... loading ...
جاوید محمود
۔۔۔۔
امریکہ سے
گزشتہ ایک صدی کے دوران تیل اورتوانائی کے ذرائع پر کنٹرول نے دنیا میں جنگوں کو جنم دیا۔ مختلف ممالک کو غیر متوقع اتحاد کرنے پر مجبور کیا اور متعدد سفارتی تنا زعات کو جنم دیا۔ مگراب دنیا کی دو بڑی معیشتیں ایک اور اہم اور قیمتی ٹیکنالوجی پر لڑ رہی ہیں اور یہ ٹیکنالوجی سیمی کنڈیکٹرز ہیں۔ وہ چھوٹی مائکرو چپ جو ہماری روز مرہ زندگی کا اہم رول اہم ترین جز بن چکی ہیں، سیلیکون سے بنی یہ چھوٹی چھوٹی چپس 500 ارب ڈالر کی بڑی صنعت کا دل ہیں اور اس صنعت کا حجم 2030تک دگنا ہونے کی توقع ہے ۔ ماہرین کے مطابق جو ملک بھی ان مائیکرو چپس کی سپلائی چین کا انتظام سنبھالے گا ،وہ دنیا کی سپر پاور بن جائے گا۔ چین ان مائیکرو چپس کو بنانے کی ٹیکنالوجی حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ امریکہ جس کی کے پاس یہ ٹیکنالوجی پہلے سے موجود ہے چین کو دنیا سے دور اور الگ تھلگ کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ امریکہ ڈیفینٹس یونیورسٹی کے ایسوسی اٹ پروفیسر اورچپ وارز کے مصنف کرس ملر کہتے ہیں کہ دونوں ممالک واضح طور پر ایشیا پیسیفک خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ہتھیاروں کی اس روایتی دوڑ میں جہاں جہازوں اور میزائلوں کی زیادہ تعداد میں تیاری ہے وہیں یہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے الگورتھم کے معیار پر بھی ہے جو عسکری سسٹمز میں بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ مگر اس وقت یہ جنگ امریکہ جیت رہا ہے لیکن چین کے خلاف مسلط کی گئی مائیکرو چپ کی یہ جنگ دنیا کی معیشت کو بدل رہی ہے۔ ایک آئی فون میں مائیکرو چپ ہوتی ہے جسے امریکہ میں ڈیزائن اور تائیوان جاپان اور جنوبی کوریا میں تیار کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اسے چین میں اسمبل کیا جاتا ہے۔ انڈیا جو اس صنعت میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے مستقبل میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
سیمی کنڈکٹرز امریکہ میں ایجاد کیے گئے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مشرقی ایشیا ان کی تیاری کا مرکز بن گیا اور اس کی وجہ وہاں کی
حکومتوں کی اس صنعت کے لیے مراعات اور سہولیات تھیں اس لیے واشنگٹن کو سرد جنگ کے دوران روسی اثرورسوخ کے خطرے سے دوچار
خطے میں کاروباری تعلقات اور اسٹریٹیجک اتحاد کوفروغ دینے میں مدد دی ہے اور یہ آج بھی ایشیا پیسیفک خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے
اثر رسوخ کے پیش نظر بہت مفید ہیں ۔اس وقت مقابلہ وسیع پیمانے پر سب سے بہترین اور موثر مائیکرو چپ بنانے کا ہے اور ایسے میں یہ
چپ جتنی چھوٹی ہوگی اتنا بہتر ہے ۔اس کی تیاری میں جو چیلنج بھی ہے کہ سیلیکون اس چھوٹے سے ٹکڑے پر کرنٹ کو روکنے اور گزرنے والے
کتنے ٹرانسسٹرز لگائے جا سکتے ہیں کیلیفورنیا کی سیلیکون ویلی میں قائم بین لینڈ کمپنی کے جیو وانگ کا کہنا ہے کہ اسے سیمی کنڈیکٹرز کی صنعت
میں مورز لا کہا جاتا ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ مائیکرو چپ پر ٹرانسٹرزکی تعداد کو دگنا کرنا ہے اور اس ہدف کو حاصل کرنا بہت مشکل
ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو ہماری موبائل فونز کو تیز بناتی ہے ہماری فوٹو گیلری کو بھاتی ہے اور ہماری اسمارٹ ڈیوائسز کو وقت کے ساتھ ساتھ بہتر
اور جدید بناتی ہے اور سوشل میڈیا کے مواد کو مزید اچھا بنا کر پیش کرتی ہے۔ امریکہ اپنے ملک میں بھی زیادہ مائیکرو چپس تیار کرنا چاہتا ہے
چپس اور سائنس لا کے تحت امریکہ میں ہی چپس تیار کرنے والی کمپنیوں کو 53 ملین ڈالرز کی گرانٹس اورسبسڈی دی گئی ہیں۔ اس کا فائدہ ٹی
ایم ایس سی جیسی بڑی کمپنیاں اٹھا رہی ہیں جو کہ تائیوان سے باہر پہلی بار 40ارب ڈالرز کے دو پلانٹس میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکرون( امریکہ میں میموری چپس بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے جو سپر کمپیوٹرز فوجی ساز و سامان اور کسی بھی ڈیوائس کے لیے ضروری ہے جس میں پروسیسر شامل ہے )نے اگلے 20 سالوں میں امریکہ کی ریاست نیویارک میں چپس بنانے کے پلانٹ میں تقریبا 100بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اپنی مائیکرو چپ انڈسٹری کو مضبوط کرنے کے لیے سرمایہ کاری کو دگنا کر سکتا ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں چینی صدر شی جن ینگ نے کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس میں کہا کہ ہم قومی تزوراتی ضروریات پر توجہ مرکوز کریں گے۔ ٹیکنالوجی کے کلیدی شعبوں میں جنگ جیتنے کے عزم کے ساتھ اپنی سائنسی اور ٹیکنیکی تحقیق کو انجام دینے کے لیے اپنی طاقتوں کو جمع کریں گے۔ اس وقت چین کی مائیکرو چپ صنعت کو یوکرین میں جنگ بڑھتی مہنگائی اور چینی معیشت کے دوبارہ کھلنے سے پیدا ہونے والی معاشی بحران کا سامنا ہے لیکن اس کا حصول کسی بھی مائیکرو چپ بنانے والی بڑی کمپنی کے لیے آسان نہیں ہے۔ 2022کے وسط میں سلم سنگ وہ پہلی کمپنی بنی تھی جس میں تین نینوں میٹر والی مائیکرو چپس کی وسیع پیمانے پر تیاری کا آغاز کیا تھا ۔یہ چھوٹی مائیکرو چپس بہت طاقتور ہوتی ہیں اور یہ دیگر قیمتی آلات جیسا کہ سپرکمپیوٹرز اور دیگر آرٹی فیشل انٹیلی جنس کے آلات میں استعمال ہو سکتی ہے۔ دنیا کی زیادہ تر مائیکروجپس تائیوان میں تیار کی جاتی ہیں اور اسی لیے اس کے صدر اسے سیلیکون شیلڈ کا نام لیتے ہیں۔ یعنی عام زبان میں یہ چین سے تحفظ دیتا ہے جو اس خطے پر اپنا حصہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ چین نے بھی مائیکرو چپ کی تیاری کو قومی ترجیح کے طور پر لیا ہے اور وہ سپر کمپیوٹرز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی صنعت میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ تاہم اب بھی وہ اس صنعت میں عالمی لیڈر بننے کی دوڑ میں بہت پیچھے ہے۔ لیکن گزشتہ ایک دہائی کے دوران وہ اس دوڑ میں بہت قریب آگیا ہے۔ اگر آپ تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو ہر مرتبہ طاقتور ممالک انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ترقی کرتے ہیں اور اپنے عسکری اور انٹیلی جنس کے نظام کا حصہ بنا دیتے ہیں اور یہی بات ہے کہ چین کی مائیکرو چپس کی طلب کو پورا کرنے کے لیے تائیوان اور دیگر ایشیائی ممالک پر اس کی انحصاری ہی امریکہ کو کھٹکتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ مائیکرو چپ ٹیکنالوجی تک چین کی رسائی کو روکنے کی کوشش کرتی رہی تھی۔ واشنگٹن نے اس ضمن میں وسیع پیمانے پر سخت اختیارات یا کنٹرولز کا اعلان کیا جس کی وجہ سے کمپنیوں کے لیے مائیکرو چپس کو بنانے والی مشینیں یا امریکی ٹیکنالوجی پرمشتمل پروگرام چین کو برآمد کرنا تقریبا ناممکن ہو گیا ہے۔ چاہے وہ دنیا میں کہیں بھی کیوں نہ ہوں۔ امریکہ نے اپنے شہریوں یا امریکی رہائشیوں کو چین کی بعض فیکٹریوں میں مائیکرو چپس کی تیاری و پیداوار کی حمایت کرنے سے بھی منع کیا۔ امریکہ کی اس پالیسی نے طاقتور ایشیائی ملک چین کو بہت نقصان پہنچایا ہے کیونکہ اس کی تیزی سے اُبھرتی ہوئی چپ انڈسٹری کا انحصار درآمد شدہ ہارڈویئر اور انسانی صلاحیتوں پر ہے۔ ٹریو یم چین میں پالیسی ریسرچ تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں ٹیلنٹ بہت اہم ہے ۔اگر آپ چینی سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے ایگزیکیوٹرز کو دیکھیں تو ان میں سے بہت سے لوگوں کے پاس امریکی پاسپورٹ ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس ملک میں تعلیم حاصل کی ہے یا ان کے پاس گرین کارڈ ہیں ۔یہ چین کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنیوں تائیوان کی کمپنیوں چینی کمپنی ہو اور دوسرے ممالک سے آنے والی ہر دوسری فرم کے درمیان بہت زیادہ مقابلہ ہوگا۔ مگر یہ صرف وہیں ہوگا جہاں جدید ترین میموری اور لوجک مائیکرو چپس کی تیاری ہوگی اور ایسے میں ہم امریکہ کو چین کو ان کمپنیوں سے دور رکھنے اور چین کی امریکی موجودگی کے بغیر اپنی سپلائی چین بنانے کی کوشش کرنے روکنے کی کوشش کرتا دیکھیں گے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ اس صنعت کی ایگوسسٹم کی تفریق ہو سکتی ہے یعنی ایک چین میں مرکوز ہوگا اور دوسرا باقی دنیا میں، اس کے اثرات عالمی معیشت پرپڑیں گے اور تمام فریقین کو امریکہ یا چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا اور یہ خطرہ بھی ہوگا کہ بہت سے لوگ چینی مارکیٹ تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ واضح نظر آرہا ہے کہ آنے والے دنوں میں تیل کے لیے نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے جنگیں ہونگیں۔
٭٭٭