... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔
تھنکر مین ایک مشہور مجسمہ ہے جسے فرانسیسی مجسمہ ساز Auguste Rodin نے 1880ء میں تخلیق کیا۔ اس مجسمے میں ایک برہنہ مرد چٹان پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے جو گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہے، اس کی ٹھوڑی اس کے ہاتھ پر ٹکی ہوئی ہے۔ یہ انداز انسانی فکر، غور و فکر اور وجودی سوالات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ابتدا میں یہ مجسمہ روداں کے ایک بڑے منصوبے”گیٹس آف ہیل”کا حصہ تھا، جو دانتے کی مشہور کتاب”ڈیوائن کامیڈی”سے متاثر تھا۔اس مجسمے کا کردار اصل میں دانتے کی نمائندگی کرتا ہے، جو جہنم کے دروازے کے سامنے کھڑا ہو کر انسانیت کے اعمال پر غور کر رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ مجسمہ ایک الگ فن پارے کے طور پر مشہور ہو گیا اور دنیا بھر میں اس کی نقلیں بنائی گئیں۔ روداں کا تھنکر مین محض ایک مجسمہ نہیں بلکہ انسانی شعور کی وہ منجمد چیخ ہے جو صدیوں سے تہذیبوں کے ضمیر میں گونج رہی ہے،یہ وہ لمحہ ہے جب انسان پہلی بار اپنے ہی وجود کے سامنے کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے اور اپنے اعمال،اپنی تاریخ،اپنے خدا اور اپنے انجام پر سوال اٹھاتا ہے سوچ کوئی جدید ایجاد نہیں، یہ انسانی تاریخ کی سب سے پرانی اور سب سے خطرناک قوت ہے۔یہ وہ شے ہے جس نے غار کے انسان کو جانور سے الگ کیا اور یہی وہ شے ہے جس نے ہر دور میں طاقت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
سوچ کا مطلب محض دماغ کا حرکت میں آ جانا نہیں ،سوچ کا مطلب ہے اپنے مانے ہوئے سچ پر شک کرنے کی جرأت اور یہی جرأت ہمیشہ انسان کو خوف میں مبتلا کرتی رہی ہے۔قبل از مسیح میں سقراط ایتھنز کی گلیوں میں یہی”خطرناک کام” کرتا تھا۔وہ سوال کرتا تھا۔وہ نوجوانوں سے پوچھتا تھا تم جو مانتے ہو، کیوں مانتے ہوایتھنز نے اسے”گمراہ کرنے والا” قرار دیا اور زہر کا پیالہ تھما دیا۔یہ تاریخ کا پہلا واضح پیغام تھاسوچ، طاقت کے لیے خطرہ ہے۔افلاطون نے لکھا کہ معاشرے اصل میں غار میں بند انسانوں کی طرح ہوتے ہیں،جو دیوار پر پڑتے سائے کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں،اور جو شخص انہیں مڑ کر اصل روشنی دکھائے،وہی سب سے بڑا دشمن بن جاتا ہے۔یہ تمثیل صرف فلسفہ نہیں، انسانی نفسیات کی تشریح ہے۔ انسان روشنی سے نہیں، روشنی کے بعد نظر آنے والی حقیقت سے ڈرتا ہے۔ارسطو نے کہا تھا کہ عقل انسان کا سب سے اعلیٰ ہتھیار ہے، مگر یہی ہتھیار اس کی سب سے بڑی آزمائش بھی ہے،کیونکہ عقل انسان کو ذمہ دار بنا دیتی ہے۔ اور ذمہ داری، غلامی سے زیادہ مشکل ہوتی ہے۔قرونِ وسطیٰ میں چرچ نے سوچ پر پہرے بٹھا دیے۔گیلیلیو نے جب کہا کہ زمین نہیں، سورج مرکز میں ہے تو اسے خاموش کر دیا گیا۔کیونکہ ایک جملہ پوری مذہبی طاقت کے ڈھانچے کو ہلا سکتا تھا۔ سوچ یہاں بھی”خطرہ”ٹھہری۔نشاةِ ثانیہ میں انسان نے دوبارہ سوچنا شروع کیا اور یہی سوچ یورپ کو تاریکی سے نکال کر علم کی طرف لے گئی۔پرنٹنگ پریس آیا،کتاب عام ہوئی، اور طاقت پہلی بار کانپنے لگی۔نیٹشے نے اعلان کیا”خدا مر چکا ہے”اصل میں وہ یہ کہہ رہا تھااب انسان کو خود سوچنا ہوگااور یہی وہ لمحہ تھا جہاں انسان نے آزادی اور خوف ایک ساتھ محسوس کیے۔
جدید دور میں فرائڈ نے بتایا کہ انسان صرف باہر کے آقاؤں کا غلام نہیں،وہ اپنے اندر کے خوف، گناہ، اور خواہشات کا بھی قیدی ہے۔سوچ انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے اور یہی جھانکنا سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ آج کے دور میں طاقت نے نیا لباس پہن لیا ہے ۔میڈیا، نصاب، مذہبی بیانیہ، اور ڈیجیٹل شور،سوچ اب بھی دشمن ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اب قید خانے دیواروں کے نہیں، بیانیوں کے ہیں۔سوچ انسان کو آزاد کرتی ہے،اور آزادی انسان سے قیمت مانگتی ہے، ذمہ داری، تنہائی، اور سچ۔اسی لیے انسان سوچنے سے ڈرتا ہے۔کیونکہ سوچ انسان کو یہ دکھا دیتی ہے ،یہ کہ وہ جو ہے ،وہ دراصل وہ نہیں جو اسے بنایا گیا تھا۔یہ محض ایک نفسیاتی سوال نہیں، یہ ایک تہذیبی اعترافِ جرم ہے۔پاکستانی معاشرہ دراصل”سوچ”سے نہیں ڈرتا،وہ سوچ کے نتائج سے ڈرتا ہے۔ سوچ سوال پیدا کرتی ہے۔ سوال روایت کو ہلاتا ہے۔ روایت طاقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ اور طاقت کو سب سے زیادہ وحشت بے نقاب ہونے سے ہوتی ہے۔ہم ایک ایسے سماج میں سانس لیتے ہیں جہاں رٹّا عبادت بن چکا ہے، اور سوال بدتمیزی۔جہاں بچے کو سب سے پہلے یہ نہیں سکھایا جاتا کہ”کیوں”بلکہ یہ سکھایا جاتا ہے کہ”چپ رہو”۔یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک زندہ ذہن، آہستہ آہستہ ایک فرمانبردار ڈھانچے میں ڈھلنا شروع ہو جاتا ہے۔ارسطو نے کہا تھاجو شخص سوال کرنا چھوڑ دے، وہ سچ تلاش کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ہم نے سوال چھوڑا، اور سچ بھی۔پھر سچ کے بغیر جو باقی بچا وہ اطاعت تھی اور اطاعت، سوچ کی دشمن ہوتی ہے۔ہمارے ہاں سوچ کو ہمیشہ خطرہ سمجھا گیاخاندان کے لیے،مذہب کے لیے،ریاست کے لیے،اور سب سے بڑھ کر”روایت”کے لیے۔ اس لیے سوچنے والے کو یا تو باغی کہا گیا، یا بدتہذیب، یا گمراہ، یا خاموش کر دیا گیا۔ نتیجہ ہم نے ایک ایسی نسل پیدا کی جو سمجھتی کم ہے، مانتی زیادہ ہے جو دلیل سے نہیں، ڈر سے جیتی ہے جو اپنی عقل پر نہیں، اپنی تقلید پر فخر کرتی ہے اور جس کے لیے سچ وہی ہوتا ہے جو”اوپر”سے آ جائے۔
نیٹشے نے کہا تھاجب سچ خطرناک ہو جائے، تو معاشرے جھوٹ کو مقدس بنا لیتے ہیں۔پاکستان میں جھوٹ مقدس ہے، کیونکہ سچ سوال پیدا کرتا ہے اور سوال زلزلہ ہوتا ہے۔اسی لیے یہاں سوچ کو دبایا جاتا ہے،کتاب کو خطرہ سمجھا جاتا ہے،اور سوال کرنے والے کو مسئلہ۔ ہم سوچ سے نہیں ڈرتے ہم اس دن سے ڈرتے ہیں جب سوچ ہمیں بتا دے گی کہ ہم کس قید میں زندہ ہیں۔
٭٭٭