وجود

... loading ...

وجود

''ٹوٹ۔کے''۔پارٹ ٹو۔۔

بدھ 12 جون 2024 ''ٹوٹ۔کے''۔پارٹ ٹو۔۔

علی عمران جونیئر

دوستو، گزشتہ کالم کا فیڈ بیک ایسا آیا کہ خواہش کے باوجود کسی اور موضوع پر لکھنے کا موڈ نہ بنا،اس لئے آج آپ کو مزید ”ٹوٹکے” بتاتے ہیں۔۔اس بات کو بھی آپ قطعی جھٹلا نہ سکیں گے کہ وکیل چاہتا ہے آپ کسی مقدمے میں پھنسیں ،ڈاکٹر کہتا ہے آپ بیمار ہوتے رہیں ،کفن بنانے والا چاہتا ہے آپ مر ہی جائیں،ڈاکو چاہتا ہے آپ کے پاس بہت ساری دولت ہو اور” کھسرا” چاہتا ہے کہ آپ کی شادیاں ہوتی رہیں اور آپ کے گھر بچے ہوتے رہیں۔ ہم تو اُس ملک کے رہنے والے ہیں جہاں حُسن کا معیار گورا رنگ اور دانش کا معیار انگریزی ہے۔جہاں پر بڑی بڑی گاڑیوں سے اْتر کر بندوقوں کے سائے میں مولوی صاحب جبہ و دستار زیب تن کیے خطبے میں سادگی کی شان بیان کرتے ہوئے صرف خدا سے ڈرنے کا درس دیتے ہیں ،لیکن ان سب کے باوجود ہم آپ کو نادرونایاب ٹوٹکے بتانے سے باز نہیں آئیں گے۔۔۔
اگرآپ دکھ سے بچنا چاہتے ہیں تو ٹینڈے کھانے کے عادی ہوجائیں کیوں کہ جب آپ کے گھر ٹینڈے پکے ہوں،آپ اس سے بچنے کے لئے کسی رشتہ دار کے گھر کھانا کھانے کی نیت سے جائیں اور وہاں بھی ٹینڈے ہی کھانے کو ملیں تو پھر وہ دکھ ایسا دکھ ہوتا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔۔آپ کے بچے بھی اگر ٹینڈے اور کدو کھانے سے انکار کریں تو سزا کے طور پر وائی فائی کا پاس ورڈ بدل دیں،پھر دیکھیں کس طرح خاموشی سے وہ ٹینڈے،کدو،بھنڈی، آلوگوبھی کھائیں گے، بلکہ سالن دوسری بار بھی مانگیں گے۔۔۔ہمیشہ سفید رنگ کے صابن سے ہاتھ دھویا کریں کیونکہ لال رنگ والے صابن سے ہاتھ دھوتے ہوئے انسان سوچتا ہے کہ اتنی میل تو نہیں تھی ہاتھوں پہ جتنی اس نے اتاردی ہے۔۔اپنی سوچ کو ہمیشہ بلند اور” وکھری” رکھیں ،جس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے پاس آئی فون ۔۔مہنگی اور لگژری گاڑیاں، ڈیفنس میں بنگلے،کوٹھیاں،بینک میں کروڑوں روپے،ہزاروں ایکڑزمین،بے شمارجائیداد ہوتی ہے لیکن ان کی سوچ ہمیشہ دوروپے والی ہوتی ہے۔۔اگر آپ کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں تو رات کو سونے سے پہلے تھوڑی سے چینی آنکھوں میں ڈال لیا کریں پھر دیکھنا ”سوئٹ ڈریم” آئیں گے۔۔
غصّے میں خوب بولیں ، کیونکہ اس وقت آپ اپنی زندگی کی بہترین تقریر کر سکتے ہیں۔۔۔ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، جو کھانا ہے آج ہی کھا لیں۔۔۔ اگر آپ کسی کو مطمئن نہ کر سکیں تو اس کو کنفیوز کر دیں۔۔۔ ہمیشہ سچ بولیں، مگر بولتے ہی بھاگ جائیں۔۔۔ مسکرائیں، کیونکہ آپ کی مسکراہٹ لوگوں کو حیرت میں ڈال دیتی ہے کہ آپ کیا سوچ رہے ہیں۔۔۔ ہمیشہ خوش رہیں ، کہ یہ بہترین انتقام ہے اُن لوگوں سے جو ہمیں اُداس دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔اگر آپ شادی شدہ ہیں اور سکون سے فلم دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنی بیگم سے کہیں کہ ”چلو کہیں باہر چلتے ہیں” وہ کہے گی ”میں تیار ہوکے آتی ہوں” اور اس کے واپس آنے تک آپ سکون سے کوئی بھی فلم دیکھ سکتے ہیں۔۔۔کبھی کسی لڑکی کو یہ نہ کہو کہ تم خوبصورت ہو کہو کہ دوسری عورت تم جیسی نہیں وہ خوش ہو جائے گی اور آپ جھوٹ بولنے سے بچ جائیں گے۔۔۔اگر آپ سے کوئی غلطی ہو جائے تو آنکھیں بند کر کے دو منٹ تک لمبا سانس لیں اور پھر سوچیں کہ الزام کس پر لگانا ہے۔۔۔اگر آپ کا وقت ٹھیک نھیں چل رہا تو۔۔ اپنی گھڑی کا سیل تبدیل کروائیں۔۔۔ (ایویں ہر بات پہ جذباتی نہ ہو جایا کریں)۔۔
اہل خانہ کی صحت کا دارومدار زیادہ تر برتنوںکی صفائی پر ہے اور اگر اس کا بطور خاص خیال نہ رکھا جائے تو اس سے کئی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ صاف اور چمکدار برتن دیکھنے میں بھی اچھے لگتے ہیں اور انہیں دیکھ کر اشتہا بھی تیز ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے جوپائوڈر اور دیگر اشیاء رائج ہو چکی ہیں ،وہ تسلی بخش اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتیں، جبکہ پرانا طریقہ یعنی راکھ کا استعمال زیادہ مفید رہتا ہے لیکن اس سے برتن مانجھنے سے ناخن بھی خراب ہو جاتے ہیں اور ہتھیلیاں بھی کھردری ہو جاتی ہیں۔ اس لیے اس سے احتراز کرناچاہیے، کیونکہ یہ آپ کا کام ہے ہی نہیں، لہٰذا یہ ڈیوٹی میاں کے ذمے لگائیے کہ وہ کس مرض کی دوا ہیں جو دفتر یا دکان سے آ کر بھی اسے سرانجام دے سکتے ہیں۔۔۔ویسے اچار ڈالنے کا ہنر اب ناپید ہوگیا ہے کیونکہ بڑی بوڑھیاں ہی اس فن میں طاق ہوا کرتی تھیں جو زیادہ تر بقضائے الٰہی اللہ کو پیاری ہو جاتی ہیں جبکہ اچار نہ صرف کھانے کو لذیذ بناتا ہے بلکہ اسے ہضم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ اکثر مہمان اس کے بارے میں ضرور پوچھتے ہیں کہ آیا گھر میں اچار ہے؟ تاہم اگر ارادہ پختہ ہو تو انسان کیا نہیں کر سکتا اور اگر آپ اس سے مکمل طور پر نابلد ہوں تو ہماری رہنمائی حاضر ہے اور جس کا طریقہ یہ ہے کہ باورچی خانے سے اچار والا جار اٹھالیں اور الگ الگ چھوٹی پلیٹوں میں ڈالتی جائیں، آپ بھی خوش اور مہمان بھی خوش، اور کوئی آپ سے یہ بھی نہیں پوچھے گا کہ آپ نے اچار کیسے ڈالا۔۔
لازمی سی بات ہے کپڑے تو سب ہی پہنتے ہیںکیونکہ ہم جنگل میں تو رہتے نہیں،سردیوں میں تو کپڑوں کا استعمال کچھ زیادہ ہی بڑھ جاتا ہے، کپڑوں پر داغ دھبے لگ جانا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ،جبکہ کئی داغ تو ایسے ہوتے ہیں کہ صابن چھوڑ، پائوڈر وغیرہ سے بھی دور نہیں ہوتے اور مٹتے مٹتے بھی بڑی ڈھٹائی سے کچھ نہ کچھ باقی رہ جاتے ہیں۔ ایسے کپڑے پہن کر باہر جانا ویسے ہی باعث شرمندگی ٹھہرتا ہے چنانچہ ہم نے خواتین خانہ کے لیے ایک تیربہدف طریقہ دریافت کیا ہے جو تمام داغ دھبوں کو منٹوںمیں دور کردے گا، اس کے لیے صرف یہ کرنا ہوگا کہ کپڑے پر جس رنگ کا داغ لگا ہوا ہے، اسے اسی رنگ میں مکمل طور پر رنگ دیں، داغ دھبہ غائب۔۔اگرآپ کے چہرے پر کیل نکل رہی ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، فوری ایک عدد ہتھوڑی لیں جب بھی چہرے پہ کیل نکلے اسے وہیں ٹھونک دیں، نہ رہے گا بانس نہ بنے گی بانسری۔۔جی جی، یہی اصل محاورہ ہے، لوگ ایویں ہی کہتے ہیں ”نہ بجے گی بانسری” ،یہ بالکل غلط ہے،اصل وہی ہے جو ہم نے لکھا” نہ بنے گی بانسری” ، اب اس کی لاجک بھی سن لیں، بانسری اصل میں بانس سے ہی بنتی ہے، تو جب بانس نہیں ہوگا تو لازمی سی بات ہے بانسری بھی نہیں بنے گی۔۔یہ تو بہت بعد کی بات ہے کہ بانسری بجے گی یا نہیں، پہلے تو بانس کو غائب کرکے بانسری بننے کی وجہ ہی ختم کردی۔۔
لوگ اکثر ہم سے میڈیا میں آنے کا پوچھتے ہیں، خاص طور سے طلبا کو شوق ہوتا ہے کہ میڈیا میں آئیں اور اینکر بن کر راتوں رات کامیابی
حاصل کریں، جنہیں میڈیا میں آنے کا شوق ہے ان لوگوں کے لئے بھی ٹوٹکا پیش خدمت ہے۔۔چمک، چلتر، چلبلاہٹ اور چرب زبانی۔۔۔یہ سب گُن موجود ہیں تو آپ باآسانی اینکر بن سکتے ہیں، رمضان ٹرانسمیشن کا اینکر پرسن بننے کے لئے مضافاتی لڑکیوں کی طرح چمکیلے دمکیلے لباس پہننا بہت ضروری ہیں۔۔۔رمضان ٹرانسمیشن کیلئے خبردار کبھی روزہ نہ رکھنا۔۔ کیوںکہ لگاتار چھ، سات گھنٹے روزے کی حالت میں کبھی نہیں بول سکتے۔۔۔ روزے دار کی تو عصر کے بعد آواز تک نہیں نکلتی۔۔پرائے پیکٹ اچھال کر ہمیشہ خود حاتم تائی کا پوتا سمجھنا۔۔۔کبھی اپنے سامنے کسی کو زیادہ نہیں بولنے دینا۔۔۔۔ریٹنگ کو عبادت اور سیٹنگ کو دعا سمجھنا۔۔۔اینکرپرسن بننے کیلئے کسی تجربے، تعلیم، تربیت، تمیز، تہذیب اور تیاری کی ضرورت نہیں۔۔شٹرنگ کے ٹھیکیدار جیسا ” خط” بنوانا لازمی ہے۔۔۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔جدید تحقیق سے معلوم ہوا کہ کتا دراصل شیر کی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ بس شادی کرنے کی غلطی کر بیٹھا۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے! وجود جمعه 19 جولائی 2024
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے!

نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر وجود جمعه 19 جولائی 2024
نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر

سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے ! وجود جمعه 19 جولائی 2024
سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے !

معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!! وجود بدھ 17 جولائی 2024
معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!!

عوام کی طاقت کے سامنے وجود بدھ 17 جولائی 2024
عوام کی طاقت کے سامنے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں وجود پیر 08 جولائی 2024
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر