... loading ...
بے لگام / ستارچوہدری
کیا شعورپیٹ بھرتا ہے ۔۔۔؟ نہیں ۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔ یہی تو بتاتا ہے کہ پیٹ کس نے خالی رکھا ہے ۔۔۔ کیا شعوردوائی بنتا ہے ۔۔۔؟
نہیں ۔۔۔۔ مگر، یہ پہچان سکھاتا ہے کہ مرض ،بیماری کا ہے یا حکمرانی کا ہے ۔۔۔ کیا شعور روزگار دیتا ہے ۔۔۔۔؟ نہیں۔۔۔۔ لیکن، یہ
ضروربتاتا ہے کہ نوکریاں کس کے بچوں کیلئے اوربیروزگاری کس کے نصیب میں لکھی گئی ۔۔۔۔ شعور کوئی روٹی نہیں جسے کھا کرانسان جی
لے، شعور وہ آنکھ ہے جس سے دیکھ کر انسان سمجھتا ہے کہ روٹی کیوں نہیں ہے ۔۔۔ حکمران ہمیں صرف اتنا دینا چاہتے ہیں جتنا ہم مانگیں اور
ہم سے وہ آنکھ چھین لینا چاہتے ہیں جس سے ہم سوال کرتے ہیں۔ کیونکہ بھوک سے مرتا ہوا انسان خطرہ نہیں ہوتا لیکن باشعورانسان ہر
اقتدار کیلئے زلزلہ ہوتا ہے ۔ اس لیے کہا جاتا ہے ” شعور کسی کام کا نہیں ” کیونکہ شعور تختوں کو لرزانا جانتا ہے ۔ جنہیں روٹی سے زیادہ اطاعت
چاہیے انہیں شعور سے ڈرلگتا ہے ۔ شعور حساب مانگتا ہے ، سوال اٹھاتا ہے ، چہرے اتارتا ہے ۔۔۔ اور یہی وہ جرم ہے جس کی سزا ہردور میں
عوام کو دی جاتی ہے ۔
عوام کوغربت میں رکھو،عوام کو بھوک میں رکھو لیکن باشعور مت ہونے دو، کیونکہ بھوک صرف جسم توڑتی ہے ، شعورتخت توڑتا ہے ۔۔۔
جنہوں نے کہا ”شعورسے پیٹ نہیں بھرتا”۔۔۔انہوں نے سچ کہا، مگرپورا نہیں ۔۔۔ کیونکہ بھرا ہوا پیٹ اگر بے شعورہوتو وہی پیٹ اپنے
قاتل کو بھی ووٹ دے دیتا ہے ۔ شعور کوئی نوالہ نہیں، یہ یادداشت ہے ، یہ سوال ہے ، یہ وہ زخم ہے جو بھرنے سے انکار کرتا ہے جب تک
انصاف نہ ملے ۔ حکومتیں ہمیں ہمیشہ بھوک میں رکھنا چاہتی ہیں کیونکہ بھوک انسان کو چھوٹا بنا دیتی ہے اور چھوٹے انسان بڑے ظلم آسانی سے
سہہ لیتے ہیں۔ باشعورآدمی جب بھوکا ہوتا ہے تو سڑک پر آتا ہے ، بے شعورآدمی جب بھوکا ہوتا ہے تو قطار میں لگ جاتا ہے ۔ شعور روٹی
نہیں دیتا لیکن روٹی کا راستہ بتاتا ہے ۔شعور دوائی نہیں لیکن ”مرض” کا نام ضرور بتاتا ہے ۔۔ اور ”مرض ” کی پہچان سب سے خطرناک
چیزہوتی ہے اقتدار کیلئے ، اس لیے نصاب بدلا جاتا ہے ، تاریخ مٹائی جاتی ہے ، سوال کو گستاخی کہا جاتا ہے اور خاموشی کو تہذیب ۔ ہمیں بتایا
جاتا ہے کہ سوچنا بغاوت ہے ، پوچھنا بدتمیزی ہے اور مان لینا قوم پرستی ۔ یہ سب شعور کے قتل کی مہذب اصطلاحات ہیں۔۔۔قومیں کبھی خود بخود بے شعورنہیں ہوتیں، انہیں منصوبہ بنا کرایسا کیا جاتا ہے ۔ پہلے سکول کمزور کیے جاتے ہیں ، پھر کتابیں پتلی اور سوال غائب ۔ پھر ٹی وی پر شور بڑھایا جاتا ہے تاکہ سوچنے کی آواز دب جائے ۔ پھر نفرت کے نعروں میں عقل کو گم کر دیا جاتا ہے ۔۔۔ اور قوم جھنڈوں میں لپیٹ دی جاتی ہے ۔ بے شعوری کا سب سے بڑا ہتھیارجذبات ہوتے ہیں۔ جتنا زیادہ غصہ اتنا کم شعور، جتنا زیادہ نعرہ اتنی کم سمجھ ۔۔۔ اور جب لوگ جذبات میں جیتے ہیں توہ اپنے دشمن خود چن لیتے ہیں اور حکمران محفوظ ہوجاتے ہیں۔ باشعور قوم حساب مانگتی ہے ، بے شعورقوم نعروں پر مر جاتی ہے ۔ اسی لیے ہمیں لڑایا جاتا ہے فرقوں میں، قومیتوں میں، زبانوں میں تاکہ ہم سوال کی ایک زبان نہ بوسکیں۔ شعور ہمیں جوڑتا ہے ، بے شعوری ہمیں توڑتی ہے ۔۔۔ اورٹوٹے ہوئے لوگ کبھی تخت نہیں گراتے ۔شعور کبھی مرنہیں جاتا وہ صرف دبایا جاتا ہے ۔ وہ کسی مزدور کی ہتھیلی میں چھپ کر بیٹھ جاتا ہے ، کسی ماں کی دعا میں سانس لیتا ہے ، کسی طالب علم کی آنکھ میں جاگ اٹھتا ہے ۔ حکمران کتابیں جلا سکتے ہیں لیکن سوال نہیں۔ وہ اسکول بند کر سکتے ہیں لیکن سوچ نہیں۔ شعور خاموشی میں بھی سرگوشی کرتا ہے ۔۔۔ اور ایک دن یہ سرگوشی نعروں سے زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے ۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب لوگ بھوک سے نہیں ذلت سے تھک جاتے ہیں تو شعور بغاوت بن جاتا ہے ۔ پھر کوئی وزیر،کوئی تخت،کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔۔۔ کیونکہ انقلاب روٹی سے نہیں احساس محرومی سے پیدا ہوتا ہے ۔۔ اوراس محرومی کو نام دینے والا شعور ہوتا ہے ۔۔۔وہ کہتے ہیں، ” شعور سے پیٹ نہیں بھرتا”۔۔۔ ہم کہتے ہیں پیٹ تو غلامی سے بھی بھر جاتا ہے ،مگر انسان مرجاتا ہے ۔ شعور روٹی نہیں لیکن روٹی کی عزت سکھاتا ہے ۔ شعور دوائی نہیں لیکن یہ بتاتا ہے کہ بیماری جسم میں نہیں نظام میں ہے ۔ جن قوموں سے شعورچھین لیا جائے انہیں خیرات پرزندہ رکھا جاتا ہے ۔۔۔ اور جن قوموں کو شعور مل جائے وہ تاریخ لکھتی ہیں۔ اس لیے اگر آپ کو روٹی اور شعور میں سے ایک چننے کو کہا جائے تو سمجھ لیں کوئی آپ کو ہمیشہ کیلئے بھکاری بنانا چاہتا ہے ۔ کیونکہ روٹی آج کا مسئلہ ہے شعور ہمیشہ کا حل ۔۔۔
٭٭٭