وجود

... loading ...

وجود

پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال

جمعرات 16 اپریل 2026 پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال

صحن چمن
۔۔۔۔۔۔۔
عطا محمد تبسم

ہمارا معاشرہ ہمیشہ سے مشرقی اقدار، حیا، وقار اور خاندانی روایات کا امین رہا ہے ۔ یہاں عورت کی اصل خوبصورتی اس کے لباس یا
ظاہری نمائش میں نہیں بلکہ اس کی شرم و حیا، متانت اور کردار میں سمجھی جاتی رہی ہے ۔ یہی وہ اقدار ہیں جنہوں نے صدیوں تک ہمارے
معاشرے کو ایک مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم کی۔ مگر بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں الیکٹرانک میڈیا، خصوصاً مارننگ شوز، اس روایت سے
بتدریج دور ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایک وقت تھا جب مارننگ شوز خواتین کی رہنمائی، آگاہی اور تربیت کا ذریعہ ہوتے تھے ۔ ان پروگرامز میں صحت، بچوں کی تربیت،
تعلیم، گھریلو مسائل اور سماجی موضوعات پر سنجیدہ اور مفید گفتگو کی جاتی تھی۔ خواتین ان سے سیکھتی تھیں اور اپنے روزمرہ کے معاملات میں
بہتری لاتی تھیں۔ مگر آج یہی مارننگ شوز ریٹنگ(TRP)کی دوڑ میں اپنی اصل روح کھو بیٹھے ہیں۔ سنجیدہ موضوعات کی جگہ غیرضروری
گلیمر، ذاتی زندگی کی نمائش، اور بعض اوقات غیر اخلاقی گفتگو نے لے لی ہے ۔
یہ تبدیلی محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے تجارتی رجحان کا نتیجہ ہے ، جہاں ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے معیار کو قربان کر دیا
گیا ہے ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب کچھ پروگرامز ایسے مناظر اور گفتگو پیش کر رہے ہیں جو نہ صرف فیملی کے ساتھ دیکھنے کے قابل نہیں بلکہ
ہماری سماجی اقدار کے بھی منافی ہیں۔ حالیہ دنوں میں اداکارہ فضا علی کے ایک پروگرام میں پیش آنے والا واقعہ اس کی واضح مثال ہے ،
جس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیمرا کہاں ہے ؟ وہ ادارہ جس کا قیام ہی اس
مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا کہ میڈیا کو ایک اخلاقی اور ذمہ دار دائرے میں رکھا جائے ، آج بظاہر خاموش تماشائی دکھائی دیتا ہے ۔ جب
غیر معیاری اور غیر اخلاقی مواد کھلے عام نشر ہو رہا ہو اور اس پر کوئی موثر کارروائی نہ کی جائے تو یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ جیسے پیمرا اپنی بنیادی
ذمہ داریوں سے غافل ہو چکا ہے ۔
یہ تضاد اس وقت مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب ایک طرف جیو نیوز کو بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے کی وفات کی خبر نشر کرتے ہوئے بھارتی
گانے چلانے پر نوٹس جاری کیا جاتا ہے ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ادارے کام تو کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی ترجیحات کچھ اور
ہیں۔ جبکہ دوسری طرف مقامی چینلز پر نشر ہونے والے غیر اخلاقی مواد پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے ۔ آشا بھوسلے برصغیر کی ایک عظیم فنکارہ
تھیں، جنہوں نے نہ صرف بھارتی بلکہ پاکستانی شعراء اور موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ ان کا فن سرحدوں کا محتاج نہیں۔ ایسے میں ان
کے چند گانوں کے بول پر پابندی اور غیر اخلاقی مواد پر خاموشی ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے ۔ میڈیا کسی بھی معاشرے کا آئینہ دار ہونے
کے ساتھ ساتھ اس کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ جو کچھ ٹی وی اسکرین پر دکھایا جاتا ہے ، وہی آہستہ آہستہ عوامی سوچ کا حصہ بن
جاتا ہے ۔ اگر مسلسل غیر معیاری اور سطحی مواد پیش کیا جائے تو ناظرین کی پسند بھی اسی طرف مائل ہونے لگتی ہے ، اور یوں ایک منفی چکر جنم لیتا
ہے ۔ اس چکر کو توڑنے کے لیے صرف پیمرا ہی نہیں بلکہ میڈیا ہاؤسز اور ناظرین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیمرا کو چاہیے کہ وہ محض نوٹس
جاری کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کرے ۔ واضح پالیسی بنائی جائے ، اخلاقی حدود کا تعین کیا جائے اور ان کی خلاف ورزی
پر بلا امتیاز کارروائی کی جائے ۔ ایسے پروگرامز کو فوری طور پر بند کیا جائے جو معاشرتی اقدار کے خلاف ہوں، اور چینلز کو پابند کیا جائے کہ وہ
معیاری اور تعمیری مواد نشر کریں۔تاہم ذمہ داری صرف اداروں تک محدود نہیں۔ ناظرین کا کردار بھی نہایت اہم ہے ۔ اگر عوام خود غیر
معیاری پروگرامز دیکھنا بند کر دیں اور ایسے مواد کو مسترد کر دیں تو چینلز کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا پڑے گی۔ کیونکہ میڈیا آخرکار وہی دکھاتا ہے جو
بکتا ہے ۔ اگر معیاری مواد کو پذیرائی ملے گی تو یقیناً میڈیا بھی اسی طرف واپس آئے گا۔
یہاں یہ امر بھی بہت اہم ہے کہ جس چینل پر یہ افسوسناک مواد ٹیلی کاسٹ ہوا ہے ، وہ ہمارے وفاقی وزیر محسن نقوی کا ہے ۔ جو اس قوم
کے لیے احسن اقدامات اور مثبت روایات کے امین ہونے چاہیئے ، لیکن ان کے اس چینل سے اس طرف کی خرافات کے نشر ہونے سے
پوری قوم کو کیا پیغام گیا ہے ۔ انھیں اس واقعے پر قوم سے معافی مانگنی چاہئے ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم تنقید کے ساتھ ساتھ مثبت متبادل بھی
پیش کریں۔ ہمیں ایسے پروگرامز کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو تعلیم، شعور اور اخلاقیات کو فروغ دیتے ہوں۔ میڈیا کو صرف تفریح کا ذریعہ
نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ بنانا ہوگا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہمارا معاشرہ ایک نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں اقدار اور جدیدیت کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج
بن چکا ہے ۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ایک ایسے میڈیا کلچر کی عادی ہو جائیں گی جہاں حیا، وقار اور سنجیدگی کا
کوئی مقام نہیں ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرے ، میڈیا ہاؤسز خود احتسابی کریں، اور ناظرین باشعور بن کر اپنا
انتخاب بہتر کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک مہذب، باوقار اور مثبت معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟

پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید

پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال

اسلام آباد کا سفارتی مشن اورعالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
اسلام آباد کا سفارتی مشن اورعالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ

مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر