... loading ...
ب نقاب /ایم آر ملک
کیا اسے ہم ذی جنریشن کی بیداری کہہ کر حقائق سے جان چھڑا سکتے ہیں ؟
شاید ایسا نہیں اگر ہم اس منطق کو لیکر حقائق سے جان چھڑانا بھی چاہیں تو نہیں چھڑا پائیں گے ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو خطہ ایسے حالات سے نبرد آزما ہوتا ہے ،اس کے باسی ایسے حالات کی زد میں آنے سے بچ نہیں پاتے ،زمینی حقائق آپ کے سامنے آئینے میں اُبھری تشبیہ کی طرح کھڑے ہیں ،یہ بحث اب پاکستان میں شدو مد سے جنم لے رہی ہے کہ بنگلہ دیش ،سری لنکا، نیپال میں ایسے حالات نے کیوں جنم لیا ،مذکورہ ممالک کا ایک غیرمعمولی صورتِ حال سے دوچارہونا چہ معنی دارد ؟۔ یہ حقیقت اپنی جگہ ایک وجود رکھتی ہے کہ بنگلہ دیش ، نیپال، سری لنکا ، میں بگڑتے حالات کو سنبھالنے کے لیے سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر پابندیاں لگائی گئیں ، تو نوجوان نسل—یعنی ذی جنریشن—نے اس اقدام کو اپنی آزادی اظہار پر کاری ضرب سمجھا ،یہ راکھ میں دبی وہ چنگاری تھی جس نے سب کچھ جلا کر خاکستر کردیا ۔ یہ احتجاج محض پابندیوں کے خلاف نہیںتھا ، بلکہ اس کے پس منظر میںدبا ایک گہرا سماجی تضاد تھا : ذی جنریشن بمقابلہ ”نیپو کڈز”۔ وہ مراعات یافتہ طبقہ جو سیاست، کاروبار اور اقتدار کے ایوانوں تک وراثتی رسائی اپنا حق سمجھتا ہے، جنوبی ایشیا میں سری لنکا ،بنگلہ دیش سے لیکر انڈونیشیا یا نیپال جہاں جہاں ایسے حالات نے جنم لیا وہاں فرشی طبقہ کے عام نوجوان کو دانستہ رکاوٹوں کے بھنور میں پھنسا یا گیا۔
ان ممالک کے نوجوان، خصوصاً ذی جنریشن، تیزی سے بدلتی دنیا سے جڑے ہوئے تھے ۔ یہ نسل انٹرنیٹ کو صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی شناخت، کاروبار اور اظہارِ رائے کا سب سے اہم پلیٹ فارم سمجھتی ہے۔ نیپال میں جب عبوری حکومت نے 26 بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز—جن میں فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک شامل ہیں—پر اچانک پابندی عائد کی تو نوجوان نسل کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔
بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا، جس میں طلبائ، عام مزدور، اور شہری طبقے کے نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔ ان مظاہروں میں
افسوسناک طور پر کئی جانیں ضائع ہوئیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ مگر اس قربانی نے یہ پیغام دیا کہ نئی نسل اب اپنی آواز کو دبنے نہیں دے گی۔ یہ احتجاج صرف سوشل میڈیا پابندیوں تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ ہی ”nepo kids” کا بیانیہ بھی ابھر کر سامنے آیا۔ یہ اصطلاح اُن بچوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے جو بااثر سیاستدانوں اور طاقتور خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے لیے قانون کے دروازے کھلے ہیں، کاروباری مواقع ہموار ہیں اور وسائل کی دستیابی آسان ہے۔ اس کے برعکس ایک عام نوجوان اگر کوئی چھوٹا سا کاروبار شروع کرنا
چاہے تو سرخ فیتے، کرپشن اور عدم مساوات اور بے جا ٹیکس کے جال میں الجھ جاتا ہے۔یہی تضاد عوامی غصے کا بنیادی سبب بنا ۔ نوجوان سوال
اٹھا رہے تھے کہ آخر کب تک ایک چھوٹا طبقہ اپنے خاندانی اثرورسوخ کے ذریعے پورے معاشرے پر حکمرانی کرتا رہے گا؟ سوشل میڈیا پر
ہزاروں پوسٹس اور ویڈیوز نے ان نیپو کڈز کی عیاشیوں اور غیرمنصفانہ مراعات کو ہدفِ تنقید بنایا،نوجوان نسل نے مذکورہ ممالک میں تحریک کو
مزید شدت اور جلا بخشی۔
ایک سوالیہ اُٹھتا ہے کہ کیا یہ سماج کا تضاد اور بحران ہے ؟ اس کا جواب نفی کی صلیب پر مصلوب ہے جنوبی ایشیا کے خطہ میں اس خطرناک تبدیلی یا کشمکش کو ہم محض نسلوں کے بیچ تنازع کہنے سے قاصر ہیں جنوبی ایشیا کے خطے میں جہاں جہاں یہ تبدیلی آئی ہے وہاں یہ تبدیلی واضح طور پر معاشرے کی تقسیم کو عیاں کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ نوجوان ہیں جو مساوات، شفافیت اور مواقع کی برابری کے لیے اشرافیہ کی لگائی اس آگ میں کود گئے ہیںجہاں صدیوں کے تسلط سے اشرافیہ رشتہ داری اور طبقاتی اجارہ داری کو اپنی ڈھال بنائے ہوئے ہے۔جو حکومتیں عوامی حقوق کو نظر انداز کرتی ہیں وہ ایک مشکل دو راہے پر کھڑی ہوتی ہیں ۔ وطن عزیز میں جو حکمران عوامی رائے کو بائی پاس کرکے اقتدار پر بٹھائے گئے ایک طرف وہ امن و امان قائم رکھنے کے لیے سخت اقدامات کر رہے ہیں ،تو دوسری طرف یہ اقدامات ہی عوامی اعتماد کو مجروح کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پابندی جیسے فیصلے نہ صرف آزادی اظہار کو محدود کرتے ہیں بلکہ نئی نسل کے ریاستی اداروں سے فاصلے کو مزید بڑھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ ممالک میں مظاہرے قابو میں آنے کے بجائے بڑھتے چلے گئے ۔
یہ مسئلہ صرف مذکورہ تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا نسلِ نو اپنے خوابوں کے لیے واقعی آزاد ہے یا پھر اسے مراعات یافتہ طبقے کی دیواریں مسلسل روکتی رہیں گی۔ پاکستان، بھارت یا یورپ میں بھی ”nepo babies” کی اصطلاح عام ہو چکی ہے۔ ہر جگہ یہ تضاد ایک ہی کہانی سناتا ہے، عام نوجوان اپنی صلاحیت کے باوجود پیچھے رہ جاتا ہے، اور اشرافیہ اپنی نسل در نسل طاقت کے بل بوتے پر آگے بڑھتی ہے۔اب پاکستان میں ایک نیا کھیل جنم لے رہا ہے کہ اس نسل کا حق خودرادیت ہی چھین لیا جائے اور ووٹر کی عمر 25سال کردی جائے ،نئی نسل کے خوابوں پر مسلط طبقہ اس زعم میں ہے کہ یہ غصہ محض وقتی شور شرابہ ہوگا مگر ایسا نہیں مگر ایسا شاید نہیں نوجوان نسل ریاستی نظام سے مکمل طور پر بیزار ہو چکی ۔یہ سوال ہمارے گلی کوچوں میں گونج رہا ہے کہ نئی نسل محض خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔ دوسری جانب نیپو کڈز کی طاقت اور اثرورسوخ اسے مزید نفرت کے سیلاب کی طرف دھکیل رہا ہے ۔
ایسے لمحات تب آتے ہیں جب حکمران غریب کا ہاتھ تھامنے سے انکار کر دیتے ہیں ،جب بھوکے بے بس عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے تو انجام خونی اور بھیانک ہوتا ہے ،درج بالا ممالک میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تاریخ چیخ چیخ کر بتاتی ہے کہ انقلاب فرانس میں محلات زمین بوس ہوئے ،ایسے لمحات تب آتے ہیں جب عوام کے صبر کا پیمانہ چھلکتا ہے ،پھر تخت و تاج اچھالے جاتے ہیں اور راکھ باقی بچتی ہے۔
٭٭٭