... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
کیا تم نے کبھی،اپنی ہی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خود سے کہا ہے ، تم ناکام ہو۔۔۔؟ کیا کبھی تم نے اپنے اندر کے جھوٹے دلاسے نوچ کر پھینکے ۔۔۔؟ کیا کبھی اپنی ہی روح کے گریبان پرہاتھ ڈالا۔۔۔؟ اگر نہیں۔۔۔ تو افسوس کرو۔۔۔۔ اس لیے نہیں کہ تم برے ہو، بلکہ اس لیے کہ تم نے خود کو کبھی سچ نہیں بتایا۔ انسان کی آدھی پریشانیاں اس دن مر جاتی ہیں، جس دن وہ اپنے آپ سے جھوٹ بولنا چھوڑ دیتا ہے ۔
ہم دوسروں کو گالیاں دیتے ہیں، حکومت کو، دفتر کو، سماج کو، قسمت کو، لیکن کبھی اپنے اندر کے کاہل، ڈرپوک، مفاد پرست انسان کو کٹہرے میں نہیں کھڑا کرتے ۔۔۔ ذرا سچ سے جواب دو، کیا تمہاری کمپنی، تمہاری فیکٹری، تمہارا دفتر تمہارے لیے راتوں کو بے چین رہا۔۔۔؟ کیا کسی ایڈمن، کسی منیجر، کسی مالک نے تمہاری پریشانی کو اپنی ذاتی فکر بنایا۔۔۔؟ کیا تمہاری یونین کے لیڈر نے تمہارے بچوں کی فیس کی فکر کی۔۔۔۔؟ کیا تمہاری بے روزگاری میں کسی نے اپنا رشتہ، اپنا اثر، اپنا وقت تمہارے لیے داؤ پر لگایا۔۔۔؟ نہیں ۔۔۔۔ لیکن تم ۔۔۔؟ تم نے اپنا وقت، اپنی توانائی، اپنی جوانی، اپنی نیند، ان سب کے لیے قربان کر دی۔۔۔ تم نے سوچا تم اہم ہو، حالانکہ سچ یہ ہے ، تم صرف استعمال کے قابل ہو۔ تمہاری قدر اس دن تک ہے جب تک تم کسی کے مقصد میں فِٹ ہو۔ دفتر میں تم فائل ہو، یونین میں تم نعرہ ہو، سیاست میں تم ووٹ ہو، دوستی میں تم وقت ہو، اور رشتوں میں تم ایک نام ۔ تم انسان نہیں ۔۔۔ تم سہولت ہو۔۔۔ اور سہولت خراب ہو جائے تو بدل دی جاتی ہے ۔تم سمجھتے ہو تم کسی کے لیے لڑ رہے ہو۔۔۔؟ نہیں دوست۔۔۔ تم کسی کے لیے نہیں، کسی کے فائدے کے لیے لڑ رہے ہو۔ تم جس لیڈر کے پوسٹر اٹھاتے ہو، وہ تمہاری غربت کو اپنی سیڑھی بناتا ہے ۔ تم جس یونین کے لیے چیختے ہو، وہ تمہارے نام پر سودے کرتا ہے ۔ تم جس دوست کے لیے لڑتے ہو، وہ تمہاری پیٹھ پر چڑھ کر آگے نکل جاتا ہے ۔۔۔ اور جب تم گرتے ہو۔۔۔؟ تو تمہارا نام ان کی یادداشت سے بھی گر جاتا ہے ۔
تم کہتے ہو، ملک کے حالات خراب ہیں، سچ یہ ہے ، ملک کے حالات تم نے خراب نہیں کیے ، لیکن، انہیں ٹھیک کرنے کی طاقت بھی تمہارے پاس نہیں۔ تو پھر یہ جلنا، یہ گھٹنا، یہ لڑنا، یہ ساری دنیا کا بوجھ ، اپنی روح پر کیوں اٹھانا۔۔۔؟ جس دن تم نے یہ سیکھ لیا کہ تم ذمہ دار نہیں ہو، ہر بربادی کے ، اس دن تمہاری چالیس فیصد تکلیف خود بخود مر جائے گی۔۔۔ اور جس دن تم نے یہ مان لیا کہ یہ دنیا کسی کے لیے
نہیں رُکتی، اس دن تم آزاد ہو جاؤ گے ، زندگی تماشا ہے ۔۔۔ اور تم تماشائی ۔ اسٹیج پر جو ہیں، وہ اپنا کھیل کھیل رہے ہیں، تم تالیاں بجاؤ یا خاموشی سے دیکھو، کھیل نہیں رکے گا۔ تو بہتر یہ ہے کہ اپنی سانس، اپنی محنت، اپنا وقت، اپنے لیے بچاؤ۔ کیونکہ آخرمیں تمہارے ساتھ کوئی نہیں کھڑا ہوگا، سوائے تمہارے اپنے ۔ایک دن، تم تھک جاؤ گے ، لوگوں سے نہیں، اپنی ہی بے وقعتی سے ۔اس دن تمہیں احساس ہوگا کہ تم نے اپنی زندگی دوسروں کے نعروں پر قربان کر دی۔۔۔ اورجب خاموشی آئی تو تمہارا نام کسی فہرست میں نہیں تھا۔ تم نے جو جھنڈے اٹھائے، وہ کسی اور کے اقتدار کی چھت بن گئے ۔ تم نے جو لڑائیاں لڑیں وہ کسی اور کی تنخواہ بڑھانے کا سبب بنیں ۔ تم نے جو قربانیاں دیں وہ کسی اور کی تصویر کے نیچے لکھ دی گئیں۔۔۔ اورتم۔۔۔؟ تم ایک فائل بن گئے ، جس پر لکھا تھا ” استعمال ہو چکا ہے ”۔۔۔ لیکن یہ وہ لمحہ ہے ، جہاں کہانی ختم نہیں ہوتی ، یہ وہ جگہ ہے ، جہاں انسان خود کو واپس لیتا ہے ، جس دن تم نے کہنا سیکھ لیا ” نہیں۔۔۔ اب نہیں ” اس دن تم آزاد ہو۔ ناں، دفتر کے خلاف، ناں، حکومت کے خلاف، ناں، دنیا کے خلاف، بلکہ اپنی غلامی کے خلاف ۔ تم کام کرو، لیکن خود کو بیچو نہیں۔ تم بولو، لیکن کسی کی زبان نہ بنو۔ لیکن اپنی عزت گروی نہ رکھو۔ سیکھ لو، کہ ہر تالیاں بجانے والا تمہارا نہیں ہوتا۔۔۔ اور ہر نعرہ لگانے والا، تمہارا ساتھی نہیں ہوتا۔ اصل بغاوت سڑک پر نہیں ہوتی، اصل بغاوت، اندر ہوتی ہے ۔ وہ دن، جب تم اپنی محنت کا مالک بن جاؤ، اپنے وقت کا وارث بن جاؤ، اپنی خاموشی کا حاکم بن جاؤ، وہی دن تمہاری زندگی کا پہلا دن ہے ۔ اس سے پہلے تم زندہ نہیں تھے ۔ تم صرف کسی اور کے خواب میں استعمال ہو رہے تھے ۔آخرکار، انسان کو یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ دنیا کسی کے دکھ پر نہیں رُکتی اور اقتدار کسی کی قربانی کا شکر گزار نہیں ہوتا۔ تم اگر ٹوٹتے ہو تو صرف تمہاری ہڈیاں ٹوٹتی ہیں، نظام سلامت رہتا ہے ۔ تم اگر چپ ہو جاتے ہو تو صرف تمہاری آواز مرتی ہے ، تماشا چلتا رہتا ہے ۔ یہ جو تم ہر وقت لوگوں کے لیے جلتے ہو، قوم کے لیے گھلتے ہو، لیڈروں کے لیے لڑتے ہو، کیا کبھی کسی نے ، تمہاری تھکن کا سوگ منایا۔۔۔؟ نہیں۔۔۔۔ کیونکہ اس دنیا میں انسان نہیں، صرف استعمال کی چیزیں ہوتی ہیں۔۔۔ اور سب سے زیادہ استعمال اچھے ، خاموش، وفادار لوگ ہوتے ہیں۔ لہٰذا۔۔۔ اب وقت ہے کہ تم اپنی زندگی واپس لو۔ اپنے خواب، اپنی سانس، اپنی مسکراہٹ واپس لو۔ کیونکہ، اگر تم نے خود کو نہ بچایا تو کوئی نظام، کوئی لیڈر، کوئی نعرہ تمہیں نہیں بچائے گا، یہی ہے انقلاب کی پہلی شرط، انسان اپنا ہونا قبول کرلے۔
٭٭٭