... loading ...
ریاض احمدچودھری
بھارت بھر میں ہجومی تشدد، جبری تبدیلی مذہب، مذہبی مقامات کی تباہی اور نفرت انگیز تقاریر کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اقلیتوں کو نفسیاتی، جسمانی اور معاشی ظلم و ستم برداشت کرنا پڑتاہے کیونکہ ہندو قوم پرست بیانیے کا مقصد ان کی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو مٹانا ہے۔مودی کے انتہاپسند ایجنڈے کے تحت مذہبی آزادی کے حوالے سے بھارت کے بگڑتے ہوئے ریکارڈ نے اسے یوم مذہب منانے کے لیے غیر موزوں بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی رہنما انسانی حقوق کی ان بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری کارروائی اور بھارت کو مذہبی اقلیتوں پر جاری حملوں کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے تحت مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر پسماندہ طبقوں پر مسلسل ظلم و ستم بھارت کے جمہوری اقدار اور زمینی حقائق کے درمیان کھلے تضاد کو واضح کرتا ہے۔ بڑھتی ہوئی عدم رواداری سے نہ صرف بھارت کے سماجی تانے بانے کو خطرہ ہے بلکہ مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے لیے عالمی چیلنج بھی ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت اقلیتوں کے حقوق کا علمبردار بننے کے قابل نہیں، کیونکہ وہ خود ان حقوق کی تسلسل سے خلاف ورزی کرتا آرہا ہے ، پاکستان میں ریاستی ادارے پالیسی کے طور پر اقلیتوں کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کرتے ہیں۔اس کے برعکس، بھارت میں اقلیتوں کے خلاف اکثر واقعات حکمران جماعت کے بعض عناصر کی ایما پر یا حتیٰ کہ شمولیت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد کو منظم طور پر ہوا دینے کے واقعات دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔امتیازی شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے ) سے لے کر گھروں کو بلڈوز کرنے تک، 2002 کے گجرات قتل عام سے لے کر 2020 کے دہلی فسادات تک، 1992 میں بابری مسجد کے انہدام سے لے کر 2024 میں اس کے ملبے پر مندر کی تعمیر تک، گاؤ کے تحفظ کی آڑ میں تشدد اور پر ہجوم تشدد کے واقعات سے لے کر مساجد اور مزارات پر حملے بھارت کا ریکارڈ مسلمانوں سمیت اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں سے داغدار ہے ، دوسروں کے ہاں اقلیتوں کے حقوق کا ڈھونگ رچانے کے بجائے بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ناکامیوں کو دور کرے۔ اسے چاہیے کہ وہ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کی سلامتی، تحفظ اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے ، نیز ان کی عبادتگاہوں، ثقافتی ورثے اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔
بھارت کی ریاست اترپردیش کے میرٹھ کے لِسادری گیٹ پولیس اسٹیشن کے علاقے میں ایک مسلم خاندان کے 5 افراد کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ مرنے والوں میں شوہر بیوی اور تین کمسن بچیاں شامل ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ سہیل گارڈن میں پیش آیا جہاں قتل کے بعد نعشیں بوریوں میں باندھ کر کے بستر کے اندر چھپادی گئی تھیں۔ قتل کی اس اندوہناک واردات کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، مقتولین میں شوہر معین، بیوی اسماء ، اور ان کی تین بیٹیاں، اقصیٰ (8)، عزیزہ (4) اور ادیبہ (1) شامل ہیں۔مقتول معین مستری کا کام کرتا تھا۔ اس واردات کا علم اس وقت ہوا جب معین کا بھائی سلیم، اپنی بیوی کے ساتھ پہنچا، دروازہ اندر سے بند تھا، دروازہ توڑا گیا تو لاشیں برآمد ہوئیں۔
پولیس کے مطابق قتل میں پتھر کاٹنے والی مشین کو استعمال کیا گیا ہے، مرنے والوں کے سروں پر گہری چوٹوں کے نشانات موجود ہیں، قتل کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہوسکی ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی مزید تفصیلات کا علم ہوسکے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں اور محلے کے دیگر افراد سے بھی پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے، پڑوسیوں کے مطابق، کسی نے بھی متاثرہ خاندان کو نہ گھر سے باہر جاتے ہوئے دیکھا اور نہ ہی گھر کے اندر کسی کو داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔پولیس نے کرائم برانچ، فورینسک ٹیم، اور ڈاگ اسکواڈ کی مدد سے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، جبکہ گھر کے آس پاس کے سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی چیک کیا جارہا ہے۔غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارت میں ہجومی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاندھی اور نہرو کے نظریات پر قائم ہونے والا ملک اب ”لنچستان”میں تبدیل ہو چکا ہے۔
بھارتی ریاست اڑیسہ کے ضلع سمبل پور میں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور کی حالیہ لنچنگ اور اتراکھنڈ میں ایک قبائلی طالب علم اینجل چکما پر حملہ کے بعد ہلاکت پر ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں موجودہ ماحول خطرناک اور خوفناک ہے۔ لنچنگ اور ٹارگٹڈ تشدد کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں جس سے قانون، انصاف اور انسانی اقدار کی تباہی ظاہر ہوتی ہے۔محبوبہ مفتی نے ایسے واقعات پر عوامی اور سیاسی ردعمل میں دوہرے معیار کی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ جب ہمارے کچھ ہندو بھائیوں کو بنگلہ دیش میں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو بڑے پیمانے پر غم و غصے کا اظہار اور چیخ و پکار ہوتی ہے۔لیکن جب بھارت کے اندر لنچنگ جیسے واقعات ہوتے ہیں ، توسب خاموش ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے اتر پردیش میں محمد اخلاق کی لنچنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اس سے ہجومی تشدد کے واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو ابھی تک نہیں رکا ہے۔اس نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہجومی تشدد اور نفرت پر مبنی تشدد کو معمول بنایا جا رہا ہے جبکہ قصورواروں کو استثنیٰ دیا جارہا ہے۔
گاندھی اور نہرو کا بھارت جو کبھی عدم تشدد، تکثیریت اور آئینی اقدار کے لیے کھڑا تھا، اب ایک لنچستان میں تبدیل ہو چکا ہے۔پی ڈی پی سربراہ نے خبردار کیا کہ اس طرح کے جرائم پر مسلسل خاموشی اور بے عملی بھارت کو اخلاقی اور سماجی زوال کی طرف دھکیل دے گی، اس کے جمہوری تانے بانے کو نقصان پہنچائے گی اور اقلیتوں، پسماندہ طبقوںاور اختلافی آوازوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالے گی۔
٭٭٭