وجود

... loading ...

وجود

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

منگل 20 جنوری 2026 دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

ریاض احمدچودھری

فارن افیئرز کے مطابق مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات اپنی تاریخ کے شدید ترین تناؤ سے گزر رہے ہیں، جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو پاکستان نے کھلے دل سے سراہا، جبکہ بھارت نے امریکی ثالثی کو مسترد کیا۔ جریدے کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی سفارتی اور عسکری کامیابیوں کا بار بار ذکر اور پاکستانی قیادت کے ساتھ مثبت روابط بھارت کے لیے سفارتی سطح پر سبکی کا باعث بنے، امریکی صدر نے بھارت کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے پر دستخط سے انکار کیا اور بھارتی برآمدات پر اضافی محصولات عائد کیے، جس سے دوطرفہ تعلقات مزید متاثر ہوئے۔ فارن افیئرز کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باعث امریکا میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ بھارت ایک قابلِ اعتماد اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت معمولی سفارتی اختلافات پر امریکا سے دوری اختیار کرتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ایک پراعتماد اور مستحکم شراکت دار نہیں، پچیس سالہ تعلقات کا صرف انا اور بیانیے کے دباؤ پر متزلزل ہونا اس شراکت داری کی ادارہ جاتی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ بندی درحقیقت بھارتی درخواست پر امریکی مداخلت سے ممکن ہوئی، تاہم بھارت داخلی سیاسی وجوہات کی بنا پر اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے، مسئلہ امریکی ثالثی نہیں بلکہ بیانیے پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کی بھارتی خواہش ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت ایک طرف امریکی ثالثی کو مسترد کرتا ہے جبکہ دوسری جانب چین کے مقابلے میں امریکا سے غیر مشروط حمایت کا خواہاں ہے، جو ایک واضح تضاد ہے، جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام دوہرے معیار کے بجائے برابری اور حقیقت پسندانہ سفارتی تعلقات سے ہی ممکن ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے دوسرے دور اقتدار میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات بدترین سطح پر پہنچ گئے۔بھارت اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی سردمہری کے حوالے سے فنانشل ٹائمز نے حقائق بیان کردیئے۔فنانشل ٹائمز کے مطابق بھارت اور امریکہ کے خراب تعلقات کا براہِ راست اثر بھارت کے طاقتور ترین ارب پتیوں پر پڑا ہے۔مودی حکومت کی ہندوتوا پرور پالیسی اور دوغلے پن پر قائم خارجہ حکمتِ عملی کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ بھارتی ارب پتی لاکھوں ڈالر لوبی فرمز پر خرچ کرنے کے باوجود امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار نہیں کر پائے۔گوتم اڈانی کے خلاف مقدمات کا برقرار رہنا ظاہر کرتا ہے کہ ذاتی روابط اور لابنگ بھی امریکی قانونی ترجیحات پر اثرانداز نہیں ہو سکتیں ۔بھارت معرکہ حق میں ہزیمت اٹھانے کے بعد اب امریکہ کا ایسا اتحادی نہیں رہا جس پر خطے کے معاملات سنبھالنے کا بھروسہ کیا جا سکے۔بھارت کو اب امریکہ سے اختلاف کی صورت میں سخت معاشی اور قانونی دباؤ کا سامنا کرنا ہوگا۔روسی تیل پر ناراضی اور بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف سے واضح ہے کہ امریکا اب بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری قبول نہیں کرتا، ماہرین۔مکیش امبانی جیسے گروپوں نے روسی تیل کی ریفائننگ کے ذریعے اربوں ڈالر منافع کمایا۔
امریکہ بھارت کو چین کے مقابل اہم فریق سمجھتا تھا تاہم بھارت کا رویہ قابل تشویش ہے۔حالیہ بھارت پاکستان کشیدگی اور خطے میں بڑھتے تصادم کے خدشات نے امریکہ کے بھارت کے حوالے سے شکوک کو مزید گہرا کیا ہے۔ حالات کو بھارت کے لیے مزید تلخ بناتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ قربت میں اضافہ کیا ہے جس سے خطے میں بھارت کی سفارتی پوزیشن مزید کمزور ہوئی ہے۔دکھاوے ، جھوٹ، دھوکے اور تکبر پر مبنی مودی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی اب دنیا میں بے نقاب ہو چکی۔ بھاری امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدے کی ناکامی نے بھارتی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ ناکام ہونے کی اصل وجہ مودی کی ہٹ دھرمی قرار دے دی۔ امریکی وزیرِ تجارت کے مطابق مودی گھبراہٹ کا شکار تھا، جس کے باعث اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ تک نہیں کیا۔امریکا نے بھارت کے بجائے انڈونیشیا، فلپائن اور ویتنام کے ساتھ تجارتی معاہدے کر لئے ہیں۔ بھارتی جریدے دی ہندو کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ بھارت کو ”مردہ معیشت” قرار دے چکے ہیں۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے 500 فیصد تک بڑے ٹیرف کے نفاذ کی تیاری ایک اور سفارتی شکست ثابت ہو سکتی ہے۔ نااہل مودی کی ناکام سفارت کاری اور غلط فیصلوں کا خمیازہ بھارتی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

تھیوکریسی وجود پیر 19 جنوری 2026
تھیوکریسی

معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار وجود پیر 19 جنوری 2026
معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار

شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر