وجود

... loading ...

وجود

مین ہول میں گر کر بچے کی ہلاکت،سندھ اسمبلی میں احتجاج، اپوزیشن کا واک آؤٹ

منگل 02 دسمبر 2025 مین ہول میں گر کر بچے کی ہلاکت،سندھ اسمبلی میں احتجاج، اپوزیشن کا واک آؤٹ

حکومت اس طرح کے واقعات کا تدارک کب کریگی، کھلے ہوئے مین ہول موت کو دعوت دینے کے مترادف ہیں، معصوم بچے کی لاش گیارہ گھنٹے کے بعد ملی ،بی آر ٹی ریڈ لائن پر تیسرا واقعہ ہے،اپوزیشن ارکان
کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں گے،بچے کی تصویر ایوان میں دکھانے پر ارکان آبدیدہ، خواتین کے آنسو نکل آئے، ایم کیو ایم ارکان برہم، نشستوں سے اٹھ کر شور شرابہ،قصورواروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیر کو نیپا چورنگی کے قریب گٹر میں گر کر جاں بحق معصوم بچے ابراہیم کی موت پر اپوزیشن ارکان نے سخت احتجاج کیا، قائد حزب اختلاف اس معاملے پر بولنا چاہتے تھے اجازت نہ ملنے پر ایم کیو ایم کے ارکان ایوان سے احتجاجاً واک آوٹ کرگئے۔سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسپیکر اویس قادر شاہ کی صدارت شروع ہوا۔ ایوان کی کارروائی کے آغاز میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر جاں بحق ہونے والے بچے ابراہیم کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ایم کیو ایم کے رکن افتخار عالم نے اس واقعہ پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کیا کراچی کے بچے اس طرح گٹروں میں گرتے رہیں گے؟ حکومت اس طرح کے واقعات کا تدارک کب کرے گی، کھلے ہوئے مین ہول موت کو دعوت دینے کے مترادف ہیں، معصوم بچے کی لاش گیارہ گھنٹے کے بعد ملی ہے۔جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی محمد فاروق نے کہا کہ اس ماں سے پوچھیں جس کا لعل گیا ہے، ہمارے کونسلر اور ٹاؤنچیئرمین وہاں پر موجود تھے، میئر کراچی اور ضلعی انتظامیہ کوئی جواب نہیں دے رہے تھی، بی آر ٹی ریڈ لائن پر یہ تیسرا واقعہ ہے، اس واقعے کی تحقیقات کی جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کراچی کے شہری کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔رکن اسمبلی ریحان بندوکڑا نے کہا کہ کراچی کا مئیر کون ہے، ٹائون چیٔرمین کون ہیں؟ سیاست چھوڑ دیں ہم سب ممبر ہیں جس فیملی کے ساتھ جو ہوا سب کو اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے متوفی بچے کے تصویر اپنے ہاتھ میں اٹھا رکھی تھی۔ ریحان بندوکڑا نے کہا کہ یہ مسکراتا چہرا دکھا رہا ہوں وہ دنیا سے چلا گیا۔ اس موقع پرکئی ارکان آبدیدہ ہوگئے ۔ خواتین ارکان حنا دستگیر اور ہیر سوہو اپنے آنسو پوچھتی نظر آئیں۔ریحان بندوکڑا نے کہا کہ کسی کا نام نہیں لوں گا صرف یہ سوچیں کہ آپ کا بیٹا ہوتا تو کیا ہوتا، اسمبلی میں ہم سب مرد چوڑیاں پہن کر بیٹھے ہیں۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ ایک انتہائی المناک واقعہ ہے جس پر ہر شخص غمزدہ ہے، متوفی بچے کے لواحقین کے غم میں شریک ہیں، اسمبلی میں اس طرح کے مسائل پر ضرور بات ہونی چاہیے تاکہ دیگر لوگ محفوظ رہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بچہ کسی کا بھی ہوسکتا تھا، معصوم بچے کی تصویر دیکھ کر دکھ ہورہا تھا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ جیسے ہی واقعہ ہوا، ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں، ریسکیو کے عمل کی تمام تصویریں موجود ہیں۔ ان کی میٔر کراچی سے بات ہوئی ہے، انہوں نے بتایا کہ اس سال 88 ہزار مین ہولز پر ڈھکن لگائے گئے ہیں۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جس کسی کی کوتاہی کے سبب واقعہ پیش آیا اس کو سزا ملنی چاہیے، بطور وزیر اگر یہ میری ذمہ داری ہے اور میں نے کوتاہی کی تو مجھے بھی عہدہ چھوڑنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی قیمتی چیز نہیں، ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ جس کسی بھی محکمہ کے کسی افسر کی کوتاہی ہوگی تو اسے سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی اس معاملے پر کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن ڈپٹی اسپیکر نوید انتھونی نے ان سے کہا کہ وہ توجہ دلائو نوٹس نمٹ جانے کے بعد انہیں بات کرنے کا موقع دیں گے۔ اپوزیشن لیڈر کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ایم کیو ایم کے ارکان سخت برہم ہوگئے، وہ اپنی نشستوں سے اٹھ کر شور شرابہ کرنے لگے اور بعدازاں ایوان کی کارروائی سے واک آئوٹ کرکے چلے گئے جس کے نتیجے میں ایم کیو ایم کے کئی ارکان کے توجہ دلائو نوٹس پر بات نہیں ہوسکی۔ایوان کی کارروائی کے دوران بعض ارکان کے توجہ دلائو نوٹس بھی زیر بحث آئے۔ ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی نے اپنے ایک توجہ دلائونوٹس میں کہا کہ اپوزیشن ممبر کو اختیار نہیں ہے کہ حلقوں پر جا کر دیکھ سکیں کہ وہاں کس معیار کا ترقیاتی کام ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ڈی اے نے جہانگیر روڈ کا 57 کروڑ کا کام کیا وہ روڈ آج ختم ہوگئے پھر پیسے مانگے جارہے ہیں۔ ان افسران کے خلاف کارروائی کون کرے گا؟ انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے کہا کہ آپ ان افسران کے خلاف رولنگ دیں۔ارلیمانی سکریٹری بلدیات سراج قاسم سومرو نے کہا کہ کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل ہونے سے پہلے کس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ کام معیاری نہیں ہوا۔ مذکورہ اسکیم میں ڈرینیج لائین بچھائی جارہی ہے جس اسکیم کا ذکر کیا گیا اس پر کام ابھی جاری ہے۔رکن اسمبلی محمد اویس نے اپنے توجہ دلا? نوٹس میں کہا کہ بلوچ کالونی ایکسپریس وے پر کچرا جمع کرکے آگ لگائی جاتی ہے، مذکورہ سائٹ پر کچرا جمع کرنے کے بجائے باہر پھینکا جاتا ہے۔پارلیمانی سکریٹری قاسم سومرو نے کہا کہ شاہراہ بھٹو کی سائیڈ پر جی ٹی ایس بن رہا ہے جس کا افتتاح دسمبر ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آگ لگاتے ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کے رکن سجاد علی نے اپنے توجہ دلا? نوٹس میں کہا کہ لیاری بہار کالونی میں پارک کی حالت خراب ہے، آدھا پارک خواتین کے لیے رکھا گیا ہے۔ علاقے میں ایک ہی پارک ہے جس میں مسائل ہیں، شاہ بھٹائی روڈ پر ایک پارک پر مذہبی جماعت کا قبضہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک پارک میں گدھے باندھے جاتے ہیں وہاں پی پی کے مقامی رہنما نے کہا کہ پارک میرا ہے۔سراج قاسم سومرو نے کہا کہ پارک میں پانی کی قلت ہے وہاں واٹر پمپ لگائے جارہے ہیں، پمپ لگنے کے بعد وہ پارک شروع ہوگا۔ کلری گرائونڈ میں فٹبال گرائونڈ 300 ملین روپے سے مکمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں پارک بہت جلد مکمل ہو جائیں گے۔ایوان کی کارروائی کے دوران شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ کا ترمیمی بل پیش کیا گیا جو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔ایوان کی کارروائی کے دوران محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اورساحلی ترقی سے متعلق وقفہ سوالات میں پارلیمانی سیکریٹری سید حسن شاہ نے ارکان تحریری اور ضمنی سوالوں کے جواب دیے۔انہوں نے بتایا کہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے 38 ہزار پلانٹس لگائے گئے ہیں جبکہ مینگروز کی پلانٹیشن کی جارہی ہیں۔حسن علی شاہ نے بتایا کہ سمندر میں حکومت سندھ کے ٹریٹمنٹ پلانٹس لگے ہوئے ہیں۔ ماحول کی بہتری کے لیے پلاسٹک تھیلیوں کے استعمال پر پابندی لگائی تھی لیکن لوگ ہائی کورٹ میں چلے گئے ہیں۔ عدالت جو فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے۔کارروائی کے دوران سرکاری افسران کی کی عدم شرکت پر اسپیکر سندھ اسمبلی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ چیف سیکریٹری سبدھ کو آج ہی خط لکھا جائے اور یہ پوچھا جائے کہ وقفہ سوالات میں متعلقہ محکمہ کاسیکریٹری کیوں نہیں ہوتا ، اویس قادر شاہ نے رولنگ دی کہ چیف سیکریٹری سے وضاحت طلب کریں۔بعدازاں اجلاس منگل کی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔


متعلقہ خبریں


قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان وجود - اتوار 18 جنوری 2026

قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے، سردار ایاز صادق اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں،آئین کے دائرے میں گفتگو کی اجازت ہوگی ،ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان ...

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی وجود - اتوار 18 جنوری 2026

ہم عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے، کسی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے،ہری پور کی عوام بانی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں لیکن ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیاہے ،کارکنان کا وزیر اعلی کا شاندار استقبال ہماری بدقسمتی ہے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ منیڈیٹ چوری کیا، تین سال سے ہم ہر جگہ تحریک چلا رہے ہی...

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 18 جنوری 2026

کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، مراد علی شاہ ملزم کیخلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لیجایا جائے،ملزم کی گرفتاری پرپولیس کو شاباش وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی ہے۔اس...

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار وجود - اتوار 18 جنوری 2026

متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون کی بڑی کارروائی ملزم عمران اور وقاص خان نے 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا کراچی میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار ...

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 17 جنوری 2026

ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

مضامین
شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

تیسری عالمی جنگ شروع وجود اتوار 18 جنوری 2026
تیسری عالمی جنگ شروع

برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ! وجود اتوار 18 جنوری 2026
برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ!

جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر