وجود

... loading ...

وجود

بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

بدھ 14 جنوری 2026 بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

ریاض احمدچودھری

بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورو میں حکومت نے 200 سے زائد گھروں کو مسمار کردیا، جس کے باعث سینکڑوں مسلمان خاندان بے گھر ہوگئے۔ریاستی حکومت کی جانب سے یہ انہدامی کارروائی رواں ہفتے کے آغاز میں 22 دسمبر کی صبح تقریباً 4 بجے فقیر کالونی اوروسیم لے آؤٹ (کوگیلو گاؤں) میں کی گئی، جس سے لگ بھگ 400 خاندان بے گھر ہو گئے۔ حکومت کی جانب سے یہ ظالمانہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب بنگلورو کو حالیہ برسوں کی شدید سردی کا سامنا ہے۔ بھارت میں ‘آئی لَو محمد ۖ’ کہنا بھی جرم بنا دیا گیا، بریلی میں پولیس مسلمانوں پر ٹوٹ پڑی۔ بنگلورو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ لمیٹڈ کی جانب سے کی گئی کارروائی کے دوران ہیوی مشینری اور سیکڑوں پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ مکانات ایک جھیل کے قریب، اردو گورنمنٹ اسکول سے متصل سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔ تاہم متاثرہ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی پیشگی نوٹس نہیں دیا گیا اور پولیس نے زبردستی بے دخل کر دیا، جس کے باعث سیکڑوں افراد شدید سردی میں سڑکوں اور عارضی پناہ گاہوں میں رات گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ بعض رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ 25 برس سے اس علاقے میں مقیم تھے اور ان کے پاس آدھار کارڈ اور ووٹر آئی ڈی جیسی دستاویزات بھی موجود ہیں۔ بے دخل کیے گئے افراد میں اکثریت مہاجر مزدوروں کی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے جبکہ عالمی برادری خاموش ہے۔بی جے پی،آرایس ایس نے وادی کو ہندوریاست میں تبدیل کرنے کیلئے گٹھ جوڑ شروع کردیا۔مسلم کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کیلئے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔
بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست آسام کے ضلع سونیت پور میں حکام نے انسداد تجاوزات کی آڑ میں مسلمانوں کے تقریبا 1,200مکانات مسمارکردیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مسماری کی مہم تیز پور صدر اور ڈھکیاجولی کے علاقوں جموکٹول، ارماڑی، سیالیچار، باگھیٹاپو، گلاٹیڈوبی، لاٹھیماری، کنڈولیچار، پوربا ڈوبراماری اور بارہ ماڑی میں چلائی گئی جہاں مسلمانوں کو جان بوجھ کرنشانہ بنایا گیا۔حکام کا دعویٰ ہے کہ مسمار کیے گئے مکانات تجاوزات کرکے برہچاپوری وائلڈ لائف سینکچری کے اندربنائے گئے تھے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سینکچری کے اندر زمین پر فصلیں کاشت کی جا رہی تھیں۔ تاہم، متاثرہ خاندانوں نے ان دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ان کے آباو اجداد کئی دہائیوں سے اس خطے میں آبادتھے جن میں سے کچھ لوگوں نے دریائے برہم پترا میں کٹائو کی وجہ سے اپنی زمینیں کھوئی تھیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکام کے اقدامات ریاست میں مسلمانوں کو پسماندہ اور بے گھر کرنے کی وسیع تر اورمنظم کوششوں کا حصہ ہیں۔تجاوزات کے دعوئوں کے باوجود بے گھر ہونے والے خاندانوں کا استدلال ہے کہ تاریخی طورپر وہ علاقے کے باشندے ہیں اوران کے آباو اجداد بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے تھے جو دریائے برہم پترا میں کٹائو کی وجہ سے بے گھر ہو گئے تھے۔
بے دخلی اورمسماری کی مہم کئی بارپر تشدد صورتحال کا رخ اختیارکرچکی ہے۔ ضلع گول پاڑہ میں کرشنائی کے علاقے ودیاپاڑہ میں پولیس نے احتجاج کرنے والے مسلم خاندانوں پر گولی چلائی جس میں ایک 19سالہ مسلم نوجوان جاں بحق اور کئی دیگر زخمی ہوگئے تھے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی کارکنوں نے آسام کی بے دخلی مہم میں مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔سابق فوجی سربراہان مودی حکومت پر برس پڑے، مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیوں کو دیکھتے ہوئے ملک میں امن خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے،پانچوں فوجی سربراہان نے خدشہ ظاہر کیا کہ مسلمانوں کونسل کشی کی دھمکیاں بھارت کو تباہ کرسکتی ہیں۔مودی حکومت کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ ملک میں امن کی خلاف ورزی سے دشمن بیرونی قوتوں کو حوصلہ ملے گا،دریں اثناریاست اترکھنڈ کی پولیس نے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور ان کی نسل کشی کرنے کے لیے اکسانے پر ہندو توا ‘دھرم سسند’ اجتماع کے منتظم یاتی نراسیمہانند سمیت 5افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ خط میں سرحدوں کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ تشدد کی اس طرح کی کالیں ملک کے اندر امن و ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے۔اس میں کہا گیا کہ ملک کے اندر امن کی کسی بھی خلاف ورزی سے دشمن بیرونی قوتوں کو حوصلہ ملے گا اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) اور پولیس فورس مذہبی بنیاد پر نفرت آمیز بیانات کی وجہ سے شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔خط میں کہا گیا کہ ‘ہم نفرت اور تشدد پر مبنی عوامی اظہار کو اکسانے کی اجازت نہیں دے سکتے، جو نہ صرف داخلی سلامتی کی سنگین خلاف ورزیوں کو تشکیل دیتا ہے بلکہ جو ہماری قوم کے سماجی تانے بانے کو بھی تباہ سکتا ہے۔خط میں کہا گیا کہ مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے اپنی فوج کو ہی حصہ لینے کے لیے دعوت دینا یہ ناقابل قبول اور قابل مذمت ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر