وجود

... loading ...

وجود

سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے !

جمعرات 05 فروری 2026 سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے !

اونچ نیچ
آفتاب احمد خانزادہ
۔۔۔۔۔۔

نیٹشے ہمیں بتاتا ہے کہ اخلاقیات اور انسانیت اوپر سے بگڑتی ہیں۔ جب چند طاقتور طبقات اپنی ہوس، دولت اور قبضے کے لیے معاشرتی ضابطوں کو مسخ کر دیں، تو انسانی شعور اور اخلاقیات کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔Mass society اور ہجوم اسی نظام کے پیدا کردہ بے شعور رُخ ہیں، جو اپنے مفادات، اپنی شناخت اور اپنے اخلاق کی سمجھ سے محروم رہتے ہیں۔
”سماج وہ آئینہ ہے جس میں ہم اپنی حقیقت دیکھتے ہیں، اور اگر آئینہ بٹا ہوا ہو تو ہر عکس مسخ ہو جائے گا”۔ ڈیورکائم
یہ وہ فلسفیانہ سچائی ہے جو آج پاکستان اور دنیا کے بیشتر سماجوں میں نظر آتی ہے ۔طاقتور طبقات کی توسیع شدہ رسائی ، سرمایہ کی غیر محدود جمع پونجی اور عسکری و سیاسی قبضہ، عوام کے شعور، اخلاق اور زندگی کے آئینے کو مسخ کر دیتا ہے۔فرانز کافکا کی کہانی”A Humger Artist”محض ایک فرد کے بھوکے رہنے کا تماشہ نہیں بلکہ جدید انسان کی روحانی و معنوی بھوک کا گہرا استعارہ ہے، ایک ایسا استعارہ جو وجود، معنی، سماج، فن اور سچ کے باہمی تصادم کو عریاں کر دیتا ہے۔ ہنگر آرٹسٹ اپنی ذات کو فنا کر کے فن کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ جس سماج کے سامنے وہ اپنی قربانی پیش کرتا ہے وہ سماج نہ فن کو سمجھتا ہے اور نہ قربانی کی قیمت جانتا ہے، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی توجہ محض تفریح اور تماشے تک محدود ہو جاتی ہے۔ کافکا یہاں جدید دنیا کی اس بے حسی کو بے نقاب کرتا ہے جہاں انسان کی اذیت بھی اس وقت تک قابلِ قبول ہے جب تک وہ نفع، سنسنی یا وقتی دلچسپی فراہم کرے۔ ہنگر آرٹسٹ کا روزہ کسی مذہبی تطہیر یا اخلاقی برتری کا اظہار نہیں بلکہ ایک وجودی مجبوری ہے، وہ خود اعتراف کرتا ہے کہ وہ اس لیے نہیں کھاتا کہ اسے کھانے میں کبھی لذت ہی محسوس نہیں ہوئی، اور یہی جملہ اس کہانی کی فلسفیانہ روح ہے، کیونکہ یہ انسان کے اس داخلی خلا کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے کوئی مادی شے پُر نہیں کر سکتی۔
نطشے کے نزدیک جدید انسان قدروں کے انہدام کے بعد ایک ایسے خلا میں کھڑا ہے جہاں پرانے معانی مر چکے ہیں اور نئے ابھی پیدا نہیں ہوئے، ہنگر آرٹسٹ اسی خلا کا باشندہ ہے، وہ بھوک کے ذریعے معنی تخلیق کرنا چاہتا ہے مگر سماج اس کی ریاضت کو محض ایک نمائش سمجھتا ہے۔ ابتدا میں لوگ اسے پنجروں میں بند دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں، گنتے ہیں کہ اس نے کتنے دن کچھ نہیں کھایا، مگر جلد ہی یہ گنتی بیزاری میں بدل جاتی ہے، کیونکہ سرمایہ دارانہ اور تیز رفتار سماج میں ہر چیز کی ایک میعاد ہوتی ہے، حتیٰ کہ اذیت کی بھی۔ کافکا یہاں وقت کے اس جبر کو دکھاتا ہے جو ہر گہرے تجربے کو سطحی بنا دیتا ہے، جہاں چالیس دن کا قانون فن پر بھی مسلط ہے، تاکہ تماشائی اکتا نہ جائیں، اور یہ قانون دراصل سچ پر لگائی گئی وہ حد ہے جس کے بعد سچ سماج کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ ہنگر آرٹسٹ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ غلط سمجھا جاتا ہے، اور یہ غلط فہمی محض دوسروں کی نہیں بلکہ خود اس کے وجود کی بھی ہے، کیونکہ وہ اپنی سچائی کو کسی زبان میں منتقل ہی نہیں کر پاتا جو سماج سمجھ سکے۔۔ جب عوام کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے اور اسے سرکس کے ایک کونے میں ڈال دیا جاتا ہے تو یہ دراصل فن کی حاشیہ برداری کی کہانی ہے، جہاں اصل فنکار پس منظر میں مر جاتا ہے اور اس کی جگہ طاقت، چمک اور حیوانی زندگی لے لیتی ہے، چیتے کی آمد اسی تبدیلی کی علامت ہے، چیتا کھاتا ہے، جیتا ہے، اور اپنی فطری جبلت میں مکمل ہے، اسی لیے لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، کیونکہ وہ زندگی کی تصدیق کرتا ہے جبکہ ہنگر آرٹسٹ زندگی سے انکار کی علامت بن چکا ہے۔ مگر کافکا یہاں زندگی کی توثیق نہیں بلکہ اس سماج کی سطحیت پر طنز کرتا ہے جو صرف اس زندگی کو سراہتا ہے جو اسے فوری مسرت دے۔ ہنگر آرٹسٹ کی موت خاموش ہے، بے نام ہے، اور بے معنی سمجھی جاتی ہے، مگر فلسفیانہ سطح پر یہی موت اس کی واحد سچائی ہے، کیونکہ وہ آخرکار اس اعتراف تک پہنچتا ہے کہ اس کا فن کسی اعلیٰ مقصد کے لیے نہیں بلکہ ایک داخلی ناگزیرت کے تحت تھا۔ ”ہنگر آرٹسٹ”ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہر سچ قابلِ نمائش ہوتا ہے کیا ہر قربانی کی قدر سماج کر سکتا ہے اور کیا فن کی بقا عوامی تائید کی محتاج ہے کافکا کا جواب نہایت تلخ ہے، وہ دکھاتا ہے کہ جدید دنیا میں سچ اکثر پنجرے میں بند کر دیا جاتا ہے، اور جب وہ مر جاتا ہے تو اس کی جگہ ایک صحت مند، چمکدار مگر غیر سوالیہ وجود لے لیتا ہے۔ یوں”ہنگر آرٹسٹ”انسان کی اس ازلی ناکامی کا نوحہ بن جاتی ہے جہاں وہ معنی کی تلاش میں خود کو فنا کر دیتا ہے مگر دنیا اس فنا کو محض ایک ناکام تماشہ سمجھ کر آگے بڑھ جاتی ہے۔ فرانز کافکا کی کہانی”ہنگر آرٹسٹ”کو اگر فلسفے کی آنکھ سے، تاریخ کے آئینے میں اور پاکستان کے اجتماعی تجربے کے تناظر میں پڑھا جائے تو یہ محض ایک افسانہ نہیں رہتی بلکہ انسان، ریاست اور سماج کے باہمی رشتے پر ایک دردناک نوحہ بن جاتی ہے۔ یہ کہانی اس سچ کی نمائندہ ہے جسے فریڈرک نطشے نے یوں بیان کیا تھا کہ”سچ اکثر کمزوروں کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا ہے، اسی لیے طاقت اسے یا تو مسخ کر دیتی ہے یا خاموش”۔ ہنگر آرٹسٹ اسی خاموش کیے گئے سچ کا مجسمہ ہے، وہ بھوکا رہ کر سوال کرتا ہے، اور سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ ایسے ہی سوال کرنے والوں کی قبروں سے بھری پڑی ہے۔ سقراط نے ایتھنز کی جمہوریت میں سوال اٹھایا تو ریاست نے اسے زہر پلا دیا، کیونکہ جیسا کہ خود سقراط کہتا ہے”میں شہر کو جگانے والا ڈنک ہوں، اور سوتا ہوا گھوڑا ڈنک برداشت نہیں کرتا”۔ ہنگر آرٹسٹ بھی اسی ڈنک کی طرح ہے، مگر جدید دنیا میں اسے قتل کرنے کے لیے زہر یا صلیب کی ضرورت نہیں، اسے محض نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔جب ہم اسی کہانی کو پاکستان کی تاریخ پر منطبق کرتے ہیں تو یہ استعارہ اور بھی تلخ ہو جاتا ہے۔ پاکستان بھی ایک ایسا ہنگر آرٹسٹ ہے جو مسلسل قربانیاں دیتا آیا ہے، مگر اس کی بھوک کو کبھی صحیح نام نہیں دیا گیا۔ یہاں بھوک صرف روٹی کی نہیں بلکہ آئین، انصاف اور وقار کی ہے۔ ارسطو نے کہا تھا کہ”ریاست کا مقصد محض زندہ رکھنا نہیں بلکہ بہتر زندگی دینا ہے”، مگر پاکستانی ریاست نے اکثر شہری کو صرف زندہ رہنے کی جدوجہد تک محدود رکھا۔ جو اس سے آگے سوال کرتا ہے، وہ کسی نہ کسی پنجرے میں بند کر دیا جاتا ہے۔ کبھی اسے غدار کہا جاتا ہے، کبھی شدت پسند، اور کبھی محض غیر متعلق۔ ہنگر آرٹسٹ کی طرح یہاں بھی ایک وقت کی حد مقرر ہے، کچھ دن احتجاج، کچھ دن شور، پھر خاموشی۔ مشرقی پاکستان کے زخم ہوں، بلوچستان کے نوحے ہوں، یا عام آدمی کی معاشی تباہی، ہر دکھ کی ایک ایکسپائری ڈیٹ ہے، کیونکہ جیسا کہ ہننا آرنٹ نے کہا تھا”برائی اکثر چیختی نہیں، معمول بن جاتی ہے”۔
کافکا کے افسانے میں جب عوام کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے تو ہنگر آرٹسٹ کو سرکس کے ایک کونے میں ڈال دیا جاتا ہے، اور اس کی جگہ ایک
صحت مند چیتا لے لیتا ہے۔ فلسفیانہ سطح پر یہ چیتا طاقت کی علامت ہے، وہ طاقت جسے تھامس ہابس نے”طاقت کے بغیر زندگی کو تنہا، غلیظ
اور مختصر”کہا تھا، مگر مسئلہ یہ ہے کہ طاقت جب اخلاق سے خالی ہو جائے تو وہ زندگی کو معنی نہیں بلکہ خوف دیتی ہے۔ پاکستان میں یہ چیتا
طاقتور بیانیوں، جذباتی نعروں اور فوری مسرت کے وعدوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ عوام تالیاں بجاتے ہیں، ۔ہنگر آرٹسٹ کی
موت سے پہلے اس کا اعتراف کہ”میں اس لیے بھوکا رہا کیونکہ مجھے کبھی پسند کا کھانا نہیں ملا”دراصل جدید انسان کا سب سے بڑا اعتراف ہے۔ پاکستانی عام آدمی بھی اسی مسئلے سے دوچار ہے، اسے کبھی ایسا نظام نہیں ملا جو اس کے لیے قابلِ قبول ہو، کبھی ایسی سیاست نہیں ملی جو
اس کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، اور کبھی ایسی معیشت نہیں ملی جو اسے انسان سمجھ کر جگہ دے۔ وہ بھوکا اس لیے نہیں کہ وہ بھوک پسند کرتا ہے بلکہ اس
لیے کہ اسے انصاف کا ذائقہ کبھی نصیب نہیں ہوا۔کافکا کی کہانی اور ہماری تاریخ ہمیں ایک ہی فلسفیانہ نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ اصل المیہ
بھوک نہیں بلکہ بے حسی ہے۔ جب سماج اپنے ہنگر آرٹسٹس کو تماشہ سمجھ لے تو پھر ظلم کو روکنے والا کوئی نہیں رہتا۔ نطشے نے خبردار کیا تھا کہ
”جب تم کھائی میں جھانکتے ہو تو کھائی بھی تم میں جھانکتی ہے”، اور اگر ہم نے آج اپنے سچ بولنے والوں، سوال کرنے والوں اور بھوک کی
زبان بولنے والوں کو نہ سنا تو کل یہی کھائی ہماری اجتماعی تقدیر بن جائے گی۔ سوال یہ نہیں کہ ہنگر آرٹسٹ کیوں مر گیا، اصل سوال یہ ہے کہ ہم
کب ایک زندہ سماج سے ایک بے حس سرکس میں بدل گئے، اور کیا ابھی بھی ہمارے پاس اتنی اخلاقی جرات باقی ہے کہ ہم اس بھوک کو تماشا
نہیں بلکہ اپنا سوال سمجھ سکیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن وجود جمعرات 05 فروری 2026
5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن

بلوچستان حملے اورسازشیں وجود جمعرات 05 فروری 2026
بلوچستان حملے اورسازشیں

سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے ! وجود جمعرات 05 فروری 2026
سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے !

صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ وجود بدھ 04 فروری 2026
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

ناقابل شکست وجود بدھ 04 فروری 2026
ناقابل شکست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر