وجود

... loading ...

وجود

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

پیر 12 جنوری 2026 اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

جاوید محمود
۔۔۔۔۔
امریکہ سے

زمین پر سب سے بڑے جزیرے یعنی گرین لینڈ کی کشش سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ایک ہزار سال قبل یعنی پہلی یورپی بستی کی بنیاد رکھنے والے ایرک دی ریڈ سے لے کر دوسری عالمی جنگ میں حصہ لینے والی اتحاد ی افواج تک اس جزیرے کے الگ تھلگ ساحل سب کی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور اب گرین لینڈ ایک بار پھر عالمی دلچسپی کا مرکز ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نظریں اس پر ہیں۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران ہونے والی دریافتوں سے لگائے گئے اندازوں اور تفصیلی نقشہ سازی کی بدولت گرین لینڈ میں اہم معدنی وسائل کی موجودگی کے شواہد سامنے آئے ہیں ،ان معدنی وسائل میں نایاب عناصر اور گرین لینڈ انرجی ٹیکنالوجی کے لیے استعمال ہونے والی اہم معدنیات کے ساتھ ساتھ فوسل ایندھن کے ممکنہ ذخائر بھی شامل ہیں لیکن گرین لینڈ میں دفن ان ذخائر کے لیے پائے جانے والے عالمی جوش و خروش کے باوجود معدنیات اور فوسل ایندھن کو تلاش کرنے اور پھر اسے نکالنے کا عمل اقوام عالم کے لیے ایک کثیرالجہتی اور کثیرالقومی چیلنج ہوگا ۔
ہمیں دستیاب زیادہ تر نقشوں پر گرین لینڈ رقبے کے لحاظ سے بہت بڑا نظر آتا ہے اور نقشوں میں اسے ایسے دکھایا جاتا ہے جیسے یہ لگ بھگ افریقہ کے سائز جتنا ہے۔ نقشوں میں اس جزیرے کے سائز کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جس کی وجوہات ہیں مگر حقیقت میں گرین لینڈ تقریبا 20لاکھ مربع کلومیٹر یعنی 770000مربع میل کے رقبے پر محیط ہے یعنی یہ افریقی ملک کانگو کے سائز کے برابر ہے۔ ہمارے کرہ ارض پر وقت کے ساتھ ساتھ آنے والی تبدیلیوں کے نشانات جا بجا پائے جاتے ہیں۔ آتش فشاؤں کے پھٹنے اور آہستہ آہستہ ان کے ٹھنڈا ہونے سے لے کر بڑے بڑے براعظم میں ٹکراؤ تک یہ تمام ارضیاتی تبدیلیاں زمین کی سطح اور چٹانوں پر تاریخ کی مانند درج ہے اور گرین لینڈ جیسے قدیم علاقے میں تو زمین کی اس نوعیت کی تاریخ کی مزید تفصیلات موجود ہیں۔ برٹش جیولوجیکل سروے سے منسلک ماہرارضیات کیترین گڈ ایف کہتی ہیں کہ گرین لینڈ کی تاریخ دنیا کی کسی بھی چیز کی تاریخ سے بہت زیادہ پرانی ہے۔ وہ وضاحت کرتی ہیں کہ گرین لینڈ ایک زمانے میں ایک بڑے براعظم کا حصہ تھا جس میں آج شمالی یورپ اور شمالی امریکہ کے کچھ حصے شامل ہوں گے۔ تقریبا 50 کروڑ سال قبل گرین لینڈ ،یورپ اور شمالی امریکہ کے درمیان واقع ایک سپر بر اعظم کا حصہ تھا لیکن زمین چونکہ ہمیشہ بدلتی رہتی ہے اسی لیے تقریبا چھ سال سے ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے سپر بر اعظم بکھرنا شروع ہوا ۔بکھرنے کے اس عمل کے باعث زمین میں ایک عظیم دراڑ پیدا ہوئی جس سے شمالی بحراوقیا نوس نے جنم لیا ،اسی عظیم تبدیلی کے نتیجے میں گرین لینڈ یورپ سے الگ ہوا اور مغرب کی طرف بہتا ہوا آئس لینڈ کے ہارٹ اسپائنگ پہنچ گیا ۔یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں زمین کی تہ کے نیچے سے پگھلا ہوا لاوا اُبلتا ہے اور اس عمل کے نتیجے میں آتش فشاں پھٹے جنہوں نے آئس لینڈ کا موجودہ جزیرہ اس کی موجودہ شکل میں تشکیل دیا۔ آج گرین لینڈ کی زمین کی تہوں میں زمانہ قدیم کی چٹانوں سے لے کر ماضی قریب کی برفانی تہوں تک ہر چیز موجود ہے اور یہ صورتحال قیمتی وسائل کی موجودگی کی دلیل ہو سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ معدنی وسائل کے علاوہ گرین لینڈ میں تیل اور قدرتی گیس کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں۔ 1970کی دہائی سے تیل اور گیس کی کمپنیاں گرین لینڈ کے ساحل پر توانائی کے قدیم ذخائر تلاش کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں لیکن ان کی یہ کوشش ناکام رہی ہیں۔ جزیرے کا زیادہ تر حصہ برف کی چادر سے ڈھکا ہوا ہے، جبکہ صرف 20فیصد حصہ برف سے پاک ہے جس میں پہاڑیاں چٹانے اور آبادیاں ہیں ۔جیولوجیکل سروے آف ڈنمارک اینڈ گرین لینڈ سے منسلک سینئر محقق تھامس فائنڈ کے مطابق شمال مشرق گرین لینڈ میں معدنی وسائل کی کھوج 135سال پہلے ایک اہم موضوع تھا ۔اس دوران یہاں مختلف معدنیات دریافت ہوئیں اور کانے کھلنے لگی 1950 میں جنوب مغرب گرین لینڈ میں کریولائٹ نامی معدنیا ت دریافت ہوئی جو درحقیقت ایک ایسی برف ہے جو کبھی نہیں پگھلتی کیونکہ اس کو پگھلنے کے لیے کافی زیادہ درجہ حرارت دریافت ہوتا ہے۔ اہم معدنیات کی کسی جگہ موجودگی کی خبر دنیا کی معیشت میں ہلچل مچاتی رہتی ہے۔ تاہم انہیں تلاش کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ معدنیات گانے انرجی کی منتقلی کے لیے خاص طور پر اہم ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ توانائی کی ٹیکنالوجی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے 2040تک معدنی اور دھاتی وسائل کی طلب موجودہ طلب سے چار گنا ہو سکتی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں سے لے کر پن چکیوں اور سولر پینلز تک ہر چیز کی تیاری میں اہم معدنیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرچہ ان میں سے بہت سی معدنیات چین اور افریقہ جیسی جگہوں پر کان کنی کی مدد سے حاصل کی جا رہی ہیں لیکن کان کنی کے لیے معدنیات پر غور کرنے کی متعدد وجوہات ہیں جن میں جغرافیائی سیاست نقل و حمل اور رسائی اور معاشیات کے پہلو شامل ہیں ۔اگرچہ گرین لینڈ میں اہم معدنیات کی موجودگی کا امکان ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ان معدنیات کے حصول کے لیے یہاں کان کنی معاشی اعتبار سے قابل عمل ہے یا نہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں تلاش آئی ہے، یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ اپ کس علاقے کی بات کر رہے ہیں۔ یہاں بنیادی انفراسٹرکچر کیا ہے۔ آپ کو کن اجازت ناموں کی ضرورت ہے اور دیگر چیزیں جو آپ کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کرنی پڑتی ہیں کہ آپ ایمانداری سے کان کنی کرنے ہی جا رہے ہیں۔ گرین لینڈ میں بنیادی انفراسٹرکچر کی نمایاں کمی ہے۔ شہروں سے باہر دیہی علاقوں میں کوئی سڑک یا ریلوے کا نظام نہیں ہے ۔گرین لینڈ کے علاقے میں فور بائی فور گاڑی چلانا آسان نہیں ہے۔ یہاں سفر کشتی یا ہوائی جہاز سے کیا جاتا ہے۔ گاڑی سے نہیں بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی کان کنی کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ اس علاقے میں معدنیات کی پروسیسنگ بھی ایک پریشان کن چیلنج ہو سکتی ہے۔ سونے جیسی معدنیات کے برعکس جو چٹان کے اندر ہی اپنی اصل حالت میں پایا جاتا ہے، دیگر نایا ب معدنیات کا حصول ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ یہ ذخائر حاصل کرنا انتہائی مشکل عمل ہے اور اگر کوئی معدنیات تاپکارکے ساتھ منسلک ہوتی ہے تو یہاں کان کنی سے ایک گرام بھی نہیں نکالا جا سکتا۔ 2021میں گرین لینڈ نے کان کنی کے وسائل میں یورینیم کے استعمال کی مقدار کو محدود کرنے کے لیے ایک قانون منظور کیا تھا۔ گرین لینڈ کی موجودہ پارلیمنٹ کان کنی کے دیرپا اثرات پر گرین لینڈ کے باشندوں کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔
گرین لینڈ میں موجودہ تین پرانی کانوں نے خاص طور پر جزیرے کے آس پاس کے پانی کو نمایاں ماحولیاتی نقصان پہنچایا ہے ۔گرین لینڈ کے ارد گرد انتہائی کم درجہ حرارت اور کم نمکیات نے ماحولیاتی بحالی کے عمل کو تکلیف دہ طور پر سست بنا دیا ہے اور اس کے اثرات 50 سال بعد بھی سامنے آتے رہیں گے ۔پانی کو پہنچنے والے نقصان سے گرین لینڈ کے باشندوں کی خوراک کی فراہمی اور ماہی گیری اور شکار کے ذرائع معاش کے مواقع کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ارکیٹرک سمندر کی برف کی مقدار گزشتہ پانچ دہائیوں سے کم ہو رہی ہے۔ آب و ہوا کی تبدیلی کا یہ پہلو گرین لینڈ کے لیے ایک عجیب تضاد پیش کرتا ہے ۔گرم ہوتی آب و ہوا کا مطلب ماحولیاتی نظام میں تبدیلی سمندر کی سطح میں اضافہ اور سمندر کی لہروں میں خلل ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ارکیٹک سمندر کے راستے کھول رہے ہیں، جس سے گرین انرجی ٹیکنالوجیزمیں استعمال ہونے والی اہم معدنیات کی نقل و حمل آسان ہوگی گرین لینڈ میں حکومت ہی رہائشیوں کی زمین کی مالک اور منتظم ہے۔ اس لحاظ سے ہر کوئی زمین کا مالک ہے اور بیک وقت کوئی بھی زمین کا مالک نہیں ہے بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے اور غلط اقدامات سے بچنے کے لیے گرین لینڈ کے باشندوں کو کان کنی کے عمل میں شروع سے آخر تک شامل ہونا چاہیے ۔ڈنمارک کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ گرین لینڈ کے عوام پر منحصرہے لیکن ان کے جزیرے میں بین الاقوامی دلچسپی جلد ختم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ حقیقت میں ان کا اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف ہے کیونکہ وہ گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے کوتیار ہیں یعنی ان کا اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

شہری طرزِ حکمرانی صنفی شمولیت کے تناظر میں وجود پیر 12 جنوری 2026
شہری طرزِ حکمرانی صنفی شمولیت کے تناظر میں

انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت وجود اتوار 11 جنوری 2026
انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر