وجود

... loading ...

وجود

بیداری

جمعه 30 جنوری 2026 بیداری

ب نقاب /ایم آر ملک

کیا اسے ہم ذی جنریشن کی بیداری کہہ کر حقائق سے جان چھڑا سکتے ہیں ؟
شاید ایسا نہیں اگر ہم اس منطق کو لیکر حقائق سے جان چھڑانا بھی چاہیں تو نہیں چھڑا پائیں گے ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو خطہ ایسے حالات سے نبرد آزما ہوتا ہے ،اس کے باسی ایسے حالات کی زد میں آنے سے بچ نہیں پاتے ،زمینی حقائق آپ کے سامنے آئینے میں اُبھری تشبیہ کی طرح کھڑے ہیں ،یہ بحث اب پاکستان میں شدو مد سے جنم لے رہی ہے کہ بنگلہ دیش ،سری لنکا، نیپال میں ایسے حالات نے کیوں جنم لیا ،مذکورہ ممالک کا ایک غیرمعمولی صورتِ حال سے دوچارہونا چہ معنی دارد ؟۔ یہ حقیقت اپنی جگہ ایک وجود رکھتی ہے کہ بنگلہ دیش ، نیپال، سری لنکا ، میں بگڑتے حالات کو سنبھالنے کے لیے سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر پابندیاں لگائی گئیں ، تو نوجوان نسل—یعنی ذی جنریشن—نے اس اقدام کو اپنی آزادی اظہار پر کاری ضرب سمجھا ،یہ راکھ میں دبی وہ چنگاری تھی جس نے سب کچھ جلا کر خاکستر کردیا ۔ یہ احتجاج محض پابندیوں کے خلاف نہیںتھا ، بلکہ اس کے پس منظر میںدبا ایک گہرا سماجی تضاد تھا : ذی جنریشن بمقابلہ ”نیپو کڈز”۔ وہ مراعات یافتہ طبقہ جو سیاست، کاروبار اور اقتدار کے ایوانوں تک وراثتی رسائی اپنا حق سمجھتا ہے، جنوبی ایشیا میں سری لنکا ،بنگلہ دیش سے لیکر انڈونیشیا یا نیپال جہاں جہاں ایسے حالات نے جنم لیا وہاں فرشی طبقہ کے عام نوجوان کو دانستہ رکاوٹوں کے بھنور میں پھنسا یا گیا۔
ان ممالک کے نوجوان، خصوصاً ذی جنریشن، تیزی سے بدلتی دنیا سے جڑے ہوئے تھے ۔ یہ نسل انٹرنیٹ کو صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی شناخت، کاروبار اور اظہارِ رائے کا سب سے اہم پلیٹ فارم سمجھتی ہے۔ نیپال میں جب عبوری حکومت نے 26 بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز—جن میں فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک شامل ہیں—پر اچانک پابندی عائد کی تو نوجوان نسل کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔
بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا، جس میں طلبائ، عام مزدور، اور شہری طبقے کے نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔ ان مظاہروں میں
افسوسناک طور پر کئی جانیں ضائع ہوئیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ مگر اس قربانی نے یہ پیغام دیا کہ نئی نسل اب اپنی آواز کو دبنے نہیں دے گی۔ یہ احتجاج صرف سوشل میڈیا پابندیوں تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ ہی ”nepo kids” کا بیانیہ بھی ابھر کر سامنے آیا۔ یہ اصطلاح اُن بچوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے جو بااثر سیاستدانوں اور طاقتور خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے لیے قانون کے دروازے کھلے ہیں، کاروباری مواقع ہموار ہیں اور وسائل کی دستیابی آسان ہے۔ اس کے برعکس ایک عام نوجوان اگر کوئی چھوٹا سا کاروبار شروع کرنا
چاہے تو سرخ فیتے، کرپشن اور عدم مساوات اور بے جا ٹیکس کے جال میں الجھ جاتا ہے۔یہی تضاد عوامی غصے کا بنیادی سبب بنا ۔ نوجوان سوال
اٹھا رہے تھے کہ آخر کب تک ایک چھوٹا طبقہ اپنے خاندانی اثرورسوخ کے ذریعے پورے معاشرے پر حکمرانی کرتا رہے گا؟ سوشل میڈیا پر
ہزاروں پوسٹس اور ویڈیوز نے ان نیپو کڈز کی عیاشیوں اور غیرمنصفانہ مراعات کو ہدفِ تنقید بنایا،نوجوان نسل نے مذکورہ ممالک میں تحریک کو
مزید شدت اور جلا بخشی۔
ایک سوالیہ اُٹھتا ہے کہ کیا یہ سماج کا تضاد اور بحران ہے ؟ اس کا جواب نفی کی صلیب پر مصلوب ہے جنوبی ایشیا کے خطہ میں اس خطرناک تبدیلی یا کشمکش کو ہم محض نسلوں کے بیچ تنازع کہنے سے قاصر ہیں جنوبی ایشیا کے خطے میں جہاں جہاں یہ تبدیلی آئی ہے وہاں یہ تبدیلی واضح طور پر معاشرے کی تقسیم کو عیاں کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ نوجوان ہیں جو مساوات، شفافیت اور مواقع کی برابری کے لیے اشرافیہ کی لگائی اس آگ میں کود گئے ہیںجہاں صدیوں کے تسلط سے اشرافیہ رشتہ داری اور طبقاتی اجارہ داری کو اپنی ڈھال بنائے ہوئے ہے۔جو حکومتیں عوامی حقوق کو نظر انداز کرتی ہیں وہ ایک مشکل دو راہے پر کھڑی ہوتی ہیں ۔ وطن عزیز میں جو حکمران عوامی رائے کو بائی پاس کرکے اقتدار پر بٹھائے گئے ایک طرف وہ امن و امان قائم رکھنے کے لیے سخت اقدامات کر رہے ہیں ،تو دوسری طرف یہ اقدامات ہی عوامی اعتماد کو مجروح کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پابندی جیسے فیصلے نہ صرف آزادی اظہار کو محدود کرتے ہیں بلکہ نئی نسل کے ریاستی اداروں سے فاصلے کو مزید بڑھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ ممالک میں مظاہرے قابو میں آنے کے بجائے بڑھتے چلے گئے ۔
یہ مسئلہ صرف مذکورہ تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا نسلِ نو اپنے خوابوں کے لیے واقعی آزاد ہے یا پھر اسے مراعات یافتہ طبقے کی دیواریں مسلسل روکتی رہیں گی۔ پاکستان، بھارت یا یورپ میں بھی ”nepo babies” کی اصطلاح عام ہو چکی ہے۔ ہر جگہ یہ تضاد ایک ہی کہانی سناتا ہے، عام نوجوان اپنی صلاحیت کے باوجود پیچھے رہ جاتا ہے، اور اشرافیہ اپنی نسل در نسل طاقت کے بل بوتے پر آگے بڑھتی ہے۔اب پاکستان میں ایک نیا کھیل جنم لے رہا ہے کہ اس نسل کا حق خودرادیت ہی چھین لیا جائے اور ووٹر کی عمر 25سال کردی جائے ،نئی نسل کے خوابوں پر مسلط طبقہ اس زعم میں ہے کہ یہ غصہ محض وقتی شور شرابہ ہوگا مگر ایسا نہیں مگر ایسا شاید نہیں نوجوان نسل ریاستی نظام سے مکمل طور پر بیزار ہو چکی ۔یہ سوال ہمارے گلی کوچوں میں گونج رہا ہے کہ نئی نسل محض خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔ دوسری جانب نیپو کڈز کی طاقت اور اثرورسوخ اسے مزید نفرت کے سیلاب کی طرف دھکیل رہا ہے ۔
ایسے لمحات تب آتے ہیں جب حکمران غریب کا ہاتھ تھامنے سے انکار کر دیتے ہیں ،جب بھوکے بے بس عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے تو انجام خونی اور بھیانک ہوتا ہے ،درج بالا ممالک میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تاریخ چیخ چیخ کر بتاتی ہے کہ انقلاب فرانس میں محلات زمین بوس ہوئے ،ایسے لمحات تب آتے ہیں جب عوام کے صبر کا پیمانہ چھلکتا ہے ،پھر تخت و تاج اچھالے جاتے ہیں اور راکھ باقی بچتی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر