وجود

... loading ...

وجود

دفاعی قوت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں ،فضل الرحمان

منگل 23 دسمبر 2025 دفاعی قوت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں ،فضل الرحمان

سیاسی قوت کے طور پر مضبوط ہونا عوام اور سیاست دانوں کا حق ہے، فلسطین فوج بھیجنے کی غلطی ہرگز نہ کی جائے،نہ 2018 نہ 2024 کے الیکشن آئینی تھے، انتخابات دوبارہ ہونے چاہئیں
کوئی بھی افغان حکومت پاکستان کی دوست نہیں رہی،افغانی اگر بینکوں سے پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، اجتماع سے خطاب، گورنر سندھ نے مولانا کو اعزازی ڈگری سے نوازا

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم دفاعی قوت کو دفاعی لحاظ سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں سیاسی قوت کے طور پر نہیں، سیاسی قوت کے طور پر مضبوط ہونا دفاعی قوتوں کا نہیں عوام اور سیاست دانوں کا حق ہے، فلسطین فوج ہرگز نہ بھیجی جائے۔یہ بات انہوں نے کراچی میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ گورنر سندھ نے فضل الرحمان کو اعزازی ڈگری سے نوازا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپنی روایات بچانے کے لیے ہم جدوجہد کررہے ہیں، ایک دوسرے کو عزت دینا ہماری روایات ہیں، اعزازی ڈگری کا شکریہ مگر میں خود کو مولانا کہلوانا پسند کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے معاملے کر آج کے تناظر میں نہیں دیکھا جائے کہ وہاں سے کچھ لوگ آئے اور کارروائی کرکے چلے گئے، ہمیں 78 سال کی افغان پالیسی پر بات کرنی چاہیے، افغانستان کبھی بھی پاکستان دوست نہیں رہا کہیں ہی ہماری افغان پالیسی کا فیلیٔر تو نہیں؟ ظاہر شاہ سے اشرف غنی تک ہمیں کوئی افغان دوست حکومت نہیں ملی، کیا وجہ ہے؟ ہم اپنا بیانیہ تیار کریں گے تو الزام ان پر ہی دیں گے مگر ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے کہ یہ ہماری افغان پالیسی کا فیلیٔر تو نہیں؟ اس پر بھی بحث کرنی چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئین پاکستان کہتا ہے کہ آئین سازی قرآن و سنت سے ہٹ کر نہیں ہوگی مگر ہم نے حالیہ ترامیم میں کئی قانون پاس کیے ہیں چاہیے وہ 18 سال سے کم عمری کی شادی کا بل ہو، گھریلو تشدد کا بل ہو یا ٹرانس جینڈر ایکٹ ہو، ہم نے قرآن و سنت کو پس پشت ڈال کر صرف اقوام متحدہ کے کہنے پر قانون سازی کی، اس معاملے پر بات کی جائے ہم بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔انہوں ںے کہا کہ جب آپ یک طرفہ طور پر کسی ادارے کے خلاف ایسا رویہ اختیار کریں کہ اسے اپنے تحفظ کی فکر ہوجائے تو دینی ادارس بھی ایک ادارہ ہیں، دینا کی رینکنگ میں جائیں تو عدلیہ، تجارت سمیت ہر شعبے میں آپ پیچھے ہیں اور اگر ٹاپ رینکنگ میں ہیں تو صرف دینی علوم کے حوالے سے ہیں اس کی قدر کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی حوالے سے پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے اور ہمیں اسے برقرار رکھنا چاہیے ہم پاکستان کے طاقت ور دفاع کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن دفاعی قوت کو دفاعی لحاظ سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں سیاسی قوت کے طور پر نہیں کیوں کہ سیاسی قوت کے طور پر مضبوط ہونا دفاعی قوتوں کا نہیں عوام اور سیاست دانوں کا حق ہے، ہمیں سیاسی اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے اگر تمام ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک آگے بڑھے گا ہمیں ایک دوسرے کی بالادستی کے بجائے آئین کی بالادستی کے لیے کام کرنا چاہیے۔غزہ میں فوج بھیجنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی طور پر بھی غزہ میں فوجیں نہ بھیجے اور کسی بھی امن فورس کا حصہ نہ بنے، ہمیں ایک تلخ تجربہ ہے، ماضی میں اُس وقت کے بریگیڈیٔر ضیا الحق اردن گئے تھے اور فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کی تھی، فلسطینی وہ وقت بھولے نہیں، ایک دور میں یہ بھی ایشو اٹھا تھا کہ عراق فوج بھیجی جائے یا نہیں، یہ افواج پیس کیپنگ نہیں ہوتیں یہ جنگ کیپنگ ہوتی ہیں ان کا کام لڑنا ہوتا ہے پاکستان کسی صورت یہ غلطی نہ کرے۔افغان مہاجرین کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمیں شکایات افغان حکومت سے ہیں اور ہم زور ڈال رہے ہیں ان لوگوں پر جو چالیس سال سے ہمارے مہمان ہیں، مہاجرین کو مہمان کے طور پر ڈیل کیا جائے، مہاجرین جب بھی کہیں جاتے ہیں مسئلہ بنتا ہے یہ پاک افغان دوطرفہ مسئلہ ہے دیکھنا پڑے گا یہ چالیس برسوں میں افغانیوں نے پاکستان کی معیشت میں کتنا حصہ ڈالا؟ افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، پالیسی بنائے جائے افغانیوں کی صلاحیتیں پاکستان کے لیے استعمال ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ 2018ء اور 2024ء دونوں انتخابات عوامی نہیں اسٹیبلشمنٹ کے تھے۔دریں اثنا مجلس اتحاد امت پاکستان کے تحت مشاورتی علمی اجتماع سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم میں حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں تھی، اس آئینی ترمیم میں جمعیت علمائِ اسلام نے حزبِ اختلاف کی بڑی جماعتوں کو ساتھ رکھا، ہم نے 26 ویں آئینی ترمیم میں حکومت کو 34 شقوں سے دست بردار کرایا، آئینی ترمیم میں لازم کیا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات لازمی طور پر اسمبلی میں پیش کی جائیں، ہمارا مطالبہ تھا کہ سوسائٹی ایکٹ کے تحت مدارس کی رجسٹریشن کی جائے، صوبوں میں مدارس سے متعلق قانون سازی نہیں کی گئی ہے جو افسوس ناک ہے، 26ویں آئینی ترمیم میں جب ضرورت پڑی تو حکومت ہماری طرف آئی، مدارس کے حوالے سے ابھی تک صوبوں میں قانون سازی نہیں ہوئی مدارس کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ وزارتِ تعلیم سے سرٹیفکیٹ لے کر آئیں۔انہوں نے کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم میں جبری طور پر دو تہائی اکثریت بنائی گئی، سرکار جب چاہے جس شعبے سے چاہے اپنی مرضی کے لوگ جمع کرنا اس کیلئے کچھ مشکل نہیں، ملک بھر کے علماء کا حقیقی نمائندہ وہ ہے جو آج یہاں بیٹھا ہے، نئے عہدوں اور اسٹیٹس کا آغاز نیک فالی کے طور پر علماء کے اجتماع سے کیا گیا، ستائیسویں آئینی ترمیم کو تمام قوانین پر بالا دستی والا منصوبہ زہرناک ہے، اقلیتی کمیشن کو از خود نوٹس کا اختیار دینا غلط اقدام تھا، نائب وزیرِ اعظم نے مائیک پر کہا کہ اگر ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو آپ اپنی تجویز دیں آج ہمیں سوچنا ہے کہ اگر آئین خطرے میں ہے تو ہم نے کیا اقدامات کرنے ہیں؟ان کا کہنا تھا کہ ہم نے لاہور میں آل پارٹیز کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ ہمارے اکابر نے جن باتوں پر اتفاق کیا ہے، ہم انہیں دوبارہ زیرِ بحث لانے پر تیار نہیں، پاکستان میں دینی مقاصد کیلئے مسلح جدوجہد کو علماء نے ہر موقع پر حرام قرار دیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چھوٹے مدارس میں علماء کو ہراس کیا جاتا ہے، اگر ہم کوچے کوچے میں چندوں سے مکتب کھولتے ہیں تو ہمارا سوسائٹی پر احسان ہے، برصغیر میں مدارس کے وجود کی وجہ آپ ہیں ہم نہیں، علماء ایک نصاب کیلئے کوشش کرتے رہے، مگر ان کی بات نہیں مانی گئی ہم بھی انگریزی علوم کے قائل ہیں جس شعبے میں بھی جاو? پاکستان بین الاقوامی رینکنگ میں پیچھے ہے اگر تعلیم کے میدان میں کوئی ٹاپ پر ہے تو وہ ہمارے مدارس ہیں، مدارس تعلیم کے حوالے سے ایک مستقل اسٹیک ہولڈر نہیں۔


متعلقہ خبریں


بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے، وجود - هفته 09 مئی 2026

2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے،

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار وجود - هفته 09 مئی 2026

یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 08 مئی 2026

بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج

مضامین
سیاسی تماشا وجود پیر 11 مئی 2026
سیاسی تماشا

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر وجود پیر 11 مئی 2026
ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا وجود پیر 11 مئی 2026
اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت وجود پیر 11 مئی 2026
کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت

دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر