... loading ...
منظر نامہ
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور خوف کی فضا اب کسی اتفاقی واقعے کا نام نہیں رہی بلکہ یہ ایک منظم اور مسلسل عمل کی صورت اختیار کر چکی ہے ، جہاں انتہا پسند ہندو تنظیمیں کھلے عام قانون کو ہاتھ میں لیتی دکھائی دیتی ہیں۔ مودی حکومت کے دور میں یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ ایسے عناصر کو عملاً ایک غیر اعلانیہ ”لائسنس ٹو کل” حاصل ہے ، جس کے باعث مسلمان خود کو عدم تحفظ، معاشی دباؤ اور سماجی تنہائی میں گھرا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ یہ صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ بہت سے علاقوں میں مسلمان نہ صرف مذہبی شناخت کے اظہار سے گریز پر مجبور ہیں بلکہ معمول کے کاروبار، روزگار اور سماجی زندگی تک میں خوف ان کا مقدر بن چکا ہے ۔ مذہبی جنونیت نے انہیں انتہا پسندی کی ایسی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے جہاں شہری حقوق محض ایک نعرہ بن کر رہ گئے ہیں۔ آج کے حالات اس تاریخی حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ دو قومی نظریہ محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کے وجود، آزادی اور وقار کی ضمانت تھا، کیونکہ موجودہ بھارت میں مذہبی آزادی اور مساوی شہریت کے دعوے زمینی حقائق کے سامنے بے معنی دکھائی دیتے ہیں۔
بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے علاقے کوٹ دوار سے تعلق رکھنے والے نوجوان جم ٹرینر دیپک کمار حالیہ دنوں بھارت میں اس وقت زیرِ بحث آئے جب 28 جنوری کو کوٹ دوار کی ایک مارکیٹ میں بجرنگ دل کے قریب ایک درجن کارکنوں نے ”بابا اسکول ڈریس” نامی دکان پر دھاوا بول کر بزرگ مسلمان دکاندار اور ان کے بیٹے کو دکان کا نام تبدیل نہ کرنے کی صورت میں نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیں، جس پر دیپک کمار موقع پر آگے بڑھے اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ دکان 30 برس سے اسی نام سے قائم ہے اور علاقے میں ”بابا” کے نام سے کئی دکانیں موجود ہیں، نام تبدیل کرنے کا مطالبہ بلاجواز ہے ؛ اس دوران جب ایک مشتعل کارکن نے ان سے نام پوچھا تو انہوں نے خود کو ”محمد دیپک” بتایا، جس کے بعد بجرنگ دل کے کارکنوں سے ان کی تلخ کلامی اور مڈبھیڑ ہوئی اور بعد ازاں سیکڑوں کارکن ان کے جم کے باہر جمع ہو کر نعرے بازی اور گالی گلوچ کرنے لگے ، جس پر پولیس نے مداخلت کی؛ واقعے کے اگلے دن دیپک کمار کی سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوگئی اور انہیں وسیع عوامی پذیرائی ملی، دیپک کمار نے اپنی ویڈیو میں خود کو انسان قرار دے کر انسانی وقار اور مساوات کے اصول کے تحت نفرت انگیز دباؤ کے خلاف موقف اپنایا۔حتیٰ کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے بھی ان کی کھل کر تعریف کی، تاہم اسی واقعے کے تناظر میں دیپک کمار کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج بھی کر دیا گیا، جو اس معاملے کے متنازع اور پیچیدہ رخ کو نمایاں کرتا ہے ۔بجرنگ دل کی دہشت گردی اور انتہا پسندی پر گفتگو محض کسی ایک تنظیم کی مخالفت یا تنقید نہیں بلکہ اس فکری، سماجی اور سیاسی زوال کا تجزیہ ہے جو ہندوستان جیسے کثیرالمذاہب اور کثیرالثقافتی معاشرے کو خوف، عدم تحفظ اور عدم برداشت کی سمت دھکیل رہا ہے ۔ یہ وہ عمل ہے جس میں مذہب کو روحانی و اخلاقی اقدار کے بجائے طاقت، تشدد اور بالادستی کے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ بجرنگ دل خود کو ہندو دھرم اور ثقافت کا محافظ قرار دیتی ہے ، مگر اس کے عملی اقدامات، تنظیمی ڈھانچہ اور زمینی سرگرمیاں اسے ایک ایسی انتہا پسند قوت کے طور پر پیش کرتی ہیں جس کا اصل مقصد معاشرتی ہم آہنگی نہیں بلکہ خوف کے ذریعے کنٹرول اور غلبہ قائم کرنا ہے ۔بجرنگ دل کا قیام 1984 میں وشو ہندو پریشد کی ذیلی تنظیم کے طور پر عمل میں آیا۔ ابتدا میں اس کی سرگرمیوں کو نوجوانوں کی تنظیم سازی، مذہبی تربیت اور ثقافتی سرگرمیوں تک محدود دکھایا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ تنظیم گلیوں، بازاروں اور محلوں میں خود ساختہ قانون نافذ کرنے والی فورس میں تبدیل ہو گئی۔ گائے کے تحفظ کے نام پر ہجوم کی شکل میں تشدد، مسلمانوں اور دلتوں کو سرِعام مار پیٹ کا نشانہ بنانا، بین المذاہب شادیوں کے خلاف نام نہاد لو جہاد کی مہم، تعلیمی اداروں میں اخلاقی پولیسنگ اور اقلیتی کاروباروں پر حملے بجرنگ دل کی پہچان بنتے چلے گئے ۔ یہ تمام اعمال اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ یہ تنظیم سماجی خدمت نہیں بلکہ منظم انتہا پسندی اور خوف کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے ۔
بجرنگ دل کی دہشت گردانہ ذہنیت کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ تشدد کو مذہبی فریضہ بنا کر پیش کرتی ہے ۔ جب کوئی گروہ یہ فیصلہ کرنے لگے کہ کون کیا کھائے ، کس سے شادی کرے ، کس لباس کو اختیار کرے یا کس محلے میں رہنے کا حق رکھتا ہے تو یہ مذہب نہیں بلکہ ہجوم کی آمریت ہوتی ہے ۔ ایسے واقعات میں ریاستی اداروں کی خاموشی، پولیس کی تاخیر اور بعض اوقات کھلی جانبداری نے اس انتہا پسندی کو مزید طاقت بخشی۔ متاثرین کے لیے انصاف ایک خواب بن گیا جبکہ حملہ آوروں کو یہ یقین دلایا گیا کہ مذہب اور سیاست کی چھتری تلے انہیں تحفظ حاصل ہے ۔
اسی پس منظر میں بابا والا واقعہ محض ایک مقامی تنازعہ نہیں بلکہ بجرنگ دل کی منظم دہشت گردی اور نفرت انگیز حکمتِ عملی کی واضح مثال ہے۔ اس واقعے میں ایک بابا کے نام سے منسوب معاملے کو بنیاد بنا کر پہلے اشتعال انگیز بیانیہ تشکیل دیا گیا، پھر سوشل میڈیا، واٹس ایپ گروپس اور مقامی نیٹ ورکس کے ذریعے لوگوں کو اکٹھا کیا گیا، اور آخرکار ہجوم نے تشدد، توڑ پھوڑ اور دھمکیوں کا وہ کھیل کھیلا جس کا مقصد انصاف نہیں بلکہ خوف پھیلانا تھا۔ املاک کو نقصان پہنچا، انسانی وقار پامال ہوا اور اقلیتی آبادی کو یہ پیغام دیا گیا کہ ان کی جان و مال کی حفاظت قانون کے بجائے اکثریتی جتھوں کی مرضی سے مشروط ہے ۔ بعد ازاں اس واقعے کو عوامی غصے یا اچانک ردعمل کا نام دے کر اصل مجرموں کو بچانے کی کوشش کی گئی، حالانکہ اس پورے عمل میں تنظیمی منصوبہ بندی اور قیادت کا کردار نمایاں تھا۔
میڈیا کے ایک بڑے حصے نے بھی بجرنگ دل کی انتہا پسندی کو معمول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب تشدد کو جھڑپ، تنازعہ یا جذباتی
ردعمل جیسے نرم الفاظ میں پیش کیا جائے تو مجرم اور متاثر کے درمیان فرق مٹ جاتا ہے ۔ نفرت انگیز بیانات کو پرائم ٹائم میں جگہ دینا، بغیر
تصدیق کے ویڈیوز اور افواہوں کو پھیلانا اور متاثرین کے دکھ کو نظرانداز کرنا اس بیانیے کو مزید مضبوط کرتا ہے ۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو
کئی گنا بڑھا دیا ہے جہاں چند گھنٹوں میں جھوٹ سچ بن جاتا ہے اور ہجوم کو سڑکوں پر لانا آسان ہو جاتا ہے ۔قانونی نقطئہ نظر سے ہندوستان
کا آئین مذہبی آزادی، مساوات اور شہری حقوق کی ضمانت دیتا ہے ، مگر بجرنگ دل کی سرگرمیاں ان آئینی اصولوں کی صریح خلاف ورزی
ہیں۔ ہجوم کے تشدد میں مارے جانے والے افراد، جبری مذہبی دباؤ اور شہری آزادیوں کی پامالی اس بات کا ثبوت ہیں کہ قانون کا نفاذ
یکساں نہیں رہا۔ عدالتوں نے کئی مواقع پر ہجوم کے تشدد کی مذمت کی، مگر جب فیصلے صرف عدالتی کاغذات تک محدود رہیں اور عملی سطح پر
مجرموں کو سزا نہ ملے تو انتہا پسندی ایک مستقل معمول بن جاتی ہے ۔سماجی سطح پر اس دہشت گردی کے اثرات نہایت گہرے اور دیرپا ہیں۔
خوف کے ماحول میں اقلیتی برادریاں اپنی شناخت چھپانے پر مجبور ہو جاتی ہیں، کاروبار سکڑ جاتے ہیں، تعلیم متاثر ہوتی ہے اور معاشرتی
اعتماد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے ۔ نوجوان نسل کو یہ پیغام ملتا ہے کہ طاقت دلیل پر غالب ہے اور مذہبی شناخت انسانیت سے بڑی ہے ۔
یہ ذہنیت نہ صرف اقلیتوں بلکہ پورے معاشرے کے لیے تباہ کن ہے کیونکہ اس میں اختلافِ رائے جرم اور سوال کرنا غداری بن جاتا ہے ۔
بین الاقوامی سطح پر بھی بجرنگ دل اور اس جیسے گروہوں کی سرگرمیوں نے ہندوستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے ۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں مسلسل مذہبی انتہا پسندی، ہجوم کے تشدد اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں سیاحت، سرمایہ کاری اور تعلیمی روابط متاثر ہوتے ہیں کیونکہ دنیا کسی بھی ملک کو اس کے انسانی حقوق کے ریکارڈ سے پرکھتی ہے ۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مذہب بذاتِ خود تشدد یا نفرت کی تعلیم نہیں دیتا۔ مسئلہ مذہب نہیں بلکہ اس کی سیاسی تعبیر ہے ، جس کے ذریعے عوامی
جذبات کو بھڑکا کر طاقت، اثر و رسوخ اور ووٹ حاصل کیے جاتے ہیں۔ بجرنگ دل کی دہشت گردی اسی سیاسی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے جہاں
نفرت ایک منافع بخش ہتھیار بن چکی ہے اور عام انسان اس کھیل میں ایندھن کا کردار ادا کرتا ہے ۔اس صورت حال سے نکلنے کے لیے
ریاستی غیرجانبداری اور قانون کا یکساں نفاذ ناگزیر ہے ۔ پولیس اور انتظامیہ کو سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر ہجوم کے تشدد کے خلاف فوری اور
مثال بننے والی کارروائیاں کرنا ہوں گی۔ عدالتی فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد، نفرت انگیز تنظیموں اور تقاریر کے خلاف واضح قانونی اقدامات،
اور سوشل میڈیا پر جھوٹ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت ضابطے بنانے ہوں گے ۔ تعلیمی نصاب میں آئینی اقدار، تنقیدی شعور اور بین
المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔ میڈیا کو سنسنی کے بجائے ذمہ داری اختیار کرنا ہوگی اور سیاست دانوں کو وقتی فائدے کے لیے انتہا
پسندی سے فاصلہ رکھنا ہوگا۔ شہری معاشرہ، دانشور اور مذہبی رہنما اگر انسانیت کے مشترک اصولوں پر کھڑے ہو کر نفرت کے بیانیے کو چیلنج
کریں تو بابا والے واقعے جیسے سانحات کو روکا جا سکتا ہے اور معاشرے کو خوف کے بجائے قانون، وقار اور پائیدار امن کی راہ پر واپس لایا جا
سکتا ہے ۔