وجود

... loading ...

وجود

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

هفته 29 نومبر 2025 وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

ریاض احمدچودھری

سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا بے نقاب، بھارت، افغانستان اور پی ٹی ایم سے منسلک جعلی اکاؤنٹس کا انکشاف ہوا ہے۔ پاکستان کے خلاف جھوٹ، فتنہ اور انتشار پھیلانے والے جعلی انسانی حقوق کے علمبردار اور پروپیگنڈا نیٹ ورکس کا مکروہ چہرہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس” کی نئی اپڈیٹ کے بعد بے نقاب ہو گیا ہے۔ اپڈیٹ کے نتیجے میں واضح ہوا ہے کہ افغانستان، فتنہ الہندوستان اور پشتون تحفظ موومنٹ سے منسلک متعدد اکاؤنٹس غیر ملکی ایجنڈے پر سرگرم تھے۔ پاکستان کے خلاف نفرت، انتشار اور غلط بیانی پھیلانے والے بھارتی اکاؤنٹس بھی سامنے آ گئے ہیں۔ پاکستان میں دہشتگردی کے بیانیے کو ہوا دینے کیلیے بھارت سمیت کئی ممالک سے اکاؤنٹس آپریٹ کیے جا رہے تھے، جن میں اپنی اصل لوکیشن چھپانے کیلیے VPN کا استعمال بھی عام تھا۔مزید انکشافات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں سے منسلک متعدد اکاؤنٹس بھی بھارت اور دیگر ممالک سے چل رہے تھے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جعلی انسانی حقوق کا ڈھونگ رچانے والے کئی اکاؤنٹس دراصل غیر ملکی نیٹ ورکس نکلے، جن کے روابط بھارت سے ملتے ہیں۔پاکستان دشمنی میں سرگرم ان بیرونِ ملک پروپیگنڈا فیکٹریوں کا پورا نیٹ ورک اب دنیا کے سامنے آشکار ہو چکا ہے۔مختلف سیاسی بیانیے بھی بیرونِ ملک سے منظم طریقے سے چلائے جا رہے تھے، جن کا مقصد ملک میں انتشار پیدا کرنا تھا ماہرین سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت اور جھوٹ پھیلانے والے بھارتی نیٹ ورک کے مکمل طور پر بے نقاب ہونے کو ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان کے ایوانِ بالا سینیٹ آف پاکستان میں سوشل میڈیا پر فوج اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کو سخت سزا دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔ ایوان میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین موجود تھے لیکن کسی رکن نے بھی اس قرارداد کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔سینیٹ میں یہ قرارداد ایسے وقت میں آئی ہے جب چند روز قبل اسلام آباد میں کسانوں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر افواہوں اور منفی باتوں کے ذریعے ہیجان اور مایوسی کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سے متعلق افواہیں اور سوشل میڈیا پر مایوسی پھیلا کر تاثر دیا جاتا ہے کہ ریاست وجود کھو چکی ہے لیکن ہم قوم کے ساتھ مل کر ہر مافیا کی سرکوبی کریں گے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ملکی سرحدوں کے تحفظ و دفاع میں مسلح افواج اور دفاعی ایجنسیوں نے بے پناہ قربانیاں دیں فوج اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف منفی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ دشمن ہمسائیوں کے ہوتے ہوئے مضبوط فوج اور سیکیورٹی ایجنسی ناگزیر ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پاک فوج کے خلاف بدنینتی پر مبنی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، سینیٹ کا ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان نے افغان میڈیاکی پاکستان مخالف جعلی اور گمراہ کن خبروں کا پول کھولتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور افغانستان جعلی مواد کے ذریعے پاک فوج اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سازش میں مصروف ہیں،پاکستان اور پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا مہم بھارتی اور افغان میڈیا کا وطیرہ بن چکی۔وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان نے جاری بیان میں واضح کیا ہے کہ کسی پاکستانی یا عالمی میڈیا نے مسجد یا قرآن کی مبینہ بے حرمتی کی کوئی تصدیق نہیں کی،افغان اکاؤنٹس باقاعدگی سے پاکستان مخالف مواد شائع کرکے مذہبی جذبات کو ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں،سوشل میڈیا ویریفیکیشن ٹول کے مطابق وائرل ویڈیو حقیقی فوٹیج نہیں بلکہ اے آئی سے تیار کی گئی ہے۔ جھوٹی مہم کا آغاز ایک سیاسی بیان سے ہوا جسے افغان اکاؤنٹس نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا،عوامی ردعمل کے 14 گھنٹے بعد افغان اکاؤنٹ نے اعتراف کیا کہ ویڈیو اے آئی سے تیار کی گئی تھی۔ یاد رہے افغان سوشل میڈیا ہینڈلر نے اپنے اکاؤنٹ سے جھوٹا دعوی کیاتھا کہ پاک فوج نے مسجد اور قرآنِ مجید کی بے حرمتی کی اور اپ لوڈ ویڈیو میں فوجی اہلکاروں پر مسجد میں کتوں کے استعمال کا بے بنیاد الزام لگایا۔فریب پر مبنی بھارتی نشریاتی اداروں فرسٹ پوسٹ اور نیوز18کے من گھڑت دعوؤں کی حقیقت بے نقاب ہوگئی۔پاکستان کی عسکری قیادت پر اسرائیل سے پاک فوج کی غزہ میں تعیناتی پر”ڈالر لینے”کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہو گیا۔بھارتی نشریاتی ادارہ فرسٹ پوسٹ نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ امریکی حمایت یافتہ غزہ امن مشن میں پاکستان کی عسکری قیادت نے اسرائیل سے 10 ہزار ڈالر کا تقاضا کیا۔نیوز18کی من گھڑت اور مضحکہ خیز رپورٹ میں پاکستان،موساداور سی آئی اے کے درمیان خفیہ ملاقاتوں کا حوالہ بھی دیا گیا۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان نے حقائق واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، اسرائیل یا امریکہ کی جانب سے کسی ملاقات یا مالی مذاکرات کا کوئی ثبوت یا سرکاری تصدیق موجود نہیں۔پاکستان کے وزارتِ خارجہ اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے فوجی تعیناتی یا اسرائیلی و امریکی خفیہ اداروں سے ملاقات کی کوئی تصدیق نہیں کی۔پاکستان اور پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا مہم بھارتی میڈیا کا وطیرہ بن چکی ہے۔بھارت حقائق کو مسخ کر کے پاکستان کی عسکری و سفارتی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سازش کر رہا ہے۔گودی میڈیا گمراہ کن اور جھوٹے پروپیگنڈا سے خطہ میں انتشار پھیلانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر