وجود

... loading ...

وجود

اقتصادی سروے پیش، آئی ایم ایف کے سوا کوئی پلان بی نہیں ہے ،وزیرخزانہ

بدھ 12 جون 2024 اقتصادی سروے پیش، آئی ایم ایف کے سوا کوئی پلان بی نہیں ہے ،وزیرخزانہ

وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے علاوہ کوئی پلان بی نہیں ہے اور وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے 9 ماہ کے پروگرام کی وجہ سے آج ہم اہداف پر تبادلہ خیال کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے خزانہ و توانائی علی پرویز ملک، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، سیکریٹری منصوبہ بندی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ 2022اور 2023میں افراط زر کا سب کو پتا ہے ، اسی سال روپے کی قدر میں 29فیصد کمی ہوئی اور زرمبادلہ دو ہفتے کی کم ترین سطح پر آگیا تھا اور وہاں سے ہم نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مختلف اہداف ہیں، جس پر بات کریں گے لیکن یہ مذکورہ صورت حال ہمارے سفر کا آغاز ہے اور آج ہم شہباز شریف کی قیادت میں 5 سال کے لیے منتخب حکومت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔وزیرخزانہ نے کہا جب میں نجی شعبے سے وابستہ تھا اس وقت بھی میں واضح تھا کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں جانا چاہیے کیونکہ آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی پلان بی نہیں ہے اگر کوئی پلان بی ہوتا تو آئی ایم ایف کو آخری امید نہیں کہا جاتا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے 9 ماہ کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام لے کر حوصلہ افزا فیصلہ کیا اور جہاں ہم آج ہیں اس کی وجہ وہی فیصلہ تھا کیونکہ اگر وہ پروگرام نہ ہوتا ہم آج اہداف کی باتیں نہیں کرتے بلکہ ہمارے ملک کی صورت حال بہت مختلف ہوتی اور ہم مختلف باتیں کر رہے ہوتے اور آج جو اعدادوشمار ہیں وہ ہم ڈسکس نہ کر رہے ہوتے ۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح 48 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد تک آگئی ہے ، جلد ایک ہندسے پر بھی آجائے گی، شرح سود بتدریج نیچے آنا چاہیے ، مہنگائی میں کمی کی وجہ سے ہی اسٹیٹ بینک نے شرح سود کم کیا ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی گروتھ پراثر پڑنا تھا اور وہ پڑا ہے ، مگر زرعی شعبے کی گروتھ حوصلہ افزا ہے ، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے جو بے مثال ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پرائمری سرپلس رہا ہے اور اس میں صوبوں کو بھی کریڈٹ جاتا ہے ،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 6 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا جا رہا تھا اور اس وقت صرف 200ملین ڈالر ہے ، رواں مالی سال کے دوران چند مہینے ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ 3 فیصد سرپلس میں بھی رہا ہے ، کرنسی میں استحکام آیا ہے اس کی بڑی وجوہات میں نگران حکومت کے انتظامی اقدامات ہیں، نگران انتظامیہ نے ہنڈی حوالہ اور اسمگلنگ کو روکا اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا جائزہ لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کو ضروریات تھیں وہ بڑھائیں اور اسٹرکچرل کردار ہے ۔پریس کانفرنس کے دوران وزیرخزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات خوشگوار ماحول اور تعمیری انداز میں جاری ہیں، ان مذاکرات میں اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام کے تحت کیے گئے اقدامات کا اعتراف کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی اسٹریٹجک ادارہ نہیں ہے ،اسٹریٹجک سرگرمی ہوسکتی ہے اسے سرکار کے پاس رکھا جاسکتا ہے ، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور مثبت پیش رفت ہو رہی ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام اور آئی ایم ایف شراکت داری کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، پسماندہ طبقے پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا انہیں تحفظ دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں اور شرح سود کے اثرات ایل ایس ایم پر آنے تھے ، ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے سب کو ملک کی ترقی اور ریونیو میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، خیرات اور بھیک سے ملک نہیں چل سکتے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ دو ایسے شعبے ہیں جن کا آئی ایم ایف سے کوئی تعلق نہیں ہے ، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایسے شعبے ہیں جن پر 100 فیصد ہمارا کنٹرول ہے اور زرعی پیداوار کیسے بڑھانی ہے یہ سب ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے ۔اقتصادی سروے کے اعداد وشمار کے ملک میں ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ 3 ہزار 879ارب روپے سے زائد ہے ، انکم ٹیکس کی مد میں 476.96 ارب روپے ، سیلز ٹیکس کی مد میں 2858.721ارب روپے ،کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 543.521ارب روپے کی چھوٹ دی جا رہی ہے ۔سروے میں کہا گیا کہ مالی سال 2023-24میں ملکی معیشت(جی ڈی پی)کا حجم 338.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر374.9 ارب ڈالر ہوگیا ہے ۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے ایک سوال میں کہا کہ جس جس چیز سے حکومت کو جتنا نکال سکتے ہیں اتنا ہی ملک کے لیے بہتر ہوگا، ہم پاسکو کی ری اسٹرکچرنگ کرنے جارہے ہیں، ہمیں اسٹریٹجک ذخائر رکھنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے انفورسمنٹ کے پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے ، سالہاسال سے انفورسمنٹ ہوئی نہیں ہے ، اس لیے لوگ اسے ہلکا سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سال بھی بھی ٹیکس ریونیو گروتھ 30 فیصد ہوئی ہے تو اگلا ہدف بھی حاصل ہوسکتا ہے ، چین کے ساتھ سی پیک فیز ٹو پر انگیجمنٹ ضروری تھی،وزیر خزانہمحمد اورنگزیب نے کہا کہ دورے کا اصل مقصد سی پیک فیز ٹو کی بحالی تھا، یہ بزنس ٹو بزنس ایجنڈا ہے حکومت کے چند پراجیکٹس ہیں، کوشش ہے کہ چین سے گروتھ اورینٹڈ بزنس یہاں منتقل ہو۔ان کا کہنا تھا کہ متعدد قومی اقتصادی کونسل کے فیصلے ہم نے ریورس کیے ہیں، وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت کے 100 روز کے بارے میں یہی کہوں گا کہ ہم نے فیصلوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک میں خود مختاری کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ آپس میں بات چیت نہیں کرسکتے ہیں، بات چیت اور مذاکرات میں تو کوئی حرج نہیں ہے ، نہیں معلوم کہ آئی ایم ایف نے اپنی کسی ایڈوائس میں لکھا ہے کہ مہنگائی بڑھے گی یا بڑھنے والی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن کے لیے بجٹ کا انظار نہیں کیا، یہ نہیں کہہ سکتا کہ لوگوں کا ڈیٹا فیلڈ فارمیشن کے حوالے نہیں کر سکتے ، حقیقت یہی ہے کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم ناکام ہوا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات کا پروگرام تاخیر کا شکار نہیں ہونے دیا۔انہوں نے کہا کہ دو اثاثے نجکاری کے عمل میں ہیں، نگران حکومت نے بہت اچھا کام کیا، پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں فواد حسن فواد کو کریڈٹ جاتا ہے اور اسی کو ہم آگے لے کر چلے ، پی آئی اے کے لیے 6 لوگ پرکوالیفائی ہو چکے اور اس پر عمل جاری ہے جو جولائی اور اگست تک رزلٹ دیکھ لیں گے ۔وزیرخزانہ نے کہا کہ اسلام آباد ایئر پورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے بڈز آچکی ہیں، اسلام آباد ایئرپورٹ کی آوٹ سورسنگ کے بعد لاہور اور کراچی ایئر پورٹ کی بھی آوٹ سورسنگ کی جائے ، جس کے لیے ابھی سے کام شروع کر دیا گیا ہے ۔سیاسی عدم استحکام کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے اور جو کچھ ہونا ہے وہ صوبوں کی مشاورت سے ہوگا اور یہ طے ہے کہ صوبوں کی مشاورت سے ہوگا، سیاسی عزم ہو نہ ہو حقیقت یہی ہے کہ حکومت کو جتنا کاروبار سے نکالا جائے بہتر ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیرمملکت علی پرویز آج بھی علی امین گنڈاپور سے مل کر آئے ہیں، میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور وزیراعظم آزاد کشمیر سے مل چکا ہوں، اسی طرح پنجاب کے وزیراعلیٰ اور سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے مسلسل سے بات ہوتی رہی ہے اور اسی طرح آگے لے کر چلنا پڑے گا۔سرکاری ملکیتی اداروں کے حوالے سے میں بالکل واضح ہوں کہ ایک ہزار ارب روپے کا خسارہ برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ ہم یہ خسارہ برداشت کرتے رہے تو پھر یہی پوچھیں گے کہ اس خسارہ کو پورا کرنے کے لیے سرمایہ کیسے بڑھائیں گے ۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ اسٹیل مل میں لوگ بھی بیٹھے ہیں اور گیس بھی فراہم کی جا رہی ہے لیکن مل کے بحال ہونے والے زیرو امکانات ہیں اور یہ اسکریپ میں فروخت ہوگی۔


متعلقہ خبریں


ایڈہاک ججز کی تعیناتی مسترد، تحریک انصاف کاسپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان وجود - جمعه 19 جولائی 2024

پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے ایڈہاک ججز کی تعیناتی کو مسترد کردیا ہے ۔چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تعیناتی بدنیتی پر مبنی ہے ۔ ایڈہاک ججز کی تعیناتی کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیج رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد اپن...

ایڈہاک ججز کی تعیناتی مسترد، تحریک انصاف کاسپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

پاک فوج دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں میشہ آگے رہی ہے، آرمی چیف وجود - جمعه 19 جولائی 2024

پاک فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی 97ویں تقریب میں چینی سفیر نے کہا کہ کوئی بھی طاقت پاکستان اور چین کی دوستی اور دونوں افواج کے درمیان پائے جانے والے بھائی چارے کو ختم نہیں کرسکتی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان میں ک...

پاک فوج دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں میشہ آگے رہی ہے، آرمی چیف

غزہ میںوحشی اسرائیل کا جنگی جنون کم نہ ہو سکا، 80سے زائد فلسطینی شہید وجود - جمعه 19 جولائی 2024

ہزاروں معصوم فلسطینیوں کو شہید کرنے کے باوجود وحشی اسرائیل کا جنگی جنون کم نہ ہو سکا، غزہ میں فضائی حملوں کے نتیجے میں 24 گھنٹوں میں بچوں سمیت مزید 80 سے زائد شہری شہید ہو گئے ہیں۔دوسری جانب حماس کے جنگجوؤں نے بھی اسرائیلی حملوں کے جواب میں مارٹر گولوں اور بارودی سرنگوں سے صیہونی...

غزہ میںوحشی اسرائیل کا جنگی جنون کم نہ ہو سکا، 80سے زائد فلسطینی شہید

اٹارنی جنرل کی صنم جاوید کو دوبارہ گرفتار نہ کرنے کی یقین دہانی وجود - جمعه 19 جولائی 2024

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما صنم جاوید کی گرفتاری غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کی درخواست نمٹا دی۔پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کی رہائی سے متعلق درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی۔دوران سماعت اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان نے عدالت کو بتایا ...

اٹارنی جنرل کی صنم جاوید کو دوبارہ گرفتار نہ کرنے کی یقین دہانی

کراچی میں ہیٹ ویو کی لہر ، وکیلوں نے کالا کوٹ پہننے سے استثنیٰ مانگ لیا وجود - جمعه 19 جولائی 2024

شہر میں ہیٹ ویو کی لہر کے پیش نظر کراچی بار ایسوسی ایشن نے کالا کوٹ پہننے سے استثنیٰ مانگ لیا۔بار ایسوسی ایشن نے سیشنز ججز کو خط لکھ دیاجنرل سیکریٹری کراچی بار کے مطابق موسم کی شدت کی وجہ سے وکلاء کو دس روز کیلئے کالا کوٹ پہننے سے استثنیٰ دیاجائے کراچی ان دنوں غیر معمولی ہیٹ وے ک...

کراچی میں ہیٹ ویو کی لہر ، وکیلوں نے کالا کوٹ پہننے سے استثنیٰ مانگ لیا

آئندہ ماہ بجلی صارفین کو ایک یونٹ 70روپے کا پڑے گا وجود - جمعه 19 جولائی 2024

حکومت نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کیا گیا اضافہ اور نئے فکس چارجز بجلی کے نئے بلوں میں شامل کرلیے ۔ آئندہ ماہ نئے ٹیرف پر مکمل منتقلی اور نئے ٹیکسز کے بعد صارفین کو بجلی کا ایک یونٹ مجموعی طور پر ستر روپے کا پڑے گا۔ بجلی صارفین کو موصول ہونے والے نئے بلوں میں نان پیک آور کا یونٹ پ...

آئندہ ماہ بجلی صارفین کو ایک یونٹ 70روپے کا پڑے گا

بنوں ،ڈی آئی خان میں دہشت گرد حملے(10 فوجی جوان،5 شہری شہید، 13 دہشتگرد ہلاک) وجود - بدھ 17 جولائی 2024

دہشت گردوں کے گروہ نے بارود سے بھری گاڑی بنوںچھاؤنی کی دیوار سے ٹکرا دی، ملحقہ انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچا،چھاؤنی میں داخل ہونے کی کوشش کو سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ناکام بنا دیاڈی آئی خان میں دہشت گردوں کاہیلتھ مرکز کری شموزئی پر حملہ، عملے پر اندھا دھند فائرنگسے دو لیڈی ...

بنوں ،ڈی آئی خان میں دہشت گرد حملے(10 فوجی جوان،5 شہری شہید، 13 دہشتگرد ہلاک)

بنوں چھاؤنی پر خودکش حملہ 8جوان شہید، 10دہشت گرد ہلاک وجود - بدھ 17 جولائی 2024

بنوں چھاؤنی پر خودکش حملے میں پاک فوج کے 8جوان شہید ہو گئے جب کہ جوابی کارروائی میں 10دہشت گرد مارے گئے ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 15 جولائی کی صبح 10 دہشت گردوں کے ایک گروہ نے بنوں چھاونی پر حملہ کیا اور چھاونی میں داخل ہونے کی کوشش کی، جسے سکیورٹی فور...

بنوں چھاؤنی پر خودکش حملہ 8جوان شہید، 10دہشت گرد ہلاک

مسقط میں مجلس پر حملہ، فائرنگ سے 4 پاکستانیوں سمیت 9 افراد جاں بحق وجود - بدھ 17 جولائی 2024

عمان کے دارالحکومت میں مسجد میں فائرنگ کے واقعے میں 4پاکستانیوں سمیت 9افراد جاں بحق اور 30سے زائد زخمی ہوگئے ۔عرب میڈیا کے مطابق فائرنگ کا واقعہ عمان کی الوادی الکبیر کے علاقے میں واقع امام علی مسجد میں پیش آیا۔ فائرنگ کے وقت مسجد میں 700سے زائد افراد موجود تھے ۔مقامی میڈیا کا ک...

مسقط میں مجلس پر حملہ، فائرنگ سے 4 پاکستانیوں سمیت 9 افراد جاں بحق

ڈی آئی خان میں ہیلتھ مرکز پر حملہ، پانچ شہری ، دو جوان شہید، تین دہشت گرد ہلاک وجود - بدھ 17 جولائی 2024

ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں کے ہیلتھ مرکز پر حملے میں پانچ شہری اور سپاہی شہید ہوگئے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں رورل ہیلتھ سینٹر کری شموزئی پر بزدلانہ حملہ کیا، دہشت گردوں نے رورل ہیلتھ سینٹر کے عملے پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے دو لیڈ...

ڈی آئی خان میں ہیلتھ مرکز پر حملہ، پانچ شہری ، دو جوان شہید، تین دہشت گرد ہلاک

کسی کو پر تشدد احتجاج کا نہیں کہا، 9مئی واقعات کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہوئی، عمران خان وجود - منگل 16 جولائی 2024

بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ میں نے 9مئی کا واقعہ نہیں کروایا، میرا ان واقعات سے تعلق نہیں۔انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف 9مئی کے مقدمات کی سماعت کے دوران 12 مقدمات میں عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی حاضری ویڈیو ل...

کسی کو پر تشدد احتجاج کا نہیں کہا، 9مئی واقعات کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہوئی، عمران خان

70فیصد فیڈرلوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ،30فیصد فیڈر پر چوری کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ وجود - منگل 16 جولائی 2024

سندھ ہائیکورٹ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے سے متعلق کے الیکٹرک نے جواب جمع کرادیا سندھ ہائی کورٹ میں ہیٹ ویو میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے سے متعلق جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت ہوئی دوران سماعت کے الیکٹرک جواب کے مطابق کراچی میں ہمارے ستر فیصد فیڈرز لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں...

70فیصد فیڈرلوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ،30فیصد فیڈر پر چوری کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ

مضامین
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے! وجود جمعه 19 جولائی 2024
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے!

نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر وجود جمعه 19 جولائی 2024
نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر

سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے ! وجود جمعه 19 جولائی 2024
سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے !

معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!! وجود بدھ 17 جولائی 2024
معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!!

عوام کی طاقت کے سامنے وجود بدھ 17 جولائی 2024
عوام کی طاقت کے سامنے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں وجود پیر 08 جولائی 2024
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر