... loading ...
عبدالماجدقریشی
بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی غیرقانونی زیرقبضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت کے قانون آرٹیکل 370 کی منسوخی سے متعلق دلائل سننے سے انکار کر دیا اور اسکی قانون ساز اسمبلی کے حلقوں کی تشکیل نو کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 29نومبر کو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا کی درخواست پر مقدمے کی سماعت 29 نومبر تک ملتوی کی۔ جسٹس ایس کے کول اور اے ایس اوکا پر مشتمل بنچ نے تشار مہتا کو مزید دستاویزات ایک ہفتہ کے اندر پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔اس سے قبل2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے مرکزی و جموں و کشمیر کی حکومتوں کو سرزنش کرتے ہوئے حکم جاری کیا تھا کہ کشمیر میں لاک ڈاؤن اور شہری آزادی کم کرنے سے متعلق معاملات میں فوری طور پر جواب داخل کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے شہری کرفیو کی پابندیوں میں جی رہے ہیں۔ خوراک ، ادویات ، دودھ اور دیگر اشیائے زندگی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے مگر بھارتی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ بھارتی وزارت داخلہ کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ اگست 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور وادی میں ٹیلی مواصلات، انٹرنیٹ ، ریڈیو اور سیٹلائٹ ٹیلی ویژن کی معطلی، سیاحوں کی بے دخلی، کرفیو، سیاسی کارکنوں اور نوجوان کشمیریوں کو حراست میں لینے کے احکامات کب، کس نے، کہاں دیئے۔ وزارت داخلہ کو کشمیر بارے کوئی معلومات بھی نہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ کشمیر بارے معلومات صرف ریاست جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت کے پاس سے مل سکتی ہیں۔
مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف اب تو خود بھارت سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں اور عالمی دنیا بھی اس جانب توجہ مبذول کیے ہوئے ہے۔مظلوم کشمیریوں نے اب تک اپنی زندگی کا ہر پل خوف کے سائے میں اپنی زندگی کی امید میں گزارا ہے جن کیلئے کھانے پینے کی اشیاء اور جان بچانے والی ادویات تک رسائی بھی ممکن نہیں رہی۔ انکے روزگار چھن چکے ہیں’ کاروبار تباہ ہوچکے ہیں اور تعلیمی ادارے بند ہونے کے باعث انکے بچوں کا مستقبل بھی دائو پر لگ چکا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ انہیں اپنی مذہبی عبادات کی بھی آزادی نہیں۔ وہ مساجد میں جاکر نماز جمعہ تک ادا نہیں کرسکے۔ جب آزادی کی تڑپ رکھنے والے کشمیری کرفیو کی پابندیاں توڑ کر باہر نکلتے ہیں تو انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ مودی سرکار کے مظالم بڑھتے چلے ہی جارہے ہیں جو کشمیر میں ہندو راج کی منصوبہ بندی کئے بیٹھی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلی اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی نیشنل کانفرنس خصوصی حیثیت کی بحالی کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ پارٹی کے کارکن خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے جاری جدوجہداورنئے منشور سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ ہمارے سامنے ایک بہت ہی سخت امتحان ہے، جس کا مقابلہ ہمیں کندھے سے کندھا ملا کر، یک زبان اور یک جہت ہوکر کام کرنا ہے اور اس کیلئے پارٹی کا مضبوط ہونا اولین شرط ہے۔ ا قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی نے متفقہ طور پر نوآبادیاتی اور غیر ملکی قبضے کا شکار لوگوں کے لیے حق خودارادیت کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ جنرل اسمبلی دسمبر2022 میں نوآبادیاتی اور غیر ملکی قبضے کا شکار لوگوں کے لیے حق خودارادیت کی قرارداد کی توثیق کرے گی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ قبضے کے شکار لوگوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے پاکستان کی پیش کر دہ قرارداد کی اقوام متحدہ کے ایک پینل کی طرف منظوری بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ غیر ملکی قبضے کے تحت لوگوں کے حق خودارادیت سے متعلق پاکستان کی قرارداد کی وسیع حمایت اور متفقہ توثیق مقبوضہ جموں و کشمیر کے بہادر عوام کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ قرارداد 72 ممالک کے تعاون سے جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں متفقہ طور پر منظور کی گئی، جو سماجی، انسانی اور ثقافتی مسائل کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی کئی دیگر قراردادوں سے متعلق ہے۔ یہ قرارداد پاکستان 1981 سے اقوام متحدہ میں پیش کر رہا ہے۔ قرارداد اگلے ماہ جنرل اسمبلی کی توثیق کے لیے پیش کی جائے گی۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (یو این ایچ سی آر) نے بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر’شدید تشویش’ کا اظہار کرتے ہوئے مقبوضہ خطے میں تمام حقوق کو مکمل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ترجمان روپرٹ کولویل کا کہنا ہے کہ بھارتی زیر تسلط کشمیر میں عوام کے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق سے محروم ہونے پر شدید تشویش ہے اور ہم بھارت کی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ معمول کی صورت حال کو بحال کریں۔ بھارت کی حکومت نے 5 اگست2019 کو جموں و کشمیر کی ریاست کو جزوی طور پر حاصل خود مختاری کا قانون ختم کیا اور وفاقی کنٹرول میں دو یونین بنانے کا اعلان کیا تھا۔ مقبوضہ خطے میں اس وقت بھی سخت پابندیاں نافذ ہیں۔ انسانی حقوق پر ان کے اثرات وسیع پیمانے پر مسلسل پڑر ہے ہیں۔
٭٭٭