سندھ میں اپنے پتے آزمانے کے لئے کمربستہ ہو چکی ہیں۔
سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...
تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...
تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...
ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...
شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...
حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...
شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...
ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...
پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...