وجود

... loading ...

وجود

گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

پیر 02 فروری 2026 گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

بے نقاب /ایم آر ملک

قانون کی حکمرانی اور قانون کے ذریعے حکمرانی کے درمیان فرق محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ کسی بھی سماج کی اخلاقی اور قانونی صحت کا پیمانہ ہے۔ ہمارے ہاں کا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک لمبے عرصے سے پولیس کے ذریعے حکمرانی کے خمار میں مبتلا ہیں اور یہ جملہ حقوق پنجاب اور وفاق میں بحق شریف خاندان محفوظ ہیں۔
ہمارے ہاں قانون، ایک عرصے سے ایک منتخب ہتھیارweapon) selective (بنا ہواہے جس کی نال کا رخ ہمیشہ کمزور، بے بس اور عام شہری کی طرف رہاہے، جبکہ طاقتور، پیسے والے اور بااثر افراد اسے بطور کھلونا استعمال کرتے رہے ہیں ۔ایک ایسا جال جس میں کمزور پھنس جاتا ہے اورطاقتور توڑ کر نکل جاتا ہے ۔پاکستان کا آئین واضح طور پر آرٹیکل 4 اور 25 میں ہر شہری کو مساوات اور یکساں انصاف کا حق دیتا ہے۔ مگرپاکستان کا عملی منظر نامہ اس آئینی وعدے کو محض ایک نظریاتی فریم ورک ثابت کرتا ہے۔ یہاں پولیس نظام میں اصلاحات کے نام پر جو کچھ ہوا ہے، اس نے پرانے، روایتی اور بوسیدہ ڈھانچے کو اور بھی مضبوط کیا ۔ پولیس آرڈر 2002 کی اصلاحی روح کو منظم systematically) (طریقے سے نظر انداز کیا گیا ہے، اور اب تو یہ صورت حال ہے کہ نئے انتظامی ڈھانچے میں پرانی فرعونیت نے ادارہ جاتی( institutionalized )شکل اختیار کر لی ہے۔
پنجاب میں اس وقت بالخصوص پولیس کا نظام اب ایک ایسی مشینری بن چکا ہے جو عوام کے تحفظ کے بجائے ان کے بدترین استحصال کا ذریعہ ہے۔ اگرچہ عام طور پر پورے ملک میں نچلے درجے کے اہلکاروںکی شامت آتی ہے،(جھنگ کی ماں بیٹی کے گٹر میں گرنے کے واقعہ کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے )۔حقیقت یہ ہے کہ اعلیٰ سطح کے افسران بھی اس خراف کی لپیٹ میں ہیں ۔ نئے تعینات ہونے والے افسران میں بھی طاقت کے خمار کی واضح علامات نظر آتی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ایک تو ان کا خاندانی پس منظر کا کمزور ہونا ،میرٹ کی نظر اندازی اور وقت کے حکمرانوں کے ناجائز احکامات پربلاچون و چرا عمل درآمد کی اداان کی پسندیدگی ٹھہرتی ہے جو ان کو کلیدی نشست پر بٹھادیتی ہے ،یہ افسران اپنے آپ کوعوامی خادم publicServant) (نہیں بلکہ حقیقی حکمران سمجھنے لگے ہیں۔ قانون ان کے لیے انصاف کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ آرگنائزڈ جبر کا آلہ بن گیا ہے۔ سائلین کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ ایک منظم نفسیاتی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہر چوک پر اپنی بہن ،ماں بیٹی کے ساتھ مرکز مسیحائی جاتے ہوئے کسی بھی طالب علم کا چالان ،ہیلمٹ کے نام پر عام شہری سے بے دریغ اختیارات کے بل بوتے پر ذلت آمیز رویہ، اور بے جا قانونی پیچیدگیوں،پیرا فورس کے ذریعے اس طبقہ کا معاشی استحصال جو سارا دن آوازیں لگا کر اپنی ریڑھی پر بچوں کا پیٹ پالتا ہے ،سی سی ڈی کے ذریعے سیاسی مخالفین کا قتل عام ، اپنی ہی ذاتی پسند و ناپسند میں جان بوجھ کر الجھانا، یہ سبڈرانے دھمکانے کے ایسے کلچر کو فروغ دے رہا ہے جہاں عام شہری کو احساس دلایا جاتا ہے کہ نظام اس کے خلاف ہے،جو اس کا نہیںایک اور طبقے کا محافظ ہے۔
ایک خاتون وزیراعلیٰ کے دور میں خواتین افسران کی تقرریوں کو ادارہ جاتی تبدیلی کی علامت سمجھا گیا۔ توقع تھی کہ خواتین کی حساسیت اور ہمدردی پر مبنی فرائض نظام میں ایک ذمہ داری اور انسانیت پر مبنی روش لائے گی،مگر کوٹ ادو کے واقعہ نے جس میں ایک خاتون پولیس اہلکار نے ایک غریب حجام کو اٹھوا کر تشدد سے مار دیا اس تبدیلی کا پول کھول دیا ، خصوصاً خواتین سائلین کے معاملات میں۔ مگر پنجاب کے تجربات انتہائی المناک ستم ظریفی کا شاخسانہ ہیں۔ کوٹ ادو کی خاتون پولیس آفیسر نے وہی پراناآمرانہ رویہ اپنایا جس میں تشدد،دبائو ، ہاتھ آئے شکار پر الزام تراشی،اور خواہش کے مطابق اس شکار سے بیان اگلوانا شامل ہے۔ جب ہراساں کی گئی کوئی خاتون ان خواتین پولیس اہلکاروں کے پاس پہنچتی ہے تو اس کا مؤقف تک سنے بغیر اور حتٰی کہ بظاہر ہمدردی تک دکھانے کی بجائے تصفیہ کے دبائو اور قانون کی من چاہی تشریح کی دھمکیوں کا سامنااسے کرنا پڑتا ہے ۔ اور اگر فرعونی افسر شاہی کا حکم نہ مانا جائے تو بجائے دادرسی کے اسی مظلوم خاتون کے خلاف باقاعدہ رپورٹ عدالتوں میں بغیر کسی حقیقت کو جاننے کی کوشش تک ہی کیے اپنے ”مخصوص”منظور نظر ماتحتوں سے لکھواکر اپنے دستخطوں سے ارسال کردی جاتی ہے۔
ایک تشویشناک سوال یہ بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سیاسی بنیادوں پر پولیس میں بھرتی یہ مائنڈ سیٹ درحقیقت ایجنڈے پرکام کر رہاہو ؟ کہیں یہ خواتین کی بااختیاری کے وژن کو ہی سبوتاژ تو نہیں کر رہیں؟ اگر خاتون وزیراعلیٰ کے دور میں خواتین افسران ہی خواتین شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کریںگی تو اس سے وزیراعلیٰ اور محکمے کی ساکھ کہاں کھڑی ہوگی ؟ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ چند نااہل،منتقم مزاج اور بدنام زمانہ افسران پورے محکمے کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ سینکڑوں فرض شناس، دیانتدار، محنتی اور قابل افسر جو خاموشی اور تندہی سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہوتے ہیں ان کو بیک جنبش قلم آرڈر کے سائیڈ لائن کردیا جاتا ہے ، ان کی محنت اور ایمانداری،بے مثال کارکردگی ان چند بدعنوان اور نااہل عناصر کی دسترس میں اختیارات دیکر ضائع کر دی جاتی ہے۔ یہ نااہل اور کم فہم افسران نہ صرف عوام کے اعتماد کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ اپنے ہی محکمے کے قابل،دور اندیش افسران کے اس کردار کو بھی مجروح کر رہے ہیںجس نے محکمہ کے امیج کو بحال کرنے میں ایک اعتماد کو طوالت بخشی ۔انتہائی قابل اعتراض عمل کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ جن افسران کی کارکردگی عملی طور پر گویا صفر ہے، جن کے خلاف عوامی شکایات کے انبار ہیں، انہیں مسلسل غیر متعلقہ اضافی اختیارات سونپے جا رہے ہیں۔
حکمرانوں کا یہ عمل چار خطرناک رویوں کی نشاندہی کرتا ہے؛ پہلا، شخصیت پرستی جہاں میرٹ کی بجائے چاپلوسی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ دوسرا، طاقت کا ارتکاز جس سے جانچ پڑتال اور توازن ختم ہو جاتا ہے ۔ تیسرا، موقع واردات پر غیر موجودگی کا عذر جہاں عوامی شکایات کو نظرانداز کر کے کاغذی کارکردگی پیش کی جاتی ہے۔ چوتھا،جہاں متنازع افسران کو طاقت دے کر ان کی خاموشی خرید لی جاتی ہے۔طاقت کا یہ مرکزی ارتکاز درحقیقت غیر ذمہ داری کا سبب بنتا ہے، جہاں کوئی بھی قابل احتساب نہیں رہتا ا س کا نتیجہ سماجی جواب دہی کے مکمل خاتمے کی صورت میں نکلتا ہے۔جس کے نتائج سے ہم سبھی باخبر ہیں۔کلیدی عہدوں پر بیٹھے پولیس افسران سے سوال ہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے زیر نگرانی پولیس افسران شہروں کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھے بیٹھے ہیں؟ کیا پورے صوبہ میں صرف وہی اہل ہیں؟ کیا دیگر تمام افسران اچانک نااہل ثابت ہوگئے ہیں؟ یہ انتظامی ترجیح آخر کس منطق اور میرٹ کی بنیاد پر؟
وزیراعلیٰ پنجاب کی گڈگورننس اور بااختیاری کے منصوبے کی ساکھ کا اصل فیصلہ کن امتحان پنجاب کے شہروں میں ہو رہا ہے۔ بلاشبہ فوری، آزاد اورشفاف عمل اور خود احتسابی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اضافی چارجز کی غیر شفاف پالیسیپر فوری نظر ثانی ،میرٹ کی بنیاد پرتعیناتی، تقرریوں کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے ۔جان رکھیے کہ اب نوجوان نسل خالی نعروں پر یقین نہیں کرتی۔وہ قابل عمل نتائج چاہتے ہیں ۔اگر قانون کی حکمرانی ہے تو ،جب انصاف کے دروازے بند ہوتے ہیں، تو عوام کا غصہ اور مایوسی کا سیلاب کوئی وردی، عہدہ یا سیاسی نعرہ نہیں روک سکتا۔ المیہ یہ ہے کہ اس سیلاب کا سامنا صرف محب وطن افراد کو کرنا پڑتا ہے، جبکہ وہ نااہل، فرعونیت زدہ مائنڈ سیٹ جو نظام کو تباہ کرنے کا باعث بنتا ہے ، وہ محفوظ رہتا ہے ،جبکہ قابل ،فرض شناس ،ایماندار افسران نظرا ندازی کے ساتھ زیر عتاب ہوتے ہیں ہمارے مروجہ نظام کی یہی سب سے بڑی ناانصافی ہے، جس کا ازالہ بہرطور وقت اور حالات کی ضرورت ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود پیر 02 فروری 2026
بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر