... loading ...
محمد آصف
رمضان المبارک اسلامی تقویم کا نواں مہینہ اور روحانی تربیت، تزکیئہ نفس، صبر و تقویٰ اور اجتماعی ہمدردی کا عظیم ترین موسمِ بہار ہے ۔ اس بابرکت مہینے کا استقبال دراصل اپنی زندگی میں ایک نئی روح پھونکنے ، دل کی زمین کو نرم کرنے اور اعمال کی کھیتی کو سنوارنے کا عہد تازہ کرنے کا نام ہے ۔ قرآنِ کریم نے رمضان کو نزولِ قرآن کا مہینہ قرار دیا، اور اسی نسبت سے یہ مہینہ انسان کو ہدایت، شعور اور بصیرت کی طرف بلاتا ہے ۔
استقبالِ رمضان کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ بندہ اس مہینے کی آمد سے پہلے اپنے باطن و ظاہر کا محاسبہ کرے ، گزشتہ کوتاہیوں پر ندامت محسوس کرے اور آئندہ کے لیے اصلاحِ احوال کا پختہ ارادہ کرے ۔ یہ تیاری محض ظاہری انتظامات تک محدود نہ ہو بلکہ دل کی دنیا میں بھی ایک انقلاب برپا کرے ، کیونکہ اصل مقصد بھوک اور پیاس برداشت کرنا نہیں بلکہ نفس کی سرکشی کو قابو میں لا کر تقویٰ کی دولت حاصل کرنا ہے ۔
استقبالِ رمضان کا پہلا تقاضا نیت کی درستگی اور اخلاص کی مضبوطی ہے ۔ انسان جب کسی بڑے مہمان کی آمد پر اپنے گھر کو سجاتا اور سنوارتا ہے تو رمضان تو وہ مہمان ہے جو رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کے خزانوں کے ساتھ آتا ہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس مہینے سے پہلے اپنے دل کو کینہ، حسد، بغض اور نفرت جیسی بیماریوں سے پاک کریں۔ آپس کے جھگڑے ختم کریں، رشتوں کو جوڑیں اور معافی مانگنے اور معاف کرنے کاحوصلہ پیدا کریں۔ کیونکہ ایک صاف دل ہی عبادت کا صحیح لطف اٹھا سکتا ہے ۔ اگر دل میں کدورتیں ہوں تو نماز، تلاوت اور ذکر کا اثر کم ہو جاتا ہے ۔ اس لیے رمضان کے استقبال کا حقیقی آغاز دل کی صفائی سے ہوتا ہے ۔
دوسرا اہم پہلو عبادات کی پیشگی تیاری ہے ۔ رمضان میں نمازِ پنجگانہ کے ساتھ تراویح، تہجد، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور دعا کی کثرت کی جاتی ہے ۔ اگر ہم پہلے سے اپنی عادات کو درست کر لیں، مثلاً نمازوں کی پابندی شروع کر دیں، قرآن کی روزانہ تلاوت کا معمول بنا لیں، تو رمضان میں یہ اعمال آسانی سے جاری رہتے ہیں۔ بعض لوگ رمضان کے پہلے دن جوش و خروش سے عبادت شروع کرتے ہیں مگر چند دن بعد سستی آ جاتی ہے ۔ اس کا سبب تیاری کا فقدان ہے ۔ جس طرح امتحان سے پہلے طالب علم تیاری کرتا ہے ، اسی طرح رمضان بھی روحانی امتحان ہے جس کے لیے پیشگی مشق ضروری ہے ۔ ہمیں اپنے وقت کا نظم بنانا چاہیے تاکہ سحر و افطار کے اوقات ضائع نہ ہوں اور عبادت کے لیے مخصوص وقت مقرر ہو۔ استقبالِ رمضان کا ایک اور اہم پہلو سماجی ذمہ داری کا احساس ہے ۔ یہ مہینہ ہمیں بھوک اور پیاس کے ذریعے غریبوں اور محتاجوں کی حالت کا احساس دلاتا ہے ۔ لہٰذا رمضان سے پہلے ہی ہمیں اپنے مال کا جائزہ لینا چاہیے ، زکوٰة اور صدقات کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور مستحق افراد کی تلاش کرنی چاہیے ۔ اگر ہم رمضان کے آغاز ہی سے ضرورت مندوں کی مدد شروع کر دیں تو معاشرے میں خیر و برکت کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے ۔افطار دسترخوانوں کا اہتمام، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت اور پڑوسیوں کا خیال رکھنا بھی استقبالِ رمضان کا حصہ ہے ۔ اس مہینے میں صرف اپنی عبادت پر توجہ کافی نہیں بلکہ دوسروں کی آسانی کا سبب بننا بھی مطلوب ہے۔
گھریلو سطح پر بھی رمضان کی تیاری ایک خوبصورت روایت ہے ۔ گھروں کی صفائی، سحر و افطار کے انتظامات اور اہلِ خانہ کے لیے روحانی ماحول کی تشکیل اہم ہے ، مگر اس میں اعتدال ضروری ہے ۔ بدقسمتی سے بعض اوقات رمضان کی تیاری خریداری، پکوانوں اور ظاہری اہتمام تک محدود ہو جاتی ہے ، جبکہ اصل روح پسِ پشت چلی جاتی ہے ۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ رمضان سادگی، قناعت اور ضبطِ نفس کا مہینہ ہے ۔ فضول خرچی، نمود و نمائش اور اسراف اس مہینے کی روح کے خلاف ہیں۔ اگر ہم سادگی اختیار کریں اور بچت کو صدقہ و خیرات میں لگائیں تو یہی حقیقی استقبال ہوگا۔ رمضان المبارک کا استقبال دعا کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے ۔ صحابئہ کرام کا معمول تھا کہ وہ چھ ماہ پہلے رمضان کی دعا کرتے اور چھ ماہ بعد اس کی قبولیت کی دعا مانگتے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رمضان کی قدر اہلِ ایمان کے دلوں میں کتنی زیادہ تھی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اس بابرکت مہینے تک پہنچنے کی دعا کریں، صحت اور فرصت کی دعا کریں اور اللہ تعالیٰ سے استقامت طلب کریں۔ دعا انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے اور دل میں امید اور یقین پیدا کرتی ہے کہ آنے والا رمضان ہماری زندگی کا بہترین رمضان ہوگا۔
استقبالِ رمضان کا ایک پہلو علمی و فکری تیاری بھی ہے ۔ ہمیں قرآنِ مجید کے ترجمہ و تفسیر کے مطالعے کا ارادہ کرنا چاہیے ، سیرتِ نبوی ۖ اور اسلامی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنے ایمان کو مضبوط بنانا چاہیے ۔ رمضان میں قرآن سے تعلق مضبوط کرنا اصل مقصد ہے ، اس لیے اگر ہم پہلے سے کچھ اہداف مقرر کر لیں، مثلاً پورا قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھنا یا کسی مخصوص سورت کی تفسیر سمجھنا، تو ہمارا
رمضان زیادہ بامعنی بن سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ اخلاقی اصلاح، جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے بچنے کا عزم بھی ضروری ہے کیونکہ روزہ صرف معدے کا نہیں بلکہ زبان، آنکھ اور دل کا بھی ہوتا ہے ۔
روحانی اعتبار سے استقبالِ رمضان خود احتسابی کا بہترین موقع ہے ۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ گزشتہ رمضان سے اب تک ہماری زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟ کیا ہم نے اپنے گناہوں سے توبہ کی؟ کیا ہم نے اپنے کردار کو بہتر بنایا؟ اگر نہیں، تو آنے والا رمضان ہمارے لیے ایک نیا موقع ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہر سال ہمیں یہ مہینہ عطا کر کے گویا ہمیں اپنی اصلاح کا موقع دیتا ہے ۔ اگر ہم اس موقع کو ضائع کر دیں تو یہ ہماری محرومی ہوگی۔ اس لیے عزم و ہمت کے ساتھ اس مہینے کا استقبال کرنا چاہیے تاکہ یہ رمضان ہماری تقدیر بدلنے کا سبب بن جائے ۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ رمضان کا استقبال صرف ایک وقتی جذبہ نہیں بلکہ مستقل تبدیلی کی بنیاد ہے ۔ اگر ہم اس مہینے میں صبر، تقویٰ، عبادت اور خدمتِ خلق کی عادت ڈال لیں تو یہی عادات سال بھر ہمارے ساتھ رہ سکتی ہیں۔ رمضان ایک تربیتی کیمپ ہے جہاں انسان کو خود پر قابو پانے ، وقت کی قدر کرنے اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کی مشق کرائی جاتی ہے ۔ جو شخص اس مہینے کا صحیح استقبال کرتا ہے ، وہ اس کے اختتام پر ایک بدلا ہوا، سنورا ہوا اور پاکیزہ انسان بن کر نکلتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے ، اس کا صحیح استقبال کرنے اور اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔