وجود

... loading ...

وجود

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

جمعه 30 جنوری 2026 بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

ریاض احمدچودھری

امریکا کے مشہور اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات پر تنقید کی گئی ہے، موقر روزنامے نے کہا کہ مودی حکومت آزاد منڈی کا واضح وژن پیش کرنے میں ناکام رہی، اگست 2025 میں امریکا نے 50 فیصد ٹیرف عائد کیا، یہ ٹیرف کسی بھی بڑی معیشت کے لیے سب سے زیادہ ہے۔ ٹرمپ کے 50 فیصد ٹیرفس پر بھارتی معاشی اصلاحات دلیرانہ نہیں تھیں، ٹرمپ کے ٹیرف نے بھارت کی ریگولیٹڈ معیشت کو بے نقاب کیا۔وال اسٹریٹ جرنل نے کہا کہ مودی حکومت اپنے ہی پیدا کردہ مسائل دیر سے درست کر رہی ہے، مودی دور میں معاشی اصلاحات غیرمستقل اور کمزور رہیں، بینکاری بحران کے بعد اصلاحات تاخیر سے متعارف ہوئیں، جی ایس ٹی کا ناقص نفاذ مودی حکومت کی بڑی ناکامی ہے۔
بھارت میں جی ایس ٹی اب بھی عالمی ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے زیادہ پیچیدہ ہے، لیبر اصلاحات میں بڑی تبدیلی سے گریز کیا گیا۔ نان ٹیرف رکاوٹوں نے امریکی غصے کو ہوا دی، انشورنس اور نیوکلیئر شعبوں میں ایف ڈی آئی بہت دیر سے کھولی گئی، پاور سیکٹر میں اصلاحات کے دعوے بار بار ناکام رہے۔سرکاری بجلی ادارے اب بھی شدید مالی بحران کا شکار ہیں، حکومت جرات مندانہ اصلاحات کے بجائے جزوی اقدامات پر انحصار کر رہی ہے، بحران سے پہلے تنقید کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا، بیوروکریسی میں ظاہری اور معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔امریکی روزنامے نے کہا کہ زرعی اصلاحات سیاسی دباؤ پر واپس لے لی گئیں، بلند ٹیرف اور تحفظ پسند پالیسیاں مسابقت کو نقصان پہنچا رہی ہیں، زمین، لیبر اور سبسڈی اصلاحات مسلسل مؤخر ہوتی رہیں۔ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری نہیں ہو سکی، بھارت نے نمائشی اصلاحات کا سہارا لیا، بھارت کو مکمل معاشی اوورہال کی ضرورت ہے۔عالمی فورمز پر غیرجانبداری کا دعوی کرنے والا بھارت امریکی معاشی پابندیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرِ خزانہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارت پر عائد ٹیرف بدستور برقرار ہیں۔ امریکا نے گزشتہ سال اگست میں بھارتی مصنوعات پر ٹیرف میں نمایاں اضافہ کیا تھا، جو بعض اشیا پر پچاس فیصد تک پہنچ گیا تھا۔بھارت میں 65 فیصد مارکیٹ شیئر رکھنے والی ایئر لائن شدید بحران کا شکار ہوگئی، ساتویں روز بھی ایئر لائن کی 400 سے زائد پروازیں منسوخ ہوگئیں۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہزاروں مسافر دلی، ممبئی، بنگلورو اور حیدرآباد ایئر پورٹس پر پھنس گئے، گزشتہ ہفتے صرف 4 دن میں 1200 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئی تھیں۔بھارت کے سول ایوی ایشن وزیر کا کہنا ہے کہ ایئر لائن بحران معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، ایسیاقدامات کریں گے جو تمام ایئر لائنز کے لیے مثال بنیں۔امریکی وزیرِ خزانہ کے مطابق امریکی ٹیرف پابندیوں کے نفاذ کے بعد بھارت نے روس سے تیل کی خریداری میں کمی کی ہے، جسے واشنگٹن اپنی پالیسی کا عملی نتیجہ قرار دے رہا ہے۔ بھارت پر عائد کیے گئے ٹیرف کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی وزیرِ خزانہ کے مطابق بھارت پر تجارتی دباؤ برقرار رکھا گیا ہے اور اس کے مثبت نتائج دیکھے جا رہے ہیں۔ امریکی اقدامات کے بعد بھارتی توانائی درآمدات میں تبدیلی آئی ہے، جس میں روسی تیل کی خریداری میں کمی شامل ہے۔
بھارت کے لئے سال 2025ء ترقی یا استحکام نہیں بلکہ ناکامیوں،ہزیمت اور بحرانوں کا سال ثابت ہواہے۔ فنانشل ٹائمز کی سالانہ جائزہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاک بھارت فوجی کشیدگی، امریکہ کے ساتھ تجارتی محاذ آرائی، مہلک طیارہ حادثہ، کرنسی کی کمزوری اور معاشی بے چینی نے عوام کو مسائل کی زد میں رکھا۔ ناکام سٹرٹیجک خود مختاری کے باعث بھارت کو امریکہ، چین اور روس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے پر مجبور ہونا پڑا۔ امریکہ بھارت تجارتی معاہدہ متعدد بار ملتوی ہوا اور امریکی ٹیرف کے نفاذ کی وجہ سے بھارت کو اقتصادی دبا ؤکا سامنا کرنا پڑا۔جی ایس ٹی کی اصلاحات محدود شعبوں تک رہنے کے باعث معاشی ترقی رکاوٹ کا شکار رہی۔ 2025ء میں بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ کا شکار رہا۔پاک بھارت تصادم کا دیرپا نتیجہ بھارتی عسکری برتری کے بجائے واشنگٹن کی پالیسی میں واضح تبدیلی کی صورت میں سامنے آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا کریڈٹ لینے اور پاکستانی عسکری قیادت سے بڑھتے روابط کو فنانشنل ٹائمز نے بھارتی سفارتی ناکامی قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق امریکہ میں بھارت کی معاشی اور سفارتی گنجائش محدود ہو چکی ہے جو بھارت کی کمزور پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔ بھارت میں روپے کی گر اوٹ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مزید معاشی بحران نظر آتا ہے۔
امریکہ بھارت تجارتی معاہدوں میں ناکامی بھارت کی عالمی معاشی ساکھ میں موجود خلا کی علامت ہے۔ بھارت 2025ء میں مسائل حل کرنے کے بجائے زیادہ تر انہیں برداشت کرتا دکھائی دیا۔ بھارت کے لئے 2026ء اندرونی کمزوریوں، علاقائی کشیدگی اور عالمی دباؤکے تناظر میں بڑھتا چیلنج بنتا دکھائی دیتا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر