وجود

... loading ...

وجود

دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

منگل 10 فروری 2026 دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

اونچ نیچ
آفتاب احمد خانزادہ

پروفیسر ڈاکٹر جیفری ڈیوڈ سیکس عصرِ حاضر کے اُن چند ماہرین ِ معاشیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے معیشت کو محض منڈی، منافع اور شرحِ نمو کے محدود دائرے سے نکال کر انسان، سماج اور فطرت کے وسیع تر تناظر میں سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ امریکی علمی روایت میں جہاں معاشیات اکثر طاقت، سرمایہ اور عالمی غلبے کے نظریات کے گرد گھومتی رہی ہے، وہاں سیکس ایک مختلف لہجہ، مختلف سوال اور مختلف اخلاقی بنیاد کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی میں بطور پروفیسر اور دی ارتھ انسٹیٹیوٹ کے سابق ڈائریکٹر کے طور پر ان کا کام اس بنیادی نکتے کے گرد گھومتا ہے کہ جدیددنیا کا سب سے بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں بلکہ انصاف، ترجیح اور حکمرانی کی ناکامی ہے۔ ان کے نزدیک غربت کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ سیاسی فیصلوں، عالمی طاقت کے عدم توازن اور معاشی ڈھانچوں کی پیداوار ہے، اور اسی لیے اس کا حل بھی محض خیرات یا وقتی امداد میں نہیں بلکہ عالمی نظام کی ازسرِنو تشکیل میں پوشیدہ ہے۔
جیفری سیکس کی فکری زندگی کا ایک اہم مرحلہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مشرقی یورپ اور سابق سوویت ریاستوں میں معاشی اصلاحات سے جڑا رہا، جہاں انہوں نے براہِ راست یہ مشاہدہ کیا کہ تیز رفتار نجکاری، منڈی کی اندھی آزادی اور ریاستی ذمہ داری سے دستبرداری کس طرح سماجی ٹوٹ پھوٹ، بے روزگاری اور عدم مساوات کو جنم دیتی ہے۔ یہی تجربات بعد ازاں ان کے اس مؤقف کی بنیاد بنے کہ آزاد منڈی بذاتِ خود کسی معاشرے کو منصفانہ یا مستحکم نہیں بناتی، جب تک ریاست صحت، تعلیم، ماحول اور بنیادی انسانی ضروریات کی ذمہ داری قبول نہ کرے۔ ان کا یہ مؤقف کلاسیکی نیولبرل معاشیات کے لیے ایک فکری چیلنج ہے، جو ترقی کو صرف جی ڈی پی اور سرمایہ کاری کے اعداد و شمار میں ناپتی ہے، جبکہ سیکس ترقی کو انسانی زندگی کے معیار، سماجی تحفظ اور آنے والی نسلوں کے حق سے جوڑتے ہیں۔پائیدار ترقی کے تصور میں جیفری سیکس کا کردار محض نظری نہیں بلکہ ادارہ جاتی اور عالمی سطح پر اثرانداز ہونے والا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی تشکیل میں ان کی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ وہ علم کو طاقت کے ایوانوں تک لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر ساتھ ہی طاقت کو اخلاقی سوالوں کے کٹہرے میں بھی کھڑا کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ماحولیاتی بحران، موسمیاتی تبدیلی، وبائیں اور غذائی عدم تحفظ سب ایک ہی عالمی نظام کی مختلف علامات ہیں، ایسا نظام جو قلیل مدتی منافع کو طویل مدتی بقا پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ بار بار اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اگر ترقی یافتہ دنیا نے اپنی کھپت، توانائی کے استعمال اور فوجی اخراجات پر نظرثانی نہ کی تو ترقی پذیر ممالک کو ترقی کا درس دینا محض منافقت رہے گا۔ڈاکٹر سیکس کی تحریروں اور تقاریر کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ عالمی سیاست اور معیشت میں طاقت کے کردار پر کھل کر بات کرتے ہیں۔ وہ قرض، مالیاتی اداروں اور عالمی بینکنگ سسٹم کو ترقی پذیر ممالک کے لیے نجات دہندہ نہیں بلکہ اکثر اوقات ایک نئے نوآبادیاتی جال کے طور پر دیکھتے ہیں، جہاں ریاستیں خودمختاری کے نام پر قرض لیتی ہیں اور پھر اپنی پالیسیاں خود بنانے کے قابل نہیں رہتیں۔ اس تناظر میں ان کا کام پاکستان جیسے ممالک کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں ترقی کے نام پر وہی نسخے آزمائے جاتے رہے ہیں جو عدم مساوات، سماجی کمزوری اور ماحولیاتی تباہی کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ سیکس یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ترقی عوام کی زندگی بہتر نہ کرے، اگر ریاست اپنے شہریوں کو صحت، تعلیم اور وقار نہ دے سکے، تو ایسی ترقی کس کے لیے ہے اور کس قیمت پر حاصل کی جا رہی ہے۔
جیفری سیکس کی اصل فکری اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ معیشت کو اخلاقیات سے الگ نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک پالیسی ایک تکنیکی عمل نہیں بلکہ ایک اخلاقی انتخاب ہے، اور ہر بجٹ، ہر منصوبہ اور ہر عالمی معاہدہ یہ طے کرتا ہے کہ کون جئے گا، کون پیچھے رہ جائے گا اور کون قیمت ادا کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ان
کا کام محض ماہرینِ معاشیات کے لیے نہیں بلکہ ان تمام معاشروں کے لیے ایک فکری دعوت ہے جو خود سے یہ سوال کرنے کی ہمت رکھتے ہیں کہ کیا ہم ترقی
کے نام پر اپنی انسانیت، اپنی زمین اور اپنی آنے والی نسلوں کا سودا تو نہیں کر رہے۔ ایسے عہد میں جہاں شور بہت ہے مگر فکر کم، جیفری سیکس کی آواز ہمیں یاد
دلاتی ہے کہ معیشت اگر انسان کے لیے نہ ہو تو وہ محض اعداد و شمار کا قبرستان بن جاتی ہے۔پاکستانی ریاست کے تناظر میں پروفیسر ڈاکٹر جیفری ڈیوڈ سیکس کا
فکری کام محض ایک ماہرِ معاشیات کی تجاویز نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جس میں ہماری اجتماعی ناکامی، فکری دیوالیہ پن اور ریاستی ترجیحات کی بے رحمی صاف نظر
آتی ہے۔ ارسطو نے کہا تھا کہ ریاست کا مقصد صرف زندہ رکھنا نہیں بلکہ اچھا جینا ممکن بنانا ہے، مگر پاکستانی ریاست کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں معیشت کو
ہمیشہ طاقت کے تحفظ، اشرافیہ کے مفاد اور وقتی استحکام کے لیے استعمال کیا گیا، انسان کے وقار کے لیے نہیں۔ جیفری سیکس جب یہ کہتے ہیں کہ غربت قدرتی
نہیں بلکہ پالیسی کی پیداوار ہے تو یہ جملہ پاکستان کے لیے ایک فلسفیانہ فردِ جرم بن جاتا ہے، کیونکہ یہاں غربت کسی حادثے کی طرح نہیں بلکہ ایک مستقل
حکمتِ عملی کی طرح موجود ہے، جسے قرض، سبسڈی، ٹیکس اور بجٹ کے نام پر نسل در نسل منتقل کیا جاتا رہا ہے۔ ہیگل کے مطابق تاریخ آزادی کے شعور کی
تدریجی پیش رفت ہے، مگر پاکستانی تاریخ اس کے برعکس طاقت کے ارتکاز اور عوامی شعور کے مسلسل انکار کی داستان ہے، جہاں ریاست نے معیشت کو سماجی
معاہدہ بنانے کے بجائے ایک کنٹرول میکانزم بنا دیا۔جیفری سیکس کا پائیدار ترقی کا تصور پاکستانی ریاست کے لیے اس لیے بھی اجنبی ہے کہ یہاں ترقی کو
ہمیشہ سڑک، میٹرو، بجلی کے یونٹ اور GDP کے اعداد میں ناپا گیا، جبکہ کانٹ کے بقول انسان کو کبھی محض ذریعہ نہیں بلکہ ہمیشہ مقصد سمجھا جانا چاہیے۔
پاکستان میں انسان ہمیشہ ذریعہ رہا ہے، کبھی سستے لیبر کے لیے، کبھی ووٹ کے لیے، کبھی قربانی کے لیے اور کبھی قرض کی شرائط پوری کرنے کے لیے۔ سیکس جس ریاستی ذمہ داری کی بات کرتے ہیں، یعنی صحت، تعلیم، ماحول اور غذائی تحفظ، وہ یہاں نجی منڈی یا خیراتی نظام کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی، جس کے نتیجے میں ریاست آہستہ آہستہ ایک اخلاقی وجود کے بجائے ایک انتظامی ڈھانچہ بن گئی۔ افلاطون نے خبردار کیا تھا کہ جب ریاست میں حکمران حکمت سے خالی ہوں تو قانون طاقتور کا ہتھیار بن جاتا ہے، اور پاکستان میں معیشت بھی اسی قانون کی تابع رہی، جہاں بجٹ عوام کے لیے نہیں بلکہ طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے بنتا ہے۔جیفری سیکس کا قرض اور عالمی مالیاتی نظام پر تنقیدی مؤقف پاکستان کے لیے خاص طور پر معنی خیز ہے، کیونکہ یہاں قرض کو ہمیشہ
نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ حقیقت میں یہ ایک فکری غلامی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ نطشے نے کہا تھا کہ جو قومیں اپنے اقدار خود تخلیق نہیں کرتیں وہ
دوسروں کی اقدار کی غلام بن جاتی ہیں، اور پاکستانی ریاست نے اپنی معاشی اقدار عالمی مالیاتی اداروں کے ہاتھ گروی رکھ دیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بجٹ سے پہلے
عوام نہیں، قرض دینے والے ادارے مخاطب ہوتے ہیں، اور ریاستی خودمختاری ایک رسمی لفظ بن کر رہ گئی ہے۔ سیکس کے نزدیک یہ نظام ترقی نہیں بلکہ ایک
جدید نوآبادیاتی بندوبست ہے، جہاں ریاستیں پرچم تو رکھتی ہیں مگر فیصلے نہیں، اور پاکستان اس ماڈل کی ایک واضح مثال ہے۔ماحولیاتی بحران کے باب میں
بھی جیفری سیکس کی فکر پاکستانی ریاست پر ایک فلسفیانہ سوالیہ نشان ہے۔ ہائیڈیگر نے کہا تھا کہ جدید انسان فطرت کو محض ذخیرہ سمجھنے لگا ہے، اور یہی رویہ تباہی
کی جڑ ہے۔
پاکستان میں دریا، جنگلات، زمین اور فضا سب کو وسائل سمجھ کر نچوڑا گیا، بغیر یہ سوچے کہ آنے والی نسلوں کا حق کیا ہے۔ سیکس جس پائیدار ترقی کی بات کرتے ہیں وہ محض ماحولیات نہیں بلکہ ایک اخلاقی عہد ہے، مگر یہاں ریاست نے مستقبل کو حال کی سیاست پر قربان کر دیا۔ سیلاب، خشک سالی اور آلودگی محض قدرتی مسائل نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات کی فلسفیانہ شکست ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ جیفری سیکس جس معیشت کو اخلاقیات سے جوڑتے ہیں، پاکستانی ریاست نے اسے طاقت سے جوڑ دیا۔ ہنّا آرنٹ کے مطابق طاقت اور تشدد کا ملاپ بالآخر ریاست کو کھوکھلا کر دیتا ہے، اور پاکستان میں یہی عمل دہائیوں سے جاری ہے۔ معیشت عوام کو بااختیار بنانے کے بجائے انہیں نظم و ضبط میں رکھنے کا آلہ بنی رہی، جس کا نتیجہ سماجی بے یقینی، فکری جمود اور ریاست سے بیگانگی کی صورت میں نکلا۔ سیکس کی فکر ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ اگر ریاست انسان کو مرکز نہ بنائے تو وہ صرف ایک مشین رہ جاتی ہے، اور اگر معیشت اخلاقی
سوالوں سے خالی ہو تو وہ قبرستان کی خاموشی پیدا کرتی ہے، خوشحالی نہیں۔ پاکستانی ریاست کے لیے جیفری سیکس کا کام کوئی درآمدی نظریہ نہیں بلکہ ایک فکری
آئینہ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس آئینے میں خود کو دیکھنے کی ہمت رکھتے ہیں یا نہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مولانا کی ''میں'' وجود منگل 10 فروری 2026
مولانا کی ''میں''

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ وجود منگل 10 فروری 2026
سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں ! وجود منگل 10 فروری 2026
دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر