وجود

... loading ...

وجود

اسلام آباد:امن کا عالمی مرکز

اتوار 12 اپریل 2026 اسلام آباد:امن کا عالمی مرکز

محمد آصف

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں کھڑا ہے ۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال نے نہ صرف علاقائی طاقتوں بلکہ عالمی
قوتوں کو بھی نئی صف بندی پر مجبور کر دیا ہے ۔ ایسے نازک اور فیصلہ کن لمحے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔ اسلام
آباد اس وقت سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات ایک نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں۔ یہ لمحہ
بظاہر سفارتی ہے ، مگر اس کے اثرات عسکری اور معاشی سطح تک پھیلے ہوئے ہیں۔ پاکستان نہ صرف ایک میزبان بلکہ ایک ضامن اور سہولت
کار کے طور پر سامنے آیا ہے ، جو اپنی ساکھ، وقار اور مستقبل کو داؤ پر لگا کر امن کے قیام کی کوشش کر رہا ہے ۔
حالیہ کشیدگی کے دوران ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ ایسے
میں ایران کے ایک اہم وفد کی پاکستان آمد اور اس کی سیکیورٹی ایک بڑا سوال بن گئی۔ پاکستان نے بروقت اور واضح پیغام دیا کہ وہ اپنے
مہمانوں کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنائے گا۔فضائی نگرانی، جدید دفاعی نظام اور مربوط سیکیورٹی حکمت عملی کے ذریعے یہ باور کرایا گیا کہ
پاکستان اپنی سرزمین اور فضاؤں کے تحفظ میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گا۔ یہ صرف ایک پروٹوکول نہیں بلکہ ایک واضح سفارتی
اشارہ تھا کہ پاکستان اب محض تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال اور ذمہ دار قوت کے طور پر ابھر رہا ہے ۔ اس تمام صورتحال میں عالمی طاقتوں کی
باہمی چالیں بھی نمایاں رہیں۔ امریکہ میں موجود صہیونی لابی کی سرگرمیوں اور اسرائیل کی ممکنہ مداخلت نے مذاکراتی عمل کو متاثر کرنے کی
کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق امریکی وفد کی سطح اور آمد کے وقت میں تبدیلی نے غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی تھی۔ ایران نے بھی واضح
کیا کہ اگر مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو وہ اعلیٰ سطحی شرکت پر نظرثانی کرے گا۔ اس نازک موڑ پر پاکستان نے سفارتی چینلز کو
متحرک کیا اور امریکہ کو یہ باور کرایا کہ اگر یہ موقع ضائع ہوا تو نہ صرف خطہ بلکہ عالمی سیاست ایک نئی کشیدگی کی لپیٹ میں آ سکتی ہے ۔ یوں
اسلام آباد نے پسِ پردہ ایک مؤثر کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں اعلیٰ سطحی امریکی شرکت کی راہ ہموار ہوئی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی ایک واقعے نے عالمی تاریخ کا رخ موڑا ہو۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بظاہر چھوٹے واقعات بھی بڑی جنگوں کا
پیش خیمہ بن جاتے ہیں۔ پہلی عالمی جنگ کا آغاز بھی ایک سیاسی قتل کے بعد ہوا تھا جس نے پوری دنیا کو آگ میں جھونک دیا۔ اسی تناظر
میں موجودہ صورتحال کو بھی غیر معمولی احتیاط اور تدبر کی ضرورت ہے ۔ پاکستان اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ معمولی سی غلطی یا کسی تیسرے
فریق کی اشتعال انگیزی پورے عمل کو سبوتاژ کر سکتی ہے ۔ اسی لیے زمینی، فضائی اور سفارتی سطح پر غیر معمولی الرٹ کی کیفیت برقرار رکھی گئی
ہے ۔ اس تمام عمل میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اندرونی استحکام ہے ۔ جب بھی کوئی ملک عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرنے لگتا ہے تو
اس کے مخالفین کوشش کرتے ہیں کہ اسے اندر سے کمزور کیا جائے ۔ پراکسی سرگرمیاں، پروپیگنڈا مہمات اور داخلی خلفشار پیدا کرنے کی
حکمت عملیاں اسی سلسلے کی کڑیاں ہوتی ہیں۔ پاکستان کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ بیرونی محاذ پر کامیابی کے لیے داخلی اتحاد ناگزیر ہے ۔
سیاسی قیادت، عسکری ادارے اور سفارتی مشینری اگر یکسو ہو کر کام کریں تو ہی کوئی بڑا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرحلے
پر قومی یکجہتی کو سب سے بڑی طاقت قرار دیا جا رہا ہے ۔
دوسری جانب جنگ بندی کے مثبت اثرات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ
امن کی ایک خبر بھی عالمی معیشت پر فوری اثر ڈالتی ہے ۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو گی بلکہ عالمی
معاشی استحکام کو بھی تقویت ملے گی۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال انتہائی اہم ہے کیونکہ توانائی کی
قیمتوں میں کمی براہِ راست مہنگائی اور معاشی دباؤ کو کم کر سکتی ہے ۔ یوں اسلام آباد میں ہونے والی پیش رفت کا تعلق صرف سیاست سے نہیں
بلکہ کروڑوں انسانوں کے معاشی مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے ۔
اس مرحلے پر اسرائیل اور دیگر علاقائی عناصر کی ممکنہ مہم جوئی بھی ایک اہم پہلو ہے ۔ ماضی میں ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں جب
مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے عسکری کارروائیاں کی گئیں۔ اس بار بھی خدشات موجود تھے کہ کسی تیسرے محاذ پر کشیدگی بڑھا کر
مذاکرات کو متاثر کیا جا سکتا ہے ۔ پاکستان نے ان خدشات کو سنجیدگی سے لیا اور اپنی دفاعی تیاری کو یقینی بنایا۔ فضائی نگرانی کے جدید نظام،
مربوط انٹیلی جنس تعاون اور سفارتی رابطوں کے ذریعے ہر ممکن خطرے کا پیشگی تدارک کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسلام آباد میں ہونے والے
یہ مذاکرات محض وقتی سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ممکنہ”میثاقِ اسلام آباد”کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اگر ایران اور امریکہ کسی قابلِ عمل سمجھوتے پر
پہنچ جاتے ہیں تو یہ پورے خطے کے لیے ایک نئی شروعات ہو گی۔ اس سے نہ صرف جنگ کے خطرات کم ہوں گے بلکہ سفارتی حل کی روایت
کو بھی تقویت ملے گی۔ پاکستان کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ خود کو ایک ذمہ دار، غیر جانبدار اور امن پسند ریاست کے طور پر
منوائے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی نتائج پیدا کر سکتی ہے ۔تاہم اس سارے عمل میں دعا، تدبر
اور دانشمندی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔ ایسے مواقع پر جذباتیت کی بجائے حکمت اور صبر کام آتے ہیں۔ پاکستان کے عوام کے
لیے بھی یہ لمحہ اہم ہے کہ وہ اتحاد اور استحکام کا مظاہرہ کریں۔ عالمی سطح پر ابھرنے والے ممالک کے لیے سب سے بڑی طاقت ان کی داخلی ہم
آہنگی اور سیاسی بلوغت ہوتی ہے ۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو دنیا اسلام آباد کو ایک نئے سفارتی مرکز کے طور پر دیکھے گی، اور اگر
خدانخواستہ ناکامی ہوئی تو اس کے اثرات بھی دور رس ہوں گے ۔بالآخر یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتی
ہے ۔ پاکستان ایک ایسے امتحان سے گزر رہا ہے جہاں اس کی عسکری صلاحیت، سفارتی مہارت اور سیاسی بصیرت سب ایک ساتھ آزمائش
میں ہیں۔ آنے والے چند دن اور گھنٹے نہایت اہم ہیں۔ اگر تدبر، حکمت اور اتحاد کے ساتھ یہ مرحلہ طے کر لیا گیا تو یہ صرف ایک کامیاب
مذاکراتی عمل نہیں ہوگا بلکہ عالمی سیاست میں پاکستان کے کردار کی نئی تعریف بھی ہوگا۔ ممکن ہے آنے والے برسوں میں جب اس دور کا ذکر
ہو تو اسے اسی نام سے یاد کیا جائے میثاقِ اسلام آباد ایک ایسا لمحہ جب ایک ملک نے کشیدگی کے دور میں امن کا راستہ چن کر تاریخ کا رخ
موڑنے کی کوشش کی۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
اسلام آباد:امن کا عالمی مرکز وجود اتوار 12 اپریل 2026
اسلام آباد:امن کا عالمی مرکز

اسرائیلی بری، فلسطینی کو پھانسی وجود اتوار 12 اپریل 2026
اسرائیلی بری، فلسطینی کو پھانسی

نیتن یاہوکے لیے جنگ کا راستہ جیل کی طرف مڑ گیا! وجود اتوار 12 اپریل 2026
نیتن یاہوکے لیے جنگ کا راستہ جیل کی طرف مڑ گیا!

دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر