... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
جیووینل کا پورا نام ڈیسی مس جونیس جیووینالس تھا، وہ پہلی اور دوسری صدی عیسوی میں قدیم روم میں پیدا ہوئے ،ایک ایسا دورجب رومن سلطنت دولت، طاقت اوراخلاقی زوال، تینوں کا عجیب امتزاج تھی۔ جیووینل شاعر نہیں تھے ، وہ دراصل ضمیرکا جلتا ہوا شعلہ تھے ۔ جیووینل نے 16 طویل نظمیں لکھیں جنہیں ” طنزیہ نظمیں ” کہا جاتا ہے ۔۔۔ لیکن یہ مزاحیہ طنزنہیں تھا، سماج کے منہ پرتھپڑتھا۔وہ لکھتے ہیں !! ”مجھے لکھنے پرمجبورتمہاری بد کرداری نے کیا ہے ” ۔۔۔وہ روم کے بدعنوان حکمرانوں، منافق مذہبی پیشواؤں، بکے ہوئے ججوں، اخلاقی طور پرگرے ہوئے امیروں۔۔۔ اوربھوکے ، پامال عوام سب کو بے نقاب کرتا تھے ۔۔۔ جیووینل کا فلسفہ تھا کہ جب کوئی معاشرہ دولت کو خدا بنا لے اور ضمیرکو قربان کر دے تو ادب کا فرض ہے کہ وہ چیخے ۔۔۔ان کا ایک مشہورجملہ ہے ۔۔”نگہبانوں کی نگرانی کون کرے گا”۔۔۔؟ یہ جملہ آج بھی دنیا بھرکے طاقتوراداروں پرسوال بن کرکھڑا ہے .جیووینل کا سب سے مشہور، اورسب سے زیادہ چونکا دینے والا فقرہ ۔۔ ۔ ۔ Panem et Circenses”عوام کو روٹی اور تماشے دو،وہ کبھی بغاوت نہیں کرینگے ”جیووینل نے یہ فقرہ اُس روم کیلئے کہا تھا جہاں سلطنت سنگِ مرمر کی طرح چمک رہی تھی، مگر اس کے نیچے انسان بھوک، ذلت اورخاموشی میں دفن ہو چکا تھا۔
قدیم روم میں ایک عجیب منطق رائج تھی، اگر عوام کو روز کا آٹا دے دیا جائے اور ہر ہفتے کوئی نیا تماشا، کوئی نیا کھیل، کوئی نیا جشن، تو پھر وہ نہ ٹیکس پوچھیں گے ، نہ انصاف، نہ روزگار، نہ زوال۔ وہ ہجوم رہیں گے ، شہری نہیں۔ شاہی خزانے سے اناج بانٹا جاتا تھا۔ گلیڈی ایٹر ایک دوسرے کا خون بہاتے تھے ، اسٹیڈیم بھرا ہوتا تھا۔۔۔ اور سلطنت کے اندر کھوکھلا پن خاموشی سے بڑھتا جاتا تھا۔حکمران لوگوں کو نہیں بدل رہے تھے بلکہ لوگوں کی توجہ بدل رہے تھے ،پیٹ بھرو،آنکھیں مصروف رکھو اور ذہن کو خالی چھوڑ دو۔ دو ہزار سال گزرگئے ، روم کھنڈر بن گیا، مگر اس کی حکمت حکمرانی آج بھی زندہ ہے ۔ پاکستان میں اس وقت بے روزگاری ایک سناٹا بن چکی ہے ، مہنگائی ایک چیخ، کسان ایک شکست خوردہ فوج، صنعت ایک بند دروازہ اور سرمایہ کاری ایک بھاگا ہوا پرندہ ۔ لیکن اس سناٹے پرایک اورشورڈال دیا گیا ہے ۔۔۔ بسنت۔۔۔پھرورلڈ کپ۔۔۔ پھر پی ایس ایل۔۔۔ پھرکوئی اورمیلہ، کوئی اوراسٹیج، کوئی اورشو۔جب فیکٹریاں بند ہوں تو اسٹیڈیم کھول دیے جاتے ہیں۔ جب نوجوان بے روزگار ہوں تو انہیں ٹیموں میں بانٹ دیا جاتا ہے ۔ جب کسان ٹوٹے تو آسمان پر پتنگیں چھوڑ دی جاتی ہیں۔ یہ کوئی ثقافت نہیں، یہ ایک سیاسی ہتھکنڈہ ہے ۔۔۔ قدیم روم میں غریب کو روٹی دی جاتی تھی تاکہ وہ سوال نہ کرے ۔
آج پاکستان میں لوگوں کو تماشا دیا جاتا ہے تاکہ وہ حساب نہ مانگیں۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ 150ٹیکسٹائل فیکٹریاں کیوں بند ہوگئیں۔۔۔؟ کوئی یہ نہیں پوچھتا مینوفیکچرنگ صفر کیوں ہوگئی۔۔۔؟کوئی نہیں پوچھتا پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت علاقائی ممالک کے مقابلے میں 34فیصد زیادہ کیوں ہے ۔۔۔؟ کوئی نہیں پوچھتا حکومت نے گزشتہ 31دنوں سے مسلسل روزانہ56ارب کمرشل بینکوں سے قرضہ کیوں لے رہی۔۔۔؟ کوئی نہیں پوچھتا چند ماہ میں ہماری 80کمپنیاں پاکستان سے ازبکستان کیوں شفٹ ہوگئیں۔۔۔؟کوئی نہیں پوچھتا کہ بجلی اتنی مہنگی کیوں ہے ۔۔۔؟ کوئی نہیں پوچھتا کہ کسان مسلسل خسارے میں کیوں ہے ۔۔۔؟ کوئی یہ نہیں پوچھتا سرمایہ کارملک سے باہرکیوں جارہے ہیں۔۔۔؟ کوئی یہ نہیں پوچھتا ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے کیوں نکلتی جارہی ہیں۔۔۔؟ کوئی نہیں پوچھتا ہماری عدالتیں کہاں ہیں۔۔۔؟ کوئی نہیں پوچھتا شہباز شریف اب تک 50غیر ملکی دورے کرچکے ،ایک ہزار سے زائد ایم او یو سائن کرچکے لیکن ملک میں ایک روپے کی سرمایہ کاری کیوں نہیں آئی ۔۔۔؟ کوئی نہیں پوچھتا پنجاب حکومت میں 10کھرب کی مبینہ کرپشن کس نے کی ۔۔۔ ؟زرداری کا اومنی کیس،شہباز کا منی لانڈرنگ کیس کا کیا بنا۔۔۔؟کیونکہ اس وقت ایک میچ چل رہا ہے ، ایک پتنگ اڑ رہی ہے ، ایک گیت بج رہا ہے ۔ ریاست نے شہری سے سوچنے کا حق نہیں چھینا، صرف اس کی توجہ چرا لی ہے ۔۔۔ جب عوام اپنی قسمت کی جگہ تفریح کو منتخب کرلیں تو وہ خود کو غلام بنا لیتے ہیں اور زنجیروں کو رنگین ربن سمجھنے لگتے ہیں۔ آج پاکستان میں ہم زنجیروں پر جشن منا رہے ہیں اور زوال کو کارنیول کا نام دے رہے ہیں۔ ملک معاشی ایمرجنسی میں ہے ، لیکن اسکرین پر سب کچھ نارمل ہے ۔ یہ سب سے خطرناک لمحہ ہوتا ہے ، جب حقیقت جل رہی ہو اورقوم تالیاں بجا رہی ہو۔ روم میں تماشا لوگوں کو ریاست سے کاٹتا تھا۔ پاکستان میں ایونٹ عوام کو حقیقت سے کاٹ رہا ہے ۔ جب قوم اسکرین دیکھ رہی ہو تو کوئی نہیں دیکھتا کہ ملک کہاں جا رہا ہے ۔ تماشا حکمران کو وقت دیتا ہے ۔ وقت کہ وہ خزانہ بانٹ لے ، اپنے لوگ بٹھا دے ، اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈال دے ۔جیووینل نے کہا تھا کہ جب قوم اپنی سیاست کی جگہ تفریح کو ووٹ دے دے تو پھر وہ حکمران نہیں بدلتی، صرف چینل بدلتی ہے ۔ پاکستان میں ہم چینل بدل رہے ہیں، حکمران نہیں۔قدیم روم اس دن نہیں گرا جس دن دشمن شہر میں داخل ہوا، روم اس دن گرا جس دن شہری اسٹیڈیم میں مصروف تھے اور سلطنت اندر سے خالی ہو رہی تھی۔جب عوام روٹی اور تماشے پر راضی ہو جائیں تو تاریخ ان کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے ۔ جیووینل نے لکھا تھا کہ قومیں بندوق سے نہیں، غفلت سے مرتی ہیں۔ آج پاکستان اسی موڑ پر کھڑا ہے ۔ فیکٹریاں بند، کھیت خسارے میں، نوجوان بے سمت، صنعت بے آواز، اور ریاست اسٹیج سجا رہی ہے ۔ ہمیں خوش نہیں کیا جا رہا، ہمیں خاموش کیا جا رہا ہے ۔ ہر میچ ایک سوال دفن کر دیتا ہے ۔ ہر جشن ایک مسئلہ چھپا دیتا ہے ۔ ہر تماشا ایک حقیقت سے نظریں ہٹا دیتا ہے ۔ اور پھر جیووینل کی وہی آواز دو ہزار سال بعد ہم تک پہنچتی ہے ۔۔!!Panem et Circenses”روٹی اورتماشا ” ۔۔۔۔جہاں عوام، شہری سے تماشائی بنا دیے جائیں۔ ۔۔اور جب قوم تماشائی بن جائے تو اس کی تاریخ دوسرے لکھتے ہیں۔
٭٭٭