وجود

... loading ...

وجود

معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار

پیر 19 جنوری 2026 معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار

محمد آصف

ہر دور میں انسانی معاشرہ امن، استحکام اور ترقی کی تمنا رکھتا آیا ہے ۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ محض معاشی خوشحالی، سائنسی ترقی یا عسکری طاقت کسی معاشرے کو پائیدار امن اور حقیقی ترقی نہیں دے سکتیں۔ ان تمام عوامل کی بنیاد اخلاقی اقدار پر استوار ہوتی ہے ۔ اخلاق وہ زنجیر ہے جو انسان کو بے راہ روی سے روکتی، ظلم و ناانصافی سے بچاتی اور اسے خیر، عدل اور محبت کی راہوں پر گامزن کرتی ہے ۔ معاشرتی امن و ترقی اسی وقت ممکن ہے جب افرادِ معاشرہ کے اندر دیانت، صداقت، عدل، تحمل، ایثار، بردباری اور خلوص جیسی اخلاقی صفات پروان چڑھیں۔
اسلامی تعلیمات میں اخلاقی اقدار کو معاشرتی زندگی کا محور قرار دیا گیا ہے ۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے ”ِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالِحْسَانِ” (النحل: 90) یعنی ”اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے ۔” یہ آیت دراصل انسانی سماج کے توازن اور خیر کے اصولوں کو واضح کرتی ہے ۔ نبی کریم ۖ کی بعثت کا مقصد بھی اخلاقی اصلاح بیان کیا گیا” ِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الأَخْلاَقِ” میں تو صرف اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں”۔ جب افراد اپنے قول و فعل میں سچائی، دیانت اور عدل کو اپناتے ہیں تو سماجی تعلقات مضبوط اور پُرامن ہو جاتے ہیں۔اخلاقی اقدار معاشرتی انصاف کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ جب کسی قوم میں عدل و انصاف کا بول بالا ہو، تو وہاں ظلم و استحصال کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، کسی کا استحصال نہیں کرتے ، اور ہر فرد اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے ۔ یہی اخلاقی رویے قوموں کی ترقی کی اصل بنیاد ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اخلاقی اصولوں کو اپنایا، وہ عروج پر پہنچیں، اور جنہوں نے بددیانتی، لالچ اور ظلم کو رواج دیا، وہ زوال کا شکار ہوئیں۔
معاشرتی امن کے لیے باہمی احترام اور برداشت ضروری ہیں، اور یہ دونوں اوصاف اخلاقی تربیت کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتے ۔ اگر لوگ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھ جائیں، دوسروں کے خیالات کا احترام کریں، اور اپنی ذات سے زیادہ معاشرتی مفاد کو ترجیح دیں، تو جھگڑے ، فساد اور نفرتیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ اخلاقی اقدار انسان کے اندر تحمل و بردباری پیدا کرتی ہیں، جو سماج کو تنازعات سے بچانے کا بنیادی ذریعہ ہے ۔
ترقی یافتہ معاشرے کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہاں قانون کی پاسداری کے ساتھ ساتھ اخلاقی شعور بھی مضبوط ہوتا ہے ۔ قانون صرف ظاہری نظم قائم رکھ سکتا ہے ، لیکن اخلاق دلوں کو جوڑنے کی قوت رکھتا ہے ۔ اگر لوگ قانون کی پابندی محض سزا کے خوف سے کریں تو یہ وقتی حل ہے ، لیکن اگر وہ دیانت اور خوفِ خدا کے تحت خود کو برائی سے روکیں، تو یہ پائیدار اخلاقی نظام کی علامت ہے ۔ اس طرح کا نظام ہی حقیقی امن و ترقی کی ضمانت بنتا ہے ۔ اسلامی تاریخ میں خلافتِ راشدہ کی مثال اس حوالے سے روشن ہے ۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی کے ادوار میں عدل، دیانت، مساوات اور خدمتِ خلق جیسے اخلاقی اصولوں نے ایک مضبوط اور منصف معاشرہ تشکیل دیا۔ خلیفہ وقت عوام کے سامنے جوابدہ تھا، اور رعایا کو انصاف کی مکمل فراہمی حاصل تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چند برسوں میں اسلامی معاشرہ امن و ترقی کی مثال بن گیا۔ یہی وہ اخلاقی اصول تھے جنہوں نے مسلمانوں کو دنیا کی قیادت عطا کی۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں اخلاقی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے ۔ مادیت پرستی، خودغرضی، جھوٹ، رشوت، فریب، اور مفاد پرستی نے معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے ۔ انسان انسان سے خوف زدہ ہے ، اعتماد کی فضا ختم ہو چکی ہے ، اور معاشرہ انتشار کا شکار ہے ۔ تعلیم، سیاست، معیشت اور عدلیہ ہر شعبہ اخلاقی زوال کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ ایسے حالات میں سماجی امن اور ترقی کی امید رکھنا محض خواب ہے ۔
اخلاقی اقدار کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ انسان میں سماجی ذمہ داری کا احساس بیدار کرتی ہیں۔ ایک اخلاقی فرد نہ صرف اپنے حقوق کے بارے میں حساس ہوتا ہے بلکہ دوسروں کے حقوق کے لیے بھی فکر مند رہتا ہے ۔ وہ جھوٹ نہیں بولتا کیونکہ اسے سچائی کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے ۔ وہ رشوت نہیں لیتا کیونکہ اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ معاشرتی بدعنوانی کو جنم دیتی ہے ۔ وہ انصاف کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ انصاف کے بغیر معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ یہ احساسِ ذمہ داری ہی سماجی امن کا ضامن بنتا ہے ۔اخلاقی تربیت کا آغاز خاندان سے ہوتا ہے ۔ اگر والدین بچوں میں بچپن سے ہی سچ بولنے ، احترام کرنے ، دوسروں کے ساتھ نرمی برتنے اور عدل کرنے کی تربیت دیں، تو وہ بچے بڑے ہو کر معاشرے کے ذمہ دار شہری بن جاتے ہیں۔ تعلیمی ادارے بھی اخلاقی اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تعلیم کا مقصد صرف روزگار نہیں بلکہ کردار سازی بھی ہونا چاہیے ۔ ایک تعلیم یافتہ مگر بے اخلاق معاشرہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ علم اگر اخلاق کے بغیر ہو تو تباہی کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔میڈیا اور سوشل میڈیا بھی آج کے دور میں اخلاقی اقدار کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ان پلیٹ فارمز پر مثبت پیغام، دیانت، رواداری اور قومی اتحاد کے موضوعات کو فروغ دیا جائے تو معاشرہ اخلاقی بیداری کی سمت بڑھ سکتا ہے ۔ اسی طرح علمائ، اساتذہ، دانشور اور لیڈر اپنی گفتار اور کردار سے عملی نمونہ پیش کریں، کیونکہ اخلاق وعظ سے نہیں بلکہ عمل سے پروان چڑھتا ہے ۔اسلامی اصولوں کے مطابق، معاشرتی ترقی صرف مادی نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی ترقی کے امتزاج سے حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن میں بار بار تقویٰ، صدق، عدل، امانت، اور خیر کے احکامات ملتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ دنیا میں عدل و امن قائم کرے اور خیر و اخلاق کا نمائندہ بنے ۔ اگر انسان اپنی فطرت کے اس پہلو کو بھلا دے ، تو معاشرہ فساد اور تباہی کی راہ پر چل پڑتا ہے ۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ معاشرتی امن و ترقی کا راستہ اخلاقی اقدار کے فروغ سے ہو کر گزرتا ہے ۔ اگر ہم بحیثیتِ قوم سچائی، عدل، امانت، خدمت، اور رواداری کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں تو نہ صرف سماجی تنازعات ختم ہوں گے بلکہ ایک پُرامن، مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب بھی حقیقت بن سکتا ہے ۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا معاشرہ چھوڑنا ہوگا جو مادیت نہیں بلکہ اخلاقی اقدار پر کھڑا ہو کیونکہ اخلاقی انسان ہی پُرامن معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے ۔اخلاقی اقدار انسان کی روح اور معاشرے کی زندگی ہیں۔ ان کے بغیر کوئی نظام، کوئی حکومت اور کوئی ترقی پائیدار نہیں رہ سکتی۔ جب تک ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اخلاق کو اصل مقام نہیں دیتے ، معاشرتی امن اور ترقی محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گا۔ اسلام کا پیغام واضح ہے :”بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو”۔پس، اخلاقی اقدار ہی وہ چراغ ہیں جو معاشرے کے اندھیروں کو روشنی میں بدل سکتے ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

تھیوکریسی وجود پیر 19 جنوری 2026
تھیوکریسی

معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار وجود پیر 19 جنوری 2026
معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار

شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

تیسری عالمی جنگ شروع وجود اتوار 18 جنوری 2026
تیسری عالمی جنگ شروع

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر