وجود

... loading ...

وجود

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

جمعرات 29 جنوری 2026 بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

عبدالماجدقریشی

بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی غیرقانونی زیرقبضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت کے قانون آرٹیکل 370 کی منسوخی سے متعلق دلائل سننے سے انکار کر دیا اور اسکی قانون ساز اسمبلی کے حلقوں کی تشکیل نو کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 29نومبر کو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا کی درخواست پر مقدمے کی سماعت 29 نومبر تک ملتوی کی۔ جسٹس ایس کے کول اور اے ایس اوکا پر مشتمل بنچ نے تشار مہتا کو مزید دستاویزات ایک ہفتہ کے اندر پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔اس سے قبل2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے مرکزی و جموں و کشمیر کی حکومتوں کو سرزنش کرتے ہوئے حکم جاری کیا تھا کہ کشمیر میں لاک ڈاؤن اور شہری آزادی کم کرنے سے متعلق معاملات میں فوری طور پر جواب داخل کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے شہری کرفیو کی پابندیوں میں جی رہے ہیں۔ خوراک ، ادویات ، دودھ اور دیگر اشیائے زندگی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے مگر بھارتی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ بھارتی وزارت داخلہ کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ اگست 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور وادی میں ٹیلی مواصلات، انٹرنیٹ ، ریڈیو اور سیٹلائٹ ٹیلی ویژن کی معطلی، سیاحوں کی بے دخلی، کرفیو، سیاسی کارکنوں اور نوجوان کشمیریوں کو حراست میں لینے کے احکامات کب، کس نے، کہاں دیئے۔ وزارت داخلہ کو کشمیر بارے کوئی معلومات بھی نہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ کشمیر بارے معلومات صرف ریاست جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت کے پاس سے مل سکتی ہیں۔
مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف اب تو خود بھارت سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں اور عالمی دنیا بھی اس جانب توجہ مبذول کیے ہوئے ہے۔مظلوم کشمیریوں نے اب تک اپنی زندگی کا ہر پل خوف کے سائے میں اپنی زندگی کی امید میں گزارا ہے جن کیلئے کھانے پینے کی اشیاء اور جان بچانے والی ادویات تک رسائی بھی ممکن نہیں رہی۔ انکے روزگار چھن چکے ہیں’ کاروبار تباہ ہوچکے ہیں اور تعلیمی ادارے بند ہونے کے باعث انکے بچوں کا مستقبل بھی دائو پر لگ چکا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ انہیں اپنی مذہبی عبادات کی بھی آزادی نہیں۔ وہ مساجد میں جاکر نماز جمعہ تک ادا نہیں کرسکے۔ جب آزادی کی تڑپ رکھنے والے کشمیری کرفیو کی پابندیاں توڑ کر باہر نکلتے ہیں تو انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ مودی سرکار کے مظالم بڑھتے چلے ہی جارہے ہیں جو کشمیر میں ہندو راج کی منصوبہ بندی کئے بیٹھی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلی اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی نیشنل کانفرنس خصوصی حیثیت کی بحالی کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ پارٹی کے کارکن خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے جاری جدوجہداورنئے منشور سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ ہمارے سامنے ایک بہت ہی سخت امتحان ہے، جس کا مقابلہ ہمیں کندھے سے کندھا ملا کر، یک زبان اور یک جہت ہوکر کام کرنا ہے اور اس کیلئے پارٹی کا مضبوط ہونا اولین شرط ہے۔ ا قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی نے متفقہ طور پر نوآبادیاتی اور غیر ملکی قبضے کا شکار لوگوں کے لیے حق خودارادیت کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ جنرل اسمبلی دسمبر2022 میں نوآبادیاتی اور غیر ملکی قبضے کا شکار لوگوں کے لیے حق خودارادیت کی قرارداد کی توثیق کرے گی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ قبضے کے شکار لوگوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے پاکستان کی پیش کر دہ قرارداد کی اقوام متحدہ کے ایک پینل کی طرف منظوری بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ غیر ملکی قبضے کے تحت لوگوں کے حق خودارادیت سے متعلق پاکستان کی قرارداد کی وسیع حمایت اور متفقہ توثیق مقبوضہ جموں و کشمیر کے بہادر عوام کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ قرارداد 72 ممالک کے تعاون سے جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں متفقہ طور پر منظور کی گئی، جو سماجی، انسانی اور ثقافتی مسائل کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی کئی دیگر قراردادوں سے متعلق ہے۔ یہ قرارداد پاکستان 1981 سے اقوام متحدہ میں پیش کر رہا ہے۔ قرارداد اگلے ماہ جنرل اسمبلی کی توثیق کے لیے پیش کی جائے گی۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (یو این ایچ سی آر) نے بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر’شدید تشویش’ کا اظہار کرتے ہوئے مقبوضہ خطے میں تمام حقوق کو مکمل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ترجمان روپرٹ کولویل کا کہنا ہے کہ بھارتی زیر تسلط کشمیر میں عوام کے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق سے محروم ہونے پر شدید تشویش ہے اور ہم بھارت کی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ معمول کی صورت حال کو بحال کریں۔ بھارت کی حکومت نے 5 اگست2019 کو جموں و کشمیر کی ریاست کو جزوی طور پر حاصل خود مختاری کا قانون ختم کیا اور وفاقی کنٹرول میں دو یونین بنانے کا اعلان کیا تھا۔ مقبوضہ خطے میں اس وقت بھی سخت پابندیاں نافذ ہیں۔ انسانی حقوق پر ان کے اثرات وسیع پیمانے پر مسلسل پڑر ہے ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے ! وجود جمعرات 29 جنوری 2026
انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے !

بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری

آدم بو آدم بو!! وجود بدھ 28 جنوری 2026
آدم بو آدم بو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر