... loading ...
آواز
۔۔۔۔۔۔
امداد سومرو
سندھ ایک ایسے معاشرے کا نام ہے جہاں صدیوں سے باہمی رہائش، برداشت اور انسانی اقدار کی روایات موجود رہی ہیں۔ یہ سرزمین ہمیشہ تنوع، رواداری اور اجتماعی شعور کی علامت رہی ہے ۔ مگر اس روشن تاریخ کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے کہ آج کا سندھ کئی ایسے فرسودہ سماجی ڈھانچوں میں جکڑا ہوا ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوتے چلے گئے ہیں۔ذات برادری کی بنیاد پر سیاست، قبائلی نظام، نام نہاد سرداری سوچ اور پیر مریدی کا جمودیہ تمام عناصر اب سندھ کی فکری آزادی اور اجتماعی شعور کے سامنے ایک سنجیدہ سوال بن چکے ہیں۔
شناخت، عقیدت یا غلامی؟
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان اپنی شناخت یا روایت سے محبت کرتا ہے ۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب شناخت سوچ کی جگہ لے لے ، اور ذات، قبیلہ یا پیر انسان کے ذہن، ضمیر اور اصولوں پر حاوی ہو جائے ۔جب معاشرے اصولوں کے بجائے تعلقات، نظریات کے بجائے نسبتوں اور انصاف کے بجائے وفاداریوں پر چلنے لگیں تو ترقی رک جاتی ہے اور سماج ایک ہی دائرے میں گھومتا رہتا ہے ۔مظلوم کے ساتھ کون کھڑا ہے ؟نادر جمالی کا واقعہ ہو یا سندھ کے دیگر علاقوں میں ہونے والے سانحات، ان سب میں ایک پہلو حوصلہ افزا بھی ہے ۔ عام سندھی شہری نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ وہ ذات، قبیلے اور برادری سے بالاتر ہو کر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے ۔نہ ذات دیکھی گئی، نہ قبیلہ، نہ ہی پیر یا سردار۔ احتجاج، سوال اور ہمدردی زیادہ تر اسی سماج سے ابھری جسے ہم عام لوگ کہتے ہیںنہ کہ ان تنظیموں سے جو خود کو ذات یا مذہب کی نمائندہ قرار دیتی ہیں۔
سات حر قتل اور سوالیہ خاموشی
چند برس قبل خیرپور میں سات حر افراد کا قتل ایک بڑا انسانی سانحہ تھا۔ مگر اس واقعے پر حر جماعت کی قیادت کی جانب سے اختیار کی گئی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا۔اس کے برعکس کراچی پریس کلب پر ہونے والا احتجاج سندھ کی سول سوسائٹی، صحافیوں اور باشعور حلقوں نے کیا۔ یہ خود اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ظلم کے خلاف آواز آج بھی قبائلی یا پیرانہ ڈھانچوں سے نہیں بلکہ سماجی شعور سے اٹھتی ہے ۔
غربت، خوف اور گدیوں کی طاقت
اگر سندھ کو غور سے دیکھا جائے تو ذات پرستی، قبائلیت اور پیر پرستی انہی علاقوں میں زیادہ مضبوط نظر آتی ہے جہاں غربت انتہا کو پہنچ چکی ہے ۔تھر، عمرکوٹ، سانگھڑ، خیرپور اور کاچھویہ وہ خطے ہیں جہاں قحط، بھوک، بیماری اور بے روزگاری نے لوگوں سے سوال کرنے کی طاقت چھین لی ہے ، اور یہی علاقے مختلف گدیوں اور جماعتوں کے مضبوط گڑھ بھی ہیں۔یہ کوئی اتفاق نہیں کہ حر جماعت کا اثر تھر اور ریگستانی علاقوں تک محدود ہے ، شاہ محمود قریشی کے مریدوں کی اکثریت تھر اور عمرکوٹ میں ہے ، پنجاب یا سرائیکی پٹی میں نہیں۔اسی طرح لنواری شریف، کاچھو اور نینگی کے صالح شاہ کی گدیاں بھی انہی خطوں میں زیادہ اثر رکھتی ہیں جہاں غربت انسان کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیتی ہے ۔
نذرانہ، مگر سوال ممنوع
یہ ایک دردناک حقیقت ہے کہ انتہائی غریب لوگ جو اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور خوراک کے لیے پریشان ہیںوہی پیرانِ کرام اور گدیوں کو بڑی رقوم نذرانے کے طور پر دیتے ہیں۔عقیدت اپنی جگہ، مگر جب عقیدت سوال کرنے کی صلاحیت ختم کر دے تو وہ استحصال میں بدل جاتی ہے ۔افسوس یہ ہے کہ کروڑوں اور اربوں روپے کی طاقت رکھنے والی یہ گدیاں اور جماعتیں اپنے علاقوں میں بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی کے لیے کوئی منظم کردار ادا کرتی دکھائی نہیں دیتیں۔ان کے پیر صاحبان اور گدی نشین اسمبلیوں، وزارتوں اور مشاورت کے ایوانوں تک تو پہنچ جاتے ہیں، مگر مریدوں کی تعلیم، صحت اور روزگار ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتیں۔
مسئلہ مذہب نہیں، طاقت ہے
سندھ کا مسئلہ نہ مذہب ہے ، نہ روحانیت اور نہ ہی محض قبائلیت بلکہ طاقت کے اس غیر متوازن استعمال کا ہے جو غربت، جہالت اور خوف سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔ جب قبیلہ، ذات، سردار اور پیر سوال سے بالاتر ہو جائیں تو معاشرے میں انصاف کے بجائے تابعداری جنم لیتی ہے۔
سندھ کس سمت جا رہا ہے ؟
مصنوعی ذہانت اور جدید انسانی ترقی کے اس دور میں سندھ کے سامنے چند بنیادی سوال کھڑے ہیں:کیا ہم اب بھی اپنا ووٹ، اپنی آواز اور اپنی وفاداری ذات، قبیلہ اور گدی دیکھ کر دیں گے ؟کیا بھوک، قحط اور بیماری میں جینے والے انسان کے لیے پیر کا نذرانہ تعلیم، علاج اور روزگار سے زیادہ اہم رہے گا؟کیا ہر ظلم کے بعد قبیلے کو بچایا جائے گا اور مقتول کو فراموش کر دیا جائے گا؟کیا سوال کرنا اب بھی بے ادبی، بغاوت یا گناہ سمجھا جائے گا؟کیا کبھی گدی نشینوں سے یہ پوچھا جائے گا کہ ان کی اربوں روپے کی طاقت نے غربت کم کرنے کے لیے کیا کردار ادا کیا؟کیا سندھ کا نوجوان سردار اور پیر کے سائے میں ہی اپنا مستقبل تلاش کرتا رہے گا، یا اپنی عقل اور شعور پر بھروسہ کرے گا؟اور سب سے اہم سوال:کیا ظلم کے خلاف اکٹھا ہونا محض ذاتی ردِعمل رہے گا، یا اسے اجتماعی ضمیر کی ذمہ داری بنایا جائے گا؟یہ سوال کسی ایک کے خلاف نہیں، بلکہ ہم سب کے لیے ہیں۔کیونکہ سندھ کا مستقبل نعروں میں نہیں، بلکہ ان سوالوں کے دیانت دارانہ جواب تلاش کرنے میں ہیں۔