... loading ...
محمد آصف
پانی زندگی کی بقا ہے ، لیکن بہت سے ترقی پذیر ممالک میں یہ سب سے زیادہ نظرانداز ہونے والا وسیلہ ہے ۔ پاکستان، جو عظیم دریاؤں، زرخیز میدانوں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا حامل ملک ہے ، بار بار آنے والے سیلاب، خشک سالی اور پانی کی قلت کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فطری آبی وسائل سے مالا مال یہ ملک محض اس وجہ سے مشکلات کا شکار ہے کہ ہم نے ان کا صحیح انتظام نہیں کیا۔ ڈیمز اور ذخائر کی کمی نے پاکستان کو ایسی آفات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جن سے باآسانی بچا جا سکتا تھا۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی، خوراک کی قلت اور توانائی کے بحران کا مقابلہ اس سب سے اہم ہتھیار کے بغیر کر رہے ہیں ڈیم کے بغیر۔ یہی ہے بغیر ڈیم کے دفاع۔
ڈیم صرف پتھر اور سیمنٹ کے ڈھانچے نہیں ہوتے بلکہ کسی بھی قوم کے لیے تزویراتی اثاثے ہوتے ہیں۔ یہ دریاؤں کے بہاؤ کو قابو میں رکھتے ہیں، سیلابی پانی ذخیرہ کرتے ہیں، بجلی پیدا کرتے ہیں، کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں اور خشک سالی کے موسم میں پانی کی فراہمی یقینی بناتے ہیں۔ چین اور امریکہ جیسے ممالک نے بڑے ڈیمز تعمیر کرکے اپنی زراعت، صنعت اور توانائی کے شعبوں میں انقلاب برپا کیا ہے ۔ لیکن پاکستان کی کہانی مختلف ہے ۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود، جہاں 70 فیصد سے زائد آبادی کا روزگار کھیتی باڑی پر منحصر ہے ، پاکستان صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کر سکتا ہے ، جب کہ بھارت 170 دن اور دنیا کی اوسط 200 دن ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈیمز کے بغیر ہماری خوراک، معیشت اور قومی استحکام مسلسل خطرے میں ہے ۔اصطلاح”بغیر ڈیم کے دفاع” پاکستان کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے ۔ ہر سال برسات کے طوفانی موسم میں دریاؤں کا پانی بستیوں کو اجاڑ دیتا ہے ، کھیتوں کو ڈبو دیتا ہے اور کھربوں روپے کا نقصان کر دیتا ہے ۔ حالیہ سیلاب میں پنجاب اور سندھ کے وسیع علاقے ڈوب گئے ، لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے اور زرخیز زمین برباد ہو گئی۔ اگر ڈیمز تعمیر کیے گئے ہوتے تو یہی پانی بجلی اور آبپاشی کے لیے ذخیرہ کیا جا سکتا تھا۔ دوسری طرف، خشک سالی کے دوران کسان پانی کے لیے ترستے ہیں، صنعتیں بند پڑی ہیں اور شہروں کو پینے کے پانی کا بحران درپیش ہے ۔ یہ وہی پانی ہے جو ایک وقت میں ہمیں ڈبو دیتا ہے اور دوسرے وقت میں ہمیں پیاسا چھوڑ دیتا ہے ، کیونکہ ہمارے پاس اسے محفوظ کرنے کا کوئی انتظام نہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے جنگ میں بغیر ہتھیار کے جانا بغیر ڈیم کے دفاع۔
ڈیمز کا ایک اور اہم پہلو پن بجلی ہے ۔ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین توانائی بحرانوں میں مبتلا ہے ۔ بڑھتی ہوئی طلب اور درآمدی ایندھن پر مہنگے انحصار نے صنعتوں کو مفلوج اور مہنگائی کو آسمان تک پہنچا دیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں 60,000 میگاواٹ سے زیادہ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے ، لیکن ہم اس کا صرف دس فیصد استعمال کر رہے ہیں۔ ڈیمز کے بغیر ہم مہنگے تھرمل اور درآمدی توانائی ذرائع پر انحصار کرتے ہیں جو معیشت پر بوجھ ہیں۔ اس کے برعکس، ڈیمز سے حاصل ہونے والی بجلی سستی، صاف، اور پائیدار ہے ۔ اس لیے ہر غیر تعمیر شدہ ڈیم نہ صرف ضائع شدہ موقع ہے بلکہ آنے والی نسلوں پر قرض بھی ہے ۔
2010 کا سپر فلڈ اور 2022 کا غیر معمولی سیلاب اس بات کی سخت یاد دہانی ہیں کہ سیلاب کسی دشمن کے حملے سے کم نہیں۔ ہزاروں افراد جان سے گئے ، لاکھوں بے گھر ہوئے اور اربوں ڈالر کا انفراسٹرکچر برباد ہو گیا۔ اگر عسکری زبان میں دیکھا جائے تو بار بار حملوں کے باوجود دفاعی دیواریں نہ بنانا خودکشی کے مترادف ہے ۔ اسی طرح ڈیمز کی نظراندازی قوم کو سیلاب کے حملوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ہے ۔ حقیقی قومی دفاع صرف ٹینکوں، جہازوں یا ایٹمی ہتھیاروں کا نام نہیں بلکہ عوام، کھیتوں اور معیشت کو قدرتی آفات سے محفوظ بنانا بھی ہے ۔ اسی پہلو سے دیکھا جائے تو پاکستان نے اپنی فوج کو تو مضبوط کیا ہے مگر اپنے آبی دفاع کو کمزور چھوڑ دیا ہے ۔زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو تقریباً 20 فیصد جی ڈی پی میں حصہ ڈالتی ہے اور نصف سے زائد آبادی کو روزگار فراہم کرتی ہے ۔ لیکن پاکستان کی زراعت کا انحصار دریاؤں سے آنے والے پانی پر ہے ۔ ڈیمز کے بغیر کسان اہم فصلوں کے موسم میں پانی کی کمی کا سامنا کرتے ہیں۔ گندم، چاول اور کپاس جیسی فصلیں جو خوراک اور برآمدات کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں، اپنی مکمل پیداوار نہیں دے پاتیں۔ دوسری جانب سیلاب کھڑی فصلیں اور زرخیز زمین تباہ کر دیتے ہیں۔ یہ دوہرا خطرہ ہماری غذائی سلامتی کی بنیاد ہلا رہا ہے ۔ بڑھتی ہوئی آبادی، جو 2050 تک 30 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی، کو کھلانے کے لیے پاکستان کو لازمی طور پر ڈیمز تعمیر کرنے ہوں گے ۔ ورنہ بھوک اور غربت میں اضافہ ہوگا اور عدم استحکام مزید بڑھے گا۔
ماحولیاتی تبدیلی نے پاکستان کے آبی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے ۔ شمالی علاقوں کے گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور برسات کے غیر متوقع سلسلے سیلاب اور خشک سالی کو عام کر رہے ہیں۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2030 تک پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہوگا۔ اس تناظر میں ڈیمز کسی عیاشی کا نام نہیں بلکہ زندگی اور موت کا سوال ہیں۔ڈیمز اضافی بارش کا پانی ذخیرہ کرتے ہیں اور خشک سالی میں اسے فراہم کرتے ہیں۔ ڈیمز کے بغیر پاکستان کا ماحولیاتی دفاع نامکمل ہے ۔
دنیا کے کئی ممالک نے ڈیمز کو قومی ترقی کے اوزار کے طور پر استعمال کیا۔ چین کا تھری گورجز ڈیم، بھارت کا بھاکرا ڈیم اور مصر کا اسوان ڈیم مثالیں ہیں کہ پانی پر قابو پانے سے کیسے معیشتیں مستحکم ہوتی ہیں۔ ان ممالک نے جلد ہی یہ حقیقت تسلیم کر لی تھی کہ پانی پر کنٹرول سرحدوں پر کنٹرول کے برابر ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان نے دہائیوں ضائع کر دیں، سیاسی تنازعات اور بیوروکریسی کی رکاوٹوں میں الجھا رہا اور کالاباغ جیسے منصوبوں پر اتفاق نہ کر سکا۔ جب کہ دنیا آگے بڑھتی رہی، پاکستان کی آبادی بڑھی، دریا اُبلتے رہے اور توانائی کے مسائل سنگین تر ہوتے گئے ۔ سبق واضح ہے : پانی کا انفراسٹرکچر کے بغیر کوئی ملک مضبوط نہیں ہو سکتا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ڈیمز کو قومی دفاع کا حصہ سمجھا جائے ۔ بڑے اور چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کو دفاعی بجٹ جتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے۔ دیامر بھاشا، مہمند اور داسو جیسے منصوبے مزید تاخیر کے بغیر مکمل ہونے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیونٹی سطح پر چھوٹے ذخائر اور
بارش کے پانی کو جمع کرنے کے منصوبے بھی ضروری ہیں۔ عوامی آگاہی مہمات بھی شروع کی جائیں تاکہ ہر شخص یہ سمجھے کہ پانی کے انتظام کی ذمہ داری ہم سب پر ہے ۔ ریاست، سیاست دان اور سول سوسائٹی کو تقسیم سے اوپر اٹھ کر پانی کے تحفظ کے لیے متحد ہونا ہوگا کیونکہ قوم کی بقا اسی پر منحصر ہے ۔ بغیر ڈیم کے دفاع، دفاع نہیں ہوتا۔ پاکستان کی اصل طاقت صرف میزائلوں اور ٹینکوں سے نہیں ناپی جائے گی بلکہ اس سے کہ وہ اپنے پانی کو کتنا ذخیرہ، منظم اور دانشمندی سے استعمال کر سکتا ہے ۔ ہر وہ سیلاب جو زندگیاں چھینتا ہے اور ہر وہ خشک سالی جو زراعت کو مفلوج کر دیتی ہے ، ہماری غفلت کی نشانی ہے ۔ ڈیمز محض کنکریٹ کے ڈھانچے نہیں بلکہ آفات کے خلاف ڈھال، ترقی کے انجن اور بقا کے ضامن ہیں۔ آنے والی نسلوں کا دفاع کرنے کے لیے ڈیمز کی تعمیر قومی ترجیح بننی چاہیے ۔ ورنہ ہم ہمیشہ غیر محفوظ، غیر تیار اور کمزور رہیں گے ۔” طوفان میں بغیر پناہ، جنگ میں بغیر ہتھیار، اور زندگی کی جدوجہد میں بغیر ڈیم کے دفاع۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔