وجود

... loading ...

وجود

بجٹ اور میراثی

جمعه 14 جون 2024 بجٹ اور میراثی

علی عمران جونیئر

دوستو،نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ آگیا۔ وفاقی وزیرخزانہ کی بجٹ تقریر سن کر قرآن پاک کی وہ سورة یادآگئی، جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ۔۔ بے شک انسان خسارے میں ہے۔ اس سورة میں اللہ کریم نے زمانے کی قسم بھی کھا ئی ہے جس کے بعد انسان کے خسارے میں رہنے کا بتایا ہے۔ہم نے باباجی سے جب پوچھا بجٹ میں تعلیم ، صحت اورخوراک کیلئے وفاق نے کیا رکھا؟ تو باباجی نے مسکرا کر جواب دیا۔۔ تعلیم کیلئے وفاقی حکومت نے ”رب زدنی علما” ، خوراک کے لئے ” واللہ خیرالرزاقین” اور صحت کے لئے ” ھوالشافی، ھوالکافی” رکھا ہے۔۔بجٹ کے حوالے سے مختلف خبریں سوشل میڈیا پر دیکھ دیکھ کر ہمیں میراثی کا وہ لطیفہ یاد آگیا کہ۔۔ایک میراثی نے اپنی خواہش کا اظہار ایسے کیا کہ باسمتی چاول ہوں، دیسی گائے کا دودھ ہو، ولایتی کھنڈ ہو۔ بندہ کھیر پکائے اور سردیوں کی رات چھت پر رکھ کر سوجائے۔ صبح اٹھے تو انگلی لگا کر وہ کھیر کھائے۔کسی نے پوچھا۔ تمھارے پاس ان میں سے ہے کیا؟میراثی بولا۔۔ ”انگلی”۔۔ لطیفے کی دُم: وفاقی بجٹ میں مختلف شعبوں کیلئے رقم تو مختص کردی گئی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رقم موجود نہیں ہے۔
لیجنڈ مزاح نگار مشتاق یوسفی فرماتے ہیں کہ۔۔سود اور سرطان کو بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔قرضوں اور اس کے سود کی ادائیگی میں آدھے سے زیادہ بجٹ کی رقم چلی جائے گی۔۔ وہ مزید فرماتے ہیں کہ ہومیو پیتھی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ چھوٹا مرض دور کرنے کے لیے کوئی بڑا مرض کھڑا کردو۔ چنانچے مریض نزلے کی شکایت کرے تو دوا سے نمونیہ کے اسباب پیدا کر دو۔ پھر مریض نزلے کی شکایت نہیں کرے گا۔ ہومیو پیتھی کی کرے گا۔یہی حال بجٹ کا ہے یعنی اگر عوام مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں تو جنرل سیلز ٹیکس انیس سے بڑھا کر بیس فیصد کردو، پٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھا دو، درآمدی ٹیکس میں اضافہ کردو۔ تنخواہ دار طبقے پر اتنا ٹیکس لاد و کہ اس کی کمر ہی ٹوٹ جائے۔۔
بہت ہی امیر کبیر ٹھیکیدار کوا سٹیج کی نئی اور بہت خوبصورت اداکارہ سے محبت ہوگئی۔۔دوچار بار وہ اسکے ساتھ کسی آرٹ فلم پہ بات چیت کرنے کے بہانے ڈنر پہ گیا۔دراصل وہ اس سے شادی کا خواہاں تھا مگر اس کے ماضی کے بارے میں جاننا چاہ رہا تھا جسکے لیے اس نے پرائیویٹ سراغ رساں کمپنی کی خدمات حاصل کیں۔۔دس دن بعد رپورٹ اسکے میز پہ تھی۔۔۔۔آرٹسٹ اچھے گھرانے کی پڑھی لکھی باکردار لڑکی ہے، ساتھی اداکار اسکی بہت عزت کرتے ہیں، آج تک اسکا کوئی اسکینڈل نہیں بنا،البتہ آجکل وہ کسی بدنام زمانہ ٹھیکیدار کے ساتھ دیکھی جارہی ہے۔واقعہ کی دُم: امیر کبیر ٹھیکیدار کو آپ فارم سینتالیس والی حکومت سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔۔جب شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پینے لگیں تو سمجھ لو کہ شیر کی نیت اور بکری کی عقل میں فتور ہے۔۔سچ تو یہ ہے کہ حکومتوں کے علاوہ کوئی بھی اپنی موجودہ ترقی سے مطمئن نہیں ہوتا۔ بات یہ ہے کہ گھریلو بجٹ کے جن مسائل پر میں سگرٹ پی پی کر غور کیا کرتا تھا، وہ در اصل پیدا ہی کثرتِ سگرٹ نوشی سے ہوئے تھے۔اسی طرح اگر حکومت غور کرے تو وہ مسائل سامنے آسکتے ہیں جن کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا دور دورہ ہے اور طبقہ اشرافیہ کی عیاشیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔
ایک سابق وزیرخزانہ اپنے بچپن کی دنوں کے حوالے سے خوشگوار یادیں شیئر کرتے ہوئے بتارہے تھے کہ ۔۔وہ دن آج بھی یاد ہے جب میں نے گھر والوں کو آٹھویں کلاس کی مارک شیٹ دکھائی تھی جس میں میتھ میں مجھے 100 میں سے 90 نمبر ملے تھے،گھر والوں نے یہ بول کر اتنا” کوٹا ”تھا کہ یہ کب سے اتنا سمجھ دار ہوگیا،اسے تو صرف 9 نمبر ملے ہوں گے، اس نے نو کے آگے زیرو بڑھا کر اسے نوے بنا دیئے ہوں گے۔۔،میں نے قسم کھائی میں نے زیرو نہیں بڑھایا،مگر گھر والوں نے کچھ نہیں سنا اور جم کر دھلائی کی۔آج بھی اتنے سالوں بعد کہوں گا کہ میں نے زیرو نہیں بڑھایا تھا،میں نے تو صرف ”9 ” بڑھایا تھا۔ بجٹ تقریر سن کر تاجروں، صنعتکاروں، دکانداروں اور عوام کی اکثریت کو ڈپریشن کا دورہ پڑا ہوگا۔۔ ڈاکٹر نے مریض سے پوچھا کہ جب آپ پر ڈپریشن کا دورہ پڑتا ہے تو آپ کیا کرتے ہیں؟مریض نے جواب دیا کہ۔۔ نزدیکی مسجد میں چلا جاتا ہوں۔۔ڈاکٹر نے مریض کی بات سن کر کہا۔۔ بہت اچھی بات ہے، تو پھر آپ نوافل وغیرہ پڑھتے ہوں گے!کیوں کہ عبادت کرنے سے ڈپریشن اور ٹینشن ختم ہوجاتی ہے۔ مریض نے بڑی معصومیت سے کہا۔۔ نہیں نہیں، میں تمام نمازیوں کی جوتیاں آپس میں ملا دیتا ہوں اور جب نماز کے بعد تمام نمازی پریشان ہوتے ہیں تو خوب انجوائے کرتا ہوں اور میرا ڈپریشن کا وقت اچھا گزر جاتا ہے۔
بجلی کے نرخ آئے روز بڑھا دیئے جاتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ جنوری کا بل جو کہ بھرچکے ہیں، مئی اور جون کے بلوں میں لکھا آتا ہے کہ جنوری کے بل کا فیول ایڈجسٹمنٹ بھی بھرنا ہے۔ بجلی دیتے نہیں، بل ہے کہ ہر ماہ پہلے سے زیادہ آتا ہے۔ ۔جو لوگ سولر لگا کر بجلی کے بلوں سے نجات حاصل کرنا چاہ رہے تھے اب انہیں فکسڈ ٹیکس کے جال میں گھیرا جارہا ہے۔ ۔ امریکا میں جب لائٹ چلی جاتی ہے تو امریکی پاور ہاؤس کال کرتے ہیں، جاپان میں لائٹ جائے تو جاپانی سب سے پہلے فیوز چیک کرتے ہیں اور پاکستانی گلی میں جھانک کر کہتا ہے۔۔ ہاں یار، سب کی گئی ہے۔۔جب کسی بچے سے اس کے ٹیچر نے سوال کیا کہ بجلی کہاں بنتی ہے تو بچے نے جھٹ سے کہا، ہمارے ماموں کے گھر۔۔ٹیچر نے حیرت سے پوچھا ، وہ کیسے؟ بچہ کہنے لگا۔۔ جب بھی ہماری بجلی جاتی ہے تو ہمارے ابا کہتے ہیں۔۔ سالے پھر بجلی لے گئے۔ ابا کے سالے ہمارے ماموں ہوتے ہیں ناں۔۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔پاکستان کرکٹ ٹیم کی امریکہ سے شکست پر سینیٹر محسن نقوی کا وزیرداخلہ محسن نقوی سے نوٹس لینے کا مطالبہ، مطالبے کے بعد وزیرداخلہ محسن نقوی کا چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو فون، سخت برہمی کا اظہار، وہ فون پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی پر برس پڑے۔۔ خوش رہیںا ور خوشیاں بانٹیں۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے! وجود جمعه 19 جولائی 2024
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے!

نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر وجود جمعه 19 جولائی 2024
نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر

سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے ! وجود جمعه 19 جولائی 2024
سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے !

معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!! وجود بدھ 17 جولائی 2024
معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!!

عوام کی طاقت کے سامنے وجود بدھ 17 جولائی 2024
عوام کی طاقت کے سامنے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں وجود پیر 08 جولائی 2024
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر