وجود

... loading ...

وجود

سرحدوں پر افغانستان نہیںہم بیٹھے ہیں اپنی ذمہ داریوں کو دیکھنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان

جمعرات 05 ستمبر 2024 سرحدوں پر افغانستان نہیںہم بیٹھے ہیں اپنی ذمہ داریوں کو دیکھنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان

 

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی ذمہ داری افغانستان پر عائد کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں کو دیکھا جائے، سرحدوں پر ہم بیٹھے ہیں افغانستان نہیں۔قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج پر حملے ہوئے اداروں پر حملے ہوئے اس پر ایوان غور نہیں کرے گا تو کون کرے گا؟ ہم صورتحال کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے، دونوں طرف صورتحال جذباتی ہوگئی ہے ایک فریق اس حد تک چلا گیا ہے کہ علیحدگی کی بات شروع کردی ہے اور دوسری طرف طاقت کے ذریعے ان سے نمٹنے ریاست کے تحفظ کے لیے ا?خری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں ایسے بیانات صورتحال کو مزید جذباتی بنادیتے ہیں، دونوں طرف سے انتہاؤں پر پہنچا یہ عمل پاکستان کی سلامتی پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔فضل الرحمان نے کہا کہ ان سارے معاملات کو سیاسی لوگ ہی درست کرسکتے ہیں مگر آج سیاسی لوگوں کی اہمیت کو کم کیا جارہا ہے، معاملہ فہم اور تجربہ کار سیاسی قیادت کو سائیڈ لائن کیا جارہا ہے اس کی جگہ نئے نوجوان لیں گے جو تجربہ کار نہیں ہوتے جذباتی ہوتے ہیں اس وجہ سے معاملات مزید الجھ جاتے ہیں۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ سیاست دانوں کو بااختیار بناکر معاملات ان کے حوالے کیے جائیں سب چیزیں خود میں سمیٹنا اور سارے معاملے کے لیے فیصل آباد کا گھنٹہ گھر بن جانا، ہر چیز کے لیے خود امرت دھارا بن جانا ایک خواہش تو ہوسکتی ہے مگر یہ کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوسکتا، کیا حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ فیصلہ کرسکے اور اپوزیشن کو اعتماد میں لے سکے؟ اور پارلیمان کوئی قدم اٹھائے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بات مخفی نہیں کہ خطہ پاکستان پراکسی وار کا میدان جنگ بنا ہوا ہے، امریکا چائنا، سی پیک گوادر یہ سارے معاملات وہ ہیں کہ ایک فریق سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے، میگا پروجیکٹس کے سامنے رکاوٹیں کھڑی ہوگئی ہیں، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت سے بلوچستان کی طرف جائیں یہ سی پیک کا ایریا ان کے قبضے میں ہے اور اس وقت وہاں کوئی ترقیاتی کام ممکن نہیں۔انہوں ںے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں حالات یہاں تک چلے گئے ہیں کہ وہاں کچھ علاقوں میں پاکستان کا ترانہ نہیں پڑھا جاسکتا جھنڈا نہیں لہرایا جاسکتا، یہاں تک صورتحال چلی گئی، اس نازک صورتحال میں ہمیں قدم اٹھانا چاہیے، حکومت بھی ذمہ داری پوری کرے، اپوزیشن میں ہیں مگر ملک کو ضرورت ہے تو ہم حاضر ہیں، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں اور قائدین کو ملک کے لیے غیر ضروری سمجھنا سب سے بڑی حماقت ہے۔فضل الرحمان نے کہا کہ سندھ میں ڈاکوؤں کا راج ہے وہاں کچے کی صورتحال سے سب واقف ہیں مگر بلوچستان میں اسٹیٹ کو چیلنج کیا جارہا ہے، پارلیمنٹ سے کہا جائے وہ ا?گے بڑھے اور بلوچستان میں جاکر لوگوں سے بات کرے، کے پی میں امن کی صورتحال مخدوش ہے وہاں لوگوں سے بات کرے تو صورتحال کو درست کیا جاسکتا ہے مگر جو طریقہ اپنایا جارہا ہے اس سے صورتحال مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔انہوں ںے کہا کہ جب ریاست ناکام ہوجاتی ہے تو ہم جاکر صورتحال کو کنٹرول کرتے ہیں، میں افغانستان گیا، وہاں تمام شعبہ جات میں بات چیت کرکے کامیابی کے ساتھ واپس ا?یا اور وزارت خارجہ سمیت حکومت کو ا?گاہ کیا اور وہ مطئمن ہوئے، جیسے ہی حملہ ہو فوراً الزام عائد ہوجاتا ہے کہ افغانستان کے لوگ تھے، کیا افغانستان کیلوگ مجرم ہیں؟ اگر یہ لوگ افغانستان سے ایک یا دو چوکیاں عبور یہاں پہنچتے ہیں مگر کوئٹہ سے لے کر بشام تک ڈھائی سو چوکیاں ہیں دہشت گردوں کا انہیں عبور کرجانا کیا وہ بھی افغانستان کی ذمہ داری ہے؟ سرحدوں پر ہماری فوج ہے ان کی تو فوج ہی نہیں؟ ہمیں ذمہ داری کسی اور پر عائد کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں کو دیکھنا ہوگا۔انہوں ںے کہا کہ لاپتا افراد کے معاملے میں ذمہ داری حکومت کی ہے وہ اہل خانہ کو آگاہ کرے کہ ان کا عزیز کدھر ہے، زندہ ہے یا مرگیا، جیل میں ہے یا کہیں بھاگ گیا، انہیں پتا چلنا چاہیے کہ ان کا بچہ کدھر ہے۔انہوں ںے کہا کہ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ آرمی پبلک اسکول کے سانحے سے ایک سال قبل ایک نوجوان کو پکڑا گیا اور جب سانحہ آرمی پبلک اسکول کے جرم میں پھانسیاں دی گئیں تو اس نوجوان کو بھی شامل کیا گیا کہ یہ بھی آرمی پبلک اسکول حملے میں ملوث ہے اور قاتل ہے پھر اسے بھی پھانسی دے دی گئی جسے ایک سال قبل پکڑا گیا تھا، میں چاہتا ہوں قوم فوج پر اعتماد کرے مگر ایسے اقدامات سے نفرت میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ نفرت آئندہ چند نسلوں میں بھی ختم نہیں ہوگی۔


متعلقہ خبریں


جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

یہ میزائل سسٹم جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس ہے،آئی ایس پی آر تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ،پاک فوج کے افسران نے کیا آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ...

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آباد...

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

گل پلازہ سانحہ، درجنوں زندگیاں خاکستر، نظام کی سنگین ناکامی بے نقاب وجود - منگل 28 اپریل 2026

غیرقانونی تعمیرات، تنگ راستے، رشوت، ناقص نگرانی اور حکومتی غفلت نے مل کر سانحے کو جنم دیا عمارت میں اسموک ڈیٹیکٹر، نہ ایمرجنسی اخراج کا نظام، نہ فائر فائٹنگ کا مناسب انتظام تھا، ذرائع شہرِ قائد کے مصروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے تباہی کی ایسی داستان رق...

گل پلازہ سانحہ، درجنوں زندگیاں خاکستر، نظام کی سنگین ناکامی بے نقاب

(ایران کی امریکا کو نئی پیشکش ) آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ بندی کی تجویز وجود - منگل 28 اپریل 2026

جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے،ایران ناکہ بندی ختم کرنے سے ٹرمپ کادباؤ کم ہو جائے گا ، امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ...

(ایران کی امریکا کو نئی پیشکش ) آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ بندی کی تجویز

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

مضامین
آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش وجود بدھ 29 اپریل 2026
آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش

بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز وجود بدھ 29 اپریل 2026
بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز

کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟

خواتین کا دہشت گردی میں استعمال وجود منگل 28 اپریل 2026
خواتین کا دہشت گردی میں استعمال

ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر