... loading ...
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
مودی کا غرور تکبر گھمنڈ اس کی ذلت آمیز بدنامی رسوائی بن گیا ہے ۔ مودی اپنی دفاعی صلاحیتوں پر بہت اترتا تھا مگر تیجس طیارہ کی تباہی نے بھارت کو عالمی برادری میں رسوا کر دیا ہے ۔عالمی برادری کا اب بھارت کی دفاعی صلاحیتوں سے اعتبار اٹھ گیا ہے ۔تیجس طیارے کی خریداری میں دلچسپی لینے والے ممالک اب اپنے فیصلوں پر سنجیدگی سے نظر ثانی کر رہے ہیں۔دنیا کے بڑے ایئر شو کبھی صرف طاقت کا مظاہرہ نہیں ہوتے ، بلکہ وہ قوموں کی تکنیکی صلاحیت، دفاعی خود اعتمادی اور عالمی منڈی میں مقام طے کرنے کی ایک خاموش جنگ بھی ہوتے ہیں۔ ایسی کسی تقریب میں اگر ایک جدید جنگی طیارہ گر جائے تو صرف دھات کا ڈھانچہ نہیں ٹوٹتا، بلکہ اعتماد، وقار اور مستقبل کے سودوں کے امکانات بھی بکھر جاتے ہیں۔ دبئی ایئر شو میں ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ کے تیار کردہ بھارتی جنگی طیارے تیجس کے گرنے سے جنم لینے والے سوالات اب پورے خطے کی دفاعی سیاست کا دھارا بدلنے لگے ہیں۔ حادثے کے بعد آرمینیا کی جانب سے تیجس طیاروں کی خریداری پر جاری بات چیت کو معطل کرنے کے اعلان نے نہ صرف بھارت کے دفاعی بیانیے کو چیلنج کیا ہے بلکہ عالمی مارکیٹ میں اس کی برآمداتی حکمت عملی کو بھی غیر یقینی کی کیفیت میں ڈال دیا ہے ۔
رواں برس دبئی ایئر شو میں پیش آنے والا حادثہ، جسے بھارت نے ”ایک الگ واقعہ” قرار دیا، حقیقت میں محض تکنیکی ناکامی نہیں تھا۔ اس حادثے نے عالمی سطح پر یہ سوال اٹھایا کہ کیا تیجس واقعی وہی معیار رکھتا ہے جو ایک جدید ملٹی رول لڑاکا طیارے کے لیے ضروری ہے ؟ فلائٹ کے دوران طیارے کی تباہی، اور پائلٹ کی المناک ہلاکت کے فوراً بعد بین الاقوامی میڈیا اور دفاعی تجزیہ کاروں نے بھارت کے اس دعوے کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا کہ تیجس اندرونی استعمال کے بعد اب محفوظ طریقے سے برآمد کیا جا سکتا ہے ۔ حادثے سے چند گھنٹے بعد تک وہ ویڈیوز عالمی نیوز چینلز، تجزیاتی پروگرامز اور دفاعی فورمز پر گردش کرتی رہیں جن میں دیکھا گیا کہ طیارہ کس طرح چند ہی سیکنڈوں میں زمین بوس ہوگیا۔اسی پس منظر میں آرمینیا کا فیصلہ سامنے آیا کہ وہ بھارت کے ساتھ چل رہی بات چیت کو وقتی طور پر روک رہا ہے ۔ یہ بات چیت 1۔2 بلین امریکی ڈالر مالیت پر پہنچ چکی تھی اور اس میں 12 تیجس طیاروں کی خریداری شامل تھی۔ بھارت کے لیے یہ سودا انتہائی اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا تو یہ تیجس کی اب تک کی سب سے بڑی برآمدی ڈیل ہوتی اور بھارت اسے اپنی دفاعی صنعت کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دے سکتا تھا۔ لیکن حادثے کے بعد آرمینیا کے فیصلے نے یہ ثابت کر دیا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اعتماد کا فقدان صرف ایک واقعے سے بھی پیدا ہو سکتا ہے ، چاہے اس کے پیچھے اسباب کچھ بھی ہوں۔
آرمینیا کی معطلی کے پس منظر میں ایک اور اہم نکتہ بھی پوشیدہ ہے ۔ تیجس کے جدید ورژن میں اسرائیل کے تیار کردہ ریڈار اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز شامل ہیں۔ اس لیے سودے کی معطلی سے اسرائیل کی اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کو بھی بھاری مالی نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے ، جس کا اندازہ ابتدائی طور پر ”تقریباً پچاس ملین ڈالر”تک لگایا جا رہا ہے ۔ یہ حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ جدید دفاعی صنعت میں کسی ایک ملک کے طیارے کی ناکامی صرف اسی ملک کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ پوری سپلائی چین اس سے متاثر ہوتی ہے ۔ بھارت کی طویل المیعاد دفاعی شراکت داری میں اسرائیل ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے ، اور تیجس کا جدید ورژن بنیادی طور پر ایک کثیر ملکی شراکت کا نتیجہ ہے ، جس میں تکنیکی مہارت اور الیکٹرانک سسٹمز متعدد اداروں سے لیے گئے ہیں۔بھارت نے 1980 کی دہائی میں اپنے پرانے MiG21 لڑاکا طیاروں کی جگہ لینے کے لیے ایک جدید ہلکے وزن کے لڑاکا طیارے کے پروگرام کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد ایک ایسا مقامی طیارہ تیار کرنا تھا جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو اور بھارتی فضائیہ کی ضروریات کو پورا کر سکے ۔ ہندستان ایرو اسپیس انڈسٹریز اور ایرو ناٹیکل ڈیولپمنٹ ایجنسی نے مل کر اس پروگرام پر کام شروع کیا، جس کا نام بعد میں HAL تیجس رکھا گیا۔
Light Combat Aircraft(LCA) ہلکا وزن لڑاکا طیارہ۔یہ ایک ایسا جنگی طیارہ ہوتا ہے جو ہلکا، تیز، جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور زیادہ ملٹی رول صلاحیتوں والا ہو۔ بھارت کے تناظر میں LCA وہ پروگرام ہے جس کے تحت HAL تیجس طیارہ تیار کیا گیا تاکہ پرانے MiG21 طیاروں کی جگہ لی جا سکے اور فضائیہ کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے ۔پروگرام 1983 میں شروع ہوا اور یہ کئی دہائیوں کی تحقیق و ترقی کے بعد عملی شکل اختیار کرنے لگا۔ اس طیارے کی تیاری نے نہ صرف پرانے MiG21 بیڑے کی جگہ لینے میں مدد دی بلکہ بھارت کی دفاعی خود انحصاری اور فضائی ٹیکنالوجی میں مہارت کو بھی فروغ دیا۔تین دہائیوں کے طویل سفر، بے شمار تکنیکی پیچیدگیوں اور مالی رکاوٹوں کے بعد تیجس اپنی شکل میں مکمل ہوا، لیکن آج بھی اس کے بارے میں یہ سوالات موجود ہیں کہ آیا یہ طیارہ عالمی معیار کے مطابق کارکردگی دکھا سکتا ہے یا نہیں؟ بھارتی فضائیہ نے اگرچہ اسے داخلی سطح پر قبول کیا ہے ، مگر اس کا بین الاقوامی امتحان ابھی باقی تھا اور دبئی کا حادثہ اس سفر کا پہلا بڑا چیلنج ثابت ہوا۔یہ حادثہ اور اس کے بعد آرمینیا کی معطلی ہمیں ایک بہت بڑے حقیقت پسند تجزیے کی طرف لے جاتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک، خاص طور پر وہ جنہیں فوری دفاعی ضرورت ہو، ایسے طیارے نہیں خریدتے جو اپنے ابتدائی دور میں حادثاتی تناسب یا تکنیکی مسائل کا شکار ہوں۔ ایک خریدار کے لیے سب سے پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ جہاز کی ساکھ مضبوط ہو، اس کی کارکردگی ثابت شدہ ہو اور اس کے سپیئر پارٹس، تربیت اور تکنیکی مدد کا بندوبست مستحکم ہو۔ بھارت ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچ سکا، جس کی وجہ سے تیجس کو عالمی سطح پر پذیرائی نہیں مل رہی۔
دوسری جانب حادثے کے بعد بھارتی حکام نے اپنے بیانات میں یہ دعویٰ کیا کہ یہ ایک ”الگ واقعہ” تھا اور اس سے طیارے کی مجموعی صلاحیت پر کوئی سوال نہیں اٹھتا، مگر بین الاقوامی منڈی ایسے بیانات پر یقین نہیں کرتی جب تک عملی کارکردگی پر مبنی شواہد سامنے نہ آئے ۔ دبئی ایئر شو جیسی عالمی تقریب میں حادثہ ہونا ایک ایسا دھچکا ہے جسے بیانات اور وضاحتوں سے دور نہیں کیا جا سکتا۔ خریدار ممالک کو عملی اعتماد دیا جانا ضروری ہے ، اور یہ اعتماد تب ہی ممکن ہے جب بھارت شفاف تحقیقات، تکنیکی بہتری، آزمائشی پروازوں کے اعدادوشمار اور حفاظتی پروٹوکول عالمی سطح پر پیش کرے ۔اس واقعے سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ دفاعی برآمدات صرف ہتھیاروں کا لین دین نہیں ہوتیں، بلکہ یہ سیاسی، اقتصادی اور سفارتی توازن کا بھی حصہ ہوتی ہیں۔ اگر بھارت اپنی دفاعی صنعت کو عالمی سطح پر پہنچانا چاہتا ہے تو اسے صرف جدید جہاز بنانے سے آگے بڑھ کر انہیں ثابت قدمی کے ساتھ پیش بھی کرنا ہوگا۔ ان کی کارکردگی، حفاظت اور معیار کا تسلسل دنیا کے سامنے رکھنا ہوگا۔ آر مینیا جیسے ممالک کے ساتھ مذاکرات کی بحالی اسی وقت ممکن ہوگی جب بھارت اپنی تکنیکی صلاحیتوں میں وہ پختگی دکھائے جو عالمی منڈی کے لیے لازم ہے ۔حادثے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اعتماد ٹوٹنے میں صرف چند سیکنڈ لگتے ہیں لیکن اسے بحال کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ بھارت کو اب ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس میں حادثاتی وجوہات کی سائنسی تحقیق، حفاظتی نظام میں بہتری، پائلٹ ٹریننگ کی مزید مضبوطی، اور طیارے کے الیکٹرانک و مکینیکل نظاموں کی مرحلہ وار اپ گریڈیشن شامل ہو۔ ساتھ ہی عالمی سطح پر شفاف رپورٹنگ اور غیر جانبدارانہ جانچ بھی مستقبل کے سودوں کے لیے ناگزیر ہوگی۔ صرف اسی صورت میں تیجس دوبارہ عالمی منڈی میں قدم جمانے کے قابل ہوسکے گا۔
رواں سال مئی میں پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کے شاہینوں نے جب بھارتی رافیل طیارے گرائے تو اِن طیاروں کے شیئرز
گر کر نچلی سطح پر آگئے تھے ۔ کچھ ایسا ہی اس بار ہوا جب دبئی ایئر شو میں تباہ ہونے والے بھارتی طیارے تیجاس تیار کرنے والی کمپنی
ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (hal) کے شیئرز کی قدر گر کر نصف سے بھی کم سطح پر چلی گئی۔ بھارت ہمیشہ خود کو فوجی لحاظ سے خطے کی سپر پاور
اور چوہدری قرار دیتا رہا ہے لیکن پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی شاندار فتح کے بعد بھارتی ساکھ کو عالمی سطح پر شدید دھچکا پہنچا ہے اور
حالیہ دبئی ایئر شو میں تیجس طیارے کی تباہی نے بھارتی فضائیہ کی پروفیشنل صلاحیتوں پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں اور دنیا بھر میں بھارتی
فضائیہ کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔آخر میں، بھارت کے لیے لازمی ہے کہ وہ دفاعی برآمدات کو محض اقتصادی
فائدہ نہ سمجھے بلکہ اسے قومی وقار، شفافیت اور عملی صلاحیت کے ساتھ جوڑے ۔ دبئی ایئر شو کا حادثہ بھارت کے لیے ایک سخت پیغام ہے کہ
دفاعی صنعت محض ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اعتماد کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے ، اور جب اعتماد لرز جائے تو سودے اپنے آپ معطل ہو جاتے ہیں، جیسے
آرمینیا نے کیا۔
٭٭٭