... loading ...
محمد آصف
بسنت کا تہوار برصغیر کی تہذیبی تاریخ میں ایک قدیم اور رنگا رنگ روایت کے طور پر جانا جاتا ہے جو عموماً موسمِ بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے ۔ اس دن آسمان پر اڑتی ہوئی پتنگیں، زرد لباس، موسیقی اور میلے ٹھیلے ایک خوشگوار منظر پیش کرتے ہیں۔ تاہم جدید دور میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا بسنت منانا واقعی ضروری ہے یا نہیں، اور اس کے سماجی، اخلاقی، ماحولیاتی اور جانی نقصانات کیا ہیں۔ اس مضمون میں ہم اسی پہلو پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے کہ بسنت محض ایک تفریحی سرگرمی ہے یا اس کے اثرات معاشرے کے لیے کسی گہرے مسئلے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔
بسنت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ تہوار ثقافتی ورثے کی علامت ہے جو لوگوں کو خوشی، ہم آہنگی اور اجتماعی سرگرمی کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ مختلف طبقوں کے افراد ایک ہی میدان میں اکٹھے ہو کر خوشی مناتے ہیں، جس سے معاشرتی میل جول بڑھتا ہے اور روایتی فنون جیسے موسیقی، دستکاری اور مقامی خوراک کو فروغ ملتا ہے ۔ اس کے علاوہ سیاحت کے فروغ سے معیشت کو بھی فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ مختلف شہروں سے لوگ خاص طور پر اس تہوار کو دیکھنے اور منانے آتے ہیں۔ تاہم یہ تمام فوائد اپنی جگہ مگر جب ہم اس تہوار کے عملی نتائج اور اس سے جڑے خطرات کا جائزہ لیتے ہیں تو تصویر کا دوسرا رخ بھی نمایاں ہو جاتا ہے ۔
بسنت کے دوران سب سے بڑا مسئلہ دھاتی یا کیمیکل سے لیس ڈور کا استعمال ہے جو نہ صرف انسانوں بلکہ پرندوں اور جانوروں کے لیے
بھی جان لیوا ثابت ہوتا ہے ۔ ہر سال درجنوں افراد موٹر سائیکل یا سائیکل پر سفر کے دوران اس ڈور سے زخمی ہو جاتے ہیں، اور بعض اوقات
یہ زخم اتنے شدید ہوتے ہیں کہ جان بھی چلی جاتی ہے ۔ اسی طرح پرندے اڑتے ہوئے اس ڈور میں پھنس کر زخمی یا ہلاک ہو جاتے ہیں، جو
ماحولیاتی توازن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے ۔ اس کے علاوہ چھتوں پر کھڑے ہو کر پتنگ اڑانا بھی حادثات کا باعث بنتا ہے ، خاص طور پر
بچے اور نوجوان جو جوش میں احتیاط بھول جاتے ہیں اور گرنے کی صورت میں شدید چوٹ یا موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
بسنت کے نقصانات صرف جانی نہیں بلکہ معاشی اور سماجی بھی ہیں۔ اس دن بجلی کی تاریں کٹنے سے لوڈشیڈنگ اور آتش زدگی کے
واقعات پیش آتے ہیں، جس سے عوامی اور نجی املاک کو نقصان پہنچتا ہے ۔ فائر بریگیڈ اور ہسپتالوں پر غیر معمولی دباؤ پڑتا ہے ، جو پہلے ہی
محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں، نتیجتاً ریاستی مشینری پر اضافی بوجھ پڑتا ہے ۔ اخلاقی پہلو سے بھی بسنت پر سوالات اٹھتے
ہیں۔ بعض اوقات اس تہوار کے نام پر غیر مناسب رویے ، شور شرابہ، ہوائی فائرنگ اور نشہ آور اشیاء کا استعمال دیکھنے میں آتا ہے ، جو
معاشرتی اقدار کے منافی ہے اور نوجوان نسل پر منفی اثر ڈال سکتا ہے ۔ والدین اور اساتذہ کے لیے یہ ایک چیلنج بن جاتا ہے کہ وہ بچوں کو محفوظ
تفریح اور ذمہ دارانہ رویے کی تعلیم دیں۔ بہودگی ، فحاشی ، ہلڑ بازی، شراب و کباب اور بہودہ گانے ، نعرے جن سے معاشرہ تباہ ہوتا ہے ۔ وہ اس تہوار کا خاص حصہ ہوتے ہیں ۔ بڑے بڑے ہوٹل ، ہال، پلازے انکی چھت لاکھوں میں بک ہوتی ہے ۔ پھر وہ لاکھوں خرچ کرکے کڑوروں کماتے ہیں اس غلط دھندے سے ۔
مذہبی نقطئہ نظر سے بھی کچھ طبقات اس تہوار کو غیر ضروری یا غیر مناسب سمجھتے ہیں کیونکہ یہ کسی مذہبی فریضے سے منسلک نہیں بلکہ ایک ثقافتی
سرگرمی ہے ۔ ان کے نزدیک اگر کوئی رسم معاشرے میں جانی نقصان، بے حیائی یا فتنہ و فساد کا سبب بنے تو اس سے اجتناب بہتر ہے ۔ تاہم
دیگر افراد کا خیال ہے کہ اگر بسنت کو محفوظ اور مہذب طریقے سے منایا جائے تو یہ محض ایک ثقافتی اظہار ہے اور اصل مسئلہ اس کے
غلط طریقہ ٔ کار اور غیر ذمہ دارانہ رویے ہیں۔
ماحولیاتی اثرات پر غور کریں تو پتنگوں کی باقیات، کاغذ، پلاسٹک اور ڈور گلیوں، چھتوں اور درختوں پر پھیل جاتی ہے ، جو صفائی کے مسائل پیدا کرتی ہے اور شہری ماحول کو آلودہ کرتی ہے ۔ یہ نکاسی آب کے نظام میں رکاوٹ بنتی ہے اور بارشوں کے دوران مزید مسائل جنم لیتی ہے ، یوں ایک دن کی خوشی کئی دنوں کی صفائی اور مرمت کا تقاضا کرتی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اپنی خوشی کے لیے دوسروں کی جان، ماحول اور معاشرتی نظام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں؟ کیا ثقافت کا نام لے کر ایسی سرگرمیوں کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے جو مجموعی طور پر نقصان دہ ثابت ہوں؟ اس کا ایک متوازن جواب یہ ہو سکتا ہے کہ نہ تو ہر ثقافتی روایت کو اندھا دھند مسترد کیا جائے اور نہ ہی اس کے نقصانات سے آنکھیں بند کر لی جائیں، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر بسنت منانی ہے تو اس کے لیے سخت حفاظتی اصول بنائے جائیں۔ دھاتی اور کیمیکل ڈور پر مکمل پابندی ہو، مخصوص میدانوں میں پتنگ بازی کی اجازت دی جائے ، چھتوں اور سڑکوں پر خطرناک سرگرمیوں کی روک تھام کی جائے ، اور عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے کہ یہ تہوار خوشی کے ساتھ ساتھ ذمہ داری بھی مانگتا ہے ۔ تعلیمی اداروں، میڈیا اور مذہبی و سماجی رہنماؤں کا کردار یہاں بہت اہم ہو جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو یہ سمجھائیں کہ اصل خوشی کسی کو نقصان پہنچائے بغیر منائی جاتی ہے ۔اور خوشی کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ دین اور شریعت کو پس پشت ڈال کر وہ کام کرو جس کی ہمارا دین اجازت نہیں دیتا۔ برسوں لگے جس بُرائی کو ختم کرنے میں اور اب دنیا بھول چکی تھی اس تہوار کو اس کے نقصانات دیکھ کر جو کچھ سابقہ سالوں سے ہم پڑھتے سُنتے آرہے تھے کہ اس بسنت کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گے بچوں کی پتنگ لوٹنے کی لڑائی خاندانی دشمنی بن گئی اور سینکڑوں خاندان اُجرے ، راہ گیر ہلاک ہوئے ، سرکاری املاک کا نقصان، واپڈا ٹرانسفارمر اور گریڈ اسٹیشن پہ دھماکے ہونے لگے اور یہ تہوار ایک خوف کی علامت بن گیا جب نوبت انتہا کو پہنچی تو پھر عدالتوں نے اپنی مداخلت سے اسکی روک تھام کی اور اب کچھ عرصہ سے سکون آیا ہی تھا تو کچھ فہم و بصیرت سے محروم کو پھر پرانا نشہ یاد آیا اور اب پھر ہر طرف بسنت بسنت ہے اللہ خیر کرے کسی مصبت اور پریشانی سے گزر جائے ۔
آخر میں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ بسنت منانا نہ تو مکمل طور پر ضروری ہے اور نہ ہی مکمل طور پر قابلِ رد۔ اصل فیصلہ معاشرے کے اجتماعی شعور اور ذمہ دارانہ رویے پر منحصر ہے ۔ اگر ہم اسے ایک محفوظ، مہذب اور منظم انداز میں منانے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ ثقافتی ورثہ خوشی کا ذریعہ بن سکتا ہے ، لیکن اگر غفلت، لاپرواہی اور غیر ذمہ داری کا رویہ غالب رہے تو اس کے نقصانات اس کی خوشیوں پر ہمیشہ بھاری رہیں گے ۔ اس لیے ہر فرد کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تفریح کو دوسروں کے لیے مصیبت نہ بننے دے اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے جہاں تہوار زندگی کا جشن ہوں، زندگی کے لیے خطرہ نہیں۔
٭٭٭