وجود

... loading ...

وجود

افراد، نظام اورادارے

جمعرات 29 جنوری 2026 افراد، نظام اورادارے

جہان دیگر
۔۔۔۔۔۔
زریں اختر

روزنامہ جرات صفحہء اوّل ١٨ ِ جنوری ٢٠٢٦ء کی چھ کالمی شہ سرخی ہے :”قومی اسمبلی ،فوج اور عدلیہ کے خلاف تقاریر روکنے کا اعلان”، اخبار نے اپنی خبر لگائی ۔ روزنامہ جنگ کی اسی روز کی اشاعت میں صفحہء اوّل کے نصف آخر میں صابن کی نیلی پٹی کے اشتہاراور جنید صفدر کی شادی کی خبر کے نیچے ،دوکالمی خبر ہے کہ :”کسی کو پارلیمنٹ میں ریاست، عدلیہ ،فوج مخالف بات نہیں کرنے دوں گا،اسپیکر”۔ اسپیکر صاحب نے اگر ایسا فرمایا ہے(اور اپنی رٹ قائم کی ہے یا یاد دہانی کرائی ہے) تو خبر یہ بھی معروضی ہوئی ،کیا ہوا اگر بیان کے طور پر شائع کی ؟فرق یہ کہ جرأت نے اسپیکر کے بیان پر اپنی خبر دی اور جنگ نے اسپیکر کا بیان لگایا (ایجنڈا سیٹنگ و ایجنڈا بلڈنگ پر بات کسی اور وقت )۔روزنامہ ایکسپریس میں مذکورہ تاریخ پر یہ خبر شائع نہیں ہوئی ، ایک خبر میں اسپیکر کے بیان کا حوالہ ضرور ہے،اس میں جمہوریت کے تصور کے پس منظر میں اسپیکر کے بیا ن کو موضوع بنایا گیااور سوال نما جواز بھی فراہم کیا کیوں کہ جواب نہیں تھا (چوپال، گوڑھی گل چوہدری لطیف دے نال)۔اسپیکر کے بیان کا تعلق نہ صرف ملک بلکہ خود ایوان کے جمہوری ماحو ل سے ہے لیکن اس وقت موضوع جمہوریت بھی نہیں۔
نظام (سسٹم ) اور ادارے کے تصور کی تعریف ضرور ملیں گی کہ نظام کسے کہتے ہیں یا ادارے سے کیا مراد ہے،لیکن جب یہ کہا جاتا ہے کہ پورا نظام ہی خراب ہے یا ادارے کے خلاف بات نہیں کی جائے گی تو یہ تصورات عجیب تجریدی شکل اختیار کرلیتے ہیں،سچ بتائوں تو مجھے ریاست کا تصور بھی اتنا ہی تجریدی لگتا ہے ۔
١٩٩٣ء کی بات ہوگی جب جامعہ کراچی شعبہ ابلاغِ عامہ میں روز نامہ جنگ نے سیمینار کیا اورجنگ کو ملنے والے نیوز پرنٹ پر حکومتی اقدامات یا پابندی کو اظہارِ آزادی پر قدغن قرار دیا۔ جنگ ایک کامیاب صنعتی ادارہ ہے جو کاروبار کے اصولوں پہ چلتا ہے ،کسی کو اس پر کیا اعتراض ،لیکن جو بڑا فرق ہے وہ یہ کہ خبر بیچنا باٹا کے جوتے بیچنے جیسا کام نہیں، جنگ پر لگائی گئی بندش کا حریت ِ رائے سے کوئی سمبندھ نہیں تھا ،یہ جنگ کی اس جنگ کو حق و باطل کی جنگ ثابت کرنے کی اپنی سی جنگ تھی ،سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر نثار احمد زبیری نے فرمایا کہ :”ہم نے بھی روزنامہ جنگ میں کا م کیا ہے ،ہمیں معلوم ہے کہ وہا ںاپنی بات کرنے کی کتنی آزادی ہے ”۔
ادارے افراد سے ہیں؟ یا افراد اداروں سے ؟
فرد یا ادارہ؟ یہاں موضوع انفرادی آزادی کی بحث نہیں۔اگر بنا لیں تو ‘فرد’ محض مقدم نہیں ہے بلکہ ذمہ دار بھی ہے ۔(یہاں فرد اپنی ذات میں ادارہ نہیں ہے،یہ پھر الگ موضوع ہے ،جیسے ایدھی ، روتھ فائو اور ادیب رضوی)۔
بنا فیلڈ میں لڑے آرمی چیف اپنے سر فیلڈ مارشل کا سہرا کیسے سجاسکتے ہیں؟ یہ سوال ہے ، عوام کا سوال ہے ،اس کا جواب دینے کے بجائے اگر اس سوال کو فوج کے ادارے کے خلاف منسوب کر دیا جائے،غداری کا مقدمہ قائم کردیا جائے تو بتائیں کہ ہم کیسی جمہوریت پال رہے ہیں؟ افراد کے اعمال سے متعلق سوال یا بیان کو ان کے اداروں کے خلاف کیوں سمجھا جائے ؟ کیا اے آئی کے عہد میں یہ ہمارے لیے اب تک ایسے ہی ابہام یا اندھیر ہے؟عوام کے لیے جسے ابہام بنائو گے وہ وقت کا اندھیر ہے اور ایسا نہیں کہ یہ آپ نہیں جانتے ، آپ تو جانتے بوجھتے کررہے ہیں۔یہ آپ کا انتخاب ہے ،اور سمجھنے والے بھی ہر دور میں ہوتے ہیں ،قحط الرّجال بھی ایک انوکھا تجریدی خیال ہے۔
شہری عدالت کا کوئی سائل شہری عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل میں عدالتِ عالیہ جاتا ہے ،عدالتِ عالیہ کے فیصلے کے خلاف عدالتِ عظمیٰ کا دروازہ کھٹ کھٹاتا ہے ، اور بعض صورتوں میں عدالت عظمی کے فیصلے کے خلاف صدر سے اپیل کرتاہے، یہ اس کا قانونی حق ہے ،کسی عدالت کا کوئی منصف اسے ہتک عزت کا مسئلہ کیوں نہیں بناتا؟ کیا اس پردے میں کہ یہ سائل کا قانونی حق ہے ؟ کیا منصفین قانون ،سماج اور نفسیاتی پیچیدگیوں سے واقف نہیں ہوتے ؟کتنی دماغ سوزی کے بعد ہی فیصلہ کرتے ہیں، اور اس کو چیلنج کردیا جائے ،یہاں منصفین کو اس طرح مقدس نہیں بنایا جاتا، کیوں ؟ کیوں کہ سائل کا قانونی حق اور عدلیہ کا وقار اہم ہے ،منصفین کا نہیں۔
اگرجمہوری حکومت میں عوام کے نمائندے (منتخب یاچنتخب) ایوان میں کسی فوج یا عدالت سے وابستہ کسی فوجی یا منصف کے بارے میں ( اس کی بنیادیں کیاذاتی ہوں گی؟یقینا نہیں) کوئی ایسی بات جو کسی عمل پر سوال اٹھائے ،نہیں کرسکتا تو عوام کو تو سوچنا بھی نہیں چاہیے بلکہ سوچنے کا بھی نہیں سوچنا چاہیے۔ آپ عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں (پینے کا صاف پانی، بجلی ، گیس، صحت کی سہولتیں ،سڑکیں ،یکساں تعلیمی نظام،روزگارکے مساوی مواقع،انصاف ) دے دیں ، ہمیں کیا پڑی کہ ہم سوچیں اور سوال کریں۔
نظام اور ادارے کا نظم و نسق قانونی و اخلاقی حدبندیوں سے وابستہ ہے ، قانون میں تبدیلیوں اور ترامیم کے بھی قوانین وضع ہیں ، اس میں بھی کتنی ہی اکھاڑ پچھاڑ اور موشگافیوں کی درزیں اور دراڑیں ہیں ،یہ سب چلتا رہے لیکن تقدس ادارے کا ہے ،افراد کا نہیں ۔لیکن اگر افراد یا فرد کے اعمال درست نہ ہوں یا بگڑ جائیں تو کیابات نہیں ہو گی؟ سوال نہیں کیا جائے گا؟ اس کو ادارے کے خلاف کیوں سمجھا جائے؟ افراد بھی کیا مقدس گائے ہیں؟ کوڈ آف کنڈکٹ کو کہیں لے جاکرکیوں نہیں پھینک دیتے؟
اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان میں بیٹھے سیاست دانوں کو ان کی اوقات یاد دلا دی ہے ، انہیں نہیں چاہیے کہ یہ بھولیں ،ہم بہت بھولے ہیں، اور ہم یہ سمجھ گئے ہیں کہ عدلیہ ، فوج سے وابستہ آدمیوں (جن سے خطا بھی ممکن نہیں) کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات کرنا پاکستان اور ریاست کے مفاد کے خلاف اور اس کی سالمیت پر براہِ راست حملہ سمجھا جائے گا، کوئی اس کو ہلکا نہ لے۔
اسپیکر صاحب ! مجھے بھی بس اتنا ہی کہنا تھا ،شما چاہتی ہوں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے ! وجود جمعرات 29 جنوری 2026
انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے !

بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری

آدم بو آدم بو!! وجود بدھ 28 جنوری 2026
آدم بو آدم بو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر