وجود

... loading ...

وجود

انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے !

جمعرات 29 جنوری 2026 انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے !

اونچ نیچ
آفتاب احمد خانزادہ

سیموئیل بیکٹ کا Waiting for Godot وہ ڈرامہ ہے جو بظاہر کچھ بھی نہ ہونے کی کہانی ہے مگر درحقیقت یہ انسانی وجود کے سب سے گہرے سوالات کو چھیڑتا ہے۔
یہ ڈرامہ دو کرداروں، ولادیمیر اور ایسٹراگون، کے گرد گھومتا ہے جو ایک ویران سڑک پر ایک درخت کے نیچے کسی”گوڈو”کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ گوڈو کون ہے، کب آئے گا یا آئے گا بھی یا نہیں، مگر اس کے باوجود انتظار جاری رہتا ہے۔ یہی انتظار اس ڈرامے کا مرکزی استعارہ ہے، جو انسانی زندگی کی اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جس میں انسان کسی نجات دہندہ، کسی معنی، کسی وعدے یا کسی معجزے کے انتظار میں اپنی پوری زندگی گزار دیتا ہے۔یہ ڈرامہ وجودیت (Existentialism) کے فلسفے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ژاں پال سارتر کہتا ہے کہ”وجود ماہیت پر مقدم ہے”، یعنی انسان پہلے موجود ہوتا ہے، اس کے بعد وہ خود اپنے معنی تخلیق کرتا ہے۔ مگر ویٹنگ فار گوڈو میں المیہ یہ ہے کہ کردار اپنے معنی خود تخلیق کرنے کے بجائے گوڈو کے آنے کا انتظار کرتے ہیں، گویا وہ اپنی ذمہ داری کسی اور کے کاندھوں پر ڈال چکے ہوں۔ یہ انتظار دراصل آزادی سے فرار ہے، کیونکہ آزادی ذمہ داری مانگتی ہے، اور ذمہ داری انسان کو خوفزدہ کرتی ہے۔
البرٹ کامیو نےAbsurd کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسان معنی تلاش کرتا ہے مگر کائنات خاموش رہتی ہے۔ ویٹنگ فار گوڈو اسی خاموش کائنات کی علامت ہے۔ گوڈو کبھی نہیں آتا، جیسے کائنات کبھی ہمارے سوالوں کا جواب نہیں دیتی۔ اس کے باوجود ولادیمیر اور ایسٹراگون جینے کا کوئی نہ کوئی جواز تلاش کرتے رہتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، جھگڑتے ہیں، ہنستے ہیں، روتے ہیں، تاکہ وقت گزر سکے۔ کامیو کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں کہ زندگی بے معنی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس بے معنویت کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ مگر بیکٹ کے کردار اس بے معنویت کو قبول کرنے کے بجائے انتظار کی لت میں مبتلا رہتے ہیں۔نطشے کے فلسفے کی روشنی میں دیکھا جائے تو ویٹنگ فار گوڈو”خدا کی موت”کے بعد کی دنیا کا منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ نطشے نے کہا تھا کہ”خدا مر چکا ہے اور ہم نے اسے مارا ہے”، یعنی روایتی اقدار اور حتمی سچائیاں ختم ہو چکی ہیں۔ گوڈو اس مردہ خدا کی علامت بھی بن سکتا ہے، جس کے آنے کی امید تو باقی ہے مگر حقیقت میں وہ کبھی نہیں آتا۔ انسان پرانی اقدار کے سہارے جینے کی کوشش کرتا ہے، مگر وہ اقدار اب زندگی کو معنی دینے کی صلاحیت کھو چکی ہیں۔ڈرامے میں پوزو اور لکی کے کردار طاقت اور غلامی کی علامت ہیں۔ پوزو ظالم آقا ہے اور لکی خاموش غلام، جو صرف حکم پر بولتا ہے۔ یہ تعلق ہیگل کے”آقا اور غلام” کے تصور کی یاد دلاتا ہے، جہاں طاقت کا رشتہ دونوں کو غیر انسانی بنا دیتا ہے۔ پوزو بھی اندھا ہو جاتا ہے اور لکی بھی گونگا، گویا ظلم اور اطاعت دونوں آخرکار انسانیت کو مفلوج کر دیتے ہیں۔ یہ منظر ہمیں جدید سماج کی یاد دلاتا ہے جہاں طاقتور اور محکوم دونوں اپنی اپنی زنجیروں میں جکڑے ہوتے ہیں۔ویٹنگ فار گوڈو محض فلسفیانہ ڈرامہ نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی استعارہ بھی ہے۔ یہ ان قوموں اور معاشروں کی کہانی ہے جو کسی مسیحا، کسی انقلاب، کسی نجات دہندہ کے انتظار میں اپنی اجتماعی ذمہ داری سے غافل ہو جاتے ہیں۔ وہ ہر ناکامی کے بعد کہتے ہیں کہ ”کل کچھ بدل جائے گا”، مگر کل کبھی نہیں آتا۔ یہ انتظار جمود کو جنم دیتا ہے، اور جمود زوال کوبیکٹ کا اسلوب بھی معنی خیز ہے۔ مکالمے دہرائے جاتے ہیں، حالات بدلتے نہیں، دن رات کا فرق مٹ جاتا ہے۔ یہ تکرار اس بات کی علامت ہے کہ جب زندگی میں مقصد نہ ہو تو وقت بھی ایک دائرہ بن جاتا ہے، جو آگے بڑھنے کے بجائے خود کو دہراتا رہتا ہے۔
ویٹنگ فار گوڈو ہمیں یہ تلخ سوال دیتا ہے کہ کیا ہم بھی اپنی زندگی کسی گوڈو کے انتظار میں تو نہیں گزار رہے کیا ہم نے اپنے فیصلے، اپنی آزادی، اپنی ذمہ داری کسی فرضی امید کے حوالے تو نہیں کر دی بیکٹ ہمیں کوئی جواب نہیں دیتا، کیونکہ یہ ڈرامہ جواب دینے کے لیے نہیں بلکہ سوال جگانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ شاید یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے کہ یہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے، اور اس آئینے میں ہمیں اپنا چہرہ خود پہچاننا پڑتا ہے۔ویٹنگ فار گوڈو محض بیسویں صدی کا ایک ڈرامہ نہیں بلکہ یہ پوری انسانی تاریخ کے اجتماعی شعور کا نچوڑ معلوم ہوتا ہے۔ اگر انسان کی تاریخ کو غور سے دیکھا جائے تو وہ ہمیشہ کسی نہ کسی”گوڈو”کے انتظار میں گزری ہے۔ قدیم انسان نے بارش، فصل اور حفاظت کے لیے دیوتاؤں کا انتظار کیا۔ افلاطون کی مثالی ریاست بھی دراصل ایک ایسے کامل نظام کا انتظار تھی جو کبھی عملی صورت اختیار نہ کر سکا۔ ارسطو نے انسان کو”سیاسی حیوان”کہا، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ یہ سیاسی حیوان زیادہ تر کسی مثالی حکمران یا عادل بادشاہ کے انتظار میں ہی جیتا رہا۔ مذہبی تاریخ میں یہ انتظار اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ یہودی روایت میں مسیحا کا انتظار، عیسائیت میں مسیح کی دوسری آمد، اسلام میں مہدی اور مسیح کا تصوریہ سب انسانی تاریخ کے وہ لمحات ہیں جہاں انسان نے اپنی موجودہ ناکامیوں کا بوجھ مستقبل کی کسی نجات دہندہ ہستی پر ڈال دیا۔ ویٹنگ فار گوڈو اسی مذہبی اور مابعد الطبیعاتی انتظار کی جدید، خاموش اور بے رحم تعبیر ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بیکٹ کا گوڈو نہ آسمان سے اترتا ہے، نہ وعدہ پورا کرتا ہے، بلکہ مکمل خاموشی اختیار کیے رکھتا ہے۔ یہ خاموشی دراصل جدید انسان کے روحانی خلا کی علامت ہے۔ سیاسی تاریخ میں بھی گوڈو ہر دور میں موجود رہا ہے۔ افلاطون کے فلاسفر کنگ سے لے کر مارکس کے طبقاتی انقلاب تک، اور نوآبادیاتی دور کے بعد آزادی کے خواب سے لے کر جدید ریاست کے وعدوں تک، انسان ہمیشہ کسی”کل”کے انتظار میں رہا۔ یہ ڈرامہ ہمیں دکھاتا ہے کہ اگر انسان عمل کے بجائے صرف انتظار کو اپنا مقدر بنا لے تو تاریخ بھی جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔وجودی فلسفے سے پہلے بھی انسان اس کیفیت سے گزر چکا تھا، مگر اس کا شعوری اعتراف نہیں تھا۔ بدھ نے زندگی کو دکھ قرار دیا، مگر نجات کا راستہ عمل اور شعور میں بتایا۔ اسٹوئک فلسفیوں نے تقدیر کو قبول کرنے کی تعلیم دی، مگر اخلاقی ضبط کے ساتھ۔ ویٹنگ فار گوڈو ان سب سے مختلف ہے کیونکہ یہاں نہ نجات کا راستہ ہے، نہ اخلاقی حل، نہ روحانی بلندی۔ یہ جدید انسان کی وہ حالت ہے جسے مارٹن ہائیڈیگر نے ”Beingـtowardsـdeath” کہا یعنی ایک ایسی ہستی جو جانتی ہے کہ انجام موت ہے مگر پھر بھی بے سمت جیتی ہے۔ کافکا کے ناول، پِنٹر کے ڈرامے، اور جدید افسانے سب اسی انتظار، اسی بے یقینی اور اسی خاموش چیخ کے وارث نظر آتے ہیں۔ یہ ڈرامہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بعض اوقات”کچھ نہ ہونا”بھی ایک بہت بڑا واقعہ ہوتا ہے۔نفسیاتی سطح پر ویٹنگ فار گوڈو پوری انسانی تاریخ کے اجتماعی اضطراب کو عیاں کرتا ہے۔ فرائیڈ نے لاشعور کی بات کی، یونگ نے اجتماعی لاشعور کا تصور دیا، مگر بیکٹ نے اس لاشعور کو اسٹیج پر لا کھڑا کیا۔ ولادیمیر اور ایسٹراگون دراصل انسان کے دو داخلی پہلو ہیں: ایک سوچتا ہے، دوسرا بھولنا چاہتا ہے؛ ایک سوال کرتا ہے، دوسرا وقت گزارنا چاہتا ہے۔ یہی کشمکش انسانی تاریخ میں فرد اور معاشرے کے درمیان مسلسل جاری رہی ہے۔اگر انسانی تاریخ کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان نے یا تو بغاوت کی ہے یا انتظار۔ یونانی المیوں میں بغاوت تھی، نشاةِ ثانیہ میں خودی کا اعلان، مگر جدید عہد میں تھکن ہے۔ ویٹنگ فار گوڈو اسی تھکن کی علامت ہے۔ یہ اس انسان کی کہانی ہے جو بہت کچھ دیکھ چکا ہے، بہت وعدے سن چکا ہے، اور اب صرف انتظار کرتا ہے کیونکہ عمل پر اس کا یقین ٹوٹ چکا ہے۔یوں ویٹنگ فار گوڈو پوری انسانی تاریخ کا خلاصہ بھی ہے اور اس پر ایک سوالیہ نشان بھی۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر انسان نے اپنے گوڈو خود تخلیق نہ کیے، اگر اس نے معنی، انصاف اور آزادی کی ذمہ داری خود نہ اٹھائی، تو تاریخ یونہی ایک ویران سڑک پر ایک سوکھے درخت کے نیچے کھڑی رہے گی اور گوڈو کبھی نہیں آئے گا۔ پاکستان بھی ایک ملک نہیں بلکہ ایک انتظار ہے ایک ایسا طویل وقفہ جو ہم نے اپنے حال اور مستقبل کے درمیان خود پیدا کر لیا ہے یہاں لوگ زندہ نہیں رہتے بلکہ کل کے وعدے پر سانس لیتے ہیں ہم نے اپنی قومی زندگی کو ایک بنجر درخت کے نیچے لا بٹھایا ہوا ہے جہاں ہم روز کسی گوڈوٹ کا انتظار کرتے ہیں کبھی وہ نظام کہلاتا ہے کبھی انقلاب کبھی مسیحا کبھی الیکشن کبھی نیا قانون کبھی نئی حکومت کبھی نیا نعرہ مگر وہ آتا نہیں اور ہم ہر صبح یہ کہہ کر خود کو دھوکہ دیتے ہیں کہ کل ضرور آئے گا ولادیمیر اور ایسٹراگون اب اس ملک کے عام شہری ہیں جو چائے کے کھوکھے سے لے کر ٹی وی اسکرین تک ایک ہی جملہ دہراتے ہیں”بس اب سب ٹھیک ہونے والا ہے”۔ یہاں امید ایک روحانی بیماری بن چکی ہے جو انسان کو زندہ کم اور معطل زیادہ رکھتی ہے ہم اس لیے مظلوم نہیں کہ طاقت ور ہیں بلکہ اس لیے مظلوم ہیں کہ ہم نے اپنی تقدیر کو افواہوں اور وعدوں کے ہاتھ گروی رکھ دیا ہے پوزو اب وہ اشرافیہ ہے جو اختیار کو وراثت سمجھتی ہے اور لکی وہ عوام ہے جو اپنی عقل کو خدمت کے عوض خاموشی میں بدل چکی ہے جب اختیار اندھا ہوتا ہے تو قوم بھی اندھی ہو جاتی ہے اور جب عقل گر جاتی ہے تو سچ بھی گر پڑتا ہے ہمارے ہاں زبان اب سچ بولنے کے لیے نہیں بلکہ شور پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے ہم بات کرتے ہیں تاکہ حقیقت سنائی نہ دے ہم نعرے لگاتے ہیں تاکہ سوال مر جائیں ہم خبریں دیکھتے ہیں تاکہ سوچ دفن ہو جائے وقت یہاں نہیں گزرتا بلکہ گھومتا ہے ہر سال نیا بجٹ آتا ہے مگر غربت وہی رہتی ہے ہر الیکشن آتا ہے مگر مایوسی وہی رہتی ہے ہر بحران آتا ہے مگر مجرم وہی رہتے ہیں بنجر درخت پر اگنے والے چند پتے ہمارے اشتہارات ہیں ہماری تقریریں ہیں ہمارے وعدے ہیں جو ہمیں یہ فریب دیتے ہیں
کہ کچھ بدل رہا ہے حالانکہ کچھ نہیں بدلتا بیکٹ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان بغاوت سے نہیں بلکہ عادت سے زندہ رہتا ہے اور پاکستان ہمیں
دکھاتا ہے کہ قومیں بھی اسی عادت سے زندہ رہتی ہیں ہم صبح اس لیے اٹھتے ہیں کہ کل بھی اٹھے تھے ہم ٹیکس اس لیے دیتے ہیں کہ کل بھی دیے
تھے ہم ووٹ اس لیے ڈالتے ہیں کہ کل بھی ڈالے تھے ہم انتظار اس لیے کرتے ہیں کہ ہمارے پاس مرنے سے بہتر کوئی قومی منصوبہ نہیں گوڈوٹ نہیں آئے گا مگر ہم کل بھی اسی درخت کے نیچے بیٹھے ہوں گے کیونکہ اس ملک میں نجات نہیں بلکہ انتظار ہماری آخری شناخت بن چکا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے ! وجود جمعرات 29 جنوری 2026
انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے !

بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری

آدم بو آدم بو!! وجود بدھ 28 جنوری 2026
آدم بو آدم بو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر