... loading ...
محمد آصف
ہر سال 5فروری کو یومِ یکجہتی ٔ کشمیر منایا جاتا ہے ۔ یہ دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک عہد، ایک وعدہ اور ایک
زندہ احساس ہے جو کشمیری عوام کے ساتھ ہمارے قلبی، اخلاقی اور انسانی رشتے کی یاد دہانی کراتا ہے ۔ یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ
صرف ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ انسانی وقار، آزادی اور انصاف کی جدوجہد کا نام ہے ۔ عہدِ وفا اسی پختہ یقین کا اظہار ہے کہ ہم کشمیری
عوام کے دکھ، امید اور مستقبل کے ساتھ کھڑے ہیں۔
برصغیر کی تقسیم کے وقت ریاست جموں و کشمیر ایک مسلم اکثریتی خطہ تھا، جس کے مستقبل کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عوام
کی رائے سے ہونا تھا۔ تاہم سیاسی پیچیدگیوں اور علاقائی کشیدگی کے باعث یہ حق دہائیوں سے مؤخر ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ
مسئلہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک حساس معاملہ بن چکا ہے ۔ یومِ یکجہتی ٔ کشمیر ہمیں اس تاریخی پس منظر کی یاد دلاتا ہے
اور یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انصاف میں تاخیر کس طرح انسانی المیوں کو جنم دیتی ہے ۔کشمیر کی سرزمین قربانیوں سے بھری پڑی ہے ۔ یہاں
کی مائیں اپنے بیٹوں کی جدائی کے غم کے ساتھ بھی امید کا چراغ روشن رکھتی ہیں، بہنیں بھائیوں کے انتظار میں دعا کے دامن کو تھامے رکھتی ہیں، اور بچے اپنے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ظلم اور جبر کے سائے میں بھی انسانی حوصلہ کمزور نہیں پڑتا۔ یومِ یکجہتی ٔ کشمیر اسی حوصلے کو سلام پیش کرنے کا دن ہے ۔
کشمیر کے مسئلے کا سب سے بنیادی اور حساس پہلو انسانی حقوق ہے ۔ عالمی رپورٹس میں شہری آزادیوں کی پابندی، اظہارِ رائے پر قدغن،
اور روزمرہ زندگی کو درپیش مشکلات کا ذکر ملتا ہے ۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی حقوق کسی قوم، مذہب یا سرحد تک محدود نہیں ہوتے ۔
ہر انسان کا حق ہے کہ وہ عزت، امن اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارے ۔ عہدِ وفا کا تقاضا ہے کہ ہم دنیا کے سامنے ان بنیادی اصولوں کی یاد دہانی کرواتے رہیں۔پاکستان نے ابتدا ہی سے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے ۔ سفارتی سطح پر اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کا مسئلہ اجاگر کیا جاتا رہا ہے ۔
یومِ یکجہتی ٔ کشمیر اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ پاکستان سیاسی، اخلاقی اور سفارتی محاذ پر کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ یہ دن ہمیں بطور قوم متحد ہونے اور دنیا کو یہ پیغام دینے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے ۔آج کی دنیا ڈیجیٹل ہے ، جہاں ایک پیغام لمحوں میں سرحدوں کو عبور کر لیتا ہے ۔ نوجوان نسل کے پاس سوشل میڈیا، بلاگز، ویڈیوز اور آن لائن پلیٹ فارمز کی صورت میں طاقتور ذرائع موجود ہیں۔ یومِ یکجہتی ٔ کشمیر نوجوانوں کے لیے یہ پیغام لاتا ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ سچ کو پھیلائیں، مصدقہ معلومات کو ترجیح دیں اور غلط بیانی کا مؤثر جواب دیں۔ قلم، کیمرہ اور کی بورڈ آج کے دور کے امن کے ہتھیار ہیں۔
تعلیم صرف نصابی علم تک محدود نہیں بلکہ شعور کی تربیت بھی ہے ۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں کشمیر کے موضوع پر سیمینارز، مباحثے اور تحقیقی سرگرمیاں طلبہ میں عالمی مسائل کے بارے میں حساسیت پیدا کرتی ہیں۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر اس تعلیمی کردار کو اجاگر کرنے کا بہترین موقع ہے ، جہاں طلبہ تاریخ، قانون اور انسانی حقوق کے تناظر میں مسئلے کو سمجھ سکتے ہیں اور اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں۔ میڈیا عوامی سوچ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ مستند خبریں، انسانی کہانیاں اور زمینی حقائق دنیا کے سامنے لانے سے مسئلے کی حقیقی تصویر ابھرتی ہے ۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے کہ وہ غیرجانبداری اور سچائی کے ساتھ حقائق پیش کرے ۔ سچ پر مبنی صحافت ہی دیرپا اثر چھوڑتی ہے ۔
کشمیر کا مسئلہ صرف دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ عالمی امن سے جڑا ہوا سوال ہے ۔ خطے میں استحکام اسی وقت ممکن ہے جب انصاف ہو اور عوام کی رائے کا احترام کیا جائے ۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق دلانے میں مدد فراہم کرے ۔ خاموشی اکثر ناانصافی کو طول دیتی ہے ، جبکہ فعال کردار مسائل کے حل کی راہ ہموار کرتا ہے ۔کشمیر کا مسئلہ کسی ایک فریق کی جیت یا ہار کا نام نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن کی تلاش ہے ۔ مکالمہ، اعتماد سازی اور انسانی بنیادوں پر روابط ایسے راستے ہیں جو کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں۔ یومِ یکجہتی ٔ کشمیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امن صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ دلوں کی
قربت اور ایک دوسرے کے وجود کے احترام سے قائم ہوتا ہے ۔”عہدِ وفا”کا مطلب صرف ایک دن منانا نہیں بلکہ سال بھر اپنے رویوں اور عمل سے یکجہتی کا اظہار کرنا ہے ۔ چاہے وہ سماجی شعور بیدار کرنا ہو، مستند معلومات شیئر کرنا ہو یا عالمی سطح پر مؤثر سفارت کاری کی حمایت ہر فرد اپنا حصہ ڈال سکتا ہے ۔ استاد اپنے طلبہ کو شعور دے سکتا ہے ، صحافی سچ کو سامنے لا سکتا ہے ، اور عام شہری اپنی آواز بلند کر سکتا ہے ۔
تقریبات، واکس، مشاعرے اور ثقافتی پروگرام کشمیری عوام کے ساتھ جذباتی اور سماجی رشتہ مضبوط کرتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف پیغام کو وسیع حلقے تک پہنچاتی ہیں بلکہ ایک قوم کی اجتماعی روح کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر اس سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا دن ہے ۔تمام تر مشکلات کے باوجود امید کا چراغ روشن ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کی خواہش اور عالمی ضمیر ایک سمت میں چل پڑیں تو بڑے سے بڑا مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے ۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھی امید کی روشنی موجود ہے ۔
5 فروری یومِ یکجہتیٔ کشمیر”عہدِ وفا”کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آزادی، انصاف اور انسانی وقار کے لیے جدوجہد ایک مسلسل سفر ہے ۔ یہ دن ہمارے اس وعدے کی تجدید ہے کہ ہم کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے ، ان کی آواز بنیں گے اور ہر ممکن فورم پر ان کے حقِ
خودارادیت کی حمایت کریں گے ۔آئیں ہم سب مل کر یہ پیغام دیں کہ کشمیر محض ایک خطہ نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کی آزمائش ہے ، اور اس آزمائش میں ہماری پہچان حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہے ۔ کشمیر پاکستان کے لیے قومی غیرت اور وقار کی علامت ہے ، کیونکہ یہ ہماری تاریخ، قربانیوں اور اصولی مؤقف کی یاد دہانی کراتا ہے ۔ یہ مسئلہ ہمیں اتحاد، انصاف اور انسانی حقوق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتا ہے اور دنیا کو بتاتا ہے کہ ہم مظلوموں کے ساتھ ہمیشہ مضبوطی سے کھڑے رہیں گے اور اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے ۔
٭٭٭