... loading ...
محمد آصف
دورِ حاضر میں سوشل میڈیا انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے ۔ ذرائع ابلاغ کا یہ جدید ترین وسیلہ جہاں علم و آگاہی، معلومات کی ترسیل اور فکری ارتقاء کا ذریعہ ہے ، وہیں اس کا منفی استعمال معاشرتی بگاڑ، اخلاقی زوال اور فتنوں کا سبب بھی بن رہا ہے ۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریاست کی کیا ذمہ داریاں ہیں کہ وہ اپنے شہریوں خصوصاً نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے مثبت اور مفید استعمال کی تعلیم و تربیت فراہم کرے ؟ اس سلسلے میں اگر ہم سیرتِ طیبہ ۖ کا مطالعہ کریں تو ہمیں واضح رہنمائی ملتی ہے کہ اسلام نے ابلاغ، تربیت اور اخلاقی ذمہ داریوں کے اصول کس طرح طے کیے ہیں اور ایک ریاست پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
رسول اکرم ۖ کی بعثت کا مقصد ہی انسانی ذہن و کردار کی اصلاح اور معاشرے کو حق و باطل میںفرق بتانا تھا۔ آپ ۖ نے اپنی دعوت کے آغاز میں سب سے پہلے امانت، صداقت اور حق گوئی پر زور دیا۔ یہی اصول آج کے سوشل میڈیا پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ جھوٹی خبریں پھیلانا، کردار کشی کرنا، دوسروں کی پرائیویسی پر حملہ کرنا اور نفرت انگیز بیانیہ تشکیل دینا وہ اعمال ہیں جنہیں سیرت النبی ۖ کے مطابق سختی سے منع کیا گیا ہے ۔ ریاست پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے منفی رجحانات کی روک تھام کرے اور شہریوں کو سچائی، عدل اور ذمہ داری کے ساتھ ابلاغ کا شعور دے۔
سوشل میڈیا کے دور میں ایک بڑا چیلنج ”فیک نیوز”اور پروپیگنڈا ہے ۔ نبی اکرم ۖ نے فرمایا:”کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے ”۔(مسلم)۔
یہ ہدایت ہمیں بتاتی ہے کہ بغیر تحقیق کوئی بات آگے بڑھانا گناہ اور معاشرتی بگاڑ کا سبب ہے ۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ تعلیمی نصاب میں میڈیا لٹریسی اور سوشل میڈیا اخلاقیات کو شامل کرے تاکہ نئی نسل خبر کی تحقیق، ذمہ داری اور اخلاقی پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر مواد شیئر کرے ۔
سیرت النبی ۖ میں تعلیم و تربیت کا پہلا اصول یہ تھا کہ علم کو مقصدِ حیات سمجھا جائے ۔ آپ ۖ نے علم کو ہر مرد و عورت پر فرض قرار دیا۔ اس تناظر میں ریاست پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو صرف تفریح یا وقت گزاری کے بجائے تعلیم و تربیت، شعور اور علم کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی بنائے ۔ آن لائن لائبریریز، تعلیمی لیکچرز، دینی و اخلاقی مواد اور سیرت پر مبنی مواد کو سوشل میڈیا کے ذریعے عام کرنا ریاستی سرپرستی میں ہونا چاہیے ۔ اسلامی ریاست میں حکمران کو ”راع” یعنی چرواہا کہا گیا ہے ، اور ہر چرواہے سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بخاری و مسلم)۔ یہ اصول بتاتا ہے کہ ریاست کو اپنے شہریوں کے اخلاقی و فکری تحفظ کی ضمانت دینا ہوگی۔ آج جب سوشل میڈیا نوجوان نسل کی سوچ اور رویوں کو تشکیل دے رہا ہے ، تو ریاست پر لازم ہے کہ وہ قوانین بنائے ، رہنما اصول فراہم کرے اور نگرانی کا ایسا نظام قائم کرے جو آزادی اظہار کے ساتھ ساتھ اخلاقی حدود کی بھی پاسداری کرے ۔
سیرتِ نبوی ۖ میں ”امر بالمعروف و نہی عن المنکر”(نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) ریاستی ذمہ داری قرار دی گئی ہے ۔ اس اصول کے تحت سوشل میڈیا پر منفی اور غیر اخلاقی مواد کی روک تھام ریاست پر فرض ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مثبت اور تعمیری مواد کو فروغ دیا جائے ۔ مثال کے طور پر معاشرتی اصلاح، دینی تعلیمات، اخلاقی تربیت، صبر، ایثار، رواداری اور برداشت جیسے موضوعات پر ریاستی سطح پر مہم چلائی جائے تاکہ نوجوان ان سے متاثر ہوں۔نبی اکرم ۖ نے ہمیشہ خیرخواہی اور اصلاحی گفتگو کو ترجیح دی۔ آپ ۖ کا فرمان ہے :”تم میں سے بہتر وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے ”۔(بخاری)۔ یہ اصول ہمیں بتاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی کسی کی عزت نفس مجروح نہ کی جائے ، کسی پر طنز نہ کیا جائے اور دوسروں کے عقائد و نظریات کی توہین نہ کی جائے ۔ ریاست کو اس حوالے سے شہریوں کو تربیت دینے اور قوانین کے نفاذ کی دوہری ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ سیرت النبی ۖ میں نوجوانوں کی تربیت کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ آپ ۖ نے نوجوانوں کو اعتماد دیا، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور انہیں معاشرتی قیادت کے قابل بنایا۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت رخ پر ڈالنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے ۔ ریاست اگر اس پلیٹ فارم کو درست سمت میں استعمال کرے تو نوجوان علم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر مثبت تعارف کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر ریاست غافل رہی تو یہی پلیٹ فارم فکری انتشار، اخلاقی بگاڑ اور بے راہ روی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اسلامی ریاست کے بنیادی فرائض میں شہریوں کو تعلیم دینا، ان کے اخلاق و کردار کو محفوظ رکھنا اور انہیں باوقار معاشرہ فراہم کرنا شامل ہے ۔ اس تناظر میں ریاست پر لازم ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے واضح ضابطہ اخلاق تشکیل دے ۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں سوشل میڈیا ایجوکیشن کو نصاب کا حصہ بنایا جائے ، والدین کو تربیتی ورکشاپس فراہم کی جائیں اور میڈیا اداروں کے ساتھ مل کر ایسے پروگرام بنائے جائیں جو سیرت النبی ۖ کے اخلاقی اصولوں کو اجاگر کریں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ریاست کو صرف ”پابندی” کی پالیسی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ”مثبت متبادل”بھی فراہم کرنا چاہیے ۔ اگر نوجوانوں کو معیاری، دلچسپ اور اخلاقی طور پر مثبت مواد دیا جائے تو وہ خود بخود منفی سرگرمیوں سے دور رہیں گے ۔ رسول اکرم ۖ نے بھی ہمیشہ انسانوں کو حرام سے روکنے کے ساتھ ساتھ حلال کا متبادل پیش کیا۔ یہی اصول سوشل میڈیا پر بھی لاگو ہونا چاہیے ۔
خلاصہ یہ کہ سوشل میڈیا کے مفید اور مثبت استعمال کے لیے ریاست کی ذمہ داری محض قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہتی فریضہ ہے جس میں تعلیم، تربیت، نصاب، قوانین، مانیٹرنگ، مثبت مواد کی ترویج اور سیرت النبی ۖ کی روشنی میں اخلاقی اصولوں کی ترویج شامل ہے ۔ رسول اکرم ۖ نے جو رہنما اصول ہمیں عطا فرمائے وہ آج بھی اتنے ہی مؤثر ہیں جتنے چودہ سو سال پہلے تھے ۔ اگر ریاست ان اصولوں کو اپنی پالیسیوں اور تعلیمی نظام کا حصہ بنا لے تو سوشل میڈیا فتنوں اور بگاڑ کے بجائے علم، شعور، اخلاق اور مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔