وجود

... loading ...

وجود

اسرائیلی جنگی طیاروں کی لبنان پر شدید بمباری، 274 افراد شہید، ہزاروں زخمی

پیر 23 ستمبر 2024 اسرائیلی جنگی طیاروں کی لبنان پر شدید بمباری، 274 افراد شہید، ہزاروں زخمی

 

اسرائیل نے غزہ کے بعد لبنان میں ایک نیا محاذ جنگ کھول دیا ہے اور پیر کو اسرائیل نے حزب اللہ کے اسلحے کے ذخائر کو نشانہ بنانے کے لیے جنوبی شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 21 بچوں اور 39 خواتین سمیت کم از کم 274 افراد شہید اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو گئے۔عالمی میڈیا کے مطابق غزہ میں ایک سال سے جاری جارحیت کے بعد اسرائیل نے اپنی توجہ حزب اللہ کی جانب کر لی ہے جہاں پیجر اور واکی ٹاکی دھماکوں کے بعد باضابطہ حملوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔حزب اللہ اور اسرائیل کے دوران حالیہ عرصے میں ہونے والی بدترین سرحدی جھڑپوں اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد اسرائیل نے لبنان کے عوام کو یہ کہہ کر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا تھا کہ وہاں حزب اللہ نے اپنے ہتھیار ذخیرہ کیے ہوئے ہیں۔اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے ایک ویڈیو بیان میں حملے جاری رکھنے کا عندیا دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک کہ ہم شمالی باشندوں کو بحفاظت ان کے گھروں کو واپس بھیجنے کے اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر لیتے۔انہوں نے کہا کہ ان دنوں کے دوران اسرائیلی عوام کو تحمل کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔اسرائیل کی جانب سے لبنان کے جنوب مشرقی علاقے بیکا اور شام کے قریب شمالی علاقوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں اور اسلحے کے ذخائر کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا گیا لیکن ان حملوں میں زیادہ شہادتیں عام شہریوں کی ہوئی ہیں۔لبنان کی وزارت صحت کے مطابق پیر کے روز اسرائیلی دشمنوں نے حملے میں جنوبی علاقوں اور گاوں کو نشانہ بنایا جس سے 21 بچوں اور 39 خواتین سمیت کم از کم 274 اافراد شہید ہو گئے جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچے ادرائی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ حزب اللہ کے 800 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے اور ہم نے پہلے ہی انتباہ جاری کردیا تھا کہ لبنان میں ان گھروں پر فضائی حملے کیے جائیں گے جہاں حزب اللہ نے ہتھیار چھپا رکھے ہیں۔اس کارروائی کے جواب میں حزب اللہ نے کہا کہ اس نے اسرائیلی فوجی چوکیوں پر راکٹ داغے ہیں جبکہ دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر مزید حملے بھی متوقع ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے پیر کی صبح لبنان کی جنوبی سرحد اور شمال میں واقع قصبوں پر متعدد فضائی حملے کیے، ان حملوں میں جنوب میں کئی قصبوں اور دیہاتوں کے مضافات اور مشرقی لبنان میں وادی بیکا کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان میں جو مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ حزب اللہ کے ہتھیاروں کے دھماکوں کے ہیں، جو گھروں کے اندر پھٹ رہے ہیں، جس گھر پر ہم حملہ کر رہے ہیں وہاں ہتھیار موجود ہیں، ان میں راکٹ، میزائل شامل ہیں جن کا مقصد اسرائیلی شہریوں کو ہلاک کرنا ہے۔گزشتہ ہفتے لبنان میں واکی ٹاکی اور پیجر دھماکوں میں درجنوں افراد کی شہادت کے بعد جمعہ کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر اسرائیلی فضائی حملے میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 45 افراد شہید ہو گئے تھے۔دوسری جانب حزب اللہ کے جوابی حملے میں اسرائیل کو معمولی نقصان پہنچا جہاں اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق شمالی اسرائیل میں راکٹوں کے حملوں میں ایک شخص کو معمولی چوٹیں آئیں۔لبنانی ٹیلی کام کمپنی اوگیرو کے سربراہ عماد کریدیہ نے پیر کے روز بتایا کہ نیٹ ورک پر 80ہزار سے زائد خودکار کالز موصول ہونے کا پتہ چلا ہے جس میں لوگوں کو اپنے علاقے خالی کرنے کا کہا گیا تھا لیکن ان میں سے کسی بھی کال جواب نہیں دیا گیا کیونکہ اس طرح کی کالیں تباہی اور افراتفری پھیلانے کے لیے نفسیاتی جنگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔لبنان کے دارالحکومت بیروت تک فون پر علاقے خالی کرنے کی کالیں موصول ہوئیں۔لبنان کے وزیر اطلاعات زیاد ماکاری نے کہا کہ ہماری وزارت کو ایک کال موصول ہوئی جس میں عمارت کو خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے کیونکہ یہ ایک نفسیاتی جنگ ہے۔بیروت کے مشرقی ضلع ساسین میں رہنے والے سرکاری ملازم ملازم جوزف غفاری نے کہا ہے کہ ہمیں خدشہ ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے ان شدید حملوں کا جواب دے گی اور ایک مکمل جنگ چھڑ جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حزب اللہ نے کوئی بڑا آپریشن کیا تو اسرائیل اس کا جواب دے گا اور اس سے بھی زیادہ تباہی ہو گی، ہم یہ سب برداشت نہیں کر سکتے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری نے لبنان میں لوگوں سے کہا کہ وہ حزب اللہ سے منسلک ممکنہ اہداف سے گریز کریں کیونکہ حملے مستقبل قریب میں جاری رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی فوج ان دہشت گرد اہداف کے خلاف وسیع پیمانے پر حملے کرتی رہے گی جو پورے لبنان میں بڑے پیمانے پر سرائیت کر چکے ہیں۔انہوں نے شہریوں سے کہا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے فوری طور پر اس راستے سے ہٹ جائیں جہاں انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ایک مقامی کمپنی کے عہدیدار بلال کچمار نے بتایا کہ حملوں کے سبب سیکڑوں لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے، سیکڑوں بے گھر افراد جنوبی علاقے میں اسکول میں واقع پناہ گاہ میں پہنچ گئے جبکہ بہت سے لوگ سڑکوں پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد وجود - پیر 23 فروری 2026

حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن وجود - پیر 23 فروری 2026

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

مضامین
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر وجود منگل 24 فروری 2026
فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر

کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر