... loading ...
ریاض احمدچودھری
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے ترکمان گیٹ میں سید فیض الہی مسجد اور اس سے ملحقہ قبرستان میں انہدامی کارروائی کے خلاف احتجاج کے دوران کم از کم پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔پولیس اورمظاہرین کے درمیان جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب سینکڑوں مقامی باشندے مسجد کے قریب ایک بینکوئٹ ہال اور ڈسپنسری کو مسمار کرنے کے خلاف احتجاج کے لئے جمع ہوئے جنہیں عدالت نے تجاوزات قرار دیا تھا۔ پولیس نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ڈپٹی کمشنر آف پولیس ندھین والسن نے اعتراف کیا کہ ایم سی ڈی نے 6اور7جنوری کی درمیانی رات کو مسماری کا پروگرام بنایا تھا اوراس کے لیے پولیس کی نفری تعینات کی گئی تھی۔ لوگوں کو قائل کرنے پر بہت سے رہائشی منتشر ہو گئے اورکچھ لوگوں نے مزاحمت کی جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، جنہیں طبی امداد دی گئی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ مسماری کی مہم بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف ظلم وجبر کی وسیع پالیسی کی عکاسی کرتی ہے،جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے قانون اور انتظامیہ کو استعمال کیا جارہا ہے۔ اس طرح کی کارروائیاں رات کے وقت اور پولیس کی بھاری موجودگی میں کی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کو ڈرایا اور دھمکایا جائے اور اختلاف رائے کو دبایا جائے جس سے بھارت بھر میں اقلیتوں کو درپیش خوف ودہشت کے ماحول کی عکاسی ہوتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ بھارت میں عدالتی احکامات کے نفاذکی آڑ میں اقلیتوں کو نشانہ بنانا ایک معمول ہے۔
بھارت میں مودی حکومت کے دور میں مسلم مخالف پالیسیوں اور اقدامات میں تیزی آ گئی ہے، جس سے مسلمانوں کے لیے روزمرہ زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اتر پردیش کی ریاستی حکومت اور اس کے زیر اثر پولیس، آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے کے تحت مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں مزید بڑھا رہی ہے۔ متھرا کو ستمبر 2021 میں مقدس قرار دیے جانے کے بعد سے مسلم اکثریتی علاقوں میں گوشت کی دکانیں اور ہوٹل بند کر دیے گئے ہیں، جس سے مقامی مسلمانوں کا روزگار شدید متاثر ہوا ہے۔پولیس کو گائے کے تحفظ کے قوانین کے تحت وسیع اختیارات حاصل ہیں، جنہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ جھوٹے مقدمات، ناحق گرفتاریاں اور سماجی امتیاز عام ہوگیا ہے۔ مسلمانوں میں خوف کی فضا اس قدر پھیل چکی ہے کہ وہ گوشت کھانے یا خریدنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔
متھرا میں مسلم مخالف نفرت انگیز بیانات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہندو انتہا پسند رہنما مسلمانوں کو ”دیمک” کہہ کر پکارتے ہیں، جب کہ نوجوان مسلمان شدت پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے ہندو مذہبی رنگوں والے زعفرانی کپڑے پہننے پر مجبور ہیں۔ مسلمانوں کے قبرستانوں کے قریب کچرے کے ڈھیر لگائے جا رہے ہیں اور مساجد کے قریب بیت الخلا تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں مساجد پر قبضوں، آذان پر پابندی اور گھروں کی مسماری کی قانونی کارروائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں، جو آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ قرار دی جا رہی ہیں۔بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی مودی حکومت کے نظریاتی بیانیے اور ہندو قوم پرستی کے عروج کا نتیجہ ہے، جس نے ملک کے سیکولر تشخص کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
بھارتی ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر پابندی کے بعد وہاں کی مساجد اذان کے لیے موبائل ایپلی کیشن استعمال کرنے لگ گئیں۔ ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر پولیس نے مساجد کو روکا تھا، جس کے بعد مساجد منتظمین کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جانے لگا ہے۔ممبئی بھر کی نصف درجن مساجد نے اذان آن لائن نامی ایپلی کیشن کا استعمال کرنا شروع کردیا جو کہ نمازیوں کو ریئل ٹائم اذان سنانے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔مذکورہ ایپلی کیشن ریاست تامل ناڈو کے مسلمان انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ماہرین نے تیار کی ہے جو کہ نمازیوں کو اذان ہونے کے وقت ریئل ٹائم میں اذان سننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔مذکورہ ایپلی کیشن کے ذریعے مساجد کو رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے، جس کے بعد مذکورہ مساجد کے ارد گرد کے نمازی مسجد کے اذان کے وقت اپنے موبائل پر ریئل ٹائم میں اذان سن سکتے ہیں۔ایپلی کیشن فیچرز کے تحت نمازیوں کو بھی ایپلی کیشن میں رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے، انہیں اپنے علاقے اور مسجد کا نام بھی مینشن کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد انہیں مقررہ وقت پر موبائل میں اذان سننے کو ملتی ہے۔
خیال رہے کہ ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن کیرت سومیا نے مہم شروع کی تھی اور انہوں نے مساجد میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کو صوتی آلودگی سے جوڑا تھا، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی مہم کے بعد مساجد سے 1500 سے لاؤڈ اسپیکرز اتارے جا چکے ہیں۔ان کی مہم کے خلاف مسلم علما نے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا تھا اور عدالت نے جنوری 2025 میں قرار دیا تھا کہ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا ایک حد تک استعمال صوتی آلودگی میں شمار نہیں ہوتا۔عدالت کے مطابق مساجد میں دن کے وقت لاؤڈ اسپیکرز کی اسپیڈ 55 ڈیسیبل اور رات میں 45 ڈیسیبل تک ہو تو پھر وہ صوتی آلودگی کا سبب نہیں بنتے۔عدالتی فیصلے کے بعد ممبئی پولیس نے مساجد منتظمین کو بلیک میل کرنا شروع کیا اور ان پر لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کو ترک کرنے کا دباؤبھی ڈالتی رہی، جس کے بعد مساجد منتظمین نے ایپلی کیشن کے استعمال کو بہتر آپشن سمجھا۔
بھارتی حکومت نے مساجد، مدارس اور درگاہوں جیسے مسلمانوں کے مذہبی اور خیراتی اثاثوں کو کنٹرول کرنے والے وقف بورڈ کے قانون میں ترمیم کا اعلان کیا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے 1995 کے وقف قانون میں ترمیم کا بل اسمبلی میں متعارف کروایا ہے، جس کی مسلمان اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں مخالفت کر رہے ہیں۔