وجود

... loading ...

وجود

لفظوں کا مصور!

پیر 12 جنوری 2026 لفظوں کا مصور!

بے لگام / ستار چوہدری

چشم تصور میں جسے دیکھا،جسے سوچا،اسے ، جب دیکھا۔۔۔وہی۔۔۔وہ عمرکے اس حصے میں تھی جہاں بچپن اورجوانی ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔۔۔وہ ہنستی تو لگتا، چاندنی کے نیچے دریا کی لہریں مسکرا رہی ہوں۔۔۔ لگتا، بہار کے ہر پھول نے خوشبو بکھیر دی ہو۔۔۔ لگتا، ہوا میں چھپی روشنی ناچنے لگی ہو۔۔۔ لگتا، دن کی سخت دھوپ میں نرمی کے قطرے برس گئے ہوں۔۔۔ لگتا، ہرستارہ آسمان سے زمین پر اتر آیا ہو۔۔۔ لگتا، پھولوں کی بارش ہو رہی ہو۔۔۔ لگتا، خاموش فضا میں موسیقی گونج رہی ہو۔۔۔ وہ ہنستی تولگتا، دل کے دروازے خود بخود کھل گئے ہوں۔۔۔اس کی مسکراہٹ، نرمی میں چھپی روشنی کی طرح دل کو چھو جائے ، چاندنی میں بہتی ہوا کی نرم لہریں، خاموشی میں چھپی ہوئی خوشی کی سرگوشی، ہونٹوں کے سرخ انگاروں سے بھی زیادہ دلکشی لیے ہوئے ، دل کی دھڑکن کو تھام لینے والی ہلکی خوشبو کی طرح، ہر نظر کو روک کردل میں چھپی مسرت پیدا کرنے والی، شخصیت کا حسین امتزاج، اسکی مسکراہٹ احساس اور جذبات کی ترجمان۔۔۔وہ خاموش ہوتی تو لگتا وقت تھم گیا ہو۔۔۔ لگتا، ہوا رک گئی ہو اور ہرچیز سنبھل کرکھڑی ہو ۔۔۔ لگتا، چاندنی نے روشنی روک دی ہو،ہرسایہ تھم گیا ہو۔۔ ۔ لگتا ، دن کی ہرروشنی اورہرصدا صرف اس کے لیے رک گئی ہو۔۔۔۔ لگتا، خاموشی میں بھی دل کی باتیں سنائی دے رہی ہوں۔۔۔ لگتا، دنیا اپنی سانس تھام کراس کی موجودگی دیکھ رہی ہو۔۔۔ وہ خاموش ہوتی تو لگتا، وقت ایک لمحے کیلئے خوابوں میں کھو گیا ہو۔۔۔اس کی گفتگو، ہوا میں بہتی نرم موسیقی، خاموشی اور ہنسی کے درمیان حسین امتزاج، لفظوں سے بڑھ کراثرڈالتی، دل کی زبان بولتی ہوئی، سکون اورتوانائی کو ساتھ
لے کر بہتی ہوئی، ہوا میں لہراتے نرم چھوٹے پھولوں کی مانند، روشنی کی نرم کرنوں کی طرح، ہر لفظ دل میں بس جائے ۔۔۔ اس کی باتیں خاموش دلکشی کی سرگوشیاں، سوچ کے دریچے کھول دینے والی، نسوانی وقار کی نرم عکاسی، نظرکے بغیر بھی دل کو بہکانے والی، سہمی ہوئی خوشبو کی طرح، ہرکان اوردل کو چھو لینے والی، خاموش قوت کے ساتھ، ہرلمحے یاد رہ جائیں۔۔۔اس کا لہجہ نرمی اور وقار میں ڈوبا، ہر لفظ میں کشش لیے ہوئے ، ایک ہلکی لہر، جوسننے والے کے اندر تک اتر جائے ۔۔۔ اس کی آواز نظر سے پہلے دل کو چھو لینے والی روشنی۔۔۔اس کے ہونٹ سرخ انگارے ، آدھ کھلے گلاب،شفق شام کے رنگ میں رنگے ہوئے ،کشمیری جھیلوں کا گہرا پن،انارکے دانے ، سرخی مائل چاندنی کی نرم لکیر، رس بھری چیری کی طرح دلکش، سرخ ریشم پر کھنچی ہوئی دعا، خزاں میں کھلتے پھول کی مانند نایاب، خاموش غزل کے پہلے مصرعے جیسے ، لبِ دریا پراترتی شام کی سرخی، پانی پرتیرتے کنول کی طرح، آتشیں مرجان کا ہلکا سا لمس، سپنوں کی سرخ مہر، لفظوں سے پہلے مسکراہٹ کی طرح،اس کے ہونٹ حیا میں لپٹی ہوئی شوخی کی طرح۔۔۔اس کی آنکھیں رات کے سناٹے میں جلتے چراغ،ٹھہرا ہوا سمندر، آدھ کھلی نیند میں الجھی ہوئی دعا، شفق میں بھیگا ہوا افق، خاموش سوالوں کا دفتر، چاندنی میں نہایا ہوا کنول، بادلوں میں لپٹی ہوئی بجلی، بارش سے پہلے کی ہوا، ٹوٹے ہوئے خوابوں کی حفاظت، کالی جھیل پر لرزتی روشنی، لفظوں سے بے نیاز گفتگو، وقت کو روک لینے والا لمحہ، رازوں کی امین، خاموش بغاوت، اسکی آنکھیں دل کی سمت دکھانے والا قطب نما۔۔۔اس کی ابرویں، چہرے کی ہلکی چھاؤں کی طرح نرم اور سیدھی، آدھ کھلے بادل کی لکیروں کی مانند، آنکھوں کے گہرے رازوں کی محافظ ، نظر کو روک کر دل کو سوچ میں ڈال دینے والی، مسکان کی نرم لہروں کے ساتھ بہتی ہوئی، اس کی ابرویں،خاموش جذبات بیان کرتی ہوئی، حرکت میں تاثرات کی نرمی اورگہرائی پیدا کرتی ہوئی۔۔۔اس کی پلکیں رات کی خاموش روشنی میں لپٹی ہوئی نرم لکیریں، ہلکی ہوا میں جھولتی خوشبو کی مانند، آنکھوں کے رازوں کی پردہ دارمحافظ، آنکھوں کی گہرائی میں چھپی کہانی سنانے والیں۔۔۔ اس کی ناک سنگِ مرمر پرتراشی ہوئی لکیر، چہرے پرکھنچا ہوا نازک زاویہ، شرافت کی امین، حسن کی میزان میں اعتدال، خاموش وقار کی پہچان، قدرت کے ہاتھوں کی نفیس کاریگری، چہرے کے نقشے کا مرکز، سلیقے سے رکھی ہوئی آبرو، پرانی تصویروں کا کلاسیکی حسن، چہرے پر نظم کی مانند ترتیب، تکلف سے بے نیاز سادگی، وقار میں ڈھلی ہوئی لکیروں کی کہانی، نسوانی حسن میں ٹھہراؤ، خود اعتمادی کی نرم علامت، اس کی ناک خاک سے اٹھے انسان کی شرافت۔۔۔اس کا چہرہ سحر کے وقت کھلتی روشنی، خاموش دعا کی قبولیت، چاندنی میں دھلا ہوا خواب، وقت کی گرد سے محفوظ آئینہ، ٹھہری ہوئی مسکراہٹ کا وطن، حیا اور اعتماد کا حسین امتزاج، نرم روشنی میں لکھا ہوا افسانہ، سفید کاغذ پر قدرت کی تحریر، دل کو ٹھہراؤ دینے والی صبح، بے آواز موسیقی، لفظوں سے پہلے اثر کرنے والا احساس، سکون میں لپٹی ہوئی توانائی، سادگی میں چھپا ہوا جلال، اس کا چہرہ حسن نہیں، کیفیت تھا۔۔۔اس کی زلفیں، رات کی سیاہی میں گھلی ہوئی چاندنی، ہوا کے ساتھ اڑتی ہوئی خاموش کہانی، کالی ریشم کی لٹیں، بارش کے بعد مٹی کی خوشبو، شام کے سائے ، جو کندھوں پر اتر آئے ، وقت کی انگلیوں سے سنوری ہوئیں، آنکھوں پر پڑتی ہلکی سی رات، قدرت کا نرم پردہ، خاموشی میں بکھری ہوئی موسیقی، چہرے کے گرد بنے ہوئے سوالیہ نشان، سیاہ بادل، جن میں روشنی اٹکی ہو، نظم کی بے ترتیب سطریں، کندھوں پر ٹکی ہوئی شام، سکون میں الجھی ہوئی شوخی، اس کے زلفیں حسن کی تکمیل کا آخری لمس ۔۔۔اس کے دانت، مسکراہٹ میں چھپی ہوئی روشنی، اس کے دانت، ہونٹوں کے سنگ نرم موسیقی بکھیرتے ہوئے ، خاموش دلکشی کی نرم جھلک، مسکان میں چھپی ہوئی وقار کی علامت، مسکراہٹ کے بغیر بھی دل کو روشن کرنے والے ، فطرت کی نفیس تراشی، مسکان کے لمحات میں حسن کی تکمیل۔۔۔اس کی گردن، ہوا میں بہتی ہوئی ریشمی لکیروں کی مانند، چہرے اورکمرکے درمیان نرمی اور وقار کا حسین پل، اس کی گردن، ہرحرکت میں دلکشی کی خاموش لہر پیدا کرتی ہوئی، ہلکی ہوا میں جھولتی روشنی کی طرح۔۔۔اس کا قد، خود اعتمادی میں سیدھی کھڑی دعا، خاموش وقار کی علامت، جیسے وقت اس کے سامنے ٹھہر گیا ہو، نرمی میں لپٹی ہوئی مضبوطی، اعتدال میں ڈھلا ہوا حسن، اس کا قد زمین سے جڑا، مگر آسمان کی طرف اٹھا ہوا، قدرت کی نپی تلی ترازو، خاموش اعتماد کا ستون، حسن سے زیادہ شخصیت کا اظہار، اس کا قد ایسا کہ نگاہ خود بخود احترام میں جھک جائے ، اس کا قد لفظوں کے بغیر تعارف، اس کا قد ٹھہراؤ میں کھڑی روانی، نسوانی وقار کی مکمل تصویر، اس کا قد نظر کو نہیں، دل کو متاثر کرنے والا۔۔۔اس کا جسم اعتدال میں ڈھلا ہوا توازن، قدرت کی نپی تلی ساخت، نرمی اور مضبوطی کا حسین سنگم، خاموش ہم آہنگی، حرکت میں نظم، اس کا جسم وقار میں لپٹی ہوئی روانی، اس کا جسم سادگی کی مکمل تصویر، وقت کے ساتھ سنورتی ہوئی ترتیب، خاموش اعتماد کی زبان، اس کا جسم آئینے میں نہیں، نگاہ میں اترنے والا تاثر، بے جا نمائش سے پاک حسن، اس کا جسم فطرت کی متوازن تخلیق۔۔۔اس کا نسوانی حسن، سینے میں سمٹی ہوئی زندگی کی حرارت، قدرت کا نرم ابھار، جسمانی ساخت میں توازن کی علامت، ماں ہونے کے امکان کی خاموش نشانی، نسوانیت کی فطری تکمیل، قدرت کی وہ عطا جو عورت کو عورت بناتی ہے ،اس کا نسوانی حسن، نرمی میں چھپی ہوئی دلکشی، جسم کے خدوخال میں ہم آہنگی، حسن ترکیب،اس کا نسوانی حسن، وہ وقار جو نظر کو ٹھہرنے پرمجبورکرے ، فطرت کا خاموش اشارہ، دلکشی میں اضافہ، عورت کے وجود کی جمالیاتی تکمیل، اس کے ہاتھ ، نرمی میں مضبوطی لیے ہوئے ، خاموشی سے محبت بانٹنے والے ، روشنی کو چھو کر بھیگنے والے ، محبت اور وقار کی زبان بولتے ہوئے ، نرمی میں چھپی ہوئی طاقت، چلتی ہوئی نظم کی لکیریں، اس کے ہاتھ تخلیق اور حفاظت کا امتزاج، نظر سے پہلے دل کو چھو لینے والے ، وقت کی نرمی اور مضبوطی کی تصویر، اعتماد اور وقار کی نشانی، مسکراہٹ کے بغیر احساس پہنچانے والے ، اس کے ہاتھ سکون اور حرکت کے حسین امتزاج۔۔۔ اس کے پاؤں، زمین کو احترام کے ساتھ چھوتے ہوئے ، خاموشی میں بھی خود اعتمادی کے قدم، ہوا میں نہا کر اترتے ہوئے روشنی کی مانند، حرکت میں نظم اور سکون کا امتزاج، قدرت کے توازن کا آئینہ، قدموں میں چھپی ہوئی نرمی اور وقار، اس کے پاؤں، راستے کو بھی دلکشی سے چمکا دینے والے ، زمین پر جمی روشنی کے لمس کی طرح، اس کے پاؤں حرکت کی موسیقی، اس کے پاؤں نسوانی وقار کے ستون، قدرت کی نرم تراشی کا ثبوت، اس کے پاؤں سادگی میں چھپی ہوئی طاقت کا اظہار ۔۔۔۔ اس کی کمر، ہوا میں بہتی نرمی کی طرح دلکشی لیے ہوئے ، اس کی کمر، روشنی میں جھلملاتی ریشم کی لکیر، نرمی میں چھپی ہوئی سکونت اور استحکام، جسمانی توازن کی فطری ہنرکاری، ہر حرکت میں دلکشی کا حسین لمس، نسوانی وقار اور جمال کا محور، اس کی کمر، ایک ہلکی لکیریں، جو نگاہ کو روک لیں، اس کی کمر، قدرت کی تراشی ہوئی فنکارانہ لکیریں، سہل نرمی اور مضبوطی کا امتزاج۔۔۔اس کی چال،ہوا میں بہتی ہوئی نرم ریشم کی مانند، اس کی چال، زمین پر پڑتے قدموں سے خاموش موسیقی بکھیرتی ہوئی، نرمی میں پوشیدہ مضبوطی کی علامت، اس کی چال، آہستہ مگر ہر نگاہ کو اپنی طرف کھینچنے والی، قدرت کی تراشی ہوئی نفیس روانی، حرکت میں وقار، ہر قدم میں دلکشی، ہلکی ہوا میں جھولتی روشنی کی مانند، سکون اور توانائی کا حسین امتزاج، اس کی چال، نظر کو نہیں، دل کو بہکانے والی، اس کی چال، ہرقدم میں فطرت کا نرم فنکارانہ لمس، اس کی چال، خاموش جاذبیت، جوہرمنظرمیں نمایاں ہوجائے ۔۔۔
میں لفظوں کا مصور ہوں
رات کی تنہائی میں بیٹھتا ہوں
اوراس کی یاد کو
ایک لفظ کی شکل دیتا ہوں
وہ لفظ جو۔۔۔۔!!
اس کی آنکھوں کی طرح گہرا ہو
اس کی ہنسی کی طرح ہلکا
اوراس کی خاموشی کی طرح بھاری ۔۔
میں اسے لکھتا ہوں۔۔۔!!
جیسے کوئی پھول کھلتا ہے
آہستہ آہستہ
بغیر شور کے کبھی یہ لفظ
میرے ہاتھ سے نکل کر
اس کے دل تک پہنچ جائے گا
اور وہ سوچے گی
یہ تو میری بات ہے ۔۔۔۔
میں مسکرا کر دیکھوں گا
کیونکہ مصور کا کام
بس تصویر بنانا ہے
اسے دیکھنے والا
خود اس میں گم ہو جائے
میں لفظوں کا مصور ہوں
اور میری سب سے پیاری تصویر
وہ ہے
جو آج بھی
ادھوری ہے
مگر اس ادھورے پن میں
ایک پوری دنیا سانس لیتی ہے ۔


متعلقہ خبریں


مضامین
لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

شہری طرزِ حکمرانی صنفی شمولیت کے تناظر میں وجود پیر 12 جنوری 2026
شہری طرزِ حکمرانی صنفی شمولیت کے تناظر میں

انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت وجود اتوار 11 جنوری 2026
انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر