وجود

... loading ...

وجود

دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت

هفته 07 فروری 2026 دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت

منظر نامہ
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور خوف کی فضا اب کسی اتفاقی واقعے کا نام نہیں رہی بلکہ یہ ایک منظم اور مسلسل عمل کی صورت اختیار کر چکی ہے ، جہاں انتہا پسند ہندو تنظیمیں کھلے عام قانون کو ہاتھ میں لیتی دکھائی دیتی ہیں۔ مودی حکومت کے دور میں یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ ایسے عناصر کو عملاً ایک غیر اعلانیہ ”لائسنس ٹو کل” حاصل ہے ، جس کے باعث مسلمان خود کو عدم تحفظ، معاشی دباؤ اور سماجی تنہائی میں گھرا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ یہ صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ بہت سے علاقوں میں مسلمان نہ صرف مذہبی شناخت کے اظہار سے گریز پر مجبور ہیں بلکہ معمول کے کاروبار، روزگار اور سماجی زندگی تک میں خوف ان کا مقدر بن چکا ہے ۔ مذہبی جنونیت نے انہیں انتہا پسندی کی ایسی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے جہاں شہری حقوق محض ایک نعرہ بن کر رہ گئے ہیں۔ آج کے حالات اس تاریخی حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ دو قومی نظریہ محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کے وجود، آزادی اور وقار کی ضمانت تھا، کیونکہ موجودہ بھارت میں مذہبی آزادی اور مساوی شہریت کے دعوے زمینی حقائق کے سامنے بے معنی دکھائی دیتے ہیں۔
بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے علاقے کوٹ دوار سے تعلق رکھنے والے نوجوان جم ٹرینر دیپک کمار حالیہ دنوں بھارت میں اس وقت زیرِ بحث آئے جب 28 جنوری کو کوٹ دوار کی ایک مارکیٹ میں بجرنگ دل کے قریب ایک درجن کارکنوں نے ”بابا اسکول ڈریس” نامی دکان پر دھاوا بول کر بزرگ مسلمان دکاندار اور ان کے بیٹے کو دکان کا نام تبدیل نہ کرنے کی صورت میں نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیں، جس پر دیپک کمار موقع پر آگے بڑھے اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ دکان 30 برس سے اسی نام سے قائم ہے اور علاقے میں ”بابا” کے نام سے کئی دکانیں موجود ہیں، نام تبدیل کرنے کا مطالبہ بلاجواز ہے ؛ اس دوران جب ایک مشتعل کارکن نے ان سے نام پوچھا تو انہوں نے خود کو ”محمد دیپک” بتایا، جس کے بعد بجرنگ دل کے کارکنوں سے ان کی تلخ کلامی اور مڈبھیڑ ہوئی اور بعد ازاں سیکڑوں کارکن ان کے جم کے باہر جمع ہو کر نعرے بازی اور گالی گلوچ کرنے لگے ، جس پر پولیس نے مداخلت کی؛ واقعے کے اگلے دن دیپک کمار کی سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوگئی اور انہیں وسیع عوامی پذیرائی ملی، دیپک کمار نے اپنی ویڈیو میں خود کو انسان قرار دے کر انسانی وقار اور مساوات کے اصول کے تحت نفرت انگیز دباؤ کے خلاف موقف اپنایا۔حتیٰ کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے بھی ان کی کھل کر تعریف کی، تاہم اسی واقعے کے تناظر میں دیپک کمار کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج بھی کر دیا گیا، جو اس معاملے کے متنازع اور پیچیدہ رخ کو نمایاں کرتا ہے ۔بجرنگ دل کی دہشت گردی اور انتہا پسندی پر گفتگو محض کسی ایک تنظیم کی مخالفت یا تنقید نہیں بلکہ اس فکری، سماجی اور سیاسی زوال کا تجزیہ ہے جو ہندوستان جیسے کثیرالمذاہب اور کثیرالثقافتی معاشرے کو خوف، عدم تحفظ اور عدم برداشت کی سمت دھکیل رہا ہے ۔ یہ وہ عمل ہے جس میں مذہب کو روحانی و اخلاقی اقدار کے بجائے طاقت، تشدد اور بالادستی کے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ بجرنگ دل خود کو ہندو دھرم اور ثقافت کا محافظ قرار دیتی ہے ، مگر اس کے عملی اقدامات، تنظیمی ڈھانچہ اور زمینی سرگرمیاں اسے ایک ایسی انتہا پسند قوت کے طور پر پیش کرتی ہیں جس کا اصل مقصد معاشرتی ہم آہنگی نہیں بلکہ خوف کے ذریعے کنٹرول اور غلبہ قائم کرنا ہے ۔بجرنگ دل کا قیام 1984 میں وشو ہندو پریشد کی ذیلی تنظیم کے طور پر عمل میں آیا۔ ابتدا میں اس کی سرگرمیوں کو نوجوانوں کی تنظیم سازی، مذہبی تربیت اور ثقافتی سرگرمیوں تک محدود دکھایا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ تنظیم گلیوں، بازاروں اور محلوں میں خود ساختہ قانون نافذ کرنے والی فورس میں تبدیل ہو گئی۔ گائے کے تحفظ کے نام پر ہجوم کی شکل میں تشدد، مسلمانوں اور دلتوں کو سرِعام مار پیٹ کا نشانہ بنانا، بین المذاہب شادیوں کے خلاف نام نہاد لو جہاد کی مہم، تعلیمی اداروں میں اخلاقی پولیسنگ اور اقلیتی کاروباروں پر حملے بجرنگ دل کی پہچان بنتے چلے گئے ۔ یہ تمام اعمال اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ یہ تنظیم سماجی خدمت نہیں بلکہ منظم انتہا پسندی اور خوف کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے ۔
بجرنگ دل کی دہشت گردانہ ذہنیت کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ تشدد کو مذہبی فریضہ بنا کر پیش کرتی ہے ۔ جب کوئی گروہ یہ فیصلہ کرنے لگے کہ کون کیا کھائے ، کس سے شادی کرے ، کس لباس کو اختیار کرے یا کس محلے میں رہنے کا حق رکھتا ہے تو یہ مذہب نہیں بلکہ ہجوم کی آمریت ہوتی ہے ۔ ایسے واقعات میں ریاستی اداروں کی خاموشی، پولیس کی تاخیر اور بعض اوقات کھلی جانبداری نے اس انتہا پسندی کو مزید طاقت بخشی۔ متاثرین کے لیے انصاف ایک خواب بن گیا جبکہ حملہ آوروں کو یہ یقین دلایا گیا کہ مذہب اور سیاست کی چھتری تلے انہیں تحفظ حاصل ہے ۔
اسی پس منظر میں بابا والا واقعہ محض ایک مقامی تنازعہ نہیں بلکہ بجرنگ دل کی منظم دہشت گردی اور نفرت انگیز حکمتِ عملی کی واضح مثال ہے۔ اس واقعے میں ایک بابا کے نام سے منسوب معاملے کو بنیاد بنا کر پہلے اشتعال انگیز بیانیہ تشکیل دیا گیا، پھر سوشل میڈیا، واٹس ایپ گروپس اور مقامی نیٹ ورکس کے ذریعے لوگوں کو اکٹھا کیا گیا، اور آخرکار ہجوم نے تشدد، توڑ پھوڑ اور دھمکیوں کا وہ کھیل کھیلا جس کا مقصد انصاف نہیں بلکہ خوف پھیلانا تھا۔ املاک کو نقصان پہنچا، انسانی وقار پامال ہوا اور اقلیتی آبادی کو یہ پیغام دیا گیا کہ ان کی جان و مال کی حفاظت قانون کے بجائے اکثریتی جتھوں کی مرضی سے مشروط ہے ۔ بعد ازاں اس واقعے کو عوامی غصے یا اچانک ردعمل کا نام دے کر اصل مجرموں کو بچانے کی کوشش کی گئی، حالانکہ اس پورے عمل میں تنظیمی منصوبہ بندی اور قیادت کا کردار نمایاں تھا۔
میڈیا کے ایک بڑے حصے نے بھی بجرنگ دل کی انتہا پسندی کو معمول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب تشدد کو جھڑپ، تنازعہ یا جذباتی
ردعمل جیسے نرم الفاظ میں پیش کیا جائے تو مجرم اور متاثر کے درمیان فرق مٹ جاتا ہے ۔ نفرت انگیز بیانات کو پرائم ٹائم میں جگہ دینا، بغیر
تصدیق کے ویڈیوز اور افواہوں کو پھیلانا اور متاثرین کے دکھ کو نظرانداز کرنا اس بیانیے کو مزید مضبوط کرتا ہے ۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو
کئی گنا بڑھا دیا ہے جہاں چند گھنٹوں میں جھوٹ سچ بن جاتا ہے اور ہجوم کو سڑکوں پر لانا آسان ہو جاتا ہے ۔قانونی نقطئہ نظر سے ہندوستان
کا آئین مذہبی آزادی، مساوات اور شہری حقوق کی ضمانت دیتا ہے ، مگر بجرنگ دل کی سرگرمیاں ان آئینی اصولوں کی صریح خلاف ورزی

ہیں۔ ہجوم کے تشدد میں مارے جانے والے افراد، جبری مذہبی دباؤ اور شہری آزادیوں کی پامالی اس بات کا ثبوت ہیں کہ قانون کا نفاذ
یکساں نہیں رہا۔ عدالتوں نے کئی مواقع پر ہجوم کے تشدد کی مذمت کی، مگر جب فیصلے صرف عدالتی کاغذات تک محدود رہیں اور عملی سطح پر
مجرموں کو سزا نہ ملے تو انتہا پسندی ایک مستقل معمول بن جاتی ہے ۔سماجی سطح پر اس دہشت گردی کے اثرات نہایت گہرے اور دیرپا ہیں۔
خوف کے ماحول میں اقلیتی برادریاں اپنی شناخت چھپانے پر مجبور ہو جاتی ہیں، کاروبار سکڑ جاتے ہیں، تعلیم متاثر ہوتی ہے اور معاشرتی
اعتماد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے ۔ نوجوان نسل کو یہ پیغام ملتا ہے کہ طاقت دلیل پر غالب ہے اور مذہبی شناخت انسانیت سے بڑی ہے ۔
یہ ذہنیت نہ صرف اقلیتوں بلکہ پورے معاشرے کے لیے تباہ کن ہے کیونکہ اس میں اختلافِ رائے جرم اور سوال کرنا غداری بن جاتا ہے ۔
بین الاقوامی سطح پر بھی بجرنگ دل اور اس جیسے گروہوں کی سرگرمیوں نے ہندوستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے ۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں مسلسل مذہبی انتہا پسندی، ہجوم کے تشدد اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں سیاحت، سرمایہ کاری اور تعلیمی روابط متاثر ہوتے ہیں کیونکہ دنیا کسی بھی ملک کو اس کے انسانی حقوق کے ریکارڈ سے پرکھتی ہے ۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مذہب بذاتِ خود تشدد یا نفرت کی تعلیم نہیں دیتا۔ مسئلہ مذہب نہیں بلکہ اس کی سیاسی تعبیر ہے ، جس کے ذریعے عوامی
جذبات کو بھڑکا کر طاقت، اثر و رسوخ اور ووٹ حاصل کیے جاتے ہیں۔ بجرنگ دل کی دہشت گردی اسی سیاسی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے جہاں
نفرت ایک منافع بخش ہتھیار بن چکی ہے اور عام انسان اس کھیل میں ایندھن کا کردار ادا کرتا ہے ۔اس صورت حال سے نکلنے کے لیے
ریاستی غیرجانبداری اور قانون کا یکساں نفاذ ناگزیر ہے ۔ پولیس اور انتظامیہ کو سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر ہجوم کے تشدد کے خلاف فوری اور
مثال بننے والی کارروائیاں کرنا ہوں گی۔ عدالتی فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد، نفرت انگیز تنظیموں اور تقاریر کے خلاف واضح قانونی اقدامات،
اور سوشل میڈیا پر جھوٹ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت ضابطے بنانے ہوں گے ۔ تعلیمی نصاب میں آئینی اقدار، تنقیدی شعور اور بین
المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔ میڈیا کو سنسنی کے بجائے ذمہ داری اختیار کرنا ہوگی اور سیاست دانوں کو وقتی فائدے کے لیے انتہا
پسندی سے فاصلہ رکھنا ہوگا۔ شہری معاشرہ، دانشور اور مذہبی رہنما اگر انسانیت کے مشترک اصولوں پر کھڑے ہو کر نفرت کے بیانیے کو چیلنج
کریں تو بابا والے واقعے جیسے سانحات کو روکا جا سکتا ہے اور معاشرے کو خوف کے بجائے قانون، وقار اور پائیدار امن کی راہ پر واپس لایا جا
سکتا ہے ۔


متعلقہ خبریں


مضامین
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست وجود هفته 07 فروری 2026
8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست

دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت وجود هفته 07 فروری 2026
دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت

جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟ وجود هفته 07 فروری 2026
جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر