... loading ...
بے نقاب /ایم آر ملک
قانون کی حکمرانی اور قانون کے ذریعے حکمرانی کے درمیان فرق محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ کسی بھی سماج کی اخلاقی اور قانونی صحت کا پیمانہ ہے۔ ہمارے ہاں کا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک لمبے عرصے سے پولیس کے ذریعے حکمرانی کے خمار میں مبتلا ہیں اور یہ جملہ حقوق پنجاب اور وفاق میں بحق شریف خاندان محفوظ ہیں۔
ہمارے ہاں قانون، ایک عرصے سے ایک منتخب ہتھیارweapon) selective (بنا ہواہے جس کی نال کا رخ ہمیشہ کمزور، بے بس اور عام شہری کی طرف رہاہے، جبکہ طاقتور، پیسے والے اور بااثر افراد اسے بطور کھلونا استعمال کرتے رہے ہیں ۔ایک ایسا جال جس میں کمزور پھنس جاتا ہے اورطاقتور توڑ کر نکل جاتا ہے ۔پاکستان کا آئین واضح طور پر آرٹیکل 4 اور 25 میں ہر شہری کو مساوات اور یکساں انصاف کا حق دیتا ہے۔ مگرپاکستان کا عملی منظر نامہ اس آئینی وعدے کو محض ایک نظریاتی فریم ورک ثابت کرتا ہے۔ یہاں پولیس نظام میں اصلاحات کے نام پر جو کچھ ہوا ہے، اس نے پرانے، روایتی اور بوسیدہ ڈھانچے کو اور بھی مضبوط کیا ۔ پولیس آرڈر 2002 کی اصلاحی روح کو منظم systematically) (طریقے سے نظر انداز کیا گیا ہے، اور اب تو یہ صورت حال ہے کہ نئے انتظامی ڈھانچے میں پرانی فرعونیت نے ادارہ جاتی( institutionalized )شکل اختیار کر لی ہے۔
پنجاب میں اس وقت بالخصوص پولیس کا نظام اب ایک ایسی مشینری بن چکا ہے جو عوام کے تحفظ کے بجائے ان کے بدترین استحصال کا ذریعہ ہے۔ اگرچہ عام طور پر پورے ملک میں نچلے درجے کے اہلکاروںکی شامت آتی ہے،(جھنگ کی ماں بیٹی کے گٹر میں گرنے کے واقعہ کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے )۔حقیقت یہ ہے کہ اعلیٰ سطح کے افسران بھی اس خراف کی لپیٹ میں ہیں ۔ نئے تعینات ہونے والے افسران میں بھی طاقت کے خمار کی واضح علامات نظر آتی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ایک تو ان کا خاندانی پس منظر کا کمزور ہونا ،میرٹ کی نظر اندازی اور وقت کے حکمرانوں کے ناجائز احکامات پربلاچون و چرا عمل درآمد کی اداان کی پسندیدگی ٹھہرتی ہے جو ان کو کلیدی نشست پر بٹھادیتی ہے ،یہ افسران اپنے آپ کوعوامی خادم publicServant) (نہیں بلکہ حقیقی حکمران سمجھنے لگے ہیں۔ قانون ان کے لیے انصاف کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ آرگنائزڈ جبر کا آلہ بن گیا ہے۔ سائلین کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ ایک منظم نفسیاتی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہر چوک پر اپنی بہن ،ماں بیٹی کے ساتھ مرکز مسیحائی جاتے ہوئے کسی بھی طالب علم کا چالان ،ہیلمٹ کے نام پر عام شہری سے بے دریغ اختیارات کے بل بوتے پر ذلت آمیز رویہ، اور بے جا قانونی پیچیدگیوں،پیرا فورس کے ذریعے اس طبقہ کا معاشی استحصال جو سارا دن آوازیں لگا کر اپنی ریڑھی پر بچوں کا پیٹ پالتا ہے ،سی سی ڈی کے ذریعے سیاسی مخالفین کا قتل عام ، اپنی ہی ذاتی پسند و ناپسند میں جان بوجھ کر الجھانا، یہ سبڈرانے دھمکانے کے ایسے کلچر کو فروغ دے رہا ہے جہاں عام شہری کو احساس دلایا جاتا ہے کہ نظام اس کے خلاف ہے،جو اس کا نہیںایک اور طبقے کا محافظ ہے۔
ایک خاتون وزیراعلیٰ کے دور میں خواتین افسران کی تقرریوں کو ادارہ جاتی تبدیلی کی علامت سمجھا گیا۔ توقع تھی کہ خواتین کی حساسیت اور ہمدردی پر مبنی فرائض نظام میں ایک ذمہ داری اور انسانیت پر مبنی روش لائے گی،مگر کوٹ ادو کے واقعہ نے جس میں ایک خاتون پولیس اہلکار نے ایک غریب حجام کو اٹھوا کر تشدد سے مار دیا اس تبدیلی کا پول کھول دیا ، خصوصاً خواتین سائلین کے معاملات میں۔ مگر پنجاب کے تجربات انتہائی المناک ستم ظریفی کا شاخسانہ ہیں۔ کوٹ ادو کی خاتون پولیس آفیسر نے وہی پراناآمرانہ رویہ اپنایا جس میں تشدد،دبائو ، ہاتھ آئے شکار پر الزام تراشی،اور خواہش کے مطابق اس شکار سے بیان اگلوانا شامل ہے۔ جب ہراساں کی گئی کوئی خاتون ان خواتین پولیس اہلکاروں کے پاس پہنچتی ہے تو اس کا مؤقف تک سنے بغیر اور حتٰی کہ بظاہر ہمدردی تک دکھانے کی بجائے تصفیہ کے دبائو اور قانون کی من چاہی تشریح کی دھمکیوں کا سامنااسے کرنا پڑتا ہے ۔ اور اگر فرعونی افسر شاہی کا حکم نہ مانا جائے تو بجائے دادرسی کے اسی مظلوم خاتون کے خلاف باقاعدہ رپورٹ عدالتوں میں بغیر کسی حقیقت کو جاننے کی کوشش تک ہی کیے اپنے ”مخصوص”منظور نظر ماتحتوں سے لکھواکر اپنے دستخطوں سے ارسال کردی جاتی ہے۔
ایک تشویشناک سوال یہ بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سیاسی بنیادوں پر پولیس میں بھرتی یہ مائنڈ سیٹ درحقیقت ایجنڈے پرکام کر رہاہو ؟ کہیں یہ خواتین کی بااختیاری کے وژن کو ہی سبوتاژ تو نہیں کر رہیں؟ اگر خاتون وزیراعلیٰ کے دور میں خواتین افسران ہی خواتین شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کریںگی تو اس سے وزیراعلیٰ اور محکمے کی ساکھ کہاں کھڑی ہوگی ؟ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ چند نااہل،منتقم مزاج اور بدنام زمانہ افسران پورے محکمے کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ سینکڑوں فرض شناس، دیانتدار، محنتی اور قابل افسر جو خاموشی اور تندہی سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہوتے ہیں ان کو بیک جنبش قلم آرڈر کے سائیڈ لائن کردیا جاتا ہے ، ان کی محنت اور ایمانداری،بے مثال کارکردگی ان چند بدعنوان اور نااہل عناصر کی دسترس میں اختیارات دیکر ضائع کر دی جاتی ہے۔ یہ نااہل اور کم فہم افسران نہ صرف عوام کے اعتماد کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ اپنے ہی محکمے کے قابل،دور اندیش افسران کے اس کردار کو بھی مجروح کر رہے ہیںجس نے محکمہ کے امیج کو بحال کرنے میں ایک اعتماد کو طوالت بخشی ۔انتہائی قابل اعتراض عمل کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ جن افسران کی کارکردگی عملی طور پر گویا صفر ہے، جن کے خلاف عوامی شکایات کے انبار ہیں، انہیں مسلسل غیر متعلقہ اضافی اختیارات سونپے جا رہے ہیں۔
حکمرانوں کا یہ عمل چار خطرناک رویوں کی نشاندہی کرتا ہے؛ پہلا، شخصیت پرستی جہاں میرٹ کی بجائے چاپلوسی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ دوسرا، طاقت کا ارتکاز جس سے جانچ پڑتال اور توازن ختم ہو جاتا ہے ۔ تیسرا، موقع واردات پر غیر موجودگی کا عذر جہاں عوامی شکایات کو نظرانداز کر کے کاغذی کارکردگی پیش کی جاتی ہے۔ چوتھا،جہاں متنازع افسران کو طاقت دے کر ان کی خاموشی خرید لی جاتی ہے۔طاقت کا یہ مرکزی ارتکاز درحقیقت غیر ذمہ داری کا سبب بنتا ہے، جہاں کوئی بھی قابل احتساب نہیں رہتا ا س کا نتیجہ سماجی جواب دہی کے مکمل خاتمے کی صورت میں نکلتا ہے۔جس کے نتائج سے ہم سبھی باخبر ہیں۔کلیدی عہدوں پر بیٹھے پولیس افسران سے سوال ہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے زیر نگرانی پولیس افسران شہروں کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھے بیٹھے ہیں؟ کیا پورے صوبہ میں صرف وہی اہل ہیں؟ کیا دیگر تمام افسران اچانک نااہل ثابت ہوگئے ہیں؟ یہ انتظامی ترجیح آخر کس منطق اور میرٹ کی بنیاد پر؟
وزیراعلیٰ پنجاب کی گڈگورننس اور بااختیاری کے منصوبے کی ساکھ کا اصل فیصلہ کن امتحان پنجاب کے شہروں میں ہو رہا ہے۔ بلاشبہ فوری، آزاد اورشفاف عمل اور خود احتسابی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اضافی چارجز کی غیر شفاف پالیسیپر فوری نظر ثانی ،میرٹ کی بنیاد پرتعیناتی، تقرریوں کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے ۔جان رکھیے کہ اب نوجوان نسل خالی نعروں پر یقین نہیں کرتی۔وہ قابل عمل نتائج چاہتے ہیں ۔اگر قانون کی حکمرانی ہے تو ،جب انصاف کے دروازے بند ہوتے ہیں، تو عوام کا غصہ اور مایوسی کا سیلاب کوئی وردی، عہدہ یا سیاسی نعرہ نہیں روک سکتا۔ المیہ یہ ہے کہ اس سیلاب کا سامنا صرف محب وطن افراد کو کرنا پڑتا ہے، جبکہ وہ نااہل، فرعونیت زدہ مائنڈ سیٹ جو نظام کو تباہ کرنے کا باعث بنتا ہے ، وہ محفوظ رہتا ہے ،جبکہ قابل ،فرض شناس ،ایماندار افسران نظرا ندازی کے ساتھ زیر عتاب ہوتے ہیں ہمارے مروجہ نظام کی یہی سب سے بڑی ناانصافی ہے، جس کا ازالہ بہرطور وقت اور حالات کی ضرورت ہے ۔
٭٭٭