وجود

... loading ...

وجود

انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت

اتوار 11 جنوری 2026 انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت

چوپال /عظمیٰ نقوی

عدالت کے کمرہ نمبر تین میں اُس دن خاموشی بول رہی تھی۔ لکڑی کی سخت بینچ پر بیٹھی ایک بوڑھی ماں کے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔ کبھی وہ اپنے دوپٹے کے کونے سے آنسو پونچھتی، کبھی اسے مضبوطی سے تھام لیتی، جیسے یہ کپڑا نہیں بلکہ اس کی آخری اُمید ہو۔ اس کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی، صرف برسوں کی جاگ، مسلسل فکر اور نہ ختم ہونے والا انتظار تھا۔ ہر لمحہ اس کی نگاہ سامنے کھڑے اپنے بیٹے پر جا ٹھہرتی، جیسے وہ اسے دیکھ کر خود کو یقین دلاتی ہو کہ وہ ابھی زندہ ہے۔
آہنی سلاخوں کے پیچھے کھڑا وہ بیٹا، جس کی عمر ابھی تیس برس بھی نہ تھی، چہرے سے بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ نظریں زمین میں گاڑی ہوئی تھیں، جیسے وہ عدالت سے نہیں بلکہ اپنے مقدر سے نظریں چرا رہا ہو۔ اس کے جھکے ہوئے سر میں خوف بھی تھا اور بے بسی بھی، اور شاید یہ خاموش سوال بھی کہ کیا آج کوئی فیصلہ ہوگا یا پھر ایک اور تاریخ ملے گی۔
جج نے فائل کھولی۔ کاغذ پلٹنے کی آواز کمرہ عدالت میں گونجی تو ماں کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ ہر صفحہ الٹنے کے ساتھ اس کی امید بڑھتی گئی۔ پھر جج نے نگاہ اٹھائی اور مختصر مگر بھاری لہجے میں کہا:چالان نامکمل ہے، گواہوں کے بیانات متضاد ہیں، فرانزک رپورٹ شامل نہیں۔ کیس ملتوی کیا جاتا ہے۔
یہ الفاظ عدالت کے لیے معمول کی بات تھے، مگر اس ماں کے لیے ایک اور سال کا انتظار بن گئے۔ ایک اور سال آنسوؤں کا، ایک اور سال دعاؤں کا، اور ایک اور سال ہر پیشی پر یہی سوچ کہ شاید اگلی تاریخ پر انصاف مل جائے۔مگر انصاف ایک بار پھر تاریخ کی فائل میں دب گیا۔
یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ ہمارے پورے نظام کی تصویر ہے۔ 9مئی کے مبینہ واقعہ کو جواز بناکر ہزاروں ورکرز کو پابند سلاسل کردیا گیا ، مائیں ،بہنیں ۔بیٹیاں ،بیویاں ہر پیشی پر رہائی کی امید لے کر گھر کی دہلیز پار کرتی ہیں لیکن ہر بار عدالت کے ریمارکس اس امید پر پانی پھیر دیتے ہیں ،ہم کس دور میں سانس لے رہے ہیں ،سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ ،صنف آہن ڈاکٹر یاسمین راشد ،صنم جاوید ،جیسے ہزاروں ورکروں کو جرم ِ بے گناہی کی سزا دی جارہی ہے ۔
ناقص چالان مقدمے کو کمزور کر دیتا ہے لیکن ٹرائل کو لمبا کر دیتا ہے اور انصاف کو دیر کا شکار بنا دیتا ہے۔ اگر ملزم بے گناہ ہو تو وہ برسوں جیل میں رہتا ہے، اور اگر مجرم ہو تو شواہد کی کمی اسے بچا لیتی ہے۔ دونوں صورتوں میں نقصان معاشرے کا ہوتا ہے۔ اس مسئلے کی جڑ صرف افراد نہیں بلکہ نظام ہے۔ ایک تفتیشی افسر پر درجنوں مقدمات کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ تربیت کی کمی، نگرانی کی کمزوری اور جوابدہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یوں چالان ایک سنجیدہ قانونی ذمہ داری کے بجائے محض فائل مکمل کرنے کا مرحلہ بن جاتا ہے۔ انصاف ہمیشہ پولیس چالان کی سنجیدگی سے جنم لیتا ہے ۔ مہذب معاشروں میں تفتیشی افسران کی بہتر تربیت، پراسیکیوشن کے ساتھ مؤثر رابطہ اور ناقص چالان پر احتساب کی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے،کیونکہ جب تک چالان مضبوط نہیں ہوتا ٹرائل بھی کمزور رہے گا۔9مئی کی جھوٹی ایف آئی آرز میں ایک ایک ورکرز کی کئی کئی شہروں میں موجودگی دکھا کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ،جہاں عدلیہ کا وجود نہ ہو وہاں انصاف کا تصور دم توڑ دیتا ہے ، ملک بھر کی عدالتوں میں ایسے مناظر روز دیکھے جا سکتے ہیں۔ مائیں ہر پیشی پر امید لے کر آتی ہیں اور واپس صرف ایک نئی تاریخ لے کر جاتی ہیں۔
فیصلوں کے انتظار میں گزشتہ چار برس سے پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز اور ان کے لواحقین دھکے کھارہے ہیں ،پولیس آج بھی ورکروں پر زمین تنگ کئے ہوئے ہے ،میرے سامنے ہنجر وال کے راشد یوسف کی لاش ہے جسے گزشتہ رات فسطائی پولیس نے اپنی دہشت کی نذر کر دیا ہم ایک ایسی دھرتی پر سانسوں کے گنہگار ہیں جہاں قانون جھوٹی ایف آئی آر کی بیساکھیوں پر زندہ ہے اور انصاف راندۂ درگاہ ہوچکا ہے ؟
پاکستان کے نظامِ انصاف میں پولیس چالان ایک بنیادی قانونی دستاویز ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد پولیس یہی رپورٹ عدالت میں پیش کرتی ہے اور اسی پر مقدمے کی سمت طے ہوتی ہے۔ گواہوں کے بیانات، شواہد، میڈیکل اور فرانزک رپورٹس سب اسی چالان کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر چالان مضبوط اور مکمل ہو تو انصاف کی راہ ہموار ہوتی ہے، لیکن اگر یہ کمزور ہو تو پورا مقدمہ ابتدا ہی میں لڑکھڑا جاتا ہے۔
قانون کے مطابق چالان بروقت، مکمل اور غیر جانبدار ہونا چاہیے، مگر عملی طور پر ایسا نہیں ہورہا ۔ اوپر کسی آرڈر پر چالان عجلت میں اور رسمی انداز میں تیار کیے جارہے ہیں۔ جس کا نقصان صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانوں کی زندگیاں اس کی قیمت چکاتی ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت وجود اتوار 11 جنوری 2026
انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت

مساجد پر انتہا پسند ہندوؤں کا قبضہ وجود اتوار 11 جنوری 2026
مساجد پر انتہا پسند ہندوؤں کا قبضہ

دفاعی صنعت اورمعیشت وجود اتوار 11 جنوری 2026
دفاعی صنعت اورمعیشت

اپنی اپنی سچائی ! وجود هفته 10 جنوری 2026
اپنی اپنی سچائی !

جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا! وجود هفته 10 جنوری 2026
جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر