... loading ...
اونچ نیچ
آفتاب احمد خانزادہ
جب پہلا انسان غار کی نم دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھا اور اس نے پہلی بار رات کے آسمان کو حیرت، خوف اور بے نام اداسی کے ساتھ دیکھا تو وہ لمحہ صرف کسی ستارے کو دیکھنے کا نہیں تھا بلکہ وہ لمحہ انسان کے اندر”میں”کے پیدا ہونے کا لمحہ تھا۔ کیونکہ اس لمحے انسان نے پہلی بار خود کو کائنات کے سامنے کھڑا محسوس کیا اور اسی لمحے اس نے یہ سوال اپنے اندر سنا کہ میں کون ہوں میں کہاں سے آیا ہوں میں کیوں ڈرتا ہوں میں کیوں مرتا ہوں اور یہ سوال زبان سے پہلے پیدا ہوئے اور یہی سوچ کا پہلا بیج تھا ۔پھر قدیم سومیریوں نے اپنے خداؤں کو آسمان پر بٹھایا مصریوں نے انہیں اہراموں میں دفن کیا۔ وادی سندھ نے انہیں دریاؤں میں بہایا اور چین نے انہیں اخلاق میں ڈھالا، مگر اصل میں یہ سب انسان کے اپنے سوالوں کے سائے تھے اور انسان اپنے ہی خوف کو خدا کا نام دے رہا تھا، پھر یونان آیا اور سقراط نے انسان کو پہلی بار اس کے اپنے آئینے کے سامنے کھڑا کیا اور کہا خود کو پہچانو اور یہ جملہ انسان کے اندر سوئی ہوئی سوچ کو جگانے کی پہلی صدا تھی ۔کیونکہ اب سوال دیوتاؤں سے نہیں بلکہ خود سے ہونے لگا۔
افلاطون نے کہا کہ اصل حقیقت نظر نہیں بلکہ خیال ہے اور یوں سوچ نے مادی دنیا سے بغاوت کی اور ارسطو نے کہا کہ حقیقت دلیل سے گزرتی ہے اور یوں سوچ نے اپنی ہڈیوں میں منطق بھر لی ،پھر حضرت عیسیٰ آئے اور کہا کہ طاقت نہیں بلکہ محبت نجات دیتی ہے اور سوچ نے پہلی بار اپنے دل میں اخلاق کو جگہ دی اور پھر قرآن آیا اور کہا پڑھو اور انسان کی سوچ پہلی بار عبادت بن گئی کیونکہ عقل کو ایمان کا راستہ بنایا گیا اور دلیل کو مقدس بنا دیا گیا پھر قرونِ وسطیٰ میں سوچ کو زنجیروں میں جکڑا گیا مگر خاموش ذہن بھی سوچتا رہا کیونکہ اندھیرے بھی اپنے اندر سوال چھپائے رکھتے ہیں اور پھر نشاةِ ثانیہ میں انسان نے پہلی بار خود کو خدا کے سامنے نہیں بلکہ اپنے سامنے کھڑا کیا اور ڈیکارٹ نے اعلان کیا کہ میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں اور یوں انسان نے اپنی ہستی کا مرکز خدا سے کھینچ کر اپنے شعور میں رکھ دیا اور یہاں سوچ آزادی بن گئی ۔پھر نطشے آیا اور اس نے کہا خدا مر گیا اور دراصل اس نے یہ کہا کہ انسان اب اپنے سہاروں سے محروم ہو چکا ہے ۔مارکس نے کہا کہ انسان کو نظام غلام بناتا ہے۔ فرائڈ نے کہا کہ انسان اپنے ہی لاشعور کا قیدی ہے۔ ڈارون نے کہا کہ انسان فرشتوں کی اولاد نہیں بلکہ جانوروں کی توسیع ہے اور یہ وہ صدی تھی جب سوچ نے پہلی بار خود انسان پر حملہ کیا۔ پھر دو عالمی جنگوں میں انسان نے سوچ کے بنائے ہوئے ہتھیاروں سے ہی اپنے جسم چیرے اور سارتر نے کہا انسان آزادی کے لیے سزا یافتہ ہے اور یہاں سوچ دکھ بن گئی اور آج انسان سب سے زیادہ معلومات رکھنے کے باوجود سب سے زیادہ خالی ہے۔ کیونکہ ا سکرینیں اس کی آنکھوں کو اور الگورتھم اس کی عقل کو بدل چکے ہیں اور انسان نے اپنی سوچ مشینوں کے حوالے کر دی ہے اور آج سوچ زندہ ہے مگر انسان کے اندر نہیں بلکہ ڈیٹا کے مراکز میں سانس لے رہی ہے اور انجام پر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سوچ خوف سے پیدا ہوئی، سوال میں پلی ،انکار میں جوان ہوئی اور سہولت میں سو گئی ہے مگر سوچ مر نہیں گئی وہ صرف ہماری خاموشی میں قید ہے اور شاید وہ دن آئے جب انسان دوبارہ سوال کرنا سیکھے گا کیونکہ جہاں سوال مر جاتا ہے وہاں انسان بھی مر جاتا ہے۔ یہ سوال دراصل کسی ایک ریاست یا کسی ایک عہد کا نہیں، بلکہ ایک پورے معاشرے کے باطن کا پوسٹ مارٹم ہے ۔کیونکہ پاکستان میں سوچنے پر جو پابندی محسوس ہوتی ہے ، وہ کسی تحریری قانون کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی تہذیبی فضا کا نام ہے جس میں آدمی بولنے سے پہلے نہیں بلکہ سوچنے سے پہلے ڈرنے لگتا ہے ۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ریاست کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ یہاں شہری پیدا کیے جائیں گے یا فرمانبردار رعایا اور بدقسمتی سے فیصلہ رعایا کے حق میں ہوا۔ کیونکہ ارسطو کے مطابق”ریاست کا وجود شہری کے اخلاقی شعور سے مشروط ہوتا ہے”مگر یہاں اخلاقی شعور کے بجائے اطاعت کو بنیاد بنا دیا گیا ۔سوچنے والا شہری سوال کرتا ہے اور سوال کرنے والا شہری طاقت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے ابتدا ہی سے نصاب کو معلوماتی بنایا گیا ۔تنقیدی نہیں تاریخ کو کہانی بنایا گیا تجزیہ نہیں مذہب کو ضمیر بنانے کے بجائے شناختی کارڈ بنا دیا گیا اور قوم کو انسانوں کے بجائے نعروں میں بدلا گیا۔
نطشے نے کہا تھا کہ”وہ قومیں جو اپنے لوگوں کو سوال کرنے سے روکتی ہیں دراصل انہیں سوچنے کی طاقت سے محروم کر دیتی ہیں”یہاں بھی یہی ہوا۔ آہستہ آہستہ سوچ بغاوت اور اطاعت شرافت بن گئی ۔ضیاء الحق کے دور میں یہ عمل ادارہ جاتی صورت اختیار کر گیا، جہاں سوال کرنا بدتمیزی ،اختلاف غداری اور خاموش رہنا حب الوطنی کہلایا۔ ہیگل کے نزدیک ریاست وہ نہیں جو انسان پر حاوی ہو، بلکہ وہ ہے جو انسان کے شعور کو آزاد کرے مگر یہاں ریاست شعور پر حاوی ہو گئی۔ یوں ایک نیا اخلاقی فارمولا وجود میں آیا کہ جو جتنا کم سوچتا ہے ۔وہ اتنا اچھا شہری ہے۔ فوکو نے لکھا تھا کہ”طاقت سب سے پہلے ذہن پر قبضہ کرتی ہے پھر جسم پر”۔میڈیا نے خوف کو معمول بنایا، مذہبی طبقے نے سوال کو گناہ بنایا، تعلیمی اداروں نے رٹّا کو علم بنا دیا اور ریاست نے خاموشی کو امن کہا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ سوچنے والا اپنے ہی معاشرے میں اجنبی بن گیا، اسے زیادہ پڑھا لکھا زیادہ فلسفی زیادہ لبرل یا مشکوک ذہن کہہ کر کنارے لگا دیا گیا ۔کانٹ کے نزدیک روشن خیالی کی تعریف یہ تھی کہ”انسان اپنی عقل کو استعمال کرنے کی جرأت کرے”۔مگر یہاں جرأت جرم بن گئی۔ یہ پابندی کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ ایک مکمل ذہنی بندوبست ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ نظام پر بات نہ کریں صرف نظام کے اندر جینے کی اجازت رکھیں۔ اسی لیے یہاں سوال کرنے والا اکیلا ہوتا ہے۔ اور خاموش رہنے والا محفوظ اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سوچنا جرم نہیں مگر سوچنے والا مجرم بنا دیا جاتا ہے۔
٭٭٭