وجود

... loading ...

وجود

کشمیری جھکنے والی قوم نہیں!

هفته 14 فروری 2026 کشمیری جھکنے والی قوم نہیں!

ریاض احمدچودھری

بھارت نے طاقت کے زور پر کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کی، کشمیری جھکنے والی قوم نہیں، کشمیریوں کو تسلط اور طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب پاکستان یومِ یکجہتی کشمیر نہ مناتا ہو، جب بھی کشمیریوں پر ظلم کیا جاتا ہے، پاکستان پوری قوت کے ساتھ کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتا ہے۔کشمیری دنیا کی ایک باہمت اور مضبوط قوم ہیں جو اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ بھارتی فوج نہتے کشمیریوں پر ظلم کر رہی ہے اور خواتین بھی بھارتی جارحیت سے محفوظ نہیں، سات دہائیوں سے جاری مظالم کے باوجود آٹھ لاکھ بھارتی فوج بھی کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکی، آج مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے۔
بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر قابض ہوئے 2 ہزار 375 دن مکمل ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود کشمیری عوام آج بھی ڈٹے ہوئے ہیں، پاکستان ہر فورم پر کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیری قوم جھکنے والی نہیں ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کشمیریوں کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔بھارتی فوج غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں اپنی جارحانہ عسکری پالیسی جاری رکھتے ہوئے ضلع جموں میں ویلج ڈیفنس گارڈز کو بھارت مخالف اور آزادی پسند سرگرمیوں کو روکنے کے نا م پر عسکری تربیت دے رہی ہے۔ بھارتی قابض حکام کی طرف سے جموں کے دور دراز علاقوں میں بھرتی کئے گئے ہندو جنونیوں پر مشتمل ولیج ڈیفنس گارڈ کو بھارتی فوج کی چناب بریگیڈ سات روزہ کی تربیت دے رہی ہے۔ متعدد سرحدی دیہات میں منعقد کیے جانے والے ان کورسوں میں فوجی حکمت عملی، چھاپوں، حملوں اور فائرنگ کی تربیت دی جارہی ہے۔عام شہریوں کے قتل عام میں ملوث بھارتی فوج کے حمایت یافتہ ولیج ڈیفنس گارڈ کی فوجی تربیت کے پیش نظر انسانی حقوق کے گروپوں اور مقامی لوگوں میں عام کشمیریوں کے تحفظ کے بارے میں خدشات جنم لے رہے ہیں۔ ویلج ڈیفنس کمیٹیوں کے نا م سے پہلے کام کرنے والا یہ مسلح گروپ مسلمان شہریوں کے خلاف تشدداوران کے قتل عام کے لیے بدنام تھا۔
اقوام متحدہ اپنی قرارداوں کے مطابق کشمیر یوں کوحق خودارادیت دلائے۔ ہرغیرت مند کشمیری ہندوستان کے غاصبانہ قبضے کیخلاف سراپا احتجاج ہے۔ نریندرا مودی مقبوضہ جموں کشمیر کو فوجی اڈہ بنانے کی کوشش کررہا ہے کشمیری عوام دورہ مسترد کرتے ہیں۔ آزادی، حقوق اور انصاف مانگنے والے کشمیری شہریوں کو کشمیریوں کو مودی حکومت جیلوں میں قید کر رہی ہے۔ مودی حکومت کشمیر میں اسلامی شناخت پر حملہ آور ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے لوگ مقبوضہ کشمیر کے اپنے بھائیوں کی تحریک آزادی میں برابر کے شریک ہیں مودی سرکار درندہ صفت بھارتی افواج کے ذریعے مظلوم کشمیریوں کو دبانے کی کوشش ناکام کر رہا ہے مودی کا مقبوضہ کشمیر جانا کشمیریوں کے حقوق پر شب خون مارے کے مترادف ہے۔ آزادی کی منزل حاصل کرنے کیلئے کشمیری قوم نے خون کی قربانی دی ہے اور اپنی نسلیں قربان کی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم ایسے دوروں سے عالمی برادری کو علاقے کی صورت حال کے بارے میں گمراہ کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ عالمی برادری امن و استحکام کو یقینی بنانے کیلئے مسلہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا کرے۔بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ سابق سربراہ اے ایس دْلت کا کہنا ہے کہ کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال میں وہاں بے بسی کا احساس غالب ہے اور مرکزی حکومت (دہلی) کو وہاں ہونے والے واقعات کی کوئی پروا نہیں ہے۔
بھارت کے شہر چنئی میں منعقدہ ‘دی ہندو لٹ فار لائف’ فیسٹیول کے دوران ‘دی کشمیر کنیکشن’ کے عنوان سے منعقدہ ایک نشست میں سینئر صحافی شوبھنا کے نائر کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کشمیر اس وقت جمود کا شکار ہے، وہاں کے لوگ صرف امید پر زندہ ہیں اور وہاں بے بسی کی فضاء ہے۔’انہوں نے کشمیری رہنما میرواعظ عمر فاروق کے ایک حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘کشمیری عوام امید کے سہارے جی رہے ہیں لیکن مایوسی کا عنصر نمایاں ہے۔’کشمیر کے اہم ترین سیاسی خاندان ‘عبداللہ فیملی’ اور مرکز میں بی جے پی کی مختلف حکومتوں کے درمیان تعلقات کے ارتقاء پر بات کرتے ہوئے سابق سپائی چیف نے کہا کہ ‘اٹل بہاری واجپائی کی بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔’ ‘سابق وزیراعظم واجپائی کشمیر کے معاملے میں زیادہ متحرک تھے اور کسی نہ کسی شکل میں مسئلے کا حل چاہتے تھے جبکہ موجودہ حکومت کو اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ ‘یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے اور ہمیں انتظار کرنا ہو گا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔’آرٹیکل 370 کی منسوخی پر بات کرتے ہوئے اے ایس دْلت نے کہا کہ ‘یہ شق پہلے ہی کھوکھلی ہو چکی تھی’ تاہم انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ ‘کشمیریوں سے ان کا یہ آخری ‘پردہ’ یا سہارا چھیننے کی کیا ضرورت تھی؟’ ‘آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جس بڑے عوامی ردعمل یا احتجاج کی توقع کی جا رہی تھی وہ نہیں ہوا کیونکہ کشمیری خاموش ہو گئے تھے۔’ ‘یہ خاموشی خوفناک ہے کیونکہ جب لوگ خاموش ہو جائیں تو آپ کو اندازہ نہیں ہوتا کہ آنے والے وقت میں کیا ہونے والا ہے۔’
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟ وجود هفته 14 فروری 2026
قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟

کشمیری جھکنے والی قوم نہیں! وجود هفته 14 فروری 2026
کشمیری جھکنے والی قوم نہیں!

پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری وجود جمعه 13 فروری 2026
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری

ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت وجود جمعه 13 فروری 2026
ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت

ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے! وجود جمعه 13 فروری 2026
ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر